اسٹارٹپ میں ہندوستان دوسرے نمبر کی دوڑ میں

0

نیشنل ایسوسی ایشن آف سافٹ ویئر اینڈ سروس کمپنیز ناسكوم کا دعوی ہے کہ اسٹارٹپ کے میدان ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور دوسرے نمبر کی دوڑ میں ہے۔ اسٹارٹپ کا کاروبار 2020 تک 250 بلین ڈالر اور 2025 تک 350 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

ناسكوم کے نو منتخب صدر سی پی گرنانی ، جو سی پی کے نام سے مشہور ہیں، وہ ٹیک مہندرا کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو افسر بھی ہیں. گرناني نے کہا کہ ہندوستان کو دنیا کا ڈیجیٹل مرکز بنانا ان کا بنیادی مقصد ہو گا۔ اس کے لئے 2020 اور 2025 کی قرارداد منظور کر لی گئی ہیں۔ ان کا مقصد صرف ہندستان میں آئی ٹی کی صنعت کی حوصلہ افزائی کرنا نہیں ہے، بلکہ جاپان، یورپ اور امریکہ کے نئے بازاروں میں بھی ہندوستان کی باآثر موجودگی درج کرانا ہے۔

فروغِ مہارت کو ترقی کی چابی بتاتے ہوئے گرنانی بتایا کہ فروغِ مہارت کے بہت سے شعبے ہیں۔ صرف مہارت کا فروغ محض ایک مقصد نہیں ہونا چاہئے، بلکہ اس وقت جو ا ملازم ہیں، انہیں وقت کے مطابق، چیلنجوں کا سمنا کرنے کے لئے موثر بنائے رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اس کے لئے ناسكوم نے دو ٹاسكفورس بنائی ہیں۔ ایک کی ذمہ داری مستقبل کے چیلنجوں کی شناخت کرنا ہے اور دوسری ٹاسكفورس اس کے مطابق، موجودہ انسانی وسائل کو چوکنا کرنے کا کام کر رہی ہے۔

اگلی ورلڈ آئی ٹی کانگریس حیدرآباد میں

سی پی گرنانی نے کہا کہ ورلڈ کانگریس آف انفرمیشن ٹیکنالوجی کی اگلی کانفرنس حیدرآباد میں ہوگی اور اس کے لئے وزیر اعلی کے. چندر شیکھر راؤ بھی اتفاق کر چکے ہیں۔ پچھلی کانگریس جب سینٹ فرانسسکو میں منعقد کی گئی تھی، تو وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس میں حصہ لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا مطلب صرف آئی ٹی یا سافٹویئر صنعت نہیں ہے، بلکہ صحت اور تعمیر کے مختلف علاقوں میں اس کی توسیع ہوئی ہے۔ اس وقت 3.5 ملین لوگ اس میں کام کر رہی ہیں. ان کی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے کے لئے ان کی فنی مہارت کو وقت وقت پر نئے طریقے سے سنوارنا ہوگا. انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ہندوستان سے آئی ٹی میں 100 بلین ڈالر کی برآمدات ہوئی ہے اور اس سال 108 بلین ڈالر کی برآمدات کا امکان ہے۔

حیدرآباد میں آئی ٹی ہب کی طرح بینگلور، گرگاؤں، کولکتہ، ممبئی اور پونے میں مرکز قائم کیے گئے ہیں. چنئی میں بھی عمل جاری ہے. اس سال 12 فیصد ترقی کی شرح درج کی گی ہے جبکہ اگلے سال اس میں 14 فیصد ترقی کی شرح کا امکان ہے۔


پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem