11سالہ لڑکے کی ایجاد، بیکار بیٹری سے روشن کی لائٹس

0


پیٹنٹ کے لئے کی درخواست ...

بجلی کی قلت سے نمٹنے میں کارگر ...

ریموٹ سے آپریٹ ہوتا ہے گھر کا دروازہ ...

زندگی میں کچھ کرنے کے لیے دولت یا تجربہ کیی نہیں بلکہ کچھ کر گزرنے کا جزبہ اور لگن کی ضررورت ہوتی ہے اور اسی جوش و جزبہ نے ویدنات کو کم عمری یں ہی ایک موجد بنا دیا۔

کچھ بچے منفرد ہوتے ہیں۔کم عمر میں ہی وہ اپنی سوچ اور سمجھ سے دنیا کو سکتہ میں ڈال دیتے ہیں۔ ویدانت ایسے ہی بچوں میں سے ایک ہے۔ وہ اپنی عمر کے دوسرے بچوں سے تھوڑا ہٹ کر ہے۔ اس کی عمر کے جو بچے کھلونوں سے کھیلتے ہیں اور ٹوٹ جانے پر پھینک دیتے ہیں وہیں ویدانت ان کھلونوں سے دوسری چیزوں کو بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ ویدانت میرا روڈ، ممبئی کے شانتی نگر ہائی اسکول کی چھٹی کلاس کا طالب علم ہے۔ ویدانت نے ایسی شمسی لائٹس تیار کی ہے جسے بہت کم خرچ پر تیار کیا جا سکتا ہے بلکہ جن علاقوں میں بجلی کی قلت ہے وہاں پر بچے اپنی تعلیم کے لئے اور خواتین گھر میں کھانا بنانے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ 11 سال کے ویدانت نے یہی نہیں بنایا بلکہ اپنی ضرورت کے مطابق ایسا ریموٹ آن لاكنگ ڈور سسٹم بھی ایجاد کیا ہے جس کے ذریعے دور بیٹھ کر گھر کا دروازہ کھولا یا بند کیا جا سکتا ہے۔

ویدانت کو بچپن سے ہی مختلف طرح کی چیزوں سے کھیلنے اور اس کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرنے کا شوق رہا۔ بچپن سے ہی اس کو بجلی کی مصنوعا ت بنانے، آسان طریقے سے بجلی تیار کرنا اور ضرورت مند لوگوں کی مدد کرنا اس کے عادت رہی۔ پہلے وہ صحیح سلامت چیزوں کو توڑ دیتا تھا، لیکن اب وہ ٹوٹا ہوئی چیزوں کو جمع کرکے کچھ نہ کچھ بنانے میں مصروف رہتا ہے۔

ویدانت کے والد دھيرن ٹھکر جو پیشے سے الیکٹریکل انجینئر ہیں بتاتے ہیں، "ایک دن میرا لیاپ ٹاپ خراب ہو گیا میں لیاپ ٹاپ کو درست کرانے میکینک کے پاس لے گیا، جہاں پر مجھے بتایا گیا کہ لیاپ ٹاپ کی بیٹری خراب ہو گئی ہے اور میکینک نے اس بیٹری کی جگہ نئی بیاٹری لگا دی۔ لیکن ویدانت نے اس پرانی بیٹری کوپھینکنے نہیں دیا اور اسے اپنے پاس ہی رکھ لیا۔ "

ویدانت نے اس خراب بیٹری کو گھر لا کر کھولنا شروع کیا، جہاں اس کو چھ الیکٹرک سیل ملے۔ اس نے میٹر سے ان سیل کی جانچ کی ، کیونکہ وہ اس طرح کے کام پہلے سے جانتا تھا اس کی وجہ تھی کہ ایک توالیکٹرانک اشیاء کی گھرپر موجودگی اور دوسری اس کے والد کا الککٹرانک اانجینیر ہونا تھا۔ جب اس نے بیٹری کھولی تو اسے پتہ چلا کہ بیٹری میں لگے 5 سیل ٹھیک ہیں۔ جبکہ ان میں سے صرف 1 سیل خراب ہے اور یہ تمام سیل ایک لائن میں لگے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی بھی ایک سیل خراب ہو جائے تو کرنٹ آگے نہیں دوڑ پاتااس لیے بیاٹری کو پھینک دینا پڑتا ہے۔

ویدانت نے ان چھ سیل میں سے جو سیل خراب تھا اس الگ کیا اور گھر میں رکھی ایک پرانی سی ایف ایل لگی ایمرجنسی لائٹ جو پہلے سے خراب تھی اس ڈھونڈا اور لیاپ ٹاپ کے 2 سیلز کو ان سے جوڈ دیا۔ ویدانت کی یہ ترکیب کام کر گئی اور لائٹ جلنے لگی۔ جب ویدانت نے اپنے والد کو اس کی اطلاع دی تو پہلے ان کو تعجب ہوا کہ کس طرح اس نے خراب بیٹری سے ٹارچ لائٹ روشن کر دیا،اس کے بعد جب ویدانت نے انہں ساری کہانی سنائی تو وہ بہت خوش ہوئے۔ ویدانت نے انہیں یہ بھی بتایا کہ ایک بار سیل خراب ہو جائے تو یہ لیاپ ٹاپ میں دوبارہ استعمال نہیں ہو سکنے کے باوجود ان میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ اگر کسی گھر میں روشنی نہ ہو تو وہاں پر ایل ای ڈی روشنی لگا کر کوئی بچہ تعلیم حاصل کر سکتا ہے یا کوئی ماں اپنے بچے کے لئے کھانا بنا سکتی ہے۔

ویدانت سال میں دو بار گاؤں جاتے ہیں، جہاں پر وہ دیکھتے تھے کہ رات میں اکثر روشنی کی مسئلہ رہتا ہے۔ایسے میں بچے رات میں پڑھائی نہیں کر پاتے تھے، خواتین کو کھانا بنانے میں دقت پیش آتی تھی اور حادثے کا خوف رہتا تھا۔ تب انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ ایسے مقامات کے لئے مفت بجلی کی انتیظام کیا جائے، اس کے لئے ویدانت نے اپنے والد سے مدد مانگی اور ان سےکہا کہ وہ ایل ای ڈی لائٹ اور چھوٹا سولار پینل لاکر دیں۔ جس کے بعد ویدانت نے سولار پینل چارج سرکٹ تیار کیا اور اس نے ایک ایسی لائٹ تیار کی جو شمسی توانائی کے زریہ5 تا 48 گھنٹے تک چل سکتی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس کی تیاری پر خرچ صرف 4 سو روپے ہی ہوتا ہے۔ ویدانت کے والد کا کہنا ہے کہ"اس کا مقصد ہے کہ بچے رات میں پڑھائی کر سکیں اور ان کے لئے مفت بجلی کی تیارری کی جا سکے۔"

خاص بات یہ ہے کہ لیاپ ٹاپ کی بیٹری میں لتیم آئن ہوتا ہے جو ماحولیات کے لئے بہت خطرناک ہے۔ وہیں ہمارے ملک میں ای ویسٹ کے خاتمے کے لئے کوئی بھی صحیح طریقہ نہیں ہے۔ ایسے میں اگر ویدانت کی کوشش کی زیادہ سے زیادہ تشریح کی جائے اور استعمال ہو تو نہ صرف ماحولیات کی حفاظت ہوگی بلکہ ضرورت مند لوگوں کو مفت میں بجلی مہیاء کی جا سکے گی ۔ اسی بات کومحسوس کرتے ہوئے ویدانت کے والد نے پیٹنٹ کے لئے بھی درخواستیں داخل کی ہے۔ ویدانت کے والد ا کہنا ہے،"اس کا دھیان پڑھائی میں کم اور انوویشن میں زیادہ رہتا ہے،اس کے باوجود سائنس ویدانت کا پسندیدہ موضوع ہے۔"

ویدانت نے صرف یہی نہیں بنایا بلکہ کئی ایسی چیزیں بنائی ہے جو روزمرہ کے استعمال میں کافی مددگار ہیں، ویدانت کے والد بتاتے ہیں کہ اکثر ان کے گھر میں لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے ایسے میں گھر کا دروازہ کھولنے اور بند کرنے کے لئے ویدانت کی ماں کو اپنا کام چھوڑ بار بار دروازے کے پاس جانا پڑتا تھا، یہ دیکھ ویدانت نے فیصلہ کیا کہ وہ کچھ ایسا کام کریگا کہ اس کی ماں کی یہ دقت دور ہو جائے۔ جس کے بعد اس نے گھر کا صدر دروازہ کھولنے کے لئے ریموٹ کنٹرول سے چلنے والا لاک تیار کیا۔اس کے لئے ویدانت نے ایک ریموٹ کنٹرول سے چلنے والے کھلونے کو لیا اور اسے توڑ کر سرکٹ نکالا جس کے بعد اس میں تھوڑی سی تبدیلی کر گھر کے دروازے پر لگا دیا۔ اب یہ دروازہ ریموٹ کنٹرول سے ہی کھولا اور بند کیا جاتا ہے۔اب ویدانت کی ماں کو بار بار گھر کے صدر دروازے تک آنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ ریموٹ گھر میں 25 میٹر کے فاصلے تک کام کرتا ہے۔اب ویدانت کی تمنا ہے کہ وہ بڑا ہوکر انجینئر بنے تاکہ وہ ملک کو بجلی کے معاملے میں خود کفیل بنا سکے۔

 

تحریر:ہریش بشٹ

ترجمہ:محمد عبدالرحمٰن خان