91سالہ ڈاکٹر 64برسوں سے کر رہی ہیں مریضوں کا مفت علاج

0

بڑھتی عمر اور خود کی حالت نازک ہونے کے بعد بھی مریضوں کا علاج جاری ...

انسانی خدمت کا ایسا جذبہ جس کے آڑے نہ تو عمر آپائی اور نہ ہی خود کی بیماری کسی بھی طرح کی بندشیں لگا سکی۔ یہ کہانی ہے اندور کی 91سال کی ایک ایسی ڈاکٹر جنہیں بیماری نے اس قدر جکڑا کہ خود ان کے لئے بستر سے حرکت کر نا مشکل تھا ۔ مگر خدمت کے جذبے نے ان بوڑھی ہڈیوں میں ایسی جان بھر دی کہ بیماری بھی ان کے قدم نہیں روک پائی۔

عمر 91سال، وزن صرف 28کلو، بیمار جسم مگر خدمت کا جنون ایسا کہ کسی کی دکھ بھری آواز پر ایک جھٹکے میں اٹھ کھڑی ہوجاتیں۔ یہی پہچان ہے ڈاکٹر بھکتی یادو کی ۔ جنہوں نے اپنی زندگی کے 64سال اپنے ڈاکٹری پیشے کے ذریعے خدمت میں لگا دیئے ۔ اس حالت میں بھی اگر آدھی رات کو کوئی مریض ان کے گھر کی گھنٹی بجا دیتا ہے تو ڈاکٹر بھکتی یادو اٹھ کر اس کے علاج میں مصروف ہوجاتی ہیں ۔ ڈاکٹر بھکتی اگر چاہتیں تو ڈھیر سارا پیسہ کماکر شان و شوکت کی زندگی گذار سکتی تھیں ۔ مگر انہوں نے پیسے کی بجائے انسانی خدمت کو ترجیح دی ۔ اپنے 64سال کے کیریئر میں ڈاکٹر بھکتی 60ہزار سے زائد خواتین کی عام زچگی کراچکی ہیں۔ مگر کبھی بھی ان کے کلینک میں ڈاکٹر سے ملنے کا وقت یا ڈاکٹر کی فیس ، جیسی کوئی تختی نہیں لگی ۔ کیونکہ وہ 24گھنٹے اپنے مریضوں کے لئے دستیاب رہیں اور فیس کبھی کسی مریض سے مانگی نہیں ۔ خوشحال کنبے کے مریض اپنی مرضی سے کچھ دے جاتے تھے ۔ مگر غریب مزدوروں سے پیسہ لینا ان کے لئے جیسے گناہ کے برابر تھا ۔ ڈاکٹر بھکتی یادو کی کہانی بھی جد و جہد اور انسانی خدمت کے مشن کی انوکھی داستان ہے ۔

بھکتی کی پیدائش اجین کے نزدیک مہد پور میں 13؍اپریل 1926کو ہوئی ۔ بھکتی کا کنبہ مہاراشٹر کا ممتاز خاندان تھا ۔ 1937کے دور میں لڑکیوں کو پڑھانے کی بات ہر کوئی سوچ نہیں سکتا تھا ۔ خاص طور سے گائوں میں تو با لکل نہیں ۔ مگر جب بھکتی نے آگے پڑھنے کی خواہش ظاہر کی تو ان کے والد نے رشتے دار کے پاس گروٹھ قصبے میں بھیج دیا ۔ وہاں بھی ساتویں تک ہی اسکول تھا۔ ایک بار پھر بھکتی مزید تعلیم کے لئے گھر والوں کے سامنے بضد ہوگئیں۔ بھکتی کے والد انہیں اندور لے کر آئے اور اندور کے ابلیہ آشرم اسکول میں داخلہ کرادیا۔اس وقت اندور میں وہی واحد لڑکیوں کا اسکول تھا، جہاں ہاسٹل کی سہولت تھی ۔ یہاں سے 11ویں جماعت کی پڑھائی کر نے کے بعد بھکتی نے 1948میں اندور کے ہولکر سائنس کالج میں ایڈ میشن لے لیا اور ایم بی بی ایس سال اول میں کالج میںاول رہیں ۔ اسی دوران مہاتما گاندھی میموریل میڈکل کالج میں ایم بی بی ایس کا کورس شروع ہوا تھا ۔ چوں کہ بھکتی پڑھائی میں اول تھیں اس لئے ان کے میڑیکولیشن کے اچھے نتائج کی بنیاد پر ایڈمیشن مل گیا ۔ کل 40طلباء ایم بی بی ایس کے لئے منتخب کئے گئے ، جن میں سے 39لڑکے تھے اور بھکتی اکیلی لڑکی تھیں ۔ بھکتی ایم جی ایم میڈیکل کالج کی ایم بی بی ایس کے پہلے بیچ کی طالبہ تھیںساتھ ہی وسطی ہندوستان کی بھی پہلی طالبہ تھیںجن کا ایم بی بی ایس میں سلیکشن ہواتھا۔ 1952میں بھکتی ایم بی بی ایس کر کے ڈاکٹر بن گئیں ۔ اس کے بعد ڈاکٹر بھکتی نے ایم جی ایم میڈیکل کالج سے ہی ایم ایس کیا۔ 1957میں ہی ڈاکٹر بھکتی نے اپنے ساتھ ہی پڑھنے والے ڈاکٹر چندر سنگھ یادو سے لو میرج لر لی۔

ڈاکٹر بھکتی کے شوہر نے بھی طبی پیشہ صرف خدمت کر نے کے لئے ہی اپنایا تھا۔ ان کو شہروں کے بڑے بڑے سرکاری اسپتالوں سے ملازمت کی پیشکش ملی، لیکن ڈاکٹر یادو نے منتخب کیا اندور کے مل علاقے کا بیمہ اسپتال ۔ جہاں وہ تا حیات مریضوں کی خدمت کر تے رہے ۔ ڈاکٹر یادو کو اندور میں مزدور ڈاکٹر کے نام سے جانا جاتا تھا ۔

ڈاکٹر بھکتی بھی اپنے شوہر کے راستے پر چل پڑیں ۔ ڈاکٹر بننے کے بعد اندور کے سرکاری اسپتال مہاراجہ یشونت رائو اسپتال میں ان کو سرکاری ملازمت مل گئی ۔ مگر بھکتی نے سرکاری نوکری ٹھکرادی۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ اندور اس وقت کپڑا ملوں کے شہر کے نام سے مشہور تھا۔ ملک کی بڑی بڑی کپڑا ملیں یہیں پر تھیں ۔ مگر مزدوروں کی صحت پر سرکار کی توجہ اتنی زیادہ نہیں تھی۔ خاص طور سے مزدوروں کے گھر وںکی خواتین کی حالت زیادہ بد تر تھی۔ اندور کی بھنڈاری مل نے نند لال بھنڈاری پر سوتی گرہ کے نام سے ایک اسپتال کھولا ، جہاں ڈاکٹر بھکتی نے ماہر امراض نسواں کی حیثیت سے ملازمت کر لی ۔ اسپتا ل میں آنے والی غریب عورتوں کی خدمت کر کے ڈاکٹر بھکتی کو سکون ملنے لگا ۔ اور پھر خدمت کا ایسا جنون چڑھا کہ ڈاکٹر جوڑے نے اسپتال کے نزدیک ہی اپنی جمع پونجی سے گھر خرید لیا ۔ مریضوں کو زیادہ وقت دینا شروع کر دیا۔ مگر دھیرے دھیرے کپڑا ملوں پر مندی کی مار پڑنے لگی اور ملیں ایک ایک کر کے خسارہ میں جاکر بند ہونے لگیں ۔ 1978میں بھنڈاری مل پر بھی تالے لگ گئے اور بھنڈاری اسپتال بھی بند ہو گیا ۔ ڈاکٹر یادو جوڑے کے رشتے داروں اور ملنے والوںنے سمجھایا کہ اب یہاں کچھ نہیں بچا۔ کسی اچھے اسپتال میں ملازمت کر لیجئے ۔ مگر ڈاکٹر بھکتی اور ان کے شوہر تو غریب مزدوروں کے لئے اپنی زندگی وقف کرچکے تھے۔ ڈاکٹر بھکتی جانتی تھیں کہ اس علاقے میں عورتوں کے لئے کوئی اسپتال اور ادارہ نہیں ہے ۔ ایسی حالت میں انہوں نے طے کیا کہ وہ اپنے گھر میں ہی عورتوں کا علاج کا بند و بست کریںگی۔واتسیلہ کے نام سے انہوں نے گھر کے گرائونڈ فلور پر نرسنگ ہوم کی شروعات کی۔ ڈاکٹر بھکتی کا نام اسپتال کے علاقے میں بھی کافی تھا۔ جو بھی خوشحال گھرانے کے مریض آتے تھے ان سے برائے نام فیس لی جاتی تھی تاکہ وہ خود کا گذارااور غریب مریضوں کا علاج کر سکیں ۔ بس تب سے لے کر آج تک ڈاکٹر بھکتی اپنی خدمت کے کا کو انجام دے رہی ہیں ۔

سال 2014میں ڈاکٹر چندر سنگھ یادو کا انتقال ہوگیا ۔ اپنی 89سال کی عمر تک وہ بھی غریبوں کا علاج کرتے رہے ۔ ڈاکٹر بھکتی کو 6سال پہلے اسٹیو پوروسس نامی خطرناک بیماری ہوگئی ، جس کی وجہ سے ان کا وزن مسلسل گھٹتے ہوئے 28کلو رہ گیا۔ مگر ان کے جذبے میں ذرا بھی کمی نہیں آئی ۔ عمر کی اس دہلیز پر بھی ان کے یہاں آنے والے مریض کو وہ کبھی مایوس نہیں کرتیں ۔ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آخری وقت تک کو شش کرتی ہیں کہ زچگی بغیر آپریشن کے ہو۔ جب صورت حال بر عکس ہو تبھی آپریشن کر نے کی صلاح دیتی ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ بغیر آپریشن کے بھی زچگی کرائی جا سکتی ہے ۔ ان کے اسی اعتماد کی وجہ سے ہی اندور ہی نہیں بلکہ ریاست کے باہر سے بھی خواتین ان کے پاس آتی ہیں ۔ ڈاکٹر بھکتی کو اپنی خدمات کے لئے 7سال پہلے ڈاکٹر مکھر جی اعزاز سے نوازا گیا۔ اسی سال 26جنوری کو ٹیکسٹائل ایمپلائزر ایسو سی ایشن نے ان کو اعزاز سے سرفراز کیا تھا ۔ تب یہ طے کیا تھا کہ ڈاکٹری میرا مشن ہوگا پروفیشن نہیں ۔ آج بھی میر ی یہی خواہش ہے کہ اپنا کام کر تے ہوئے ہی میری آخری سانس نکلے ۔ میرے پتی نے مجھے سیوا کی ایک ایسی راہ دکھا دی جس نے میرے جینے کا مقصد ہی کامیاب کردیا۔

انہوں نے بتایا : ’’جس وقت میں نے اور میرے پتی نے نرسنگ ہوم شروع کیا تھا ، تب نہ تو ہمارے پاس آج کی طرح وسائل تھے اور نہ ہی علاقے میں بجلی کا مناسب انتظام تھا۔ لیکن ریسو رسیز کی کمی کبھی اپنے مریض کے علاج کے آڑے نہیں آنے دی۔ کئی بار حالت ایسی پیدا ہوئی کہ بجلی نہیں ہوتی تھی ، زچگی کرانا ضرروی تھا تب قندیل اور موم بتی کی لائٹ میں زچگی کرائی ۔ اس پیشے میں آنے کے بعد ہر دن تقریبا 5-6ڈیلیوری کرائی ۔ جب کہ مریضوں کا تو دن بھر تانتا لگا رہتا تھا۔ گھر اور بچوں کے لئے وقت بھی بڑی مشکل سے نکل پاتا تھا ۔‘‘

آج بھی اس حالت میں ڈاکٹر بھکتی ہر دن 3-2مریض دیکھتی ہیں ۔ جب کہ ان کے بیٹے رمن بھی ڈاکٹر ہیں اور اپنی ماں کی خدمت میں ہاتھ بٹاتے ہیں ۔ ڈاکٹر رمن یادو بھی اپنے والد اور ماں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ۔ 67سال کی عمر میں وہ بھی اسی علاقے میں غریب کنبوں سے برائے نام فیس پر غریب مریضوں کا علاج کر تے ہیں ۔ اسٹیو پوروسس جیسی سنگین بیماری کے سبب ان کا وزن گھٹتا جارہا ہے ۔ کمزوری زیادہ ہونے کی وجہ سے گذشتہدنوں ڈاکٹر بھکتی گر گئیں جس سے ان کی ہڈی ٹوٹ گئی ۔ مگر اس سے ان کے کام کر نے کا سلسلہ رکا نہیں ۔ ڈاکٹر بھکتی کے بیٹے ڈاکٹر رمن یادو کا کہنا ہے :

’’میری ماں نے کبھی کسی انعام کے لالچ میں کام نہیں کیا ۔ مگر وہ جس اعزاز کی حق دار تھیں وہ کبھی انہیں کسی سرکار سے نہیں ملا۔‘‘

..........

قلمکار : سچن شرما

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Sachin Sharma

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini

...........

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ کہانیاں بھی ضرور پڑھیں۔

مولانا جہانگیرعالم قاسمی کاادارہ...جدوجہد کااستعارہ

وہ صبح کبھی تو آئے گی...خواتین کی باوقارزندگی کے لئے کوشاں ’ہم سفر‘