چھوٹے سے شہر امبا لہ کے سنیل اوہری نے کیسے قائم کی اٹھارہ کروڑ روپئے مالیتی آئی ٹی کمپنی۔ Xportsoft؟

0

پروگرامر بننا سنیل اوہری کا ایک خواب تھا۔ ہریانہ کے ایک چھوٹے سے شہر امبالہ میں زندگی گذارنے والے سنیل اوہری نے اسی خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے ڈسٹنس ایجوکیشن سے پی جی کورس میں داخلہ لیا اور کمپیوٹر سائینس سے پوسٹ گریجویٹس ڈگری حاصل کرنے میں انہیں آخر کار کامیابی مل ہی گئی۔ انہوں نے ابتدا میں تو ایک کمپیوٹر ٹریننگ اسکول میں ٹیچر کی جاب سے اپنے کئیریر کا آغاز کیا مگر چونکہ ایک کمپیوٹر پروگرامر بننا ان کی زندگی کا مقصد تھا ۔ اسی لئے وہ اس جانب کوششکرتے رہے اور آخر کار دیڑھ سال کی جد و جہد کے بعد انہیں اپلی کیشن کا پروگرامر ہائیر کرنے میں کامیابی مل ہی گئی مگر بات یہاں آکے رک نہیں جاتی۔ انہوںنے اس پروگرام کو فروغ دینے کے لئے چار سال لگائے لیکن انہوںنے اپلی کیشن حاصل کرنے کے بعد اپنی ٹیچنگ جاب چھوڑی نہیں بلکہ وہ مزید دو سال تک انسٹی ٹیوٹ میں بچوں کو کمپیوٹر کے رموز و افکار پڑھاتے رہے۔ اپلی کیشن حاصل کرنے کے دو سال بعد انہوں نے بحیثیت فری لانسر کام کرنا شروع کردیا۔ انہوںنے بحیثیت فری لانسر کچھ پروجیکٹ مکمل کئے اور پھر اس کے بعد حیدرآباد کی ایک آئی ٹی کمپنی سے انہوںنے خدمات حاصل کیں۔ خاص ٹکنالوجی سے جڑے پروجیکٹس پر وہ خاص توجہ دینے لگے تھے۔ جب سن دو ہزار پانچ میں کام بڑھ گیا تو انہوںنے جاب کو خیر باد کہنے کا آخر کار فیصلہ کرلیا۔ انہوںنے نوکری چھوڑی اور اکسپورٹ سافٹ -Xportsoft... کے نام سے اپنے خود کے وینچر کا آغاز کردیا۔ اور آج نہایت چھوٹے پیمانے پر شروع کی گئی ان کی یہ کمپنی اٹھارہ کروڑ مالیت کی سافٹ وئیر کمپنی بن گئی ہے۔ ایک چھوٹے سے گاوں سے آنے والے اس کامیاب آئی ٹی ماہر کی اسی کہانی کو عام کرنے کا یور اسٹوری نے بیڑا اٹھایا اور ان سے ایک مفصل انٹرویو کرڈالا۔

آپ نے کام کب شروع کیا اور اپنی پہلی ڈیل آپ نے کیسے سر انجام دی۔ ؟

سنیل : سن دو ہزار تین میں میں نے اپنی کل وقتی ملازمت کے ساتھ ساتھ جب کچھ غیر ملکی کمپنیوں اور اشخاص کے ساتھ فری لانسنگ کرنے کا سوچا تو ابتدا میں مجھے قدرے دقت ہوئی تاہم میں نے ہار نہیں مانی اور انٹر نیٹ پر کام تلاش کرتا رہا۔ اسی تلاش کے دوران فری لانسنگ ویب سائیٹ پر مجھے پہلا کام ملا۔ میں نے اپنا پہلا پروجیکٹ محض دس ڈالر کا پایا مگر ایک سال کے اندر اندر میں نے دس ہزار امریکی ڈالر کے پروجیکٹ مکمل کرلئے۔ اس کلامیابی نے میرے حوصلے بلند کردئے۔ میں دن بھر پروگرامر کی حیثیت سے کام کرتا اور رات میں فری لانسنگ پروجیکٹ لیتا۔

ٹیم کی حیثیت سے آپ نے کام کیسے شروع کیا۔ اس میں فروغ کیسے ملا اور ان سالوں میں آپ کی آمدنی صارفین اور ٹیم کے بارے میں کچھ بتانا پسند کرینگے ؟۔

سنیل: دیکھیے جولائی میں میں نے جب کام شروع کیا تو میں اکیلا ہی پروجیکٹ کو سنبھالتا۔ تاہم فری لانسنگ کے دوران جب پروجیکٹ بڑھنے لگے اور کام بہت ہوگیا تو سال دو ہزار چھ میں میں نے اپنی ٹیم میں ایک شخص کا اضافہ کیا۔ ایک سال تک میں اپنے اس مددگار کے ساتھ کام کرتا رہا اور ایک سال کے گذرنے کے بعد میں نے اپنی کمپنی میں ایک اور ملازم کے اضافے کا فیصلہ کیا کیونکہ اب کام بہت ملنے لگا تھا۔ سن دو ہزار سات میں میں نے سافٹ وئیر ٹکنالوجی پارک آف انڈیا یعنی ایف ٹی آئی (FTI) کے لئے درخواست داخل کی۔ سن دو ہزار سات کے اواخر تک چھ افراد پر مشتمل ایک ماہر ٹیم انہوںنے تیار کرلی تھی۔ سنیل کہتے ہیں ایس ٹی پی آئی کے ایک یونٹ کی حیثیت سے پہلے مالی سال میں ان کی کمپنی کا ٹرن اوور چوراسی لاکھ ہوگیا تھا۔ دوسرے مالی سال میں ٹرن اوور ایک کروڑ انہتر لاکھ تک پہنچ گیا۔ اور پھر اس کے اگلے سال میں کمپنی کی آمدنی تین کروڑ ہوگئی اور اس کے اگلے برس سن دو ہزار گیارہ بارہ میں نو کروڑ کے مالیہ کے ساتھ کمپنی ایک طاقتور آئی ٹی کمپنی بن گئی تھی۔ اور اس کے اگلے برس ہم نے تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی آمدنی کو نو کروڑ سے اٹھارہ کروڑ یعنی کہ دگنا کرنے میں کا میابی حاصل کرلی تھی۔ اس طرح آج ہم سات لاکھ صارفین کے ساتھ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔

اپنی شاندار کارکردگی کے باعث اکسپورٹ سافٹ ٹکنالوجیز نے ایس ٹی پی آئی کا فاسٹ ٹریکر ایوارڈ جیتا ہے اس کے علاوہ اسی نوعیت کے تین ایوارڈ بشمول ہائیسٹ سافٹ ویر اکسپورٹ ایوارڈ شامل ہیں اس کے علاوہ سنیل کے مطابق ان کی کمپنی نے مختلف نوعیت کے سو سے زائید ایوارڈ حاصل کررکھے ہیں۔ سنیل کا کہنا تھا کہ وہ آئی ٹی کے شعبے میں ہونے والی تازہ ترین سرگرمیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں اور دنیا بھر میں آئی ٹی کے حوالے سے ہونے والے سمیناروں اور اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ میں اور میرے ساتھی دلچسپ غیر ملکی ٹرپس سے بھر پور استفادہ کررہے ہیں۔

آپ کی کلیدی صلاحیت اور قابلیت کیا ہے۔ ؟

سنیل: پروڈکٹ فوکس انٹر پرائیز ہونے کی حیثیت سے ہم بہت جلد اس بات کو سمجھ چکے تھے کہ صارف چاہتا کیا ہے اس کی تفریح کا سامان اس تک بہم کیسے پہنچایا جائے۔ مختلف کمپنیوں نے کیا چاہیے اور کیا نہیں اس سلسلے میں پہلے ہی سخت محنت کر رکھی ہے اور اس کے لئے ہم ان کے شکر گذار ہیں۔ میں نے اپنی ٹیم کو ایک ہی بات سمجھائی ہے۔ کہ میرے ساتھ کام نہ کریں۔ ۔ میرے لئے کام نہ کریں۔ ۔

بلکہ کسٹمرس کے ساتھ کام کریں اور کسٹمر کے لئے کام کریں۔ یہی ہمارا ویزن ہے۔ کلائنٹ بنیفٹ پروگرام کا ایک اہم حصہ ہے چوبیس گھنٹے صارفین کی مدد و رہنمائی کے لئے دستیاب رہنا۔ ہم صارفین کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔کسٹمر سیٹس فیکشن انڈیکس کو مینٹین رکھنے کے لئے اور اس میں مزید بہتری کے مقصد سے ہم بہ پابندی سروے کرواتے ہیں۔ ۔فیڈ بیک لیتے ہیں سوشیل میڈیا پر صارفین سے رابطہ بنائے رکھتے ہیں۔

: ہریانہ میں ٹیک ٹیم کے قیام کو آپ نے کیسے ممکن کیا۔ ؟

سنیل: ہریانہ میں ٹیکنیکل ٹیم کا قیام اور خاص طور پر امبالہ کے نواح میں ایک بڑا چیلنج تھا۔ اور اس سے کہیں زیادہ چیلنجنگ صلاحیتوں کو یکجا کرنا تھا ایک ایسے ماحول میں جہاں جاب بدلنا ایک رجحان ہی نہیں ایک فیشن بن چکا ہے۔ پروفیشنلس کا ملنا اس لئے بھی خاصا دقت طلب ہےکہ اس علاقے میں بجلی انفرا اسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ کا نظام نہیں کہ برابر ہے۔ اس کے علاوہ ایسی بہت سی چیزیں ہیں جو ہم نہیں رکھتے۔ تاہم میں پر امید ہوں اور اس بات کو لیکر پر عزم بھی کہ نا مساعد حالات کے باوجود Xportsoft Technologies ترقی کریگی اور ہر چیلنج کا ہم مل کر سامنا کرینگے

۔ ہمارے اسی عزم کا نتیجہ ہے کہ آج ہم تین مختلف علاقوں میں نوے دفاتر کے جال کے ساتھ ایک جامع ٹیم بن چکے ہیں۔ ہمارا صدر دفتر آج بھی امبالہ کنٹونمنٹ میں قائیم ہے اس کے علاوہ حیدرآباد اور نئی دہلی میں ہمارے دفتر پوری مستعدی سے کام کرتے ہیں۔ میں اس بات کا پورا یقین رکھتا ہوں کہ مشکلات کے باوجود امبالہ میں ہمیں با صلاحیت لوگ ملینگے میں نے ٹیلنٹ کو برقرار رکھنے کی اہمیت کو سمجھا ہے اور اس کو ایک بہترین حکمت عملی سمجھا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اب تک میں نے جو بھی کیا ہے نتیجہ توقع سے کہیں زیادہ بہتر رہا ہے۔

ایک انٹر پرئنیر کی حیثیت سے آپ کے سفر میں کیا مشکلات آئیں اور آپ نے کیا سیکھا۔ ؟

سنیل: جاب چھوڑنے کے بعد ایک نئے سفر کی شروعات آسان نہیں ہوتی۔ سخت محنت اور پوری تند ہی کے ساتھ کسی چیز کے شروع کرنے میں یقینا آپ کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ آپ کو میعاری پروڈکٹ فراہم کرنے ہوتے ہیں اور بہترین خدمات دینی ہوتی ہیں۔ ملازمین اور صارفین کے ساتھ مضبوط اور مستحکم تعلقات بنانے ہوتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ یقینا آسان نہیں ہوتا۔ میں نے اپنی ڈیم کو ہمیشہ ایک فیملی کی طرح سمجھا اور ان کے ساتھ ٹیم کے حصے کی طرح کام کیا نا کہ باس کی حیثیت سے۔ ایک ملازم سے ہم نوے تک پہنچے اور آج بھی میرا رویہ وہی ہے جو پہلے ملازم کے ساتھ تھا۔

اس مکمل شو کو فرد واحد کا سنبھالنا ناممکن ہوتا ہے اور میں نے یہ کر دکھایا۔ ایک چھوٹے سے کرائے کے آفس سے میں نے کمپنی کی شروعات کی تھی اور آج امبالہ کنٹونمنٹ میں ایک شاندار آفس ہماری ملکیت ہے۔

ہریانہ میں ٹکنالوجی کے حوالے سے کچھ بتائیں۔ ؟

سنیل : کسی دوسری ریاست ہی کی طرح ہریانہ میں بھی ٹیلنٹ بھرا پڑا ہے۔ یہاں درکار صلاحیتوں کی دستیابی میں مجھے کوئی شک نہیں ہے۔ ہاں ٹکنالوجی کے کچھ مخصوص شعبوں میں مہارت کے حوالے سے مشکلات ضرور درپیش ہیں مگر ہم اسے نا ممکن نہیں کہہ سکتے۔ آج مجھے یہ کہتے ہوئے خاصا فخر محسوس ہوتا ہے کہ Xportsoft سے جڑے بیشتر ملازمین چندی گڑھ ہی سے تعلق رکھتے ہیں چندی گڑھ موہالی پنچ کولہ میں تین آئی ٹی پارک قائم ہیں اور سینکڑوں آئی ٹی کمپنیاں بھی۔ ہمیں اس بات پر بھی فخر ہے کہ آئی ٹی کے سرکردہ ادارے IBM -Dell-اور Accenture نے یہاں ہمیں جوائین کیا۔

اس ٹرائی سٹی میں آئی ٹی ہب میں گو کہ انبالہ شامل نہیں ہے یہ این سی آر زون سے بھی دور ہے اور یہاں کے لوگ آئی ٹی اور آئی ٹی کمپنیوں کے تعلق سے کچھ جانتے بھی نہیں ہیں انبالہ ایک سائینٹی فک انسٹرو منٹ کا مرکز ہے اور یہاں لوگوں کی اکثریت یہی سمجھتی ہے کہ ہم لوگ اپنے اس شاندار آفس کے اندر یا تو مائکرو چپ بناتے ہیں یا پھر کمپیوٹر ٹریننگ دیتے ہیں۔ ایک پروڈکٹ بیسڈ کمپنی کی حیثیت سے امریکہ کینیڈا اور آسٹریلیا میں پہچان رکھنے کے بعد ہمیں اس بات کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی کہ مقامی طور پر بھی ہم اپنی شناخت بنائے رکھیں تاہم ایک بہترین سی ایس آر پلان کے ساتھ ہم اپنی اس سوسائیٹی کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں اور سماج کی بہتری میں اپنی حصے داری کو یقینی بنانا بھی ہمارے نصب العین میں شامل ہے۔

اب آگے Xportsoft کا نصب العین کیا ہوگا ؟

سنیل : ہمارا ویژن ہمارا نصب العین اور ہمارا مقصد سن دو ہزار بیس تک Mac ’ Windows اور موبائیل پلیٹ فارم کی مدد سے ایک ملین افراد تک رسائی حاصل

کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم ایک مضبوط اور طاقتور تجارتی تعلق قائم کرنے کی بھی کوشش کرینگے۔ کشٹمر ز کا اطمینان ہمیشہ ترجیحات میں شامل رہی ہے اور ملازمین کی بھلائی پر بھی ہم ہمیشہ توجہ دیتے رہینگے۔

۔۔۔

قلم کار۔ زُبین مہتا۔

ترجمہ و تلخیص۔ سجادالحسنین۔