یتیم اور بے سہارا بچوں کو سماج میں مقام دلانے کی کوشش کا نام ہے' بال سنبل'

0

پڑھائی کے ساتھ کھیل کود بھی

15 ایکڑ میں پھیلا ہے 'بال سَنبل'

جے پور سے چالیس کلو میٹر دور سیروہی میں واقع ہے

۔ یہاں یتیم و بے سہارا بچوں کو سہارا دے کر سماج میں بہترین مقام دلانے کی عمدہ کوشش کی جارہی ہے۔ یتیم اور بے سہارا بچوں کے بارے میں بہت کم لوگ سوچتے ہیں ۔ اور جو سوچتے ہیں ان میں سے چند لوگ ہی اپنے منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچا تے ہیں ۔ پنچ شیل جین انہیں چند لوگوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے نہ صرف سوچا بلکہ اپنے منصوبہ کو عملی جامہ بھی پہنایا ۔ وہ یتیم و بےسہارا بچوں کی پرورش بھی کررہے ہیں اور انہیں سماج میں با وقار زندگی گزارنے کے قابل بنانے کے لیے جی توڑ کوشش میں بھی لگے ہوئے ہیں تاکہ وہ سماج میں نام کماسکیں اوراس سماج کا ایک اٹوٹ حصہ بھی بن سکیں۔ راجستھان کے رہنے والے پنچ شیل جین کا 'بال سنبل' منصوبہ ایک خواب ہے جو حقیقی طور پر ہمارے سامنے موجود ہے جو یتیم اور بے سہارا بچوں کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کےلیے ان کی ہمہ جہت ترقی کو مدنظر رکھ کر نہ صرفان کی تعلیم اور کھیل کے شعبے میں بلکہ مستقبل میں روزگار حاصل کرنے کےلیے طرح طرح کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے ۔

بال سنبل ایک ایسا منصوبہ ہے جس کے تحت اس جگہ 250 یتیم اور بے سہارا لڑکے لڑکیاں رہ سکتے ہیں ۔ یہاں 125 لڑکے اور 125 لڑکیاں رہ سکتی ہیں ۔ یہاں رہنے والے بچوں کو اسکولی تعلیم کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر اور دیگر ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں ۔ جے پور سے چالیس کلو میٹر دور سیروہی میں 15 ہیکٹر میں پھیلے بال سنبل میں فی الحال40 بچے رہتے ہیں ۔ ان بچوں میں صرف یتیم ویسیر بچے ہی نہیں بلکہ سڑکوں پر کچرا چننے والے ریلوے اسٹیشن ، بس اسٹینڈ و دیگر جگہوں پر لاوارث گھومنے والے بچےبھی شامل ہیں جنہیں راجستھان کے بال سنبل سمیتی کے ساتھ مل کر یہاں لایا گیا ۔

بال سنبل میں بچوں کو نہ صرف ہاسٹل کی سہولت دی گئی ہے بلکہ کیمپس میں جماعت اول تا ہشتم تک تعلیم کا بندوبست بھی کیا گیا ہے جو راجستھان کے ریاستی تعلیمی بورڈ سے منظور شدہ ہے ۔ بچوں کی ہمہ جہت ترقی کےلیے کیمپس میں مختلف کھیلوں کے لیے الگ الگ میدان ہیں ۔

پنچ شیل نے یور اسٹوری کو بتایا کہ

"میں چاہتا ہوں کہ پڑھائی کے علاوہ جس کھیل کو بچے پسند کرتے ہوں اس میں ہم ان کی مدد کرسکیں تاکہ وہ کچھ بن سکیں۔"

بال سنبل میں بچوں کو پڑھائی کے علاوہ میوزک آرٹ اینڈ کرافٹ بھی سکھایا جائے ۔ اسکے علاوہ یہاں پر رہنے والے بچوں کے بہتر مستقبل کےلیے انہیں الگ الگ قسم کے کئی کام سکھائے جائیں جیسے سلائی، کمپیوٹر، ویلڈنگ وغیرہ ۔ بال سنبل کے کئی بچے مارشل آرٹ اور تیر اندازی میں بھی اپنا نام روشن کررہے ہیں ۔ پنچ شیل کا منصوبہ اب یہاں پر اسٹیڈیم اور سوئمنگ پول تیار کرنے کا بھی ہے تاکہ بچے قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لے سکیں۔

پنچ شیل جین کے والد ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے سپاہی رہ چکے تھے اور ملک کی آزادی کے بعد انہوں نے اپنا وقت سماجی خدمت کےلیے وقف کردیا تھا۔ انہوں نے راجستھان کے چورو ضلع میں ایک گاؤں کو اپنے بل بوتے پر آدرش گاوں بنایا ۔ پنچ شیل جین آٹھ بھائی بہنوں میں سے ایک ہیں جسکی وجہ سے خاندان کی معاشی حالت بھی کچھ خاص نہیں تھی ۔ والد سماجی خدمت کے دلدادہ تھے جسکی وجہ سے وہ خاندان پر توجہ نہیں دے پائے۔ پنچ شیل نے معاشی بہتری کے لیے ڈائمنڈ ٹولس کے کاروبار میں اپنا مقدر آزمانے کا فیصلہ کیا ۔ ڈائمنڈ ٹولس کا استعمال پتھروں کو کاٹنے کےلیے ہوتا ہے۔

پنچ شیل کہتے ہیں

"میں نےعہد کیا تھا کہ 50 سال کی عمر کے بعد کاروبار کو خیر باد کہد کر سماجی خدمت میں لگ جاوں گا اسی لیے 2008 میں، میں نے اپنا کاروبار اپنے بھائیوں کے حوالے کردیا اور بال سنبل نامی منصوبے سے وابستہ ہوگیا ۔"

پنچ شیل کا ماننا ہے کہ ملک کا مستقبل بچے ہوتے ہیں ۔ اگر بچوں کا مستقبل بہتر نہیں ہوگا تو ملک کا مستقبل بہتر کیسے ہوسکتا ہے ؟ پنچ شیل نے جب اس کام کو شروع کیا تب وہ اکیلے تھے لیکن اب دھیرے دھیرے دوسرے لوگ بھی ان کے ساتھ شامل ہوتے چلے جارہے ہیں۔

سلطانپوری آج ان کے ساتھ 10 افراد کی ایک ٹیم ہے۔یعنی بقول مجروحؔ سلطانپوری،

میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا



تحریر: ہریش بِشٹ

مترجم: ہاجرہ نور احمد زریابؔ