بچوں کے درمیان بہتر ڈائیلاگ کے لئے ایک ماں نے شروع کیا 'Stellar Children's Museum'

0

"علم حاصل کرنے کا صحیح طریقہ ہے عمل ،" اور جیسے ہی بچے اس پر عمل کرنا اور اپنے آس پاس کی دنیا سے بات چیت کرنا شروع کر دیتے ہیں، اتنی ہی جلدی اور بہتر طریقے سے وہ سیکھنے لگتے ہیں- اسی اعتماد اور جذبہ کے ساتھ، انجنا مینن اور ان کے شوہر نے نومبر 2012 میں گڑگاؤں میں 'Stellar Children's Museum' شروعات کی۔

تربیت کے اعتبارسے ایک انجینئر اور پروگرامر، انجنا نے کئی سال امریکہ میں بسر کیے ہیں- جب وہ ماں بنیں تو انہیں سمجھ میں آیا کہ بچوں کو اس دنیا کے بارے میں معلومات ہونی چاہیے جہاں وہ رہتے ہیں- اسی مقصد کے تحت وہ اپنے بچوں کو میوزیم اور سائنس میوزیم لے جانے لگیں- امریکہ میں اس قسم کے 300 سے زائد میوزیم ہیں- وقت بدلا، حالات بدلے- انجنا بھارت واپس آئیں- لیکن واپس آنے کے بعد انہیں یہاں اس طرح کے عجائب گھر وں کی بیحد کمی نظر آئی- وہ کافی حیران ہوئیں- انجنا کے مطابق، "یہ افسوس کی بات ہے کہ والدین صرف ایک ہی چیز کر سکتے ہیں، وہ یہ کہ اختتام ہفتہ پر مووی یا ویڈیو آرکیڈ لے جا سکتے ہیں -" اس لئے 2012 میں، انہوں نے 2 سے 10 سال تک کے بچوں کے لئے ایک باہمی مشاورت جیسے (انٹرایکٹیو) میوزیم کی تعمیر کے خیال پر کام شروع کر دیا- میوزیم نومبر 2012 میں کھولا گیا تھا اور اس وقت زائرین کی تعداد تقریبا 6500 ہے- گڑگاؤں کے ایم بی اینس مال میں واقع یہ میوزیم 11،000 مربع فٹ پر پھیلا ہے، جس میں سات گیلری ، ایک تھیٹر اور ایک کیفے شامل ہے-

ایک جذباتی اور حوصلہ مند ماں انجنا سے، ان کے خواب اور اس منصوبے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کے لئے 'یوراسٹوری' نے ان سے بات چیت کی

چوں کا میوزیم ایک جدید اور نیا شعبہ ہے- اسے شروع کرنے کے پیچھے کیا وجہ تھی؟

انجنا: جب ہمارے بچے چھوٹے تھے اور ہم امریکہ میں تھے، میں اکثر انہیں میوزیم لے جایا کرتی تھی- انہیں اس طرح کے سفر میں بہت مزہ آتا تھا، اور مجھے احساس ہوا کہ بچے بلاک کی تعمیر اور کردار ادا کرنے جیسی عام چیزوں سے بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں- وقت کے ساتھ، چھوٹے بچے، رنگ اور سائز جیسی سادہ تصور اور بڑے بچے کشش ثقل، مقناطیسیت وغیرہ پیچیدہ تصورات کو ڈرامہ کے ذریعے سیکھتے ہیں- چونکہ کھیلنا، خوشی اور باہمی تعاون کے ساتھ ہوتا ہے، اس کے لئے بچے تیار رہتے ہیں- تاہم، جب میں ہندوستان واپس لوٹی تو ملک میں چھوٹے بچوں کے لئے کسی بھی باہمی مکالمے جیسے (انٹرایکٹیو) میوزیم کی کمی کو دیکھ کر حیران تھی- اسی لئے ، میں ایسا ایک میوزیم شروع کرنے کی طرف راغب ہوئی- ایک ایسی جگہ، جہاں بچے جا سکیں، وہاں کے نمائشی اشیاء کو چھو سکیں اور ان سے کھیل سکیں- اس عمل سے اپنے ارد گرد کی دنیا کے بارے میں کچھ سیکھ سکیں-

میوزیم کا مواد کیا ہے اور آپ بچوں کو سیکھنے میں کس طرح مدد کرتی ہیں؟

انجنا: میوزیم میں سات گیلری ہیں جو کہ سائنس، جغرافیہ، فن اور صنعائی ، بہادری کے کارنامے ، کمیونٹی کی زندگی وغیرہ مختلف شعبوں میں پھیلی ہوئی ہیں- اس کے پیچھے مقصد ہے کہ بچے یہاں آئیں اور مزے کریں، سیکھنا تو ثانوی ہے- میوزیم میں دو استاد ہیں اور سات گیلریوں کے ہر ایک گیلری میں ، سپروائزر ہیں - جب بچے شک و شبہات میں پڑ جاتے ہیں تو وہ بچوں کے کاموں کو سمجھنے میں مدد کرتے ہیں- کچھ خیالات بہت آسان ہیں، جیسے کہ، "کمیونٹی میں رہنا" جس میں بچے سرگرمیوں کے ذریعے مسئلہ کو حل کرنے ، منطق اور فوری سیکھنے کی مہارت حاصل کرتے ہیں-

کس عمر کے گروپ کے لئے میوزیم سروس فراہم کرتا ہے؟ اور آپ میوزیم کے ڈیزائن اور مواد کو منتخب کیسے کرتی ہیں؟

انجنا: میوزیم خاص طور پر 2 سے 10 سال کے بچوں کے لئےمقصود ہے- تربیت یافتہ اور قابل اساتذہ کی طرف سے میوزیم کے دورے میں ان کی مدد کی جاتی ہے- ان اساتذہ کے پاس ابتدائی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے لئے تعلیم کے نئے طریقے کی معلومات ہونے کے ساتھ- ساتھ تجربہ بھی ہے- میوزیم کے ڈیزائن کے لئے ہم نے شکاگو کے ڈیزائنرز کی مدد لی ہے، جنہیں بچوں کے لئے میوزیم ڈیزائن کرنے کا 25 سال سے زیادہ کا تجربہ ہے- میوزیم کے ڈیزائن میں چھ ماہ کا وقت لگا- ڈیزائنر اور استاد دونوں مختلف گیلریوں کے لئے موضوعات اور مواد اکٹھا کرنے میں شامل ہیں- یہاں آ نے والے بچوں کے ساتھ ، ہم بہت سے ا سکولوں کے ساتھ مل کر بچوں کے لئے گھومنے پھرنےکا پروگرام منعقد کرتے ہیں، جس کا اصل مقصد ہے کہ بچے یہاں آئیں اور اس میوزیم کو دیکھ سکیں-

مالی وسائل اور توسیع کے منصوبوں کے بارے میں بتائیں؟

انجنا : 'Stellar Children's Museum' اصل کمپنی 'stellar group' کی طرف سے فنڈز فراہم کررہی ہے، جو نوئیڈا واقع ایک رئیل اسٹیٹ کمپنی ہےحالانکہ ہمیں ڈیٹا ل جیسے کچھ کارپوریٹ اسپانسرز سے بھی فنڈ حاصل ہوتا ہے- کارپوریٹ دنیا کے علاوہ، ہارپر کولنز، سفری کٹ فراہم کرتے ہیں ، فرینک ٹيج وغیرہ جیسی مختلف کمپنیاں بھی ہماری اسپانسر ہیں- ایک فائدہ مند انٹر پرایزیز ہونے کے ناطے ہم نے کسی بھی قسم کی مدد کے لئے حکومت سے رابطہ نہیں کیا ہے- فی الحال، دہلی میں ہم ایک اور میوزیم قائم کر رہے ہیں- ہم ہندوستان کے شہروں میں توسیع کے لئے فرنچائزی کا بدل تلاش کر رہے ہیں- تاہم، ہم اس سمت میں بہت انتخابیہ ہونا چاہتے ہیں- اس میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں کو بھی اس کو لے کر وہی جذبہ اور محبت ہونا چاہئے، جیسا ہم میں ہے- ساتھ ہی، چونکہ میوزیم کھولے ہوئے ابھی صرف ایک سال ہی ہوا ہے اس لئے توسیع کا خیال نسبتا نیا ہے-

میوزیم کا وقت اور فیس کیا ہے؟

انجنا: میوزیم ہفتے کے تمام سات دن صبح 10 بجے سے رات 8 بجے تک کھلا رہتا ہے- ہماری رکنیت حاصل کرنے کا ایک منصوبہ ہے جس کے تحت اراکین کو رعایت کی پیشکش کی جاتی ہے- فی الحال، ہمارے کل 140 سے زیادہ رکن ہیں- ہم اسکول کے بچوں کے لئے گھومنے پھرنے اور دوروں کا بھی اہتمام کرتے ہیں، جس کی مدت 2 گھنٹے ہوتی ہے-

میوزیم میں 30 منٹ کے لئےعام داخلہ کی شروعات صرف 200 روپے سے ہوتی ہے، اور یہ میوزیم میں گزارے گئے وقت کی بنیاد پر بڑھتی جاتی ہے- ایک بچے کے اندراج کے تحت بالغوں کا داخلہ مفت ہوتا ہے- بدھ کو ہم رعایتی شرح رکھتے ہیں اور سالگرہ اور دیگر تقریبات کے لئے خصوصی پیکیج دیتے ہیں-

آپ کی چاہت کیا ہے، آپ کو کیا متحرک رکھتا ہے اور آپ اپنے کام اور کنبہ میں کس طرح توازن بنا پاتی ہیں؟

انجنا: میری چاہت ہی میرا جنون ہے- والدین ہونے کے ناطے مجھے یقین ہے کہ ہندوستان میں اس طرح کا اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے- میوزیم میں ہم ٹیکنالوجی سے دور رہنے کے لئے باخبر ہیں- یہاں سب کچھ تجربے سے سیکھنے پر مبنی ہے اور اس وجہ سے یہ ایک سے زیادہ پرانے اسکول جیسا ہے- میں میوزیم کو ایک خالصتا کاروبار کے طور پر نہیں دیکھتی- میرے لئے یہ ایک خواب ہے- میں اسے بڑا بنانے کا خواب دیکھتی ہوں- میں ایسے بہت سے عجائب گھر کو یقینی بنانے کا خواب دیکھتی ہوں، جہاں بچے سیکھ سکیں، مزے کر سکیں اور اپنے آس پاس کی دنیا کے بارے میں مزید جانکار بن سکیں-

میں ہر روز نوئیڈا سے گڑگاؤں تک کا سفر کرتی ہوں- پھر بھی میرا یقین ہے آپ جو کرتے ہیں، اس سے اگر آپ کو محبت ہے تو پھر سب کچھ آسان ہو جاتا ہے- مجھے اپنے ساس سسر اور میرے شوہر اکشئےسے بہت تعاون ملتا ہے- وہ میوزیم کے تمام مالی پہلوؤں کو دیکھتے ہیں-

دیگر خواہش مند محنتی لوگوں کے لئے آپ کا کیا مشورہ ہے، خاص طور پر خواتین کے لئے؟

انجنا: میں زندگی میں چیلنجز کا سامنا کرنے والی عورت ہوں اور خوش قسمتی سے میرے شوہر بھی ایسے ہی ہیں- لیکن میرا یقین ہے کہ اگر آپ کے پاس مقصد ہے اور اسے حاصل کرنے کے لئے جنون ہے تو آپ اس میدان میں کود پڑ یئے- باقی سب کچھ اپنے آپ ہوتا جائے گا- آپ کو بہت غوروفکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے- کاروبار کے سائز سے کوئی فرق نہیں پڑتا- یہ ایک بچے کی طرح ہے آپ اس میں جتنا سرمایہ کاری کریں گے یہ اتنا ہی بڑھتا جائےگا- کچھ نیا شروع کرنے کے لئے یہ ایک بہت اچھا وقت ہے- ہندوستان میں اب ایک کشادگی ہے، لوگ نئے خیالات کو ترجیح دے رہے ہیں- آپ کے پاس اگر رائے (idea )ہے تو آپ یقین رکھیں ، اس کی تعریف اور اسے قبول کرنے کے لئے لوگ تیار ہیں - شروع میں صرف ایک آغاز(سٹارٹ اپ ) کی ضرورت ہے اس کے بعد تو آسمان ہی آپ کی حد ہے-

قلمکار- پرکاش بھوشن سنگھ

مترجم ۔۔۔ سہیل اختر