میٹرو ریل كورڈور کے علاقوں میں ہو سکتا ہے کرایوں میں اضافہ

حیدرآباد کے ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں کم ہے بلیک منی ۔ترقی کا جھکاؤ صرف ہائی ٹیک سٹی اور گچی باولی کی طرف۔نوٹ بندی سے سراكاری خزانے کو 40 کروڑ روپے کی چپت۔ملک کے رہائشی رئل اسٹیٹ بازار کو 22600 کروڑ روپے کا خسارہ۔

0

رہائش اور کمرشیل مقاصد سے عمارت کی تعمیر کےشعبےپر نظر رکھنے والی کمپنی نائٹ پھرانک کی مانیں تو حیدرآباد کے ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں بلیک منی کم ہے،  یہی وجہ ہے کہ یہاں کا بازار نوٹ بندی کے فیصلے سے بہت کم متاثر رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نوٹ بندی کی وجہ جہاں ملک کے رہائشی رئل اسٹیٹ بازار کو 22600 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے، جبکہ سرکاری خزانوں کو 1200 کروڑ روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا ہے۔ رپورٹ میں صاف کیا گیا ہے کہ حیدرآباد میں ریئل اسٹیٹ کی ترقی کا  جھکاو شہر کے مغربی علاقے پر ہی ہے، جہاں گچی باولی، ہائی ٹیک سٹی اور نانكرام گوڑا جیسے علاقے ہیں۔

نائٹ فرینک کے ڈائریکٹر ارپت میهروترا اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر غلام محمد ضیاء نے   اکتوبر-دسمبر کی سہ ماہی سے منسلک ملک کی ریئل اسٹیٹ رپورٹ جاری کی۔ اس رپورٹ میں ملک کے 8 شہروں، ممبئی، این سی آر، بینگلورو، پونے، چنئی، حیدرآباد ، کولکتہ اور احمد آباد  کے تعمیر ی صنعت کا سروے شامل ہے۔ 2016 قومی سطح پر اور تمام 8 شہروں کے لئے ریل اسٹیٹ کی کا کاروبار سابق سال کے مقابلے میں زیادہ اچھا نہیں رہا ہے۔ بالخصوص آخری دو ماہ میں نوٹ بندی نے اس پر اور زیادہ اثر ڈالا ہے۔ آخری سہ ماہی کے دسمبر مہینے میں تو اس کا گراف کافی نیچے گرا ہے۔

غلام محمد ضیاء نے رہائشی عمارتوں کی تعمیر کی تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد دیگر شہروں کے مقابلے میں متوازن ہے۔ یہاں پر دسمبر میں رئیل اسٹیٹ کے کاروبارکا گراف تیزی سے نہیں گرا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ حیدرآباد کے ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں کالا دھن کم ہے۔ اس کے کچھ اور وجہ یہ بھی ہو سکتی ہیں کہ طویل چلی تلنگانہ تحریک کے دوران جس طرح کا ماحول رہا تھا، اس میں وہی لوگ اس صنعت میں جمے رہے، جو تعمیر کےشعبے میں دلچسپی  کے ساتھ کام کرنا چاہتے تھے اور خریداروں کی زیادہ تر تعداد نوکر  پیشہ افراد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے شہروں کے مقابلے میں حیدرآباد میں ریئل اسٹیٹ کی شرح میں بھی زیادہ کمی یا اضافہ نہیں ہو پایا ہے۔ حالانکہ نوٹبدي کی کامل اثرات اب تک سامنے نہیں آیا ہے، لیکن ریرا (ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی)، گمنام اثاثہ قانون اور جی ایس ٹی وغیرہ سے 2017 میں ریئل اسٹیٹ کا کاروبار کسی بھی اندازے سے مختلف ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد میں 2012 میں 2.3 ملین مربع فٹ زمین پر تعمیر کی سرگرمیوں کو فروخت کیا گیا تھا اور 2016 میں 6.0 ملین مربع فٹ زمین پر تعمیر کاموں کو فروخت کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال کئی بڑی کمپنیوں نے حیدرآباد کے ریئل اسٹیٹ بازار میں قدم رکھا ہے۔ حالانکہ نئی منصوبوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن دوسرے شہروں کے مقابلے میں کم ہے۔

ایک سوال کے جواب میں غلام محمد ضیاء نے کہا کہ حیدرآباد میں نوٹ بندی سے ریئل اسٹیٹ کو 800 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے اور اس سے تلنگانہ حکومت کو 40 کروڑ روپے کی چپت لگی ہے۔ نوٹ بندی کی وجہ اچانک حیدرآباد کے ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں بھی نومبر اور دسمبر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 40 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں 2016 سال کے آخری نصف میں نئے منصوبوں میں تو 3 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، لیکن فروخت میں 6 فیصد کی گراوٹ درج کی گئی گئی ہے۔  حیدرآباد میں اثاثہ کی فروخت اوستاً 2 سال میں ہو جاتی ہے اور قومی سطح پر حیدرآباد میں سب سے بہترین ماحول ہے۔ حالانکہ ترقی کا مرکز اس سال میں شہر کا مغربی علاقہ رہا ہے، لیکن میٹرو ریل کی تعمیر کے بعد اپل کی طرف ترقیاتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ حیدرآباد میں میٹرو ریل راستوں کے علاقوں میں رہائشی کرایوں میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ نقل و حمل کی سہولت کے چلتے لوگ ریلوے اسٹیشنوں کے نزدیک رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

 حیدرآباد میں چونکہ آئی ٹی اور آئی ٹی پر مبنی صنعت ہی مرکز ہے، جس کی وجہ سے اسی میں ملازمتوں کے موقع ذیادہ ہیں۔ دوسرے کاروبار  و صنعتوں کا اثرنہ ہونے کی وجہ سے رئیل اسٹیٹ کی ترقی آئی ٹی روزگار سے منسلک علاقوں کے آس پاس ہی رہی ہے۔ حالانکہ حیدرآباد اور احمد آباد میں سڑکیں بہت اچھی ہیں، لیکن عوامی نقل و حمل سڑک کی بنا پر زیادہ آسان نہیں ہوتی، اس لیے میٹرو ریل پروجیکٹ کا تعمیراتی کام مکمل ہونے کا بعد ریئل اسٹیٹ دوسرے علاقوں میں بھی توسیع پا سکتا ہے۔

نائٹ فرینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہر کے مغربی علاقے میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں کے چلتے گزشتہ 15 سالوں میں نارسنگی اور پپپلگوڑا  میں بہت نئی دفتر ی عیمارتوں کی تعمیر کیا گیا ہے۔ اسی طرح گچي باولی اور ہائٹیك سٹی میں رہائشی عمارتوں کی تعمیر  میں اضافہ ہوا ہے اور یہاں کی شرح 4500 مربع فٹ سے لے کر 5800 فٹ ہو گئی ہے۔ کچھ علاقوں میں طلب کے مطابق شرح میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem