خواتین بدل سکتی ہیں دنیا...لیکن اِس کے لئے کیا غُصّہ ضروری ہے؟...

0

دورِ حاضر کا ہندوستان ایک طرف تو ’ ماں کالی‘ کی پوجا کرتا ہے اور وہیں دوسری طرف خواتین اور اُن کے مسائل کا ذکر آتے ہی لاتعلق اور گونگا ، بہرا ہو جاتا ہے ۔’ کالی‘ ایک ہندو دیوی ہیں جنہیں بُری اور شیطانی قوتوں کا خاتمہ کرنے والی دیوی کے طور پر جانا جاتا ہے اور جنہیں ’شکتی‘ ( طاقت) کی علامت کے طور پر پوجا جاتا ہے۔

یہ وہی ’ کالی‘دیوی ہیں جو ہندوستانی خواتین کو اپنے چاروں طرف پھیلی بُرائیوں سے لڑنے کی طاقت دیتی ہیں اور جن سے تحریک و ترغیب پا کرعورتیں دنیا میں انقلاب برپا کرنے اور بُری طاقتوں کاخاتمہ کرنے کے قابل بنتی ہیں۔

’اینگری انڈین گاڈیسیس‘ (Angry Indian Goddesses) خاتون دوستوں پر مبنی فلم ہے۔ یہ سات خواتین دوستوں کے ایک گروپ کی کہانی ہے جو ایک ساتھ مل کر خود کو ایک بار پھر تلاش کرنے کی کوشش کرنےکے علاوہ زندگی کا جشن منا رہی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ لطف حاصل کر رہی ہیں ۔ یہ فلم اِس حقیقت کی مظہرہے کہ جب خواتین ایک ہو جاتی ہیں تو کس طرح ان کے پاس اتنی طاقت آ جاتی ہے کہ وہ نہ صرف خود ہی بدل سکتی ہیں بلکہ چاہیں تو اپنے آس پاس بھی تبدیلی کا سبب بن سکتی ہیں۔

’اینگری انڈین گاڈیسیس‘ کی سات دیوياں، ماں، بیوی، بہن، دوست، محبوبہ وغیرہ کے کردار میں ہیں اورہم نے اِن میں سے پانچ خواتین سے اُن کی زندگی، کردار، ایک عورت ہونے، اور اُن باتوں پر جو کہ اِن دیویوں کو ناراض اور برہم کرتی ہیں، تفصیل سے گفتگو کی ۔ پیش ہیں اسی مذاکرے کے چند حوالہ جات :

’سندھیا مِردول‘ -’ 'سو‘ ' سورنجنا

سندھیا اداکاری کے میدان کا ایک جانا پہچانا نام ہونے کے علاوہ ’بالی دُڈ‘ کی ایک مستحکم اداکارہ ہیں۔ اِس فلم میں وہ’سُو‘ عرف سورنجنا کا کردار ادا کر رہی ہیں، جو ایک برسرِ روزگار خاتون ہونے کے علاوہ ایک 6 سالہ بچّے کی ماں بھی ہیں اور ایک پریشان حال ازدواجی زندگی سے گزر رہی ہیں۔ سندھیا کہتی ہیں کہ اُن کا کردار خواتین کے کام اور زندگی کے درمیان آنے والے چیلنج اور مشکلات کی عکّاسی کرتا ہے ۔’’ میں اپنے کردار کے ذریعے کام اور زندگی کے توازن سے متعلق مایوسی کا اظہار کرتی ہوں ۔ میرے علم میں ایسی کئی عورتیں ہیں جنہیں اِس بات کا ملال ہے کہ انہوں نے ایک مثالی ماں بننےکے لئے اپنے کیریئر کو کیوں نہیں چھوڑا، اور میں ایسی عورتوں سے بھی بخوبی واقف ہوں جو صرف اس لئے پریشان ہیں کہ انہوں نے اپنے بچّے کی خاطراپنےکیریئر کو بالائے طاق رکھ دیا۔ لہٰذا ایسے معاملات میں توازن قائم رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہے ۔‘‘

سندھیا کے مطابق خطرات اور طاقت ایک ہی سکّے کے دو پہلو ہیں ۔سندھیا کہتی ہیں، ’’ جوعورتیں مضبوط ہوتی ہیں اُن میں اپنی طاقت دکھانے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے ۔‘‘ سندھیاخواتین کے استحصال، خاص طورپر ذہنی اذیت و استحصال کا مسئلہ اٹھاتی ہیں ۔ ان کے مطابق اکثر اس کے بارے میں پتہ لگانا اور اسے پہچاننا کافی مشکل ہوتا ہے اور وہ معاشرے میں اس بابت بیداری لانا چاہتی ہیں۔

وہ با اصرار کہتی ہیں کہ ’اینگری انڈین گاڈیسیس‘ مردوں پر کوئی حملہ نہیں کرتی ہے بلکہ یہ عورتوں اور ان کے مسائل سے متعلق ہے۔ خواتین کے لئے اُن کا پیغام صرف اُن تک اپنی آوازپہنچانا ہے ۔’’ اپنی شخصیت کے اظہار میں، یا پھر تم کون ہو یہ ظاہر کرنے میں کبھی بھی شرماؤ مت ۔ دوسروں کو خوش کرنا بند کرو۔ جو دل چاہے وہ کھاؤ،اپنی پسند کا اوڑھو، پہنو ۔ اپنی زندگی اپنی مرضی سے اور اپنی شرائط پر جیو ۔‘‘

دیوی کے ناراض ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے وہ کہتی ہیں، ’’ اُن کے ناراض ہونے کی کئی وجوہات یہاں پر موجود ہیں ۔ دیوی ایک بہت بڑی ذمہ داری کے ساتھ آتی ہیں ۔ وہ کئی ایسی چیزوں کو سامنے لے کر آئیں گی جن کے بارے میں آواز ہی نہیں اٹھائی گئی ہے ۔‘‘

’انوشکا منچندا‘ - ’میڈ ‘ مدھوريتا

’انوشکا ‘جانوروں کی فلاح و بہبود کے لئے کوشاں کئی این جی او کی حمایتی اور جانوروں سے انسیت رکھنے والی شخصیت ہیں ۔ ہم انہیں خواتین پر مشتمل میوزیکل بینڈ’ ويوا‘(Viva) کے ایک رکن کے طور پر جاننے کے علاوہ چینل’ وی‘ کی ایک مشہور’ وی جے‘ اور بالی وُڈ کے کئی مقبول گانوں کو اپنی آواز سے سجانے والی گلوکارہ کے طور پر جانتے ہیں ۔ وہ کہتی ہیں،’’ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میری پیدائش اورپرورش ایک ایسے خاندان میں ہوئی جہاں مجھے اظہار کی آزادی ملی اور یہی آزادی مجھے ایک عورت کے طور پر اظہارِ شخصیت کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔‘‘

ان کا خیال ہے کہ عورت کو بااختیار بنانے کے لئے تعلیم سب سے زیادہ اہم ہے ۔ اگر خواتین تعلیم یافتہ ہیں تو وہ اس تعلیم کی مدد سے بہت طویل سفر طے کر سکتی ہیں ۔ اپنی فلم ’اینگری انڈین گاڈیسیس‘ کا ایک مکالمہ بولتے ہوئے وہ کہتی ہیں، ’’ یہ بہت ہی زیادہ بدقسمتی کی بات ہے کہ عورتیں ایک دوسرے کی مدد کے لئے کھڑی نہیں ہوتی ہیں ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے بدلنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ۔ ‘‘

حقیقت میں’ انوشکا‘ مثبت سوچ رکھنے والی ایک خوش اخلاق اور جھگڑوں سے دُور رہنے والی شخصیت کی مالک ہیں ۔ جبکہ اس فلم میں ان کا کردار بالکل ہی برعکس ہے، جہاں وہ لڑائی جھگڑوں پر آمادہ شخصیت کا کردار ادا کر رہی ہیں، ایک قطعی جارحانہ کردار ۔ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لاتے ہوئے’ انوشکا ‘کہتی ہیں،’’ چونکہ ’میڈ‘ مدھوریتا مجھ سے بالکل برعکس ہے، لہٰذا میرے لئے اُس کردار کے جیسا بننا بہت مشکل کام تھا ۔ حالانکہ ’میڈ‘ اکثر منفی معاملات میں گھری رہتی ہے لیکن حقیقی زندگی میں میَں بہت زیادہ مثبت رہتی ہوں ۔‘‘

’دیوی‘کےبرہم ہونے کی وجہ کے تعلق سے اُن کا کہنا ہے، ’’اس کے علاوہ اور کوئی راستہ ہے بھی نہیں۔ ہمارے ملک میں عورتوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور ہم اس کے تئیں کتنے بے حِس ہوتے جا رہے ہیں یہ قابلِ دید ہے ۔ تبدیلی لانے کے لئے ہمیں بے عملی یا لاتعلقی کی بجائے سب سے پہلے اُسے خود محسوس کرنا ہوگا۔ یہی وہ وجہ ہے جس کے سبب دیوی ناراض ہیں ۔‘‘

’پاولين گجرال‘ - ’پیم‘ عرف پامیلا جائسوال

’پاولين‘ ایک اینکر، ماڈل، اداکارہ اور اسٹائلسٹ ہیں اور وہ خود کو ’’ آج کی عورت‘‘ کہتی ہیں ۔ ’’میَں اپنی زندگی میں اپنی مرضی سےچلتی ہوں ۔‘‘ تاہم وہ کہتی ہیں، ’’عورتیں عزّت و احترام کی مستحق ہیں، زندگی میں اپنے فیصلوں اور انتخابات کےلئے اوراس بات کے لئے بھی کہ وہ ایک عورت ہیں۔‘‘

کمپیوٹر انجینئرنگ اور وکالت کرنے کے بعد انہوں نے خواب میں بھی اداکاری کرنے کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ اس فلم میں وہ دہلی کی ایک روایتی لڑکی کا كرادار نبھا رہی ہیں جس کا نام  ’پامیلاجائسوال‘ ہے۔

’پاولين‘کہتی ہیں، ’’ یہ زندگی کے جشن کے بارے میں ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ جب خواتین ایک ساتھ ہوتی ہیں تو وہ بھی لڑکوں کی طرح موج اُڑا سکتی ہیں ۔ جب خواتین ملتی ہیں تو کس طرح اُن کے پاس اپنی ایک مختلف دنیا بسانے کی طاقت ہوتی ہے اور وہ اپنے دل کی سننا بند کر سکتی ہیں ۔‘‘

’دیوی‘ کے ناراض ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے وہ کہتی ہیں، ’’ جب عورتیں بہت کچھ بھُگت چکی اور برداشت کر چکی ہوتی ہیں تو اس کا نقطۂ عروج غصّہ ہی ہوتا ہے ۔‘‘

’راج شری دیش پانڈے‘ - ’لکشمی‘

’راج شری‘ اشتہارات، فلم اور ٹی وی کی دنیا سے منسلک رہی ہیں اور کہتی ہیں، ’’ میں ایک بہت ہی مضبوط شخصیت والی عورت ہوں ۔ میں لڑاکا ہونے کے ساتھ نڈراور بیباک ہوں لیکن ساتھ ہی جذباتی بھی ہوں ۔‘‘

فلم کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں، ’’ اِس فلم کے تمام کردار بالکل اصلی ہیں ۔ انہیں دیکھنے پر آپ کو وہ اپنے آس پاس کے کرداروں سے ملتی جُلتی نظر آئیں گی ۔ ہم اس فلم کے ذریعے معاشرے میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ عورتیں اپنی طاقت کو پہچانیں اور اُسے آواز عطا کریں۔‘‘

خواتین کے لئے ’پاولين ‘ کا صرف ایک ہی پیغام ہے، ’’ اپنے آپ کو پہچانو ۔‘‘

’سارہ جین ڈائس‘ - ’فریڈا‘

’سارہ‘ چینل ’ وی ‘میں ایک’ وی جے‘ کی حیثیت سے کام کرنےکے علاوہ سال 2007 میں مس انڈیا بھی رہی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں، ’’فریڈا‘ اور میَں بالکل یکساں ہوتے ہوئے بھی بالکل جدا ہیں ۔ میرے لئے انہی مماثلت اور اختلافات کو تلاش کرنا ہی سب سے زیادہ دلچسپ تھا۔‘‘

اس معاملے میں فلمی اور حقیقی زندگی کے درمیان یکسانیت کے متعلق بات کرتے ہوئے سارا کہتی ہیں،’’ جب تک اُکسایا نہ جائے ہم بالکل پرسکون ہیں، ہم دونوں ہی تمام چیزوں اور لوگوں کےتئیں محبت رکھتے ہیں اور ہم دونوں ہی بہت زیادہ جذباتی ہیں ۔‘‘

ایک چیز جو ’سارہ‘ تمام خواتین کے لئے کرنا چاهتي ہیں وہ ہے اُن کے لئے اپنا دفاع اور جسمانی حفاظت لازمی بنانا اور اس بات کا یقین کہ خواتین جسمانی اعتبار سے مضبوط بنیں ۔

’اینگری انڈین گاڈیسیس‘ عورتوں تک پہنچنے اور انہیں بولنے کے حق و اختیارعطا کرنے کی سمت میں ایک مثبت پیش قدمی ہے۔

یہ وقت ہے خود کو ثابت کرنے کا اور اپنی آوازدنیا تک پہنچانے کا ۔ کیا کہنا ہے آپ خواتین کا؟ آئیے، ہم مِل کر اپنے اندرموجود ’كالی‘ کو باہر نکالیں۔

قلمکار : تنوی دوبے

مترجم : انور مِرزا

Writer : Tanvi Dubey

Translation by : Anwar Mirza