خواتین کو منزل تک پہنچانے کا نام ہےبِکسی بائک

0

 عورتیں اگر کچھ کرنے کی ٹھان لیں تو وہ کسی بھی میدان میں مردوں سے کم نہیں - عورتوں کی خود اعتمادی

ترقی کے اس دور میں آج عورتیں مردوں کے شانہ بہ شانہ چل رہی ہیں - ساتھ ہی ہر کام کو کامیابی کے ساتھ انجام تک پہنچا رہی ہیں - ایسا کام جو اب تک صرف مردوں کی ہی ملکیت مانا جاتا تھا اسے بھی وہ بحسن و خوبی نبھارہی ہیں - ہم دیکھیں تو ترقی کے ا س دور میں جیسے جیسے آبادی بڑھ رہی ہے وہ ہماری بنیادی ضرورتوں کو متاثر کررہی ہے - جیسے تعلیم ، صحت وغیرہ۔ ان مسائل میں ایک مسئلہ آمدورفت سے مربوط بھی ہے- اس مسئلےکو کچھ حد تک دور کرنے کی کوشش کی ہے گڑ گاؤں میں رہنے والی دیویا کالرا نے جنہوں نے اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ ٹو ویلر ٹیکسی 'بِکسی' کی شروعات کی ہے۔ 

دیویا نے اکنامکس سے پوسٹ گریجویشن کیا ہے- پڑھائی مکمل کرنے کے بعد انہوں نے کئی بیرون ملک تنظیموں اور اداروں کے ساتھ کام کیا - دوسرے ملکوں میں ملازمت کے دوران انہوں نے وہاں کے کاروباری ماحول کو سمجھا - وہاں کے سماجی مقاصد کو معلوم کرنے کی کوشش کی - ہمیشہ سے دیویا کا ارادہ کچھ مختلف کام کرنے کا تھا - ایک دن ان کے شوہر موہت کے دماغ میں 'بِکسی' کا آئیڈیا آیا - جس کے بعد انہوں نے ان کے شوہر ، ان کے دوست ڈینیز کے ساتھ مل کر 'بکسی' سروس کی شروعات کی- اس سروس کو شروع کرنے سے پہلے دیویا اور ان کے شوہر نے گڑگاؤں کے میٹرواسٹیشن اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں کافی ریسرچ کی-دیویا نے دیکھا کہ اسٹیشن پر اترتے ہی پبلک ٹرانسپورٹ کے طور پر رکشا اور آٹو والے ملتے تھے جو کہ کم وقت کا زیادہ کرایہ وصول کرتے- انہوں نے محسوس کیا کہ ان جگہوں پر مسافروں کی کافی بھیڑ لگی رہتی تھی جس کی وجہ سے روزانہ سفر کرنے والے مسافروں کو بہت تکلیف کا سامنا کرنا ہوتا تھا -

 کہتے ہیں جس کے ارادے بلند ہوتے ہیں قسمت بھی ان ہی کا ساتھ دیتی ہے- جس وقت اس سروس کے بارے میں دیویا نے سوچا اسی وقت ہریانہ سرکار نے دو پہیہ گاڑیوں سے متعلق قانون پاس کرکے ٹرانسپورٹ کو اجازت دے دی - اسی طرح دیویا اور ان کے دوستوں نے مل کر جنوری 2016 کو 'بکسی' سروس کی شروعات کردی- انہوں نے اپنی اس خدمت کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک حصے کو نام دیا 'بلو بکسی' جو صرف اورصرف مردوں کی خدمت کے لئے مختص کی گئی اور دوسرے کو 'پنک بکسی' جوخواتین کی خدمت کےلیے مخصوص کی گئی - عورتوں کو کسی بھی لحاظ سے پریشانی نہ ہو اس لئے ان کا اپنا ایپلیکیشن ہے جس کو مہینے کے اندر اندر ایک ہزار لوگ ڈاونلوڈ کرچکے ہیں – 'پنک بکسی' جو عورتوں کےلیے ہے جس میں دو پہیہ ڈرائیور بھی عورت ہی ہوتی ہے- یہ صرف صبح 8 بجے سے رات 6بجے تک کام کرتی ہے - وہیں مردوں کی سروس صبح ساڑھے سات سے رات نو بجے تک چلتی ہے- لوگوں سے مل رہے ریسپانس کے بارے میں دیویا کہتی ہیں،

" ہمیں شروع سے ہی لوگوں کا بہترین ریسپانس مل رہا ہے- کچھ تو ہمارے روز کے گاہک بن چکے ہیں –"


فی الحال ان کے پاس مردوں کےلیے دس اور خواتین کےلیے پانچ ڈرائیور موجود ہیں - ان ڈرائیور س کی عمریں 20 سے 45 سال کے درمیان ہیں – 'بکسی' اپنے ڈرائیوروں کو ٹریفک کے اصولوں کے علاوہ لوگوں سے رابطہ کرنے، ان سے بات چیت کرنے کا طریقہ بھی سکھاتی ہیں - ساتھ ہی ان سڑکوں اور راستوں سے بھی واقف کرواتی ہیں جن علاقوں پر یہ سہولت موجود ہے۔ دلی سے لگے ہوئےشہر گڑگاوں تک اپنی سروس انجام دے رہی 'بکسی' کا کرایہ بھی بہت مناسب ہےتاکہ عام آدمی بھی اس سے فائدہ اٹھا سکے- 'بکسی' کی سواری کےلیے ہر سوار کو پہلے دو کلو میٹر تک طے شدہ کرایہ دس روپےا دا کرنے ہوتے ہیں - اس کے بعد پانچ روپے فی کلو میٹر کے حساب سے ادا کرنے ہوتے ہیں - خاتون ڈرائیور دن بھر میں تقریبا دس رائیڈ کرتی ہیں - ہر رائیڈ اوسطاً چار کلو میٹر کی ہوتی ہے - جبکہ مرد ڈرائیور تقریبا بیس سے تیس رائیڈ ہر دن کرتے ہیں۔ وہ اوسطاً ساڑھے چار کلو میٹر کی ہوتی ہے - دیویا کے مطابق عورتوں کو وہ لوگ زیادہ دور تک نہیں جانے دیتے۔ وہ صرف چار سے پانچ کلو میٹر کے دائرے میں ہی اپنی خدمت انجام دیتی ہیں –


عورتوں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایپ تیار کی گئی ہے جس میں ایک فیچر ہے جسے دباتے ہی ہمیں رائیڈر اور سواری دونوں کی لوکیشن کا اندازہ ہوجاتا ہے-اس سمت میں ہمارے ٹیم ممبران بھی بروقت ان تک پہنچ سکتے ہیں - اس کے علاوہ ان کے پاس مرچی اسپرے بھی موجود ہوتا ہے- اگر سواری کے ساتھ کوئی مسئلہ درپیش ہو توا یپ میں موجود بٹن کو دبانے پر سواری کے دو پہچا ننے والوں تک پیغام پہنچ جاتا ہے-

'بکسی' کے بارے میں دیویا کا کہنا ہے، "عورتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے ہم نے اسے دو رنگ دئیے ہیں، پنک اور بلو یعنی گلابی اور نیلا تاکہ مرد اور عورتیں اسے باسانی پہنچان سکیں -خاص بات یہ ہے کہ گوگل پلے اسٹور سے ہر انسان اسے ڈاونلوڈ کرسکتا ہے - گڑگاؤں میں اپنی پہنچا ن بناچکی یہ بکسی جس کی ڈیمانڈ اب دوسرے شہروں میں بھی ہونے لگی ہے- یہی وجہ ہے کہ اب دیویا اور ان کی ٹیم کی نظر دلی ،نوئیڈا ،جے پور، حیدرآباد، بنگلور اور دوسرے شہروں پر بھی ہے -دیگر ریاستوں میں اپنی خدمات مہیا کرنے کے لئے وہ وہاں دو پہیہ گاڑیوں سے متعلق قانون کے نفاذ کا انتظار کررہے ہیں –

دیویا کا کہنا ہے کہ پنک بکسی پر لوگوں کا مکمل اعتماد ہے اسی وحہ سے ایک 57 سالہ عورت ہماری اس سروس کو دن بھر میں چار بار استعمال کرتی ہے ۔

بکسی کی خدمات ہفتے میں چھ دن یعنی پیر سے سنیچر تک مہیا ہوتی ہیں ۔ اتوار کو نہیں - کاروباری وسعت کے بارے میں دیویا کا کہنا ہے کہ ابھی ان کی کچھ سرمایا کاروں سے بات چیت چل رہی ہے کیونکہ کاروبار کی شروعات انہوں نے اپنی نجی جمع پونجی سے کی ہے-

تحریر: ہریش بِشٹ

مترجم: ہاجرہ نور احمد زریابؔ

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

نوجوانوں میں تبدیلی کی تحریک ... پرکھرکی کوشش

مستحکم اور جامع اداروں کے حامی... منور پیر بھائی