جیل میں آئے ایک نیک خیال کی بدولت ... آج سندیپ کور ہیں 98 یتیم لڑکیوں کی ماں ...

0

98 یتیم لڑکیاں ہیں ان کے خاندان میں ...
25 سالوں سے کر رہی ہیں یتیم بچّوں کی دیکھ بھال ...
کئی لڑکیوں کی کراچکی ہیں شادی ...


زندگی کا کوئی ایک لمحہ ایسا ہوتا جو انسان کی تمام ترسوچ، سمجھ اور زندگی گزارنے کاانداز بدل دیتاہے ۔ چونکہ اس لمحے میں جو احساسات و تاثرات دل و دماغ میں موجزن ہوتے ہیں، ان سے دراصل ایک اُمید جاگتی ہے اور اُس امید میں ایک خوشی اور اطمینان کا احساس ہوتا ہے ۔ یہی احساس بعد میں کئی انسانوں کی زندگی بدلنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے ۔ ایسا ہی کچھ ہوا پنجاب کے امرتسر کی رہنے والی سندیپ کور کے ساتھ ۔

سندیپ کور، جن پر شدّت پسند ہونے کا الزام لگا، لیکن سینکڑوں بچّے ان کو ماں کہتے ہیں ۔ اُن پر بچّوں کو ورغلانے کا الزام لگا، لیکن آج اُن کے پڑھائے ہوئے کئی بچّے بی ٹیک، ایل ایل بی، ایم بی اے، ایم سی اے کر چکے ہیں یا کر رہے ہیں ۔ پنجاب کے امرتسر میں رہنے والی سندیپ کور اِس دَور کی باہمّت، حوصلہ مند، جرأت پسند اور فیصلہ سازعورت کی جیتی جاگتی مثال ہیں ۔ گزشتہ 25 برسوں سے وہ یتیم لڑکے لڑکیوں کی زندگی بہتر بنانے میں مصروف ہیں ۔ امرتسر کے قریب سلطان ونڈ میں ' ’بھائی دھرم سنگھ خالصہ چیریٹبل ٹرسٹ ‘ کے ذریعے خدمتِ خلق کرنے والی سندیپ کے خاندان میں آج بھی 98 یتیم لڑکیاں ہیں ، جن کے کھانے پینے سے لے کر اسکول اور کالج بھیجنے کی ذمہ داری وہ بخوشی نبھا رہی ہیں ۔

31 سال پہلے امرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں آپریشن بلیوا سٹار کئی لوگوں کے دل و دماغ پر گہرا اثرکر گیا تھا ۔ انہی لوگوں میں سے ایک 12 یا 13 سال کی لڑکی بھی تھی جس کا نام تھا سندیپ کور ۔ یہ لڑکی اس بات سے دِل برداشتہ تھی کہ ہندوستانی فوج نے ایک مقدّس مذہبی مقام پر اس طرح کا آپریشن کیوں کیا ۔ اُس کے دل کا یہ زخم ابھی بھرا بھی نہیں تھا کہ اندرا گاندھی کے قتل کے بعد جس طریقے سے دہلی میں سکھوں کے تئیں سلوک کیا گیا اس نے اس لڑکی کی روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ ایسے میں اُس کے دل میں انتقامی جذبہ پیدا ہوگیا اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ جن لوگوں نے ہمارے ساتھ ایسا کیا ہے تو کیوں نہ اُن کے ساتھ بھی ویسا ہی کیا جائے ۔

اس طرح سال 1989 میں جب انہوں نے دسویں کی تعلیم مکمل کی تو وہ ببر خالصہ کی ایک تنظیم کے رابطہ میں آ گئیں اور اپنی مرضی سے تنظیم کے ایک رکن ’دھرم سنگھ كشتيوال‘ سے انہوں شادی کر لی۔ کیونکہ تنظیم کا کہنا تھا کہ وہ کنواری لڑکیوں کو اپنی تنظیم میں شامل نہیں کر سکتے۔ اس طرح اُن کی شادی شدہ زندگی کے تقریباً ساڑھے تین سال ابھی پورے ہی ہوئے تھے کہ پولیس نے سندیپ کور کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ۔ جیل میں آئے انہیں چھ ماہ ہی ہوئے تھے کہ انہیں خبر ملی کہ اُن کے شوہر جالندھر میں پولیس انکاؤنٹر میں مارے گئے ہیں ۔ اُن کا کہنا ہے کہ اِس دوران پولیس نے اُن پر کافی زیادتیاں کیں اور اُن پر دباؤ ڈالا کہ میڈیا کے سامنے وہ بتائیں کہ اُن کی زبردستی شادی ہوئی ہے ، لیکن سندیپ کور نے ایسے مشکل حالات میں بھی سچ کا ساتھ نہیں چھوڑا ۔ اِس کے باوجود انہیں کئی طرح کے لالچ بھی دیئے گئے مگر جب سندیپ کور نے سچائی کا دامن نہیں چھوڑا، تو اُن پرکئی دیگر معاملے درج کئے گئے ۔ اس طرح انہیں چار سال تک ’سنگرور ‘ جیل میں رہنا پڑا ۔

جیل میں سال 1992 سے 1996 تک رہنے کے دوران سندیپ کور نے اپنی آدھی ادھوری تعلیم کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور سنگرور جیل میں ہی پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھا ۔ اس طرح انہوں نے جیل میں رہتے ہوئے نہ صرف بارہویں تک کی تعلیم مکمل کی بلکہ جیل سے ہی انہوں نے بی اے فرسٹ ایئر میں داخلہ لے لیا تھا ۔ اِسی دوران انہوں نے ایک اور فیصلہ کیا کہ جب بھی وہ جیل سے باہر آئیں گي، وہ گھر نہیں جائیں گی بلکہ ایسے بچّوں کی دیکھ بھال کریں گی، جن کے والدین پولیس انکاؤنٹر میں مارے گئے ہیں یا وہ یتیم ہو گئے ہیں ۔ سال 1996 میں سنگرور جیل سے رِہا ہونے کے بعد وہ جیل کی اپنی کچھ ساتھی خواتین کے ساتھ پٹیالہ آ گئیں ۔ اس طرح وہ تقریباً 7 سال پٹیالہ میں یتیم بچّوں کی مدد کے کاموں میں مصروف رہیں ۔ اُن کے اِس کام میں اُن کے والد نے بھی مدد کی ۔

پٹیالہ آنے کے بعد اپنے فیصلے کے مطابق، سب سے پہلے انہوں نے یتیم بچّوں کو تلاش کیا اور اُن کو اپنے ساتھ رکھا ۔ اس طرح اُن کے پاس100 سے زیادہ بچّے ہو گئے ۔ پھر انہوں نے ان یتیم بچّوں کی تعلیم کا انتظام کیا ۔ اس سلسلے میں سندیپ کور اور اُن کے ساتھی لوگوں سے چندہ بھی مانگتے تھے ۔ اتنا ہی نہیں جیل سے باہر آنے کے بعد وہ ایک طرف یتیم بچّوں کی زندگی سنوار رہی تھیں تو دوسری طرف اپنی تعلیم بھی مکمل کر رہی تھیں ۔ اپنے پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے سندیپ کور بتاتی ہیں کہ

’’ میَں صبح تین بجے بسترسے اٹھ جاتی تھی، اس کے بعد پہلے خود تیار ہوتی تھی، پھر بچّوں کو اٹھاتی تھی، انہیں نہلاتی تھی اور اسکول کے لئے تیار کرتی تھی ۔بچّوں کو اسکول بھیجنے کے بعد میرے پاس اتنا وقت بھی نہیں بچتا تھا کہ میں ناشتہ کرسکوں کیونکہ مجھے وقت پر کالج بھی پہنچنا ہوتا تھا ۔‘‘

ایک طرف وہ اتنی بڑی ذمہ داری اٹھا رہی تھیں تو دوسری طرف انہوں نے کبھی بھی کسی سے ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ اسی لئے کالج میں اُن کے بارے میں کسی کو کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون ہیں اور کیا کرتی ہیں ۔

سندیپ کور نے یتیم بچّوں کی پرورش کی ذمہ داری کوہی اپنا نصب العین بنا لیا تھا۔ اسی لئے وہ بچّوں کی ہر چھوٹی بڑی بات کا کافی خیال رکھتی تھیں۔ وہ باقاعدہ طور پر ان کے ناخن چیک کرتی تھیں، ان کا ہوم ورک دیکھتی تھیں، ان کے اسکول جاتی تھیں ۔ وہ بتاتی ہیں کہ اتنے سارے بچّوں کو سنبھالنا کسی چیلنج سے کم نہیں تھا ۔ اسی لئے تو ان کے پاس مناسب ڈھنگ سے سونے کے لئے ایک بستر تک نہیں تھا ۔ کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ زندگی کی کوئی بھی سہولت سب سے پہلے یتیم بچوں کو ملے ۔ دوسری طرف اُن کے ساتھ رہنے والےبچّے بھی ان سے بہت محبت کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ کئی بار رات کو بہت سے بچّے ان کے کمرے میں ہی سو جایا کرتے تھے ۔ سندیپ کور کا کہنا ہے کہ

’’اُس وقت میَں اپنے تمام دُکھ درد بھول جایا کرتی تھی جب میرے تمام بچّے میرے کمرے میں سوتے تھے اور میرے پاس اتنی بھی جگہ نہیں بچتی تھی کہ میں سیدھی بھی لیٹ سکوں ۔ یہ وہ لمحے ہوتے تھے جو مجھے کافی سکون بخشتے تھے ۔‘‘

سندیپ کا کہنا ہے کہ پٹیالہ میں تقریباً سات سال رہائش کے دوران پولیس نے انہیں وہاں بھی پریشان کرنا نہیں چھوڑا ۔ وہاں بھی ان پر کئی طرح کے الزامات لگائے ۔ پولیس نے الزام لگایا کہ وہ بچّوں کو دہشت گرد بننے کی تربیت دے رہی ہیں۔ جس کے جواب میں وہ ہر ایک سے یہی کہتیں کہ وہ بچّوں کو پڑھا رہی ہیں، ان کا مستقبل سنوار رہی ہیں تاکہ یہ بھی عام لوگوں کی طرح اپنی زندگی جی سکیں۔ بالاخرمسلسل پریشانیوں سے تنگ آکر اور بچّوں کے مستقبل کی خاطر انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ پٹیالہ چھوڑ کر امرتسر چلی جائیں گی ۔ اس طرح سال 2002 میں وہ امرتسر آ گئیں اور قریب100 سے زیادہ بچّوں کو لے کر کرائے کی دو منزلہ عمارت میں رہنے لگیں ، جہاں نچلی منزل پر لڑکیاں رہتی تھیں اور اوپری منزل پر لڑکے رہتے تھے ۔ جبکہ بچّوں کے لئے کھانا گھر کے باہر ایک خیمہ لگاكر بنایا جاتا تھا ۔ اِس کے علاوہ سندیپ کور کے خاندان والے بھی ان کی مدد کرتے تھے ۔ اس کے باوجود سندیپ کور اور ان کے بچّوں کو یہاں بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ۔ تب انہوں نے فیصلہ کیا کہ اگر ان کے پاس خود اپنی کوئی جگہ ہو تو ان کی پریشانیاں کچھ کم ہو سکتی ہیں ۔ اس فیصلے کے بعد انہوں نے امرتسر کے قریب سلطان ونڈ میں ایک جگہ لی اور اب وہ یہیں آکر اپنے بچّوں کے ساتھ رہ رہی ہیں ۔ یتیم بچّوں کو اپنے ساتھ رکھنے اور ان کی تعلیم کا خرچ اٹھانے والی سندیپ کور بڑے فخر سے کہتی ہیں کہ

’’میرے کئی بچّے بی ٹیک، ایل ایل بی، ایم بی اے، ایم سی اے کر چکے ہیں، ایک بچّے کا سلیكشن تو مرچنٹ نیوی کے لئے بھی ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ میری ایک لڑکی سی اے کی پڑھائی بھی کر رہی ہے ۔‘‘

1996 میں بنے ’ 'بھائی دھرم سنگھ خالصہ چیریٹبل ٹرسٹ ‘ کے تحت سندیپ کور آج 98 یتیم لڑکیوں کی دیکھ بھال اور پڑھائی لکھائی کا ذمہ اٹھا رہی ہیں ۔ اس کے علاوہ بہت سی لڑکیاں ایسی بھی ہیں جو ہوسٹل میں رہتی ہیں اور یہ ان کا خرچ اٹھاتی ہیں ۔ اتنا ہی نہیں، سندیپ کور کا یہ ٹرسٹ لڑکیوں کی شادی بھی کراتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں پلی بڑھی بہت سی لڑکیاں آج آسٹریلیا، امریکہ، کینیڈا، اٹلی میں اپنے خاندان کے ساتھ آباد ہوگئی ہیں ۔ وہ بتاتی ہیں کہ آج ان کے کئی بچّے جو کسی مقام پر پہنچ گئے ہیں ،ان سے ملنے آتے ہیں، ٹرسٹ کی مدد کرتے ہیں۔ یہاں رہنے والی لڑکیاں صرف پنجاب کی ہی نہیں ہیں بلکہ ہریانہ اور یوپی کے بھی بہت سے بچّوں کی ذمہ داری سندیپ کور اٹھا رہی ہیں ۔ وہ ان یتیم بچّوں کو اچھّے آداب و اخلاق اور زندگی میں نظم و ضبط کی اہمیت کا سبق کتنی سنجیدگی سے پڑھا رہی ہیں اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے پاس ایسے کئی والدین آتے ہیں جو کہتے ہیں کہ وہ ان سے فیس کے طور پر پیسے لے لیں اور ان کے بچّوں کو اپنے پاس رکھ لیں تاکہ وہ اپنی زندگی میں کسی قابل بن سکیں ۔

ویب سائٹ : www.bdskhalsatrust.com

قلمکار : ہریش بِشٹ

مترجم : انور مِرزا