سيتاپھل بیچنے والی ان پڑھ قبائلی خواتین نے بنائی کروڑوں مالیت کی کمپنی

0

اکثر آپ نے دیکھا اور سنا ہوگا کہ کمپنیاں قائم کرنے سے پہلے اس کے لئے کئی منصوبے بنائے جاتے ہیں ۔ مارکیٹنگ کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ بڑی بڑی اسکیمیں بنائی جاتی ہیں اور پھر جاکر کمپنی کی ترقی اور اس کی کامیابی کا حساب لگایاجاتا ہے ۔ لیکن آپ اُن کے لئے کیا کہیں گے جنہوں نے کبھی ا سکول کا منہ تک نہیں دیکھا اور بزنس اسکول کے متعلق واقفیت رکھنا تو ان کے لئے غیر متوقع ہے، پھر بھی انہوں نے ایک کامیاب کمپنی بنا لی۔ جی ہاں،ایسی ہی ہیں اس اسٹوری کی چار قبائلی خواتین۔

راجستھان کے جنگلوں میں پائے جانےوالے ’ سيتاپھل‘ کے جن درختوں کو کاٹ کر قبائلی لوگ لکڑیاں جلانے کے کام میں لیتے تھے، وہی سيتاپھل آج’پالی‘ ضلع کے قبائلی معاشرے کی تقدیر سنوار رہے ہیں ۔ اِس کی شروعات کی ہے جنگل میں جاکر لکڑی كاٹنے والی چار قبائلی خواتین نے ۔’ اراولی‘ کی پہاڑیوں میں خار دار درختوں پر موسم ِگرما میں پیدا ہونے والا سيتاپھل جسے’ شریفہ‘ بھی کہتے ہیں، درختوں پرسُوکھ جایا کرتا تھا، یا پھر پک کر نیچے زمین پر گر جاتا تھا ۔ لکڑی کاٹنے کے لئے جانے والی یہ خواتین ایسے سیتا پھل چن کر لاتی تھیں اور بیچتی تھیں۔ سڑک کنارے، ٹوکری میں رکھ کر سيتاپھل فروخت کرنےکے اس کاروبار کو بس یہیں سے اِن چار سہیلیوں نے بڑھانا شروع کیا اور ایک کمپنی بنا لی جس کا سالانہ ٹرن اوور آج ایک کروڑ تک پہنچ گیا ہے ۔ اب قبائلی لوگ اپنے علاقے میں ہونے والی سيتاپھل کی اِس بے پناہ پیداوار کو ٹوکرے میں فروخت کرنے کے بجائے اس کا گودا نکال کر قومی سطح کی کمپنیوں کو فروخت کر رہے ہیں ۔ فی الحال ’پالی‘ کے ’ بالی‘ علاقے کے سيتاپھل آئس کریم کمپنیوں کی پہلی پسند بنے ہوئے ہیں ۔

اس کے ساتھ ہی شادی اور ضیافت جیسے پروگراموں میں مہمانوں کو پروسي جانے والی فروٹ کریم بھی سيتاپھل سے تیار ہو رہی ہے ۔ اِس وقت پورے’ بالی‘ علاقے میں تقریباً ڈھائی ٹن سيتاپھل کا گودا پیدا کرکے اُسے ملک کی اہم آئس کریم کمپنیوں تک پہنچایا جا رہا ہے ۔ قبائلی خواتین نے ٹوکرے میں بھر کر فروخت کئے جانے والے سيتاپھل کا اب گودا نکالنا شروع کر دیا ہے ۔یہ گودا سرکاری تعاون سے بنی قبائلی خواتین کی کمپنی ہی ان سے مہنگے داموں پر خرید رہی ہے ۔

اِس پروجیکٹ کی شروعات ’ بھیمانا،نانا‘ میں چار خواتین’ جیجا بائی، سانجي بائی، ہنسا بائی اور ببلی‘ نے’ گھومر‘ نام کا ’سیلف ہیلپ ‘ گروپ بنا کر کی تھی ۔ اِس گروپ کی منتظم خاتون’ جيجابائي ‘نے’ يوراسٹوري‘ کو بتایا،

’’ہمارا خاندان کاشتکاری کرتا تھا اور میَں بچپن سے ہی سيتاپھل برباد ہوتے دیکھتی تھی، اُسی وقت سے سوچتی تھی کہ اتنا اچھا پھل ہے، اس کا کچھ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جب ایک این جی او میں کام کرنے والے ’ گنپت لال‘ سے ملاقات ہوئی تو’سیلف ہیلپ ‘گروپ بنایا اور حکومت سے تعاون ملا تو کاروبار بڑھتا گیا اور ہم اِس کی پیداوار بھی بڑھاتے گئے ۔اِس کام میں فائدہ دیکھ کردیگر خواتین بھی شامل ہوتی گئیں۔‘‘

8 مقامات پر کلیکشن سینٹربنانے کا ہدف

سيتاپھل کا گودا نکالنے کا کام ’پالی‘ضلع کی گرام پنچایت’ بھيمانا‘ اور’ كوئل واؤ‘ کے گاؤں ’بھيمانا، ناڈيا، تانی، اُپرلا بھيمانا، اُرنا، چوپا کی نال، چگٹابھاٹا، كوئل واؤ ‘ میں 8 مراکز پر ہو رہا ہے، جس میں 1408 خواتین جنگلوں سے سيتاپھل چُن کر لانے کا کام کر رہی ہیں۔ یہاں پر خواتین اب ’سیلف ہیلپ‘ گروپ بنا رہی ہیں اور اِن کا کہنا ہے کہ اگلے سال تک یہ اِس علاقے کے ہر گاؤں اور’ڈھانی‘ میں ’سیلف ہیلپ‘ گروپ پہنچانے کے ساتھ ہی 5 ہزار خواتین کواِس میں شامل کر لیں گی ۔ سيتاپھل کا گودا نکالنے کا پلانٹ مکمل طور پر حفظان صحت کے مطابق ہے ، جس میں کسی بھی خاتون کو داخل ہونے سے پہلے کیمیائی سیاّل سے اُس کےہاتھ پاؤں دھلائے جاتے ہیں۔سیتا پھل کے گودےکو ہاتھ لگانے سے پہلے دستانے پہننے ضروری ہیں۔ اِس کے ساتھ ہی خواتین کے لئے پلانٹ میں داخل ہونے کے لئے خاص کپڑے بھی ركھوائے گئے ہیں تاکہ پھلوں کے گودے کو کسی بھی قسم کے جراثیم سے بچایا جا سکے ۔ گودا نکالتے وقت بھی منہ پر ماسک لگانا ضروری کیا گیا ہے ۔ ان خواتین کی حوصلہ افزائی کرکے ٹریننگ دینےوالے گنپت لال کہتے ہیں کہ خواتین پڑھی لکھی نہیں ہیں لیکن ان میں کچھ کرنے اور کچھ سيكھنے کا جذبہ تھا اور اسی وجہ سے اپنی محنت کی بدولت انہوں نے اتنی بڑی کمپنی بنا لی ہے۔

چار خواتین کی پیش قدمی سے گاؤں گاؤں میں بن گئے گروپ

جنگل سے سيتاپھل جمع کرکے خواتین کےذریعے کاروبار شروع کرنے کایہ ملک کاانوکھا پروجیکٹ ہے ۔ سيتاپھل گودے کاپروسیسنگ یونٹ 21.48 لاکھ روپے کی لاگت سے کھولا گیا ہے جس کی منتظمین خواتین ہی ہیں ۔ خواتین کی ان کامیابیوں کو دیکھ کر حکومت کی جانب سے’ سیڈ کیپٹل ریوالونگ فنڈ ‘بھی دیا جا رہا ہے ۔ روزانہ یہاں 60 سے 70 كوئنٹل سيتاپھل کا گودا نکالا جا رہا ہے۔ فی الحال 8 کلیکشن سینٹرز پر 60 خواتین کو روزانہ روزگار بھی مل رہا ہے ۔ انہیں 150 روپے روزانہ کی اُجرت مل رہی ہے ۔ اس کی وجہ سے پورے علاقے میں خواتین کی اقتصادی حالت بہتر ہوئی ہےاور غربت دُور ہوئی ہے۔

کلیکشن کی انچارج ’سانجی ‘بائی کہتی ہیں،

’’پہلے ٹوکری میں سيتاپھل بیچتے تھے تو ’سیزن‘ میں آٹھ سے دس روپے فی کلو ملتا تھا لیکن اب جب سے پروسیسنگ یونٹ کا انتظام ہوگیا ہے تو آئس كریم کمپنیاں 160 روپے فی کلو تک کی قیمت دے رہی ہیں ۔‘‘

نیشنل مارکیٹ میں فروخت سے ٹرن اوور ہوگا ایک کروڑ روپے

2016 میں’ گھومر‘ کا 15 ٹن سیتا پھل گودا نیشنل مارکیٹ میں فروخت کرنے کا ہدف ہے ۔ گزشتہ دو سال میں کمپنی نے 10 ٹن گودا فروخت کیاہے ۔مارکیٹ میں اوسط قیمت فی کلو 150 روپے مان لی جائے تو سالانہ ٹرن اوور تین کروڑ روپےتک پہنچنے کی امید ہے ۔

-----------------

قلمکار : رِمپی کماری...    مترجم : انور مِرزا...    Writer : Rimpi Kumari.... Translation by : Anwar Mirza

--------------------------------------

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے

’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ دلچسپ کہانیاں بھی آپ کو ضرور پسند آئیں گی۔

تعلیمی عدم مساوات دُور کرنے میں مصروف ’سیما كامبلے‘

آپ کے ’اسٹارٹپ‘ کو فنڈ نہ مِلنے کی ہو سکتی ہیں یہ وجوہات ...

’سوشل اسٹارٹپ ‘ گاندھی جی کے اصولوں کے مطابق کام کریں : بِندیشورپاٹھک


Related Stories