بجلی گرتے گرتے آپ خود بیزار ہو جاۓ, ایک با ہمّت خاتون کی کہانی

0

کسی نے کام حاصل کرنے کے لئے ایک دو بار نہیں، بلکہ 40 باردفتروں کا دروازہ کھٹکھٹایا ہو اور ہر بار ناکامی ہی ہاتھ لگی ہو تو وہ کیا کرے گا؟ کوئی عام انسان ہوتا تو وہ ملازمت کی امید ہی چھوڑ دیتا، لیکن پرمیلا ہری پرساد نے تو ہار ماننا جیسے سیکھا ہی نہیں تھا۔ وہ ان تمام ناکامیوں سے بے پرواہ اورامیدوں کا دامن پکڑے آگے بڑھتی رہیں۔ آج وہ جس مقام پر پہنچی ہیں، وہاں پہنچنا اتنا آسان نہیں تھا۔ پرمیلا آج Moolya Software Testing میں ٹیسٹ لیب اینڈ اکیڈمی کی سربراہ ہیں۔ Moolya Software Testing کے سی ای او پردیپ سوندریہ راجن کے مطابق پرمیلا میں یقین محکم ہے۔ وہ اپنے کام اورشخصیت سے اپنے ساتھ کام کر رہے لوگوں کو متاثر کرنے کی طاقت رکھتی ہیں۔

کام میںمہارت اورصحیح نقطہ نظر ہو تو زندگی کو سمجھنے کی صلاحیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ آج پرمیلا ٹیسٹر کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ پرمیلا کے مطابق ان کی یہ کہانی کسی جاسوسی کہانی سے کم نیں ہے۔

پرمیلا نے گریجویشن کی تعلیم جے ایس ایس کالج بینگلور سے سال 2003 میں مکمل کی۔ اس کے بعد انہوں نے اوریکل میں ٹیسٹر کا کام کیا۔ اس سے پہلے انہیں 40 کمپنیوں نے رجیکٹ کر دیا تھا۔ ابتدائی دنوں میں انہوں نے محسوس کیا کہ ان کے ساتھی اس بات سے خوش نہیں ہیں کہ وہ ٹیسٹر کے طور پر کام کریں اور ان کے دوستوں نے بھی انہیں اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرکے پروگرامنگ کے شعبے میں آنے کا مشورہ دیا۔ وہ اس بات سے ٹوٹ سی گئی تھی کہ ٹیسٹنگ کے کام کو کم نگاہ سے دیکھا جاتا ہے.

پرمیلا اگرچہ ٹوٹ گئی ہوں، لیکن انہوں نے ہمت بچی کام لیا۔ انہوں نے سافٹ ویئر ٹیسٹنگ کو لے کر اپنی معلومات میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ تجسس کو بھی قایم رکھا۔ Moolya میں کام کرنے سے پہلے وہ McAfee، سپورٹ سافٹ اور ویکینڈ ٹیسٹنگ کا کام کر چکی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ ٹیسٹر کا کام کتنی اہمیت رکھتا ہے۔ کوئی بھی مصنوعات یا سروس کو عوام کے سامنے پیش کرنے سے پہلے ٹیسٹر ہی ہے جو بتاتا ہے کہ مصنوعات اچھی ہیں یا خراب۔ تاہم ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔

سافٹ ویئر ٹیسٹنگ دراصل ایک موثر کاریگری ہے جس کے لئے سخت محنت کرنا پڑتا ہے۔ پرمیلا کہتی ہے کہ لکھنا تو سب کو آتا ہے، لیکن ہرکوئی میلکم Gladwell کی طرح نہیں لکھ سکتا۔ اسی طرح اس شعبے میں بھی جذبہ اور ہمت کے ساتھ ساتھ اعلیٰ میعار پر کھرے اترنے کی کوشش کرنے اور اس کے تئیں پرامید ہونا چاہئے۔ ٹیسٹنگ کی پیچیدگیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ بتاتی ہیں کہ کسی بھی ٹیسٹر کا کام یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ مصنوعات میں کہاں غلطیاں ہو رہی ہے۔ اس کے لئے اس میں ہمدردی، سائنسی معلومات، تحقیقات کرنے کی مہارت اور غلط سمت کی طرف جا رہی چیزوں کو سمجھنے کی طاقت ہونی چاہیے۔ اگر کوئی آپ کے کام کو لے کر حوصلہ افزائی نہیں کریں گے تو وہ اس کام سے پریشان ہونے لگے گا، جس کا اثر اس کے ساتھ کام کر رہے دوسرے لوگوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔

پرمیلا کا خیال ہے کہ ان کو اپنے کام میں اور زیادہ وقت دینا چاہئے ساتھ ہی ٹیسٹنگ کے آلات کے بارے میں معلومات میں اضافے پر بھی توجہ دینا چاہئے۔ اگر کوئی پروگرامنگ میں بہتر ہے تو وہ بہتر ٹیسٹر بن سکتا ہے۔ پرمیلا نے سال 2008 میں پہلی بار ٹیسٹنگ کمیونٹی کے ساتھ بات چیت کی تھی، تب سے وہ ایسی کئی كانفرںس اور ورکشاپ میں حصہ لے چکی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مسلسل ایک جیسی سوچ رکھنے والے لوگوں سے ملاقات بھی کرتی رہتی ہیں۔ ساتھ ہی وہ بلاگ تو لکھتی ہی ہیں ٹیسٹنگ کی تعلیم بھی دیتی رہتی ہیں۔ پرمیلا کو ٹیسٹنگ انڈسٹری میں 11 سال ہو گئے ہیں۔

ان کا ماننا ہے کہ دوست احباب کسی بھی موضوع پر کھل کر رائے دینگے ہی، نہیں کہا جا سکتا۔ اگر آپ ان سے پوچھتے بھی ہیں تو وہ اپنی بات آپ کے سامنے نہیں رکھتے۔ اسی بات کو سمجھتے ہوئے پرمیلا نے Moolya میں ہر کسی کو اپنی رائے کھل کر رکھنے کا ماحول بنانے کی کوشش کی ہے۔ شروع میں کچھ خواتین ٹیسٹر کے ساتھ پرمیلا کو کچھ دقت ہوئی لیکن آہستہ آہستہ ان کو احساس ہوا کہ دوسروں کی بات بھی سننی چاہئےاپنی زندگی کے اس سفر میں ایک شرمیلی عورت سے وہ سب سے کھل کربات کرنے والی شخصیت بن گئی ہیں۔

پرمیلا اس دنیا کو رہنے کے لئے بہتر جگہ بنانے کی کوشش میں ہیں۔ ان کے مطابق ہم ہر چیز اپنی سہولت کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔ جسے کبھی کسی نہ کسی نے نہ صرف ڈیزائن کیا ہوتا ہے بلکہ اس کی جانچ بھی کی ہوتی ہے۔ اسی طرح وہ آنے والی نسل کے لئے ان کی زندگی کو آسان بنا نے کا کام کر رہی ہیں۔ وہ پیشہ ور لوگوں سے بات کرنا زیادہ پسند کرتی ہیں، کیونکہ ان کی قیادت، ایمانداری، سچائی اور محنت بہت زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ ٹیسٹنگ کے اپنے پیشے کے علاوہ پرمیلا کو لکھنے کا بھی شوق ہے اس کے لئے وہ نہ صرف بلاگ لکھتی ہیں بلکہ کئی ٹیسٹنگ رسالے میں مضامین بھی لکھتی ہیں۔ انہیں گھومنے اور کھانے کا شوق بھی ہے۔ ان کے اس کام میں ان کے بچے اور ان کا خاندان ان کی مدد کرتا ہے اور وہ ان کے ساتھ وقت گزرانا پسند کرتی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے یوگا کی تربیت بھی لینی شروع کی ہے۔

پرمیلا اپنے خاندان کی پہلی خاتون رکن ہیں، جنہوں نے 10 ویں، 12 ویں، اور کالج کی تعلیم مکمل کی۔ اس لیے وہ جانتی ہیں کہ آزادی کی قیمت کیا ہوتی ہے اور وہ انہیں کس طرح متاثر کر سکتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ خواتین کو ہمارے معاشرے میں دبایا گیا ہے۔ ان کے تعلیم پوری کرنے کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ ملازمت کرنے کی جگہ باورچی خانہ سنبھال کر ہی محفوظ رہ سکتی ہیں۔ اتنا ہی نہیں جو خواتین نوکری کرتی ہیں ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ گھر بھی سنبھالے تبھی معاشرہ طے کرتا ہے کہ کوئی عورت اچھی ماں، بیوی یا بہو ہے۔ ان کے مطابق ہمارے معاشرے میں صرف 33 فیصد تحفظ دینے سے خواتین میں تبدیلی نہیں ائیگی۔ اس کے لئے ہم کوایک نظام بنانا ہوگا، جہاں پر سب کو یکسان نظر سے دیکھا جاتا ہو۔ کیوں ہم خواتین سے پوچھتے ہیں کہ کس طرح وہ اپنے کام کے ساتھ گھر بھی سںبھا لتی ہیں۔ اس کے لئے ہمیں اپنی ذہنیت میں تبدیلی لانی ہوگی۔

پرمیلا Moolya کی پہلی خاتون رکن ہیں، لیکن انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ کوئی بھی نئی خواتین یہاں پر کام کرے تو اسے سازگار ماحول ملے۔ پرمیلا نئے لوگوں کے انٹرویو لیتی ہیں ، تنظیم سے منسلک پالیسیوں پر اپنی رائے رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے Moolya میں شروع سے ہی ان کے لئے کافی مددگارماحول رہا ہے۔ جہاں پر ان کے کام کرنے کی آزادی کے ساتھ ساتھ ٹیسٹنگ کمیونٹی اور عورتوں کے لئے کام کرنے کا بھرپور موقع ملتے ہیں۔ پرمیلا کے مطابق یہ ضروری ہے کہ آپ یہ جانے کہ آپ کوئی کام کیوں کر رہے ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟ کیا آپ صرف پیسے کے لئے ایسا کر رہے ہیں یا پھر اپنے جوش و جزبے سے دوسروں کی زندگی کو بہتربنانے کا مادہ رکھنے کی نیت سے اپنے کام کو انجام دے رہے ہیں۔ ضرورت ہے تو پکّے ارادوں کی۔ پرمیلا کو اپنے ارادے اور سوچ پر مکمل اعتماد ہے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem