کاروباری لوگوں کے شوق کو تازگی عطا کرتا ہے 'انترال' تھیئٹر

0

'انترال' ڈرامہ گروپ سے منسلک ہیں ڈاکٹر، انجنیئر اور طالباء

2007 سے کام کر رہا ہے 'انترال تھیئٹر گروپ

ہر اتوار تین گھنٹے کا ورکشاپ اور دو سے تین ماہ میں ایک نیا ڈرامہ

شہروں کی مصروف ترین زندگی میں کسی ڈاکٹر، سرکاری ملازم، آئی ٹی کمپنی کے مینیجر یا طالب علم کے پاس 'آرٹ' کے شوق کو پورا کرنے کا وقت ہی کہاں ہوتا ہے۔ اس بھاگتی دوڑتی زندگی میں خواب، صرف خواب ہی رہ جاتے ہیں۔ ایسے میں دہلی کا ایک تھیئٹر گروپ 'انترال' کاروباری لوگوں اور طلباء کے ڈرامہ میں کام کرنے کے خواب کو پورا کر رہا ہے۔ تھیئٹر گروپ سے وابستہ لوگ ہر اتوار کو تین گھنٹے کا ورکشاپ کرتے ہیں اور دو سے تین ماہ میں ایک ڈرامہ تیار کر لیا جاتا ہے۔

دو جڑواں بھائیوں اکبر اور اعظم قادری نے سال 2007 میں تھیئٹر گروپ 'انترال' کی شروعات کی تھی۔ اکبر بتاتے ہیں، "ہماری طرح تھیئٹر سے محبت کرنے والے لوگ کام یا پیشہ ورانہ مجبوریوں کی وجہ سے اس سے دور ہو رہے تھے۔ ہم نے تھیئٹر سے لگاؤ رکھنے والے لوگوں کو جمع کر کے 'انترال' کی شروعات کی۔"

تھیئٹر کے ڈائریکٹر فحاد خان کا کہنا ہے کہ شروع میں ہمیں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں سب سے بڑی پریشانی پیشہ ورانہ لوگوں سے اداکاری کرانے کی تھی۔ اس کے بعد ان کے حساب سے ورکشاپ اور پریکٹس کا وقت طے کرنا تھا کیونکہ اتوار کو چھٹی ہونے کے باوجود لوگوں کے پاس گھر کے کام بھی ہوتے ہیں۔ اس کا حل ہم نے اتوار شام کو ورکشاپ کا وقت طے کر کے کیا۔ فی الحال 'انترال' میں قریب 35 رکن ہیں جو مختلف شعبے سےتعلق رکھتے ہیں۔ ان میں چار ڈاکٹر، آٹھ تاجر، چار سرکاری ملازمین، نو آئی ٹی کمپنی میں کرنے والے اور باقی طالباء ہیں۔ "

فحاد نے بتایا کہ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ گزشتہ بار ڈرامہ میں اہم کردار ادا والا شخص اگلے شو میں بیک اسٹیج سنبھال رہا ہوتا ہے یا لائٹنگ کام کر رہا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق شروع سے ہی گروپ کو ناظرین کی بھرپور محبت ملتی رہی ہے۔ دو سے تین ماہ میں آئی آئی ٹی دہلی میں ڈرامہ پیش کیا جاتا ہے اور ہر بار آڈیٹوریم کھچا کھچ بھرا ہوتا ہے۔"

فری لانس فوٹو گرافر روہت جین نے بتایا کہ تھیئٹران کا جنون ہے، لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے وہ اس سے دور ہو رہے تھے۔ ایسے میں انہیں 'انترال' کے طور پر ایک ایسا گروپ ملا جو ان کے اس جذبہ کو پورا کرنے کا موقع دے رہا ہے ۔

روہت بتاتے ہیں، "شروع میں میں نے بیک اسٹیج کام سیکھا اور پھر اداکاری میں بھی ہاتھ آزمایا۔ اب تک میں نے بہت سے ڈراموں میں کام کر چکا ہوں۔''

'چین پور کی داستان' ڈرامہ میں اہم کردار ادا کرنے والے رام سرجل نے بتایا، ''پہلے میں سوچتا تھا کہ متوسط خاندانوں کے بچوں کے خواب کبھی پورے نہیں ہوتے، لیکن 'انترال' سے ربط میں آنے کے بعد میری سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔''

قومی فیشن ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ (نفٹ) سے ڈیزائن کا کورس کرنے والے رام کا اداکاری کرنے کا خواب یہیں آکر شرمندہ تعبیر ہوا۔ انہوں نے 'چین پور کی داستان' کے علاوہ بھی کئی ڈرامے میں اداکاری کی ہے۔

ہرفن مولا ہیں 'انترال'کے ارکان

فحاد نے بتایا کہ 'انترال' کے ہر رکن کو تھیئٹر سے متعلق ہر فن سكھایا جاتا ہے۔ یہاں اداکاری کے علاوہ لکھنا، ہدایت کاری، لائٹنگ، اسٹیج کے پیچھے کام وغیرہ کرنا ہوتا ہے۔ ہر رکن آل راؤنڈ ہوتا ہے۔

فحاد بتاتے ہیں کہ کون، کس کام کو پہلے جاننا چاہتا ہے، یہ اس کے اپنے ذہن اور دلچسپی پر منحصر ہوتا ہے۔ میں نے بالکل نئے لوگوں کو بھی ان کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے ڈرامہ میں اداکاری کرنے کا موقع دیا ہے اور انہوں نے مجھے مایوس بھی نہیں کیا ہے۔ کچھ ہمارے رکن ایسے بھی ہیں جو اداکاری سے پہلے لکھنا، ہدایت کاری وغیرہ بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ "

100 روپے میں ڈرامے کا لطف

فحاد کا کہنا ہے کہ لوگ فلم دیکھنے کے لئے تو 200 سے 800 روپے تک خرچ کر سکتے ہیں، لیکن ڈراما دیکھنے کے لئے انہیں مفت کے دعوت نامےچاہئے ہوتے ہیں۔ بغیر پیسے خرچ کئے لوگ کسی بھی کام کو سنجیدگی سے نہیں لیتے ہیں۔ اس لئے ہم نے اپنے ہر ڈرامے کے لئے کم از کم 100 روپے کا ٹکٹ رکھا ہے۔ اس سے لوگوں کی جیب پر بوجھ بھی نہیں پڑتا اور وہ ڈرامہ سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔

اہم ڈرامے

موسم کو نہ جانے کیا ہو گیا، اڑنے آسمان چاہئے، 'جن لاہور نئیں وےكھيا او جنميائ نئیں'، ایک اور دروناچاریہ، ذات ہی پوچھو سادھو کی، جنگلی جانور، فیوچربازار، ایک کہانی، چین پور کی داستان، کوّا چلا ہنس کی چال، دی سڈكشن وغیرہ ۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem