فٹ پاتھ پر غریب بچوں کا پڑھاتے ہیں 66 سالہ شیام بہاری

0

دہلی کے وسنت کنج سیکٹر بی 9 کے مندر کے سامنے لگتی ہیں کلاسیں

بی ایس این ایل سے ریٹائرڈ ہیں 66 سالہ شیام بہاری پرساد

کتاب، کاپی، قلم-پنسل وغیرہ شیام بہاری پرساد کراتے ہیں دستیاب

سماج کو بہتر کرنے کے لئے ضروری نہیں ہے کوئی بڑے غیر سرکاری ادارے ہی شروع کئے جائیں۔اگر دل میں خواہش ہو تو اس کام کو بغیر زیادہ وسائل کے بھی کیا جا سکتا ہے۔ کچھ ایسا ہی کام دہلی کے وسنت کنج میں 66 سالہ شیام بہاری پرساد کر رہے ہیں۔ وسنت کنج سیکٹر بی -9 کے ہنومان مندر کے سامنے کی سڑک کی فٹ پاتھ پر گزشتہ تین سالوں سے شیام بہاری پرساد ہر دن غریب بچوں کے لئے کلاس چلاتے ہیں۔ ان کی کلاس میں 35 سے 40 بچے پڑھنے آتے ہیں۔

بنیادی طور پر: پٹنہ کے رہنے والے شیام بی ایس این ایل سے اسسٹنٹ منیجر کے عہدے سے ریٹائرڈ ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد سے ہی وہ دہلی میں اپنی بیٹی کے پاس رہتے ہیں۔ ان کی بیٹی ڈی آر ڈی او میں سائنسداں ہے۔ شیام نے يوراسٹوری کو بتایا،

''بات تین سال پہلے کی، میں نے ایک دن ہنومان مندر آیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ کچھ بچے پرساد لینے کے لئے مندر کے ارد گرد ہی گھوم رہے تھے۔ جب میں نے ان بچوں کے بارے میں معلوم کیا تو مجھے اطلاع ملی کہ یہ بچے سارا دن ادھر ادھر ہی گھوما کرتے ہیں اور ان میں سے کچھ ہی ہیں، جو اسکول جاتے ہیں۔ یہ بات میں نے اپنی بیٹی کو بتائی، بیٹی نے کہا کہ ہمیں ان کے لئے کچھ کرنا چاہئے۔ اس کے بعد ہی میں نے ان بچوں کو پڑھانے کا فیصلہ کیا۔''

انہوں نے بتایا کہ شروع میں وہ بچوں کو پرساد کا لالچ دے کر اپنے پاس بلاتے تھے۔ اس کے بعد انہیں چاکلیٹ، بسکٹ، نمکین وغیرہ دے کر مندر کے سامنے کے فٹ پاتھ پر بیٹھ کر بات کرنی شروع کی۔ اسی ترتیب میں شیام بہاری پرساد نے آہستہ آہستہ ان بچوں کو کاپی اور پنسل لا کر دی اور اس طرح فٹ پاتھ پر ہی تعلیم شروع ہو گئی۔ ان کے پاس پڑھنے والے بچوں نے اپنے دوستوں کو بھی یہ بات بتائی تو وقت کے ساتھ بچوں کی تعداد میں بھی بڑھنے لگی۔ فی الحال یہاں کلاس 2 سے 10 تک کے 35 سے 40 بچے پڑھنے کے لئے آتے ہیں۔

شیام بتاتے ہیں،

''شروع میں جب میں نے یہاں پڑھانا شروع کیا تھا، تب ہمارے پاس کافی تعداد میں ایسے بچے تھے جو اسکول نہیں جاتے تھے۔ میں نے ایسے بچوں کے والدین کو سمجھایا اور بچوں کو سرکاری اسکول میں داخل کرایا۔ اب یہاں پڑھنے آنے والے زیادہ تر بچے سرکاری اسکول میں پڑھنے جاتے ہیں۔''

زیادہ سردی یا بارش کے موسم میں بچوں کو مندر کے اندر پڑھایا جاتا ہے۔ شیام نے بتایا، "ایک دن بارش ہونے کی وجہ سے میں بچوں کو پڑھا نہیں پایا تھا، اس مسئلہ کو دیکھ کر مندر کے پجاری نے ہمیں مندر میں پڑھانے کی اجازت دی۔''

یہاں پڑھنے والے راجکمار سین نے بتایا، "شیام سر ہمیں ہر روز ضرور کچھ نہ کچھ کھانے کو دیتے ہیں۔ ہمیں کبھی پھل ملتے ہیں تو کبھی بسکٹ۔" راجا وسنت کنج کی ارجن بستی سے پڑھنے آتا ہے اور قریبی سرکاری اسکول کی دسویں کلاس میں پڑھتا ہے۔

شیام بتاتے ہیں کہ ارد گرد رہنے والے لوگ بھی ان کی کافی مدد کرتے ہیں۔ آئے دن کوئی پنسل تو کوئی کاپی دے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک دن ایک ڈاکٹر آئے اور انہوں نے بچوں کے لئے ایک بورڈ دلایا۔ کلاس 10 میں پڑھنے والے اندریش کمار بتاتے ہیں کہ کئی بار لوگ ہماری ضرورت کی کتابوں کی فہرست بنا کر لے جاتے ہیں اور بعد میں خرید کر ہمیں دے جاتے ہیں۔ اس اسکول میں ہر روز حاضری لگتی ہے اور یہ ساتوں دن کھلتا ہے۔

کہتے ہیں کچھ کرنے کے لئے عمر سے زیادہ جوش اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ شیام بہاری پرساد کے جوش و جذبے اور لگن کا نتیجہ ہے کہ آج علاقے کے بچے ادھر ادھر گھومنے کے بجائے اسکول آنے لگے ہیں۔ سچ یہ بھی ہے کہ ہر بڑی چیز کے لئے ہمیشہ چھوٹے کام سے ہی شروعات ہوتی ہے اور جب معاملہ ملک کے نونہالوں سے منسلک ہو تو پھر اس کے شروعات کہیں سےبھی کی جا سکتی ہے۔

قلمکار: انمول

مترجم: محمد محی الدین