قلیل آمدنی والے خاندانوں کی بہترتعلیم کیلئے چھوڑ دی’انفوسِس‘کی ملازمت

0

’سنتوش مورے ‘کا خیال ہے کہ تعلیم نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر کے مسائل کا حل ہو سکتی ہے ۔ اور وہ یہ سوچتے ہیں کہ کس طرح وہ اپنا چھوٹا سا کردار اس میں ادا کر سکتے ہیں ۔ 2009 میں انہوں نے’ ٹيچ فار انڈیا‘ کا اشتہار دیکھا جس میں تبدیلی کی پہلی ’پلٹن‘ کو دعوت دی جا ری تھی۔

’انفوسِس‘ کی نوکری چھوڑنے کی بات اپنے والد کو سمجھانا اُن کے لئے بڑا مشکل کام تھا ۔’سنتوش‘ کے منیجروں نے بھی انہیں کمپنی کے ساتھ ہی منسلک رہنے کی صلاح دی ۔ لیکن ’سنتوش ‘نے اپنا فیصلہ کر لیا تھا ۔ وہ اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہتے ہیں،

’’یہ میرےلئے آرام و آسائش کے حلقے سے باہر آنے کے لئے ایک موقع تھا جس کے بارے میں میَں ہمیشہ خواب دیکھا کرتا تھا ۔‘‘

’سنتوش‘کا خیال تھا کہ دو سال کی فیلو شِپ صرف تعلیم کے بارے میں ہوگی لیکن یہ ایک تغیراتی سفر تھا ۔ وہ کہتے ہیں، 'ان دو سالوں میں کئی مسائل پر میرے سوچنے کا نظریہ اور نقطۂ نظر تبدیل ہوگیا۔ میَں نے ایسے ہندوستان کو دیکھا جس کے متعلق عام شہری بے خبر تھے۔ فیلو شپ سے مجھے سب سے بڑی چیز یہ حاصل ہوئی کہ کس طرح ایک تنظیم قائم کرنے کے لئے معاشی نظام مدد کرتا ہے ۔ '

سال 2012/13 میں’سنتوش‘ اور’ خوشبو‘ (اُس وقت دوست، اب بیوی) نے بنگلور کے ’باناشنكری‘ میں چند گھنٹے گزارے تھے ۔ یہ ایک جھگی بستی ہے ۔ شام کے وقت دونوں کم آمدنی والے خاندانوں کے بچّوں کو انگریزی سکھاتے۔

آغاز

ایسی ہی ایک شام دونوں اِس سوچ میں پڑ گئے کہ وہ اور کیا کر سکتے ہیں ۔ انہیں کم فیس والے اسکول سے ایک پُرکشش آفر ملا۔ انہیں اِس نجی اسکول میں تعلیمی کنوینر بننے کی پیش کش ملی تھی۔’سنتوش‘ اور’ خوشبو ‘کو یہ پتہ تھا کہ انہیں اپنا کچھ شروع کرنا ہے ۔ انہیں اس بات کافیصلہ کرنا تھا کہ کیا انہیں نئے اسکول بنانا ہیں یا پھر جو موجودہ اسکول ہیں اسی میں پڑھانا ہے۔ ’سنتوش‘کہتے ہیں،

’’اگر ہم اسکول کی شروعات کرتے تو ہم 10 سالوں میں 10,000 طالب علموں کوفیض پہنچاتے یا پھر ہم ایسا’ ایكوسسٹم ‘بناتے جس میں موجودہ اسکول ہوتا تو ہم لاکھوں طالب علموں کو تعلیمی سطح پر فائدہ پہنچاتے ۔‘‘

مارچ 2013 میں’سنتوش‘ اور’ خوشبو ‘ نے ’ منترا فور چینج‘ کی بنیاد رکھی۔ اُن کا مقصد موجودہ اسکولوں کے ساتھ کام کرنا تھا اور ایک ایسا بلیو پرنٹ تیار کرنا تھا جو بالاخر ماڈل اسکولوں کے لئے رہنما اصولوں کے طور پر کام کرے۔

’خوشبو ‘بتاتی ہیں،’’کم فیس والے زیادہ تر اسکول، جن میں سرکاری اسکول بھی شامل ہیں،اچھی تعلیم دینے کے لئے جدوجہد کرتے ہیں، کیونکہ اسکولوں کے پاس وسائل اور حمایت و تعاون کی کمی ہے ۔ ہم اِسی کمی کو دور کرنے کے لئے ’ منترا فور چینج‘ کے ذریعے کوشش کر رہے ہیں ۔‘‘

کئی طرح کی ’كراؤڈ فنڈنگ ​‘​کے ذریعے دوستوں اور جاننے والوں نے اقتصادی مدد کی ۔ پہلی بڑی ڈونیشن’ انفوسِس‘کے ایکزیکیوٹیو نائب صدر سنجے پروہت نے دی۔ اِس کے علاوہ انفوسِس فاؤنڈیشن اور کئی این ایچ آئی سے بھی فنڈ زملے ہیں ۔ حال ہی میں’ سوپرنیكا فاؤنڈیشن‘ جس کی قیادت ایس ڈ ی شیبولال کرتے ہیں، STEP کے نفاذ کے لئے فنڈنگ ​​کی ۔یہ M4C کے تحت مخلوط پروگرام ہے جو بنگلور کے 10 اسکولوں میں چلایا جا رہا ہے۔

STEP - دی اسکول ٹرانسفارمیشن اینڈ امِپاورمنٹ پروجیکٹ M4C میں اہم پیش قدمی ہے ۔ یہ اسکول کے نظام میں تمام اہم اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرتا ہے ، اسکول انتظامیہ، اساتذہ، طالب علم، سرپرست اور کمیونٹی ۔ یہ دو مراحل والا عمل ہے ۔ پہلا مرحلہ ضرورت کا تجزیہ و تخمینہ ہے اور دوسرا مرحلہ عمل درآمد کا مرحلہ ہے۔

Target -صلاحیت کی شناخت، انگیج مینٹ اینڈ ٹریننگ پروگرام

یہ ایک اجتماعی بنیاد پر ٹیچرس ٹریننگ پروگرام ہے ۔ کمیونٹی کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو تین ماہ کے لئے تربیت دی جاتی ہے اور اس کے بعد پارٹنر  اسکول میں بطور ٹیچر مقرر کیا جاتا ہے ۔ جگہ کا تعین کرنے کے بعد بھی ان ٹیچروں کو’ آن جاب‘ ٹریننگ دی جاتی ہے۔ یہ ٹریننگ ایک سال کے لئے دی جاتی ہے ۔ اِس پروگرام کا مقصد ایسے اساتذہ کو تلاش کرنا ہے جو باصلاحیت ہوں اورایک بہتر استاد بننے میں اُن کی مدد کی جا سکے ۔

PreCIOUS -پریوینٹیو کیئر فار اِن ہیبی ٹینٹس آف اربن سلم

اِس پروگرام کا مقصد کمیونٹی میں صحت کے تئیں بیداری پھیلانا ہے ۔ حفظان صحت، صفائی، غذائیت، حیض، اور تولیدی صحت، آنکھ،بینائی وغیرہ جیسے موضوعات پر مختلف اجلاس اور کمیونٹی کی سرگرمیوں کا انعقاد ہوتا ہے۔

تعاون اور اثرات

’منترا‘ کا مطلب ۔’ میوریك ایسوسی ایشن فارناولٹی، ٹرانسفار میشن اینڈ ریڈیکل آگمین ٹیشن ہے ۔ اس کے لئے M4C عظیم پریم جی یونیورسٹی کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے ۔ یونیورسٹی کے طالب علم M4C کے ساتھ انٹرن شپ کرتے ہیں ۔

’سنتوش‘ کہتے ہیں کہ طالب علموں میں انگریزی اور ریاضی سیکھنے کے معاملے میں اوسطاً 20 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

M4C کے داخلی طور پر تشکیل شدہ ’ روبرِك‘ میں ہر ٹیچر کی سرگرمیوں اور پیش رفت پر نظر رکھی جاتی ہے ۔ خوشبو کہتی ہیں، اساتذہ کی ذہنیت اور مستعدی کی سطح میں مثبت تبدیلی کے کئی حقیقی ثبوت دیکھنے کو ملے ہیں ۔ وہ کلاس میں جدید تعلیمی تکنیک کے استعمال کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے اسکولوں میں کم از کم 70 فیصد اساتذہ کے علم اور مہارت کی سطح میں بہتری کی حمایت کرنے کے لئے واضح تفصیلات موجود ہیں۔

M4C کے قابلِ اعتماد طریقۂ کار کا ایک اہم پہلو ہے مثبت اور محفوظ تعلیمی ماحول بنانا جہاں اساتذہ، طلباء اورتمام اسٹیک ہولڈرس کے درمیان مسلسل سیکھنے کے عمل کو فروغ دیا جاسکے۔

’سنتوش‘ کہتے ہیں کہ M4C کے لئے سب سے زیادہ پریشان کُن کام یہ ہے کہ وہ ایک ایسی ٹیم بنائے جو نہ صرف جنونی ہو بلکہ تعلیمی میدان میں نمایاں اور مثبت تبدیلیاں لانے کے لئے بھی کوشش کرے۔

’منترا فور چینج‘کی پنج سالہ منصوبہ بندی ہے کہ کم از کم 100 اسکولوں تک پہنچا جائے اور 50,000 بچّوں تک STEP کے ذریعے منسلک ہوا جائے۔

’سنتوش‘ اور’ خوشبو ‘کہتے ہیں کہ وہ ہراُس بچّے کے خواب کو اپنا خواب سمجھتے ہیں جو معاشرے کے کسی بھی درجے یا طبقےسے ہونے کے باوجود اچھی تعلیم حاصل کرنے کا حق رکھتے ہیں ۔

قلمکار : سنِگدھا سنہا ؍ مترجم : انور مِرزا

Writer : Sanigdha Sinha / Translation by : Anwar Mirza

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے

’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ دلچسپ کہانیاں بھی آپ کو ضرور پسند آئیں گی۔

بچّوں کوتعلیم یافتہ اور عورتوں کو خود کفیل بنانے کے جذبے سے سرشار’ گوپال کرشن سوامی‘

ہے کہاں تمنّا کا دوسرا قدم یا رب ... 22 سالہ لڑکی کااپنا فوٹواسٹوڈیو

Related Stories