اپنی ناکامی کو آپ کامیابی میں بدل سکتے ہیں ... ان 10 طریقوں کوآزما کر دیکھیں...

0

میَں غائب ہونا چاہتا ہوں ۔ میَں کسی ایسے پُرانے فلیٹ میں جانا چاہتا ہوں جہاں میری کسی سے بات نہ ہو۔میَں ہر روز تینوں وقت کا کھانا آرڈر کرنا چاہتا ہوں ۔ میَں اپنے پڑوسیوں سے ہر زبان میں بات کرنا چاہتا ہوں لیکن انگریزی میں ۔ میَں اُن کے کھیل سیکھنا اورانہیں فٹ پاتھ پرکھیلنا چاہتا ہوں اور ہم کم پیسوں پر شرطیں لگائیں گے۔ ہم خوب ہنسیں ہنسائیں گے اور کسی پُرانی کھُلی ہوئی کار سے آنے والی موسیقی کی آواز سے لطف اندوزہوں گے، وہ کار جو اب سڑکوں پر نہیں دوڑتی ۔ جب کبھی میَں کہیں پھنس یا اُلجھ سا جاتا ہوں اورذِلّت سی محسوس کرتا ہوں تو مجھے ایسا ہی لگتا ہے۔

غائب ہونے کا اپنا مزہ ہے ۔ جب میَں خود کو کہیں پھنسا یا الجھا ہوا سا محسوس کرتا ہوں، تومیَں اُداس ہو جاتا ہوں ۔ میَں نے زندگی سے جتنا حاصل کیا، اُس سے کہیں زیادہ چاہتا ہوں ۔ میں کچھ مختلف کام کرنا چاہتا ہوں ۔ میَں کچھ ایسا کرنا چاہتا ہوں جو مجھے پسند ہے ۔ اس کے بعد میَں پھر اُداس ہو جاتا ہوں ۔ جب میَں شش و پنج میں ہوتا ہوں تو اِسی طرح کا احساس ہوتا ہے ۔ ملازمت میں ، کیریئر میں،رشتوں میں ، ہر معاملے میں۔

اکثر و بیشتر خواہش رہی کہ، کاش! میَں خود سے کہہ پاتا : ’ماضی میرے مستقبل کا’ جیل کیپر ‘نہیں ہے۔‘ میَں سوچتا ہوں،’’کیونکہ میَں نے’ ایکس‘(X) میں ڈگری حاصل کی ہے، تومجھے’ وائی‘(Y) کرنا ہے۔ 'یا اس لئے کہ میَں ’ اے‘(A) کے ساتھ رہ رہا ہوں، تو یہی زندگی ہے ۔ یا پھر اِس لئے کہ میَں نے ’جے ‘(J)کے بارے میں لکھا، تو میری زندگی اب ایسی ہے ۔

یا اس لئے کہ میَں ایک مرتبہ کسی کاروبار میں یا پھر کسی فن میں ناکام ہوگیا، تو میَں دوبارہ کوشش نہیں کر سکتا ۔ یا اس لئے کہ میرے والدین چاہتے ہیں کہ میں ڈاکٹر بنوں، تو مجھے ڈاکٹر ہی بننا ہے ۔

بُری بات!

میَں نے ’ میٹ بیری ‘(Matt Berry) سے بات کی تھی، مجھے لگا کہ وہ ایسا کام کر رہے ہیں جو میرے خیال سے ’ڈریم جاب ‘ ہے، یعنی فلموں کی اسکرپٹ لکھنا ۔ لیکن اُن کی دلچسپی ’فینٹسی اسپورٹس‘ کے تعلق سے ’ بلاگ‘(Blog) لکھنے میں زیادہ تھی ، فی ’بلاگ ‘ 100 ڈالر کے حساب سے۔ اور آٹھ سال بعد وہ ’ای ایس پی این‘ چینل پر فینٹسی اسپورٹس کے لئے ’اینکرنگ‘ کرتے ہیں ۔ یاپھر شاید وہ ’جم نورٹن‘ (Jim Norton) تھے، جن کے ساتھ میَں بڑا ہوا ۔ وہ ٹریکٹر چلاتے اور چھوٹے موٹے کام کرتے، جبکہ وہ مزاحیہ اداکار بننا چاہتے تھے، اور 20 سال بعد وہ دنیا کے بہترین مزاحیہ اداکار بنے ۔ یا’ جوڈی بلوم، (Judy Blume) وہ خاتون جس کے مضطرب دماغ میں بہت ساری کہانیاں تھیں جو صفحۂ قرطاس پر آنا چاہتی تھیں ، لیکن محبت سے خالی شادی شدہ زندگی میں خاندان کی دیکھ بھال کرتے ہوئے وہ سمجھ نہیں پائی کہ اُسے اِن کہانیوں کو دنیا میں لانے کے لئے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ۔ اور وہ اُداس، بہت اُداس ہوتی چلی گئی۔

یا پھرمیَں اور آپ ہو سکتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ اِس کے علاوہ کچھ اور بھی ہو سکتا ہے، کسی ملازمت یا پھر کسی رشتے میں مایوسی کے ساتھ غمگین ہونا۔ چیزیں بدلنی ہی چاہئیں۔

10 اقدامات

’10 اقدامات‘ پروگرام 'کی طرح یہ 10 اقدامات آپ کے لئے نہیں ہیں۔ یہ وہ 10 اقدامات ہیں جنہیں آخر کار میَں نے بذاتِ خود کرنا سیکھا ہے ۔ اُداس ہونے سے بچنا ، خوابوں اور امیدوں کو برقرار رکھنا اورہر روز ہونے والے پیٹ درد کا علاج کرنا۔

۱) قبول کرنا

میَں بے چینی محسوس کرتا ہوں ۔ میں اٹھ نہیں پاتا ۔ اِس اقدام میں کرنا صرف یہ ہے کہ اِس پر توجہ دینا ہے ۔ یہ سرگوشی کی طرح ہے، ’ آسمان‘ سے نہیں بلکہ اپنے وجود سے ۔ جسمانی طور پر یہ آپ کو بِستر سے باہر نہیں جانے دے گا ۔ یہ آپ کو اندر ہی اندر کھانے لگتا ہے ۔ یہ آپ کے جسم کو بربادکر دے گا ، اگر آپ اپنے اندر تبدیلی نہیں لاتے ہیں ۔ لیکن اِس کے لئے پہلے آپ کو توجہ دینی ہوگی ۔ میَں کہتا ہوں، ’اوہو! یہی تو وہ ہے‘۔ بہت سے لوگوں کو اِ س تدبیر کا احساس 30 سال کی عمر میں ہوتا ہے اور وہ کبھی نہیں بدلتے ، بالاخر آہستہ آہستہ زندہ ہوتے ہوئے بھی ختم ہو جاتے ہیں ۔ وہ دوائیں تلاش کرتے ہیں لیکن یہ دوا تجویز نہیں کی جا سکتی ۔ وہ دوا کاؤنٹر پر اتنی دُور ہے کہ آپ اُس تک پہنچنے سے پہلے مر جائیں گے۔

۲) مایوسی

میَں نے دیکھا ہے ، اور مجھے یہ محسوس ہوا ہےکہ چیزیں بدلنے والی نہیں ہیں۔ میَں پھنس گیا ہوں ۔ میرے والدین، دوست، چاہنے والے ، کبھی قبول نہیں کریں گے ۔ یاتو میَں ٹوٹ جاؤں گا ۔ یا پھر اِس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ میَں نے اپنی تعلیم ضائع کی ، یا پیسے، یا دماغ ، یا محبت ۔ مجھے لگتا ہے، 'میَں اُداس ہوں۔‘

اُن چیزوں کو لکھنا شروع کریں جن سے آپ کو محبت ہے ۔ ایک بچّے کی حیثیت سے کیا کرنا پسند تھا۔ فی الحال آپ کس چیز کو پسند کرتے ہیں۔ یہ صرف میَں نہیں ہو سکتا۔ آج ہی کوشش کریں ۔ کل بھی کوشش کریں۔ مسلسل اور بہتر کوشش کریں۔ اُن چیزوں کو لکھیں جنہیں آپ بچپن میں بڑی محبت سےکرتے تھے اور اب کس عمل میں ویسی ہی رغبت و محبت محسوس کرتے ہیں۔ اُن پُلوں کو جوڑنے میں مغز پاشی کریں ۔ وہ وہیں ہیں ۔ وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ وہ میرے لئے ہی تھے ۔

’ برائن کاپل مین‘ (Brian Koppelman) کو لگتا تھا کہ وہ موسیقی کے کاروبار میں پھنس گئے ہیں۔ اُن کا خاندان یہی کرتا تھا۔ یہی کرنے کے لئے انہیں تربیت دی گئی تھی ، اِسی کام میں وہ بہتر تھے۔ لیکن ماضی اُن کا ’جیل کیپر‘ نہیں ۔ انہوں نے ہائی اسکول کے دوست اوراسکرپٹ رائٹنگ میں پارٹنر ’ ڈیوڈ لیوين‘ (David Levien) کے ساتھ تین سال تک مختلف ’آئیڈیاز‘ پر کام کیا تب کہیں جا کر انہوں نے ’ راؤنڈرس‘ اور پھر ’ اوشینس 13 ‘ جیسی فلمیں لکھیں اور پھر‘ شو ٹائم ‘ چینل کی ٹی وی سیریز ’بِلینس‘(Billions) پر کام كيا۔ میَں ابھی بھی ہر دن کسی سُراغ کی تلاش میں رہتا ہوں ۔ ہر دن تبدیلی کا دن ہے۔

۳) سیکھنا

اگر ہم تبدیلی نہیں لائیں گے، تو مر جائیں گے ۔ کتابوں کی دکان پر جائیں اور دیکھیں کہ کون سی کتاب آپ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرتی ہے ۔ کس گفتگو میں آپ شامل رہتے ہیں ۔ زندگی میں کون سا ایسا رشتہ ہے جو آپ کو پُر جوش کرد یتا ہے اور آپ سوچتے ہیں کہ اس رشتے میں اورشدّت چاہئے۔ سب کچھ پڑھیں ۔ اس کے بعد نئے ہم عمر گروپ تلاش کریں، جن سے آپ بات کر سکتے ہیں ۔ سب کچھ سیکھیں ۔ ہر چیز دیکھیں ۔ لوگ آپ کی طرف متوجہ ہوں گے ۔ وہ کہیں گے،’ 'اِس کی حالت دیكھو!‘

لوگو ں نے مجھ سے کہا،’ تم اپنی زندگی بربادکر دو گے۔‘ یاپھر ’ تمہیں قطعی اندازہ نہیں ہے کہ تم کیا کر رہے ہو!‘ یہ ٹھیک ہے ۔ وہ میرے ’ جیل کیپر‘ نہیں۔ میَں خود ’جیل کیپر‘ ہوں ۔ میَں روز صبح قید خانہ کھولتا ہوں اور بتّی جلاتا ہوں۔

۴) ناکامی

میَں نے جس چیز سے بھی کی شروعات کی اُس میں ناکام رہا ۔ بزنس میں میری پہلی، دوسری یا تیسری کوشش ناکام رہی ۔ 20 میں سے 17 میرے بزنس ناکام رہے ۔ میری ابتدائی پانچ کتابیں کبھی شائع نہیں ہوئیں۔ میرا طلاق ہوگیااور یہ کئی ناکام تعلقات کے بعد ہوا ۔ میَں دو یا تین ٹی وی شو بنانے میں ناکام رہا ۔ میں آگے جا سکتا تھا لیکن یہ کافی اُکتا دینے والا ہے ۔ اگر آپ کسی چیز سے محبت کرتے ہیں ، تو آپ جانتے ہیں کہ دنیاکی بہترین شئے کیسی نظر آتی ہے ۔ میَں فوری طور پردنیا میں سب سے بہتر بننے کی کوشش کرتا ہوں لیکن ایسا کرتے ہوئے دراصل میَں اپنے آپ کو بیوکوف بنا تا ہوں۔ پہلےمجھے خود غمگین ہو کراندازہ لگاناہوگا کہ یہ کتنا مشکل ہے ۔ مجھے کس حد تک اوپر جانا ہے ۔ اِس عمل کے لئے طویل عرصہ درکارہے ۔ مشکلات اور مخالفت کے باوجود مسلسل کوشش آپ کو کامیابی کی طرف لے جاتی ہے ۔ مسلسل کوشش + محبت = کامیابی۔

۵) لیکن کیا آپ جاری رکھیں گے؟

شاید ہاں، یا شاید نہیں ۔ میَں نے 90 کے آغاز میں چار کتابیں لکھیں ۔ میَں ناکام رہا ۔ میَں رُک گیا ۔ اِس کے بجائے میَں نے ’ایچ بی او‘ (HBO)میں نوکری پکڑلی اور لکھنا چھوڑ دیا ۔ سات سال بعد میَں دوبارہ لکھنے لگا، لیکن معاشیات سے متعلق غیر دلچسپ مضامین ۔ لیکن آٹھ سال بعد میَں دوبارہ ذاتی نوعیت کی باتیں زیادہ لکھنے لگا ۔ اب میرا جو دِل چاہتا ہے لکھتا ہوں ۔ لیکن دیکھیں گے، اب میَں کچھ مختلف لکھ رہا ہوں ۔ کچھ ایسا، جو بہت درد ناک ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ ایک دن میں بہتر ہو جاؤں ۔ لیکن مجھے بہتر بننے کی کوشش پسند ہے ۔ مجھے ناکام ہونا پسند هے، تھكنا اور ہارنا نہیں۔ بہانے نہ تراشیں ۔ شاید آپ بچپن میں پینٹنگ کرتے ہوں۔ واپس آئیے ۔

۶) آپ کی واپسی

میں اکثر اپنے تعلقات، تحریروں اور بزنس سے اُداس ہوجاتا ہوں۔

میرے نزدیک ، خود سے پریشان ہونا ایک طرح سے اپنے آپ کو چیلنج کرنے کی شروعات ہے ۔ تقریباً ہر دن میَں خود كو ضرورت سے زیادہ ’پُش‘ (Push)کرتا ہوں ،جب تک کہ یہ تکلیف دہ نہیں ہوجاتا ۔ حالانکہ کبھی کبھی یہ انتہائی تکلیف دہ بھی ثابت ہوتا ہے۔

لیکن مجھے علم ہے کہ میَں اُن چیزوں کی طرف واپس آؤں گا جنہیں میَں پسند کرتا ہوں۔

۷) مشیر؍ اتالیق

زندگی کے ہر میدان میں میرے پاس اعلیٰ درجے کے مشیر تھے ۔ آپ قابلِ اعتماد مشیر کس طرح پاتے ہیں؟ اگر آپ بھی ایسا کوئی شخص چاہتے ہیں، تو انہیں آئیڈیا دیں ۔ ایسا ہرگز نہ کہیں کہ ،’کیامیَں آپ کی مدد کر سکتا ہوں؟‘ کیونکہ ایسا کہتے ہی آپ انہیں’ کام ‘ پر لگا دیتے ہیں۔ پھر وہ آپ کی مدد کیوں کریں گے، جبکہ آپ نے انہیں’ ہوم ورک‘ دے دیا! اُن سےکہیں کہ آپ اُن کی زندگی کس طرح بہتر بنا سکتے ہیں۔ اگر آپ’ورچوئل مینٹرز‘ (virtual mentors) چاہتے ہیں تواپنی دلچسپی کی 200 کتابیں پڑھیں ۔ پچاس کتابیں ایک مشیر کا درجہ رکھتی ہیں۔ بالفرض محال اگر 200 کتابیں نہیں ہیں تو پھر کیا؟ ایسی صورت میں ’ کوانٹم میکینکس ‘ (Quantum mechanics) سے متعلق ایک کتاب تِتلیوں پر پینٹنگ کے بارے ہے ۔اس میں ہر چیزمیں ایک تعلق نظر آئے گا، اگر آپ اپنی پسند کےمطابق تلاش کریں۔

۸) اپنی منفرد آواز بنیں

دی بیٹلس، پِنک فلائیڈ، دی رولنگ اسٹونس، یو 2، دی وُو تانگ کلان، یہ ایسی آوازیں نہیں جو اِس سےقبل سنائی نہ دی ہوں۔ اِن لوگوں نے برسوں تک دوسروں کی نقل کی اوربالاخر اپنی منفرد آواز تشکیل دی۔اپنی منفرد آواز حاصل کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہر روز 10 ایسے آئیڈیاز لکھیں جن میں آپ کی دلچسپی ہو۔

۹) پھر ناکامی

کامیابی کا رازمسلسل ناکامی ہے ۔ لڑکی کو دس بار فون کرنا اور گڑگڑانا ، یہ سننے کے لئے کہ وہ بھی آپ سے محبت کرتی ہے ۔ (ذرا رُکیئے، کیا میَں نے ایسا سوچا تھا، یا پھر میں نے کہیں لکھا؟) صرف ناکامی سے، ناکامی کو سمجھنے سے یا اُسے لکھ کر، اُسے ’نظر انداز کرنے والی چیزیں‘ اور’ چیزیں جو کام کرگئیں‘ والے ’ چیک باکس ‘میں ڈال کر، کیا آپ کامیاب ہو پائیں گے ؟ آپ جس حد تک چاہیں ناکام ہو سکتے ہیں ۔ دوبارہ کوشش کریں ۔ یہاں تک کہ خیالات بھی ناکام ہو سکتے ہیں ۔ جب کبھی ایسا ہو تو یہ لازم ہے کہ آپ اُس پر ’ضروری / غیر ضروری‘ کالیبل لگائیں ۔ یہ مشق کی طرح لگتا ہے۔ ’پھر سے کوشش‘ کے اقدام کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں، نہ کہ مایوسی، مصائب اور گھبراہٹ، جو کہے کہ دوبارہ کام نہیں کیا جا سکتا ۔ تو اب یہ ایسا ہے ۔ توجہ + عزم + مشیر +مسلسل ناکامی + محبت = کامیابی۔ لیکن ایک اور عنصر سب سے زیادہ اہم ہے۔

۱۰) وہ لوگ جن سے آپ محبت کرتے ہیں

جب میں پھنس جاتا ہوں، میں بڑھتا ہوں، اور میرے دوست ہیں جو مجھے پکڑ لیتے ہیں ۔ جب میں گرنے لگتا ہوں تو وہ اپنا ہاتھ بڑھا کر مجھے اٹھا لیتے ہیں ۔ یہ خدا ہے ۔ ایک دعا ہوا میں غائب ہو جاتی ہے ۔ دوست سے کی گئی گزارش آپ کو بچا لیتی ہے ۔ انہیں ہمیشہ علم نہیں ہوتا کہ آپ کے لئے کیاسب سے بہتر ہے ۔ لیکن وہ آپ کو دلاسہ دیں گے اور آپ کی حمایت کریں گے ۔ آپ اُن کے شکر گزار رہیں گے اور وہ آپ کے۔ اُن کے بارے میں غیبت نہ کریں ۔ انہیں سکھانے کی کوشش نہ کریں ۔ اُن کے مشکور رہیں ۔ مجھے لگتا ہے کہ میں اپنے دوستوں کا شکر گزار ہوں ۔ آج کی زندگی کے لئے، گزشتہ ہفتے کے لئے۔ ہر تبدیلی انقلابی نہیں ہو سکتی ہے ۔ آپ ایک ٹرک ڈرائیور سے باسکٹ بال کھلاڑی نہیں بن سکتے۔ مگر آپ بہتر سے بہترین انسان بن سکتے ہیں۔ نا اہل سے اہل بن سکتے ہیں ۔ ایک اچھے دوست سے عظیم دوست ۔ غلام بننے کی بجائے آزاد ہو سکتے ہیں ۔ دوسروں کو یہ متبادل دینے کے بجائے کہ آپ کب خوش رہ سکتے ہیں کی جگہ آپ خود یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کس طرح خود کو خوش رکھا جائے ۔ مندرجہ بالا باتیں روزمرہ کی عادت میں شامل کر لیجئے۔ ایک دن آپ خلائی مِشن کے مسافر یا پینٹر بن سکتے ہیں ۔ ٹھیک ہے ۔ لامحدود کائنات میں یہ آپ کی زندگی کا حصّہ ہے۔اِس حصّے کو کیک اور سونے (Cake & Gold) سے بھر دیں۔

قلمکار : جیمس ایلٹچر

مترجم : انور مِرزا

Writer : James Altucher

Translation by : Anwar Mirza