وادی کشمیر میں دو نوجوانوں نے بنایا 'پائپ' ایپلیکیشن

0

وادی میں مسلسل ٹکراؤ اور عدم استحکام کے دور کی وجہ سے معیشت، خاص طور پر لیبر مارکیٹ پر بہت ہی ڈرامائی اثر پڑا ہے۔ نوجوانوں میں کچھ خاص قسم کے روزگاروں میں ہی دلچسپی بنی ہے۔ اس کے سماجی اور ثقافتی وجوہات بھی ہیں۔ مثال کے طور پر سرکاری ملازمین کو ہڑتال یا پھر كرفيو کے دوران بھی تنخوہ ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں سرکاری کام کو 'مستحکم' سمجھا جاتا رہا ہے۔ اگر ہم اس کے دوسرے پہلو پر غور کریں تو صنعت اور خانگی شعبے کی روزگار کو جوکھم بھرا ہونے کے علاوہ غیر مستحکم بھی مانا  ہے۔

وادی کشمیر میں ایک اسٹارٹپ کا کام کر رہے دو نوجوانوں عابد راشد لون اور ذبیر لون کا خیال ہے کہ مسلسل ٹکراؤ اور عدم استحکام اور ہمارا موجودہ نظام تعلیم اور ملازمت کے بازار کی ضرورتوں کے درمیان عدم مساوات کسی بھی اسٹارٹپ کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ تاہم ٹیکنالوجی سے متعلق اسٹارٹپ کشمیر کے منفرد اسٹارٹپ ہیں، جو وہاں کے حالات کو بہتر بنانے اور نوجوانوں کو بہترین موقع فراہم کرنے کام رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی اسٹارٹپ کے ساتھ ایک خاص بات ہوتی ہے کہ اس میں ناکام ہونے پرکسی صنعتی یا پھر پیداواری اسٹارٹپ کے مقابلے میں کم نقصان ہوتا ہے۔ ایسے میں ہم آنے والے دنوں میں وادی میں مزید ٹیکنالوجی سے جڑے اسٹارٹپ سامنے آنے کی توقع کر رہے ہیں جو کشمیر میں اسٹارٹپ کلچرکی حوصلہ افزائی میں کافی مثبت قدم ثابت ہوگا۔

کشمیر کے باشندے یہ دو نوجوان 'پائپ' نام کی ایک ایپلی کیشن لے کر سامنے آئے ہیں جس کی مدد سے صارف کو ایک دوسرے کو اطلاعات، میسج اور لنک اپنی پسند سے آسانی سے بھیج سکتے ہیں۔ اس ایپلی کیشن کے بارے میں بتاتے ہوئے ذبیر کہتے ہیں، '' پائپ مختلف آلات اور پلیٹ فارم سے وابستہ لوگوں کے درمیان یکساں طور پر معلومات کا اشتراک کرنے پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور وہ بھی ریئل ٹائم میں۔ ساتھ ہی ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ موجودہ وقت میں لوگوں کو صرف وہی معلومات اور پیغام چاہیے ہوتے ہیں جو ان کے کام کے ہوتے ہیں یا جن میں ان کی دلچسپی ہوتی ہے۔ پائپ اپنے صارفین کو اس بات کی آزادی فراہم کرتا ہے کہ وہ آسانی سے ان لوگوں کا انتخاب کر سکتے ہیں جن کے پیغام اور معلومات انہیں چاہیے۔ ''

مزید معلومات دیتے ہوئے وہ بتاتے ہیں، '' پہلے میسج، ای میل اور سوشل نیٹ ورکنگ پیغامات کے ایک وسیع جال میں آپ کے کام کے اور اپنی پسند کے پیغامات وغیرہ کو منتخب کرنے کے لئے بہت توانائی اور وقت لگانا پڑتا تھا۔ ہماری 'پائپ' ایپلی کیشن کی مدد سے صارف حقیقی وقت میں صرف آپ کے اسمارٹ فون کے ذریعے فوری طور پر اہم اور مفید مواد حاصل کر سکتے ہیں۔ اس طرح سے یہ صارف انتہائی انمول وقت کو بچانے میں انتہائی کارگر ایپلی کیشن ثابت ہو رہی ہے۔ ''

ذبیر معاشیات میں گریجویشن کے علاوہ ایک پروجیکٹ مینجمنٹ پروفیشنل ہیں۔ وہیں دوسری طرف ان کے شریک بانی عابد انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں بیچلر کی ڈگری رکھتے ہیں۔

عابد بتاتے ہیں، '' ہم دونوں کی پہلی ملاقات 2009 میں ہوئی اور اس کے بعد ہمنے کم لاگت کے کچھ ویب سائٹس کی ترقی کے علاوہ وادی کشمیر کے مقامی کاروبار سے متعلق ایک آن لائن بزنس ڈائریکٹری تیار کی۔ اس کے بعد سال 2010 میں ہم نے ایک ایسے ویب کی بنیاد پر پلیٹ فارم تیار کرنے کی سمت میں اپنے قدم بڑھائے جو صارفین کو ایس ایم ایس کے ذریعے معلومات اور مختلف الرٹ دستیاب کرواتا۔ تاہم اسی دوران سال 2010 میں وادی کشمیر میں پھیلے عدم استحکام کی وجہ سے ایس ایم ایس سروس پر پابندی لگا دی گئی جو مئی 2014 تک لاگو رہی۔ ایک بار پابندی ہٹنے کے بعد ہم اپنا پانچ سال پرانا خواب پورا کرنے کے لئے دوبارہ ایک ساتھ آئے۔ اگرچہ ان پانچ سالوں میں بہت کچھ بدل چکا تھا تو ایسے میں ہم نے ایک ویب سائٹ کے مقام پر ایک ایپلی کیشن تیار کرنے پر غور کیا۔ اور اس طرح 'پائپ' کی پیدائش ہوئی۔ ''

ٹیکنالوجی کے دوانے ان نوجوانوں نے یہ ایپلی کیشن تیار کرنے کے لئے کسی سے بھی مالی مدد نہیں لی اور اسے مکمل طور پر اپنی ذاتی بچت سے بوٹ اسٹریپ کیا ہے۔ اس کام میں ان کے سامنے کئی مسائل تھے ان کے بارے میں عابد بتاتے ہیں، '' ہم گزشتہ آٹھ ماہ سے اس ایپلی کیشن کے لیے تیاری کر رہے تھے اور 17 اکتوبر کو ہم اسے لانچ کرنے میں کامیاب رہے۔ ہمارا اب تک کا سفر بہترین اور کچھ نیا سیکھنے لائق رہا میں سے بھرا ہوا ہے۔ اگرچہ ہمارے سامنے مسلسل یہ چیلنج رہا کہ کہیں ہم ایک اور پیغام رسانی یا پھر سوشل نیٹ ورکنگ ایپلی کیشن نہ تیار کر بیٹھیں۔ ایسے میں ہمیں اپنی اس ایپلی کیشن میں خصوصیات شامل کرنے اور اس کی ترقی کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھنا پڑا کہ ہم اپنی ایک الگ پہچان بنانے میں کامیاب رہیں۔ ''

پائپ گوگل اسٹور پر آنے کے بعد یہ دونوں نوجوان کچھ سرمایہ کاروں کے رابطے میں ہیں۔ کچھ لوگوں نے ان کی ایپلی کیشن میں دلچسپی دکھائی بھی ہے اور انہیں، مثبت نتیجہ کی امید بھی ہے۔

گزشتہ ایک ماہ میں دونوں دوستوں کی یہ جوڑی اپنی پائپ ایپلی کیشن کو بہتر بناتے ہوئے 6 اپڈیٹ بھی لا چکی ہے۔ عابد بتاتے ہیں، '' ہم نے شروع میں اینڈرائڈ کی بنیاد پر ایپلی کیشن بنانا شروع کیا ہے اور ہم iOS اور ونڈوز کے لئے اس کے استعمال کا منصوبہ ہمارے پاس ہے۔ اس کے علاوہ ہم ویب ورژن کی سمت میں بھی کوشاں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پائپ بلا امتیاز سبھی ویب پلیٹ فارمس پر کام آ سکے

دونوں نوجوان کی نظر ہندوستان کے علاوہ پوری دنیا میں بڑھ رہے اسٹارٹپ کی کی لہر پر ہے۔ ان کا کہنا ہے وہ دوسرے نوجوانوں کو بھی ترغیب دینا چاہتے ہیں کہ اپنے اندر جدت پسندی پیدا کریں اورکشمیر کے ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوانوں کا فائدہ ہو-

Related Stories