1009 بار ' نہ' سننے کے بعد بھی نہیں مانی ہار... کے ایف سی سے دنیا جیتنے والے کرنل سانڈرس

0

اگر آپ کے اندر کچھ کر گزرنے کی لگن اور قوۃ ارادی ہے تو آپ کی عمر اور تمام بندشوں کو پار کر زندگی میں کامیابی کی بلندیون کو چھو سکتے ہیں۔ کرنل هارلے سانڈرس کی کہانی ہمیں بہت کچھ سکھاتی ہے۔ آپ مشہور زمانہ کے ایف سی کے پرستار ہو یا نہ ہوں، لیکن اس کے بانی سانڈرس کی جدوجہد کے بارے میں جان کر آپ ان کے مر ید ہوئے بغیر نہیں رہ پائیں گے۔

کرنل هارلے سانڈرس اپنی ہمت، وفاداری اور عزائم کے چلتے آج نوجوانوں کے لئے ایک رول ماڈل بن چکے ہے۔ سانڈرس کی جدوجہد کی کہانی سننے کے بعد ہر کوئی ان کی محنت اور ان کے جذبے کا قائل ہو جاتا ہے۔ دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جہاں کے کھانے کے شوق سانڈرس کے 'انگلی' چاٹنے والے لاجواب '' یعنی کی 'کینٹکی فرايڈ چکن کے نام سے لاعلم ہو۔

آنکھوں پر شیشے لگائے ہوئے سانڈرس کو صاف ستھرے سفید سوٹ، کالی ٹائی اور ہاتھ میں گیری چھڑی سے آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے اور KFC کے ہر بورڈ پر انہیں اس طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

کرنل سانڈرس کی زندگی میں سب سے زیادہ دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب انہوں نے 65 سال کی عمر میں اپنا ریسٹورنٹ بند کیا۔ ساری زندگی محنت کرنے کے بعد عمر کے اس پڑاؤ پر انہوں نے دیکھا کہ ان کے پاس بچت کے نام پر کچھ نہیں ہے اور وہ بالکل غریب ہیں۔

65 سال کی عمر میں انہوں نے ریستوران میں تالا لگایا اور ریٹائرمنٹ لے کر آرام کی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔ اسی وقت انہیں سوشل سیکورٹی کے تحت ملنے والی رقم کا پہلا چیک ملا جس نے ان کی زندگی ہی بدل ڈالی۔

شاید ان کی قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ پنشن میں ملی اس 105 ڈالر کی رقم سے تو ان کی شہرت اور اقتصادی خوشحالی کی ایک نئی عبارت لکھی جانے والی تھی۔ اس رقم نے ان کی زندگی کو تبدیل کر دیا اور انہوں نے کچھ ایسا کرنے کی ٹھانی جس نے انہیں مستقبل میں بین الاقوامی سطح پر مشہور کر دیا۔

کرنل سانڈرس کھانے کھلانے کا شوقین انسان تھے اور ایک بہت ہی اچھے میزبان تھے۔ وہ بہت لاجواب فرايڈ چکن بناتے تھے اور تمام ملنے والے ان کے پكائے اس چکن کے مرید تھے۔

زندگی کے 65 موسم بہار دیکھنے کے بعد جب زیادہ تر لوگ آرام کی زندگی جینے کی چاہ رکھتے ہیں ایسے وقت میں کرنل سانڈرس نے کچھ نیا کر دکھانے کی ٹھانی۔ انہوں نے طے کیا کہ وہ اپنی طرف سے تیار کئے گئے فرائیڈ چکن کھانے amateurs کے روبرو کروائیں گے۔

کھانے amateurs تک اپنی اس ڈش کو پہنچانا سانڈرس کے لئے اتنا آسان نہیں رہا اور انہیں اس کے لئے دن رات ایک کرنا پڑا۔ شروع میں سانڈرس نے اپنے علاقے کے ہر گھر اور ریستوران کے چکر لگائے اور لوگوں کے اپنے بنائے ہوئے چکن کے بارے میں بتایا۔ سانڈرس کو امید تھی کہ انہیں کوئی تو ایسا ساتھی ملے گا جو ان کے اس چکن کے حقیقی ذائقہ کوپهچانےگا اور اسے دوسروں تک پہنچانے میں مدد کرے گا لیکن انہیں مایوسی ہی ہاتھ لگی۔

دھن کے پکے اور فطرت سے ضدی سانڈرس نے ابتداعی جھٹکوں سے ہار نہیں مانی اور لوگوں کو چکن کا ذائقہ چكھوانے کا دوسرا راستہ ڈھونڑا اپنے گھر سے نکل کر شہر کے مختلف ہوٹلوں میں جاتے اور وہاں کے باورچی خانے میں اپنا فرائیڈ چکن کھلاتے پسند آتا تو وہ اس ہوٹل کے مینو میں شامل ہو جاتا۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں سانڈرس کو پہلے ہوٹل مالک سے '' ہاں 'سننے سے پہلے 1009 لوگوں سے'نہ'سننے کو ملی تھی، لیکن اتنا ہونے کے بعد بھی انہوں نے ہمت نہین ہاری۔

جی ہاں اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ 1009 لوگوں نے ان کے فرائیڈ چکن کو مسترد کردیا تھا جس کے بعد ایک شخص کو وہ پسند آیا۔ اور اس کے بعد شروع ہوا KFC کا کا سلسلہ۔

کرنل اور اس ہوٹل کے مالک کے درمیان یہ طے ہوا کہ وہاں فروخت ہونے والے ہر چکن کے بدلے انہیں 5 سینٹ ملیں گے۔ اور اس طرح کرنل کے بنائے فرائیڈ چکن مارکیٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ لیکن یہ تو صرف آغاز تھا۔

اس چکن کو پکانے میں کیا مصالحے استعمال ہو رہے ہیں اس راز کو راز رکھنے کے لئے کرنل نے ریستوران میں مصالحے کا پیکٹ بھیجنا شروع کر دیا۔ اس طرح سے وہاں انکا چکن بھی بن جاتا اور دوسروں کو ان کے رازکا بھی پتہ نہیں چلا۔

وقت کا پہیا گھوما اور سال 1964 آتے آتے کرنل کا بنایا چکن اتنا مشہور ہو گیا کہ اس وقت تک تقریبا 600 مقامات پر اس کی فروخت ہونے لگی۔ اسی سال شہرت کی چوٹی پر کرنل نے KFC کو تقریبا 20 لاکھ ڈالر کی موٹی رقم میں دوسرے کو فروخت کیا، لیکن وہ خود کمپنی کے ترجمان کے عہدے پر رہے۔

سانڈرس کے بنائے چکن سے انہیں اتنا نام میا کہ سال 1976 میں انہیں دنیا کے سب سے زیادہ اثردار شخصیات کی فہرست میں دوسرے نمبر پر رکھا گیا۔

اس طرح کرنل نے دنیا کو دکھایا کہ 65 سال کی عمر میں جب زیادہ تر لوگ ریٹائر ہو کر گھر میں بیٹھنے کی تیاری کر لیتے ہیں تب بھی اگر کبھی نہ ہار ماننے کا حوصلہ رکھ کر کام کیا جائے تو کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔


FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

"غریب مریضوں کے لئے امید کی کِرن... امید ہاسپٹل "

دانش محل...کتابوں کا تاج محل ، دانشوروں کاخواب محل

غریب بچوں کو پڑھانے کے لئے گھر چھوڑ کر بنے 'سائیکل ٹیچر'