ہر بچّے کے لئے بہتر اعلیٰ تعلیم کا خواب ...

0

میكینكل انجینئر نے کیاغریب بچّوں کو پڑھانے کا عزم...
غریب خاندان سے اٹھ کر غریب بچّوں کے لئے کام کر رہے ہیں جئے مشرا ...
آج 360 سے زیادہ بچّوں کو تعلیم دے رہے ہیں ...


جئے مشرا نے زندگی کے ابتدائی 16 سال انتہائی غربت میں گزارے۔ اِس دوران وہ جھونپڑوں میں رہے ۔ جئے کا خاندان اتنا غریب تھا کہ زندگی کی بنیادی ضروریات جیسے کھانا پینا، کپڑے، اور سر پر ایک چھت تک مناسب طریقے سے انہیں نصیب نہیں ہو پا رہی تھی۔ اِس کے باوجود جئےکے والد کی خواہش تھی کہ وہ اپنےبچّوں کو اچھی تعلیم دیں ۔ جئے اپنے والد کو اپنا’ رول ماڈل ‘مانتے ہیں ۔ اُن کے والد نے ہمیشہ جئے کی تعلیم پر زور دیا ۔ سخت غربت کے باوجود انہوں نے جئے کےذہن میں ہمیشہ یہ اُمید جگائے رکھی کہ اپنے اعمال پر یقین اور اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز رکھو ۔ انہوں نے ہمیشہ جئے کو صحیح راستہ دکھانے کا کام کیا ۔ جئے کے والد نے ’ پي ڈبلوڈي‘ میں ایک چپراسی کے طور پرملازمت سے اپنے کیریئر کی شروعات کی اور اپنی محنت کے بل بوتے پر وہ دیہی بینک کے منیجر کے عہدے تک پہنچے ۔ انہوں نے جئے کو ہمیشہ ایک ہی نصیحت کی کہ تعلیم ہی واحد ایسا ذریعہ ہے جو ایک انسان کی زندگی بدل سکتا ہے ، اور یہ بات جئے کے ذہن میں ہمیشہ کے لئے بیٹھ گئی۔

جئے نے ’ ٹيچ فار انڈیا‘(Teach for India) کلب میں بطور ٹیچر پڑھانا شروع کیا ۔ اُتر پردیش کے جون پور میں جئے کی پیدا ئش ہوئی اور انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بھی وہیں حاصل کی ۔ پیسے کی تنگی بھی جھیلی، لیکن وہ کمزور نہیں پڑے، ڈٹے رہے ۔ جئے نے میكینكل انجینئرنگ 89 فیصد نمبروں سے پاس کی اور کالج میں تیسرے مقام پر رہے ۔ اتنے اچھّے نمبر حاصل کرنے کے باوجود جئے کو نوکری نہیں ملی، کیونکہ 10 ویں کلاس میں اُن کےنمبر اچھّے نہیں تھے ۔

ایک عام آدمی کے لئے انجینئرنگ کرنے کے بعد بھی ملازمت نہ مل پانا انتہائی تکلیف دہ تجربہ ہو سکتا ہے ، لیکن جئے نے اِسے مثبت طور پر لیا ۔ زندگی کا ہر چیلنج انہیں ایک راہ دکھاتا ہے ۔

جئے ہمیشہ سے اپنے وطن اور ہم وطنوں کے لئے کچھ کرنا چاہتے تھے ۔ وہ لوگوں کے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہتے تھے اور یہی اُن کی مثبت سوچ کا سبب بھی رہا۔

جئےجب انجینئرنگ کے آخری سال میں تھے تب انہیں ’ ٹيچ فار انڈیا‘ کی بابت پتہ چلا ۔ جب جئے کو اِس ’ ویژن‘ (نظریے)کا علم ہواتو یہ انہیں بہت اچھا لگا ۔ اِس مشن کا ویژن یہ تھا کہ ایک دن ہندوستان کے تمام بچّےبہترین اور اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گے ۔ جئے اُس وقت ایک ریسرچ پروجیکٹ ’کوالٹی آف ہائر ایجوکیشن اِن انڈیا‘ پر کام کر رہے تھے۔ جئے نے جب اس موضوع پر سوچا تو محسوس کیا کہ یہ ممکن ہے لیکن اِس کے لئے خود اعتمادی اور عزم ضروری ہے ۔ عین اُسی وقت جئے نے ’ 'ٹيچ فار انڈیا‘ وژن کے لئے اپنی طرف سے تعاون کرنے کا فیصلہ کیا۔

جئے بتاتے ہیں کہ وہ اِس پروجیکٹ میں شامل ہو کر کچھ کرنا چاہتے تھے تو اس کی وجہ صرف یہی نہیں تھی کہ وہ خود غریب تھے، بلکہ وہ بھی یہ چاہتے تھے کہ ملک کا ہر بچّہ بہترین تعلیم حاصل کرے۔

اس طرح سال 2013 میں جئے ’ ٹيچ فار انڈیا‘ سے وابستہ ہو گئے ۔ جئے تسلیم کرتے ہیں کہ بہت جلد ایک دن ایسا آئے گا جب ہر بچّہ بہت اچھّی تعلیم حاصل کرے گا ۔’ ٹيچ فار انڈیا‘ پروجیکٹ سے منسلک ہو کرجئے بہت فخر محسوس کر رہے ہیں ۔ وہ اِس سمت میں زیادہ سے زیادہ کام کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ مِشن کامیاب ہو ۔ وہ اس پروجیکٹ میں بطور پروجیکٹ منیجر کام کر رہے ہیں ۔ جئے کے اِس کام سے اُن کے والد بہت خوش ہیں، جو کہ ہمیشہ تعلیم کی اہمیت پر زور دیا کرتے تھے۔

جئے مانتے ہیں کہ انہوں نے کسی بڑی کمپنی میں جاب کرنے کو ترجیح نہ دے کر غریب بچّوں کے لئے کام کرنے کا عزم کیا ، اور یہ بلاشبہ اُن کادرُست فیصلہ تھا ۔ ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی ملازمت بینک بیلنس تو بڑھا سکتی تھی، بہترین طرزِ زندگی بھی دے سکتی تھی لیکن جو خوشی اور تسکین جئے کو یہاں کام کرکے مل رہی ہے ، اُس پر وہ حد درجہ فخر محسوس کرتے ہیں ۔

جئے جب وہ چھوٹے چھوٹے بچّوں سے ملتے ہیں، انہیں پڑھاتے ہیں ، اُن سے باتیں کرتے ہیں ، اُن کا لنچ شیئر کرتے ہیں، تو یہ اُن کے لئے انتہائی مسرّت کے خوشگوار لمحات ہوتے ہیں اور اِن لمحات کا جئے خوب لُطف اٹھاتے ہیں ۔

جئے کا خیال ہے کہ ہر بچّہ مختلف اور منفرد ہوتا ہے ۔ ہر بچّےمیں کچھ نہ کچھ خاصیت ہوتی ہے، لیکن جب وہ ساتھ مل بیٹھتے ہیں تو خوبصورت سی، ایک الگ ہی دنیا بن جاتی ہے ۔ جئے نے اپنی فیلو شپ 32 بچّوں کے ساتھ شروع کی اور آج 360 سے زیادہ بچّے اُن کے ساتھ ہیں ۔ اِن بچّوں کو جئے اپنا اچھا دوست بھی مانتے ہیں ۔ یہ بچّے بہت غریب ہیں ۔ اِن بچّوں کو زندگی کی بنیادی چیزیں حاصل کرنا بھی مشکل ہوتا ہے ۔ اِن میں سے زیادہ تر بچّے ’مِڈ ڈے میل (Mid day meal)کے بھروسے رہتے ہیں ۔ کئی بار چھوٹے چھوٹے بچّے اُس کھانے کو پیک کرکے اپنے گھر کے لئے بھی لے جاتے ہیں کیونکہ اُن کے گھر میں کھانا نہیں ہوتا۔ اِن بچّوں کو محبت اور دیکھ بھال بھی اتنی نہیں ملتی جتنی کہ انہیں مِلنی چاہئے ۔ چونکہ اُن کے والدین گھر چلانے کے لئے دن رات کام میں لگے رہتے ہیں اس لئے اُن کے پاس بچّوں کے ساتھ وقت گزارنے کی فرصت ہی نہیں ہے ۔ نہ ہی وہ اِس بات کو محسوس کرتے ہیں کہ بچّوں کے ساتھ وقت گزارنا کتنا ضروری ہے ۔

بچّوں میں یہ بڑی خصوصیت ہوتی ہے کہ بچّے اچھی چیزوں سے بھی بہت جلد متاثر ہو جاتے ہیں اور بُری چیزوں سے بھی۔ اِس لئےہمارا یہ فرض ہے کہ ہم بچّوں کے سامنے زیادہ سے زیادہ اچھی مثالیں پیش کریں ۔

یہ بچّے جئے کے ساتھ اپنی خوشی اور اپنےغم شیئر کرتے ہیں ۔ اپنے روزمرّہ کے معمول سے لے کر اپنے دوستوں اور اپنے گھر کے مسائل بھی شیئر کرتے ہیں، جس کا سبب یہ ہے کہ جئے صرف اُن کے ٹیچر ہی نہیں بلکہ اُن کے دوست بن کر اُن کی باتیں سنتے ہیں اور اُن کی مدد کرتے ہیں ۔ جئے اِس بات کا بھی خیال رکھتے ہیں کہ یہاں بچّوں کی ذہنی نشو نما بھی ہو ، اُن میں سمجھ اور شعور پیدا ہو۔

مستقبل میں جئے اپنے گاؤں میں ایک اسکول کھولنا چاہتے ہیں ۔ ساتھ ہی جئے سیاست میں بھی جانا چاہتے ہیں تاکہ وہ بچّوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کر سکیں ۔ فیلو شِپ کے دوران جئے نے ریاست مہاراشٹر کے’پونے‘ شہرمیں ' ’پریورتن‘ (تبدیلی)نامی ایک اِدارے کی شروعات کی ۔ یہ اِدارہ بچّوں کے لئے کام کرتا ہے ۔’پریورتن‘ کے تحت وہ ہر ماہ ایک کانفرنس کرتے ہیں جس کا نام انہوں نے ’سمواد‘ (مکالمہ)رکھا ہے، جس میں وہ بچّوں کے والدین سے بات چیت کرتے ہیں ۔ فیلو شِپ کے دوران انہوں نے پانچ ’سمواد‘ ایونٹس منعقد کئے جن میں بچّوں سے متعلق مختلف موضوعات پر بحث کی گئی۔

قلمکار : آشوتوس کھنتوال

مترجم : انور مِرزا

Writer : Ashutosh khantwal

Translation by : Anwar Mirza