Zoomot- کیب سفر کا ایک محفوظ اور سستا ذریعہ ۔

0

یہ پیر کی صبح ہے ۔ممبئی والوں کے لئے پیر کی صبح بڑی ہی تیز رفتار اور انتہائی مصروف ہوتی ہے ۔ہر کوئی جلدی سے جلدی دفتر پہنچتا چاہتا ہے اور اس جلدی میں مناسب سواری کا نہ ملنا ٹریفک کا جام ہونا اور جام میں سڑک پر پھنسنا کسی ڈراو نے خواب سے کم نہیں ہوتا ۔ویسے ہی آپ دیر تک بستر پر پڑی رہنے کی اپنی عادت کو کس رہے ہوتے ہیں ۔گھڑی کے زور دار الارم کے باوجود بستر سے باہر نکلنے میں ٓپ نے کم سے کم پانچ منٹ کا وقفہ لیا ہوتا ہے اور تیاری کے دوران ان پانچ منٹوں کی تاخیر ویسے ہی آپ کو پریشان کئے ہوتی ہے ۔اور پھر دفتر جانے کے لئے کیبس کا مسئلہ ۔۔جو کیبس ہوتی ہیں وہ ڈبل میٹر کے ساتھ چلتی ہیں ۔ممبئی والوں کے لئے یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جو انہیں ہفتے کے آغاز میں جھیلنا پڑتا ہے ۔یومیت سنگھ۔ نو نیت سنگھ اور رندیپ سنگھ بھی اس مسئلے سے نبرد آزما ہیں ۔روزانہ اپنے کام پر جاتے ہوئے ان تینوں کو ممبئی کی انتہائی مصروف اور بہت رش والی سڑکوں سے گذرنا پڑتا ہے ۔تئیس سالہ نونیت کہتے ہیں پبلک ٹرانسپورٹ ان کے لئے بہت سہولت بخش نہیں ہے اور وہ ریڈیو کیبس یا پھر سڑکوں پر دوڑتی کالی پیلی ٹیکسیوں کو افورڈ نہیں کرسکتے ۔ان کا کہنا ہے کہ کار پولنگ نہ تو قابل برداشت ہے اور نہ ہی قابل عمل کیونکہ ان کے اوقات کار مختلف ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ہم سڑک پر ان کاروں کی جانب اپنی توجہ مرکوز رکھتے تھے جو خالی جارہی ہوں ۔ان کا کہنا ہے کہ ان کی یہی ضرورت اور تلاش نے انہیں کار شیرنگ کا آئیڈیا فراہم کیا اور پھر اسی مقصد و نظم کے خیال نے Zoomot سرویسس کو وجود بخشا ۔

طریقہ کار۔

رائیڈ شیرنگ ایپ زوموت آپ کے لئے کیب بک نہیں کرتی بلکہ یہ ایپ کیب میں آپ کے لئے سیٹ بک کرتی ہے گویا کیب میں حصہ داری اس ایپ کا اہم مقصد ہے ۔اس کے تحت پوائینٹ ٹو پوائینٹ بلنگ سسٹم آپ کو اس بات کی معلومات فراہم کرتا ہے کہ آپ کی روٹ پر کیب دستیاب ہے یا نہیں اس کے علاوہ کیب میں سیٹ ہے بھی اس بات کی معلومات بھی ایپ کا حصہ ہے ۔یہ ایپ صرف مقررہ وقت اور مقررہ روٹ پر چلنے والی ٹیکسیوں ہی کی سرویس مہیا کرواتا ہے ۔ اس ایپ کے ذریعہ اڈوانس میں بھی سیٹ بک کروائی جاسکتی ہے ۔نونیت کہتے ہیں ’ اس آئیڈیے کا اہم مقصد ایک منظم طریقے سے سیٹ شیرنگ کو قابل عمل بنانے کے ساتھ ساتھ گنجائیش کے بہترین استعمال کو بھی یقینی بنانا تھا “ وہ کہتے ہیں افراتفری کے ماحول میں دفتر کے لئے پر سکون اور سستے سفر کا موقع فراہم کرنا بھی اس کا اہم مقصد تھا ۔نونیت یومیت اور رندیپ آئی ٹینس ہیں اور ان کی ایک سابقہ نیٹ ورک کے ذریعہ ملاقات ہوئی تھی ۔نونیت سمبیوسیس کے گریجویٹ ہیں ۔یہ تینوں اب دوست ہیں ۔جب یومیت اور رندیپ زوموٹ کے آئیڈیے کے ساتھ کام شروع کیا تو انہوںنے نونیت کو بھی اپنے ساتھ لے لیا ۔

انہوںنے اس ایپ کے لئے Affixus ٹکنالوجیز سے الحاق کیا ٹیم نے مائکرو کنٹرولرز اور سنسرس کی مدد سے رو بسٹ سسٹم تیار کیا ہے ۔تاکہ اس کی مدد سے گاڑی کے مقام کے ساتھ ساتھ بلنگ اور گاڑی کے خالی ہونے کا سہی سہی اندازہ لگایا جاسکے ۔ان کے ا یپ کول شئیر اینڈرائیڈ پلے اسٹور کے ساتھ ساتھ زو موٹ ویب سائیٹ پر بھی دستیاب ہیں ۔ انہوںنے اپنے اس ایپ کے لئے ایک کال سنٹر بھی قائیم کیا ہوا ہے تاکہ کسٹمرس کی ہر طرح رہنمائی کو یقینی بنایا جاسکے ۔

زوموٹ کی ٹیم اپنے دفتر میں ۔۔۔
زوموٹ کی ٹیم اپنے دفتر میں ۔۔۔

انتظام اور آمدنی ۔

اس ایپ کے لئے سب سے اہم چیلنج انتظام اور ٹیم بنانا تھا ۔زوموٹ کی ٹیم میں جو لوگ تھے انہیں از سر نو کام کرنا پڑا تھا ۔کیونکہ وہ باقاعدہ کار استعمال کرنے والے نہیں تھے ۔انہوںنے کمرشیل ٹیکسی وینڈرس سے ملاقات کی اور ان سے ٹیکسی سرویس کے تمام پہلووں اور مسائیل کی مکمل جانکاری کے بعد ہی فلیٹ تیار کی ۔انہوںنے ٹیکسی وینڈرس سے اس بات کی یقین دہانی کرالی تھی کہ مہینے میں اقل ترین فاصلہ تین ہزار کلو میٹر ہوگا اور اس کے لئے پینتیس ہزار روپئے سے زیادہ کا خرچ نہیں آئیگا ۔نونیت کہتے ہیں کہ فی الحال تو زوموٹ نے کنٹریکٹ منیجمنٹ کے ساتھ منافع اور خوش انتظامی پر زیادہ توجہ مرکوز کی ہوئی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ ہم فی سیٹ کے لئے مسافر سے براہ راست رقم وصول کرتے ہیں اور یہی ہماری آمدنی کا اہم ذریعہ ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ استعمال شدہ فی کیب کے حساب سے وینڈر کو رقم ادا کی جاتی ہے ۔نو نیت کہتے ہیں کہ ہر کلو میٹر پر صارفین ہمیں ساڑھے چار روپئے ادا کرتے ہیں اور سیٹ کے حساب سے یہ بہت ہی مناسب کرایہ ہے ۔

ممبئی آرٹی او سے ضروری اجازت نامہ حاصل کرنے کے بعد زوموٹ نے اکتوبر دو ہزار پندرہ میں پانچ کیب کے ساتھ با ضابطہ اپنے آپریشن شروع کئے ۔اور ایک مہینے کے اندر ہی انہیں اتنا رسپانس ملا کہ انہوںنے روزانہ اوسطا بیس سے تیس ٹرینزیکشن مکمل کئے ۔فری رائیڈز کو منہا کرنے کے بعد نومبر میں انہوںنے تیس سے پینتالیس رائیڈز کو یقینی بنالیا تھا اور آمدنی اوسطا یومیہ ایک سو دس روپیہ سے تجاوزکرگئی تھی ۔ ابھی زوموٹ۔۔۔ ممبئی کے صرف چار روٹس پر آپریٹ کررہی ہے اور اگلے مہینے تک مزید چھ نئی روٹیں متعارف کروا لی جائینگی ۔نونیت نے عزم ظاہر کیا ہے کہ اگلے چھ مہینے میں زوموٹ ممبئی کے بیس اہم روٹس پر ایک سو پچاس سے زائید کیبس کے ساتھ سرویس دینے لگیں گے ۔

مسافروں کی حفاظت ۔۔

کیب استعمال کرنے والے مسافروں کے حوالے سے نونیت کا کہنا تھا کہ ان کے کیبس کے سارے ڈرائیور ز کے لئے KYC چیک اور پولیس کی تصدیق کو لا زمی قراردیا گیا ہے ۔نونیت کہتے ہیں کہ چونکہ روٹس فکس ہیں اس لئے اگر روٹ میں تبدیلی کی جاتی ہے تو جی پی ایس سگنل فوری طور پر کنٹرول روم کو الرٹ کردیتا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ کیب کے اندر مسافرین کے لئے پینک بٹن بھی موجود ہوتا ہے اور اگر مسافر کو ڈرائیور کے رویہ کے حوالے سے ذرا سا بھی شک ہوگا تو وہ پینک بٹن دبا سکتا ہے جس سے بروقت SOS تک پیغام پہنچ جاتا ہے ۔

زوموٹ کی ٹیم نے آپریشن کے حوالے سے گذشتہ تین مہینے سے پوری محنت کے ساتھ کام کیا ہے ۔زوموٹ سیٹ فنڈز کا بھی خواہاں ہے اور اس سلسلے میں سرمایہ کاروں سے رابطہ بھی کیا جارہا ہے ۔جیسے جیسے فنڈ آتے جائینگے سرویس کو وسعت دینے پر بھی غور کیا جاتا رہیگا ۔

ممبئی کے بعد ٹیم ملک کے تمام مٹروز میں سرویس شروع کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔نونیت کہتے ہیں ”ہم سترہ سیٹر گاڑیوں کے حوالے سے سوچ رہے ہیں اور اس سلسلے میں بات چیت بھی چل رہی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ سیونٹین سیٹر سے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے گا ۔ان کا کہنا ہے کہ ایک بار اس آپریشن کو اسٹریم لائین کرلیا جائیگا تو پھر ٹو وہیلر ٹیکسی متعارف کروانے کی جانب توجہ دی جائیگی ۔

تجزیہ ۔

ہندوستان میں کا ر پولنگ وقت کے ساتھ ساتھ ایک نفع بخش کاروبار ثابت ہورہا ہے ۔پرائیز واٹر ہاوز کوپرس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اس شعبے میں گلوبل مارکٹ کی قدر پندرہ بلین ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے اور سن دو ہزار پچیس ] 2025 [ تک یہ کاروبار تین سو پینتیس بلین ڈالر کے آنکڑے تک پہنچ گیا ہے ۔ماہرین کے مطابق ہندوستان اس مارکٹ میں زبردست حصے داری کرسکتا ہے اور گذشتہ چند برسوں میں meBuddie,RidingO,PoolCircle,LiftO,اور CarPool Adda

نے اپنی اچھی جگہ بنائی ہوئی ہے ۔اس کے علاوہ بین الاقوامی کمپنیا جیسے برازیل Tripda اور فرانس کی Car BlaBla نے ہندوستان کی مارکٹ میں ریئل گیم چینجر بن گئے ہیں ۔ان کے علاوہ Ola اور Uber نے ہندوستانی مارکٹ میں پوری شدت کے ساتھ شمولیت اختیار کی ہوئی ہے جبکہ منی بس سرویس ZipGo

نے بنگلور اپنی اچھی خاصی پہچان بنالی ہے ایسے میں زوموٹ کیسے پیچھے رہ سکتی ہے اور شاندار شروعات زوموٹ کے بہتر مستقبل کی امین بھی ثابت ہورہی ہے ۔

۔۔۔۔

قلم کار ۔۔سندھو کیشپ

ترجمہ و تلخیص۔۔سجادالحسنین۔