خود اعتمادی ہی دور تلک لے جاتی ہے

0

گریما ورما مارچ 2011 میں جی ۔ ای میں شامل ہوئیں اور 4500 سے بھی زیادہ سائنسدانوں اور انجینئروں کے ساتھ جان ایف ویلچ ٹکنالوجی سنٹر ، جی۔ ای کے پہلے اور سب سے بڑے تحقیقی مرکز میں، مواصلات کے شعبے کی قیادت کی۔

انہوں نے مرکز مواصلات کی قیادت میں 25 برسوں کے تجربات ، کارپوریٹ مواصلات، برانڈ کی تیاری، تبدیلی انتظامیہ، تنوع اور کارپوریٹ سماجی ذمہ داری ، یہ سارے کام ایک ساتھ انجام دئے۔ انہوں نے کام کرنے کے عالمی ماحول میں کاروبار کے فروغ، ملازمین کی شراکت اور ثقافتی تبدیلیوں کے لئے کارپوریٹ مواصلات اور لوگوں کی قیادت میں اپنی خصوصی خدمات انجام دیں۔

جے ایف ڈبلو ٹی سی میں گریما ، داخلی اور باہری مواصلات، پروگرامس، ملازمین کو کام پر لگانا اور قائدانہ مواصلات کی ذمہ دار ی نبھاتی ہیں۔ وہ جی۔ ای کے کارپوریٹ بہبود پروگرام 'ہیلتھ اہیڈ' کی مہتمم بھی ہیں۔

جی۔ای سے قبل انہوں نے فڈیلٹی سرمایہ کاری، مائیکرولینڈ اور سن مائیکرو سسٹمس کے مواصلاتی گروپ کے کلیدی عہدوں پر کام کیا ہے۔ گریما بر سرِ کار وکیل اور ماحولیات کو متاثر کرنے والی صنعت کی قائد بھی ہیں۔ انہوں نے اپنا گریجویشن کمپیوٹر سائنس میں بٹس پِلانی اور پوسٹ گریجویشن اشتہارات اور صحافت میں زیویر انسٹی ٹیوٹ آف کمیونیکیشن ، ممبئی سے کیا ہے۔

ہر اسٹوری نے بنگلور میں گریما کے ساتھ وقت گزارا اور انکی پیشہ ورانہ زندگی سے جڑے دو حادثات کے بارے میں معلومات حاصل کی ہے جو عجیب و غریب نوعیت کے ہیں ۔ انہوں نے ہم سے یہ بات شئیر کی اور بتایا کہ کس طرح ان کا نظر یہ زندگی یہاں تبدیل ہوا اور جی ۔ ای کمپنی میں کلیدی عہدے کے لئے ان کی رہنمائی کی۔

انسان نے ہمیشہ اپنی بنیاد کو نہیں بھولنا چاہئے :

میں 2004 میں فڈلٹی انوسٹمنٹ میں تھی۔ فیڈیلٹی کا مرکز بوسٹن میں تھا اور ممبئی میں انکی ٹیم بھی تھی۔ مجھے یاد ہے بوسٹن میں ایک ہم پیشہ شخص نے کہا کہ ہم ہندوستانی آج بھی تبدیلی کےلیے ہاتھیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ دونوں ٹیموں کو ایک دوسرے کی ثقافتوں کو جان لینے اور باہمی تفہیم کو فروغ دینے کی ضرورت تھی۔ ہم نے بوسٹن کےصدر دفتر میں انڈیا ڈے منانے کا فیصلہ کیا ۔ مجھے یاد ہے میں اپنے سفر کےلیے مغربی طرز کے کپڑے اور گاون پیک کررہی تھی تو میری ماں نے مجھے کچھ ساڑی بھی پیک کرنے کےلیے کہا۔ کیونکہ انکے مطابق اس سے ہماری ہندوستانی شناخت ظاہرہوتی ہے ۔ میں نے ساڑی پیک کرلی لیکن میں اسے زیب تن کرنے کے لئے دماغی طور سے تیار نہیں تھی۔ ایک دن بوسٹن میں میں نے اپنا خیال بدلا اور ساڑی زیب تن کی۔ میں بہت گھبرائی ہوئی تھی کیونکہ اس پروگرام میں صرف میں ہی ہندوستانی لباس میں تھی ۔ میں 175 لوگوں کے ہجوم میں سب سے جدا نظر آرہی تھی ۔

پروگرام کے بعد دنیا کے امیر ترین اشخاص میں سے ایک ٹیڈ جانسن نے میرے ساتھ ڈنر پر 45 منٹ کا وقت گزارا جبکہ بہت سے لوگ اس موقع کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ ہماری بات چیت ان کے اس سوال سے شروع ہوئی ،"جو لباس آپ نے پہنا ہے وہ کونسا ہے"؟

اس کے بعد میں نے انہیں ساڑی کے بارے میں بتایا ۔انہوں نے مجھ سے ہندوستان گھومنے کی خواہش ظاہر کی اور ساڑی لانے کے لیے بھی کہا ۔ میں خوش ہوں کہ وہ ہندوستان آئے اور میں نے انکی اچھی طرح مہمان نوازی کی ۔ کبھی کبھی اچھے مواقع قدرتی طور پر مہیا ہوجاتے ہیں۔ بس زندگی میں ایمانداری و سادگی کو اپنانا چاہئے اور آپ کو اپنی بنیاد کو دھیان میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اس دن سے آج تک میں جہاں بھی جاتی ہوں پورے اعتماد کے ساتھ اپنے ہندوستانی کلچر کو ساتھ رکھتی ہوں ۔

آپ میٹنگ میں پہلے 7 سیکنڈ میں کیا کریں گے :

کچھ سال پہلے کرِیئر کی شروعات میں میرا چیف ایکزیکیٹیو کے ساتھ بہت ہی برا تجربہ رہا تھا ۔ میں جس آرگنائزیشن کےلیے کام کرتی تھی اس کے چیف ایکزیکیٹیو کے ساتھ میں لفٹ میں اٹک گئی ۔ ہم 7 ویں فلورپر تھے اور دونوں کو گراونڈ فلور جانا تھا ۔ انہوں نے مجھ سے سوال کیا،" اب میں کیا کروں"؟ اس وقت میں بہت ڈری سہمی سی کھڑی تھی اور ایک لفظ بھی اپنی زبان سے ادا کر نہیں پارہی تھی ۔ وہ تجربہ میرے لیے کسی بڑے سبق سے کم نہیں تھا ۔ اسی وقت سے میں اپنی ایلیویٹر پچ کے لئے تیار رہتی ہوں۔ کیا پتا اگلی دفعہ آپ کے ساتھ ایلیویٹر یعنی لفٹ میں کون ہوگا؟ زیادہ تر لوگ دوسروں کے بارے میں پہلے 7سیکڈ میں اندازہ طے کرلیتے ہیں ۔۔ اگر آپ کے پہلے 7 سیکنڈ خراب ہیں تو آپ کا فیصلہ کیا ہوگا یہ بات اہمیت کی حامل نہیں ہے۔ میں سبھی پروفیشنل لوگوں خاص طور سےنو جوانوں کو ان کے پرسنل ایلیویٹر پچ پر کام کرنے کو کہتی ہوں۔ آپ کی خود اعتمادی ہی آپ کو دور تک لے جاتی ہے۔

تحریر: بھگونت سنگھ چِلاول

مترجم : ہاجرہ نور احمد زریابؔ