ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب... نئے تجربوں سے سیکھنے کا ہنر

0

وقت جب کروٹ لیتا ہے تو باز ياں  ہی نہیں، انسان کی زندگی تک پلٹ جاتی ہے۔ کچھ ایسا ہی ہوا منیشا ارورہ کے ساتھ۔ جو شادی کے کرنے کے بعد اپنا گھر بسا چکی تھی۔ شادی کے بعد ایک بڑا سا گھر تھا، خالی وقت میں دوستوں کے ساتھ کِٹی پارٹی، اور شاپنگ کا دور دورہ تھا۔ زندگی مزے سے کٹ رہی تھی۔ لیکن ان کی زندگی میں تجارت اور کاروبار کرنا لکھا تھا یہی وجہ ہے کہ آج وہ بینگلور  میں  انفراكڈس نام کی ایک کمپنی کی شریک بانی ہے۔ یہ کمپنی کے نیٹ ورک سے متعلق پریشانیوں کو دور کرتی ہے۔ اس کے ساتھ وہ ہوم کیٹرنگ کا بھی کر رہی ہیں۔ ان کے دوستوں کے مطابق ان کے بنائے پراٹھو کا کوئی مقابلہ نہیں۔

منیشا پنجاب کے گرداس پور ضلع کے خوبصورت گنے اور سرسوں کے کھیت چھوڑ، کنکریٹ کے جنگلوں سے بنے بینگلور جیسے شہر میں رہی ہے۔ انجینئرنگ میں گریجویشن کی تعلیم حاصل کی ہے اور آئی آئی ایم، لکھنؤ سے مینجمنٹ ڈپلوما ہولڈر منیشا کافی جوشيلی ہیں۔ تبھی تو فرصت کے لمحات میں وہ دوڑنا پسند کرتی ہیں۔ منیشا حال ہی میں سنپفيسٹ میراتھن میں بھی حصہ لے چکی ہیں۔ اپنی صحت کا پورا خیال رکھتی ہیں اور اس معاملے میں وہ کافی پرجوش رہتی ہیں۔ اتنا ہی نہیں جہاں پر وہ رہتی ہیں وہاں انہوں  نے ثقافتی سرگرمیوں میں لوگوں کو ایک ساتھ شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس گروپ میں نہ کوئی ٹیوٹر ہے اور نہ کوئی شاگرد۔ یہاں جس کا دماغ جیسا کیا وہ ویسا رقص کر سکتا ہے۔

ایک  کھلاڑی کی طرح منیشا موقع کا انتظار کرتی ہیں اور مناسب وقت پر صحیح قدم اٹھاتی ہیں۔ یور اسٹوری  کے ویب سائٹ پر  روزونہ کہانیاں پڑھ کر  حوصلہ پاتی ہیں، جیسے یہ ان کی دماغی خوراک  ہو۔  ان کہانیوں سے وہ تحریک حاصل کرتی ہیں۔انہوںے نے  'ہر اسٹوری' کے ایک پروگرام میں حصہ لیا تھا اور اپنی کہانی سنائی تھی۔ 

اس اجلاس میں ایک خاتون کاروباری نے منیشا  سے پوچھا تھا  کہ وہ لذیز  پاستا اور مزیدار شوسیز بناتی تو ہیں ہی کئی بار آرڈر پر رات کا کھانا بھی بناتی ہیں۔ ان خاتون نے منیشا سےکہا ،'' کیا پتہ کسی دن تمہارے پراٹھے بنانے کی مہارت کا استعمال کر ہم مل کر اس میں کچھ نیا کریں''

 خواتین کاروبریوں نے منیشا  کو کچھ نیا کرنے کے بارے میں کہا۔ خصوصاً  ان کا ماننا تھا کہ  آفس میں گھر کے بنے لنچ کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ کیوں نہ ڈھابے کا کام شروع  کر تیں۔ بہت سے مشورے  اس دن انہیں لوگوں نے منیشا کو دئے تھے۔ وہ بتاتی ہیں "میں اپنے والد سے متاثر تھی۔ چاہتی تھی کہ خود سےکچھ نیا کام کروں۔  اپنے ذاتی کاروبار کا خواب دیکھتی تھیں۔ میرے لئے میرے والد  تحریک و ترغیب کا باعث ہیں۔ فی الحال وہ 64 سال کے ہیں لیکن آج بھی وہ نئی چیزوں کے ساتھ تجربے کرنے کے لئے پیچھے نہیں ہٹتے۔  یہی وجہ ہے کہ وہ کئی بزنس ایک ساتھ کر رہے ہیں۔ "

چند سال پہلے باپ اور بیٹی نے ایک خواب دیکھا تھا۔ خواب تھا پنجاب میں ڈسٹلري پلانٹ کی تنصیب کا۔ منیشا نے امرتسر سے گرو نانک دیو یونیورسٹی سے  بی ٹیک کیا تھا۔ اس کے بعد دونوں نے مل کر گنّے کی پیداوار والے علاقوں کا دورہ کیا۔ یہاں تک کی اترپردیش کے مظفرنگر جیسے علاقے کا بھی۔ تاکہ وہ اس بزنس کو سمجھ سکیں۔ لیکن ان کے والد نے کہا کہ یہ کام ان کے لئے محفوظ نہیں ہے اس لئے ان کو اپنے پاؤں واپس كھچنے پڑے۔

اس کے بعد منیشا نے اپنے پلان بی پر کام کرنا شروع کر دیا اور فرانسیسی زبان سیکھی۔ کچھ وقت بعد اپنی سوچ کو توسیع دینے کے لیے وہ پونا آ گئیں۔ اس دوران وہ ایک سے دوسری نوکری کرتی رہیں اور نئے تجربے سیکھتی رہیں۔

اپنے بچپن کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے منیشا بتاتی ہے کہ "مجھے یاد ہے کہ جب میرے والد نے پہلی بار اپنا بزنس شروع کیا تھا تو انہوں نے اپنی پہلی آمدنی مجھے دی تھی۔ (اگرچہ وہ بہت کم پیسے تھے) تاکہ پیسے محفوظ رہ سکیں۔ اس کے بعد سے مجھے ایک بات ہر وقت یاد رہتی ہے کہ ہر بڑی چیز کا آغاز چھوٹے سے ہوتاہے۔ "