بچپن میں دھونی کے ساتھ کھیلنے والی ۔۔۔ آج کی کامیاب کاروباری 

0

خاتون تاجر ہنسا سنہا کی کہانی بہت دلچسپ حقائق سے بھری ہے۔ اس کو ہندوستانی خواتین کی کچھ خاص کہانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مشہور ہندوستانی کرکٹر مہندر سنگھ دھونی کے ساتھ پڑھ چکی ہنسا، کالج کے دنوں میں پھیپھڑوں کی بیماری کی وجہ سے موت کے کے قریب پہنچ چکی تھی۔ جب دوبارا زندگی پائی تو انہوں نے دنیا جہان کو جیتنے کے لئے پوری طاقت لگا دی۔ اپنی کمپنی جینیسس شروع کرنے کے لئے اپنے حریف تک سے ہاتھ ملانے سے گریز نہیں کیا ۔ ایک بیٹی، بیوی یا ماں کے طور پر انہوں نے زندگی کو اپنی شرائط پر جیا ہے۔

ہنسا سنہا کا خیال ہے کہ ''ہر کامیاب عورت، چاہے وہ ایک رہنما، خاتون خانہ دار، سماجی کارکن، اداکارے کی سربراہ، ناول نگار، استاد یا کاروباری یا کچھ اور ہو، مجھے ان ک سب سے حوصلہ ملتا ہے، کیونکہ ان کی کامیابی کے پیچھے ایک خاص کہانی پوشیدہ ہوتی ہے۔ ''

حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا، مشکل کاموں کو پورا کرنے کے چیلنج کو قبول کرنا اور کسی بھی شعبےمیں بہترکام کرنے کے لئے حالات کو بدلنے کی صلاحیت انہیں اوروں سے مختلف بناتی ہے۔ زندگی میں آگے بڑھنے میں مدد کرتی ہے۔

1980 میں بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں پیدا ہونے والی ہنسا کا بچپن دوسرے بچوں کی طرح ہی گزرا۔ ان کا بچپن بھی اپنے بھائیوں بہنوں کے ساتھ کھانے کی چیزوں میں بڑا حصے پر ہاتھ مارنا، معمولی جھگڑوں میں شدت کے ساتھ حصہ لینا، والد کی موٹر سائیکل پر آگے بیٹھنے کی ضد کرنا، جیسی شرارتیں انہوں نے خوب کیں۔

پٹنہ کے نوٹرے ڈیم اکیڈمی سے پرائمری تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ بینک میں ملازم اپنے والد کے تبادلے کی وجہ سے ان کے ساتھ رانچی آ گئیں اور سینٹ فرانسس سے اپنی ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد انہوں نے انٹر کی تعلیم کے لیے رانچی کے ہی ڈی اے وی شياملی کالج میں داخلہ لیا۔ اسی دوران باسكیٹبال کھیل میں ان کی دلچسپی بڑھی اور انہوں نے علاقائی اور قومی سطح پر اس کھیل کی نمائندگی کی۔

ایک وہ دور بھی تھا جب ہنسا، مہندر سنگھ دھونی کے ساتھ اسکول کی کھیل کنوینر بھی رہیں۔ اس وقت کو یاد کرتے ہوئے وہ خوشی سے کہتی ہیں، ''مجھے اب بھی رانچی کے میكان اسٹیڈیم میں ہوا اسکول کا سپورٹس ڈے یاد ہے جہاں میں نے 'ماہی' (ایم ایس دھونی) کے ساتھ مارچ کرنے کے علاوہ ایک ریلے دوڑ میں بھی حصہ لیا تھا۔ ''

اس کے بعد وہ آگے کی تعلیم کے لئے پٹنہ آ گئیں جہاں انہوں نے پٹنہ اومنس کالج سے اشتہارات، سیلز پروموشن اور سیلز مینجمنٹ میں گریجویشن کی تعلیم مکمل کی۔ انہی دنوں انہیں پھیپھڑوں کی بیماری لاحق ہوئی۔ یہ عارضہ بڑا سخت اور بہت تکلیفدہ رہا۔ '' پھیپھڑوں سے متاثر پیلے مائع کو نکالنے کے لئے میری ہڈیوں کو کاٹ کر ایک پائپ ڈالی گئی جو بہت تکلیفدہ تھا۔ میں دو بار موت کے منہ سے واپس آنے میں کامیاب رہی۔ ایک بار تو اپرےشن تھیٹر میں اور دوسری بار اس وقت جب دو اپرےشن کے بعد دوبارہ میری بیماری پلٹ کر واپس آ گئی۔ ''

ان کے والدین اور رشتہ داروں نے ان کے ٹھیک ہونے کی امید ہی چھوڑ دی تھی۔ ہنسا کہتی ہیں، '' اس وقت میرے دوستوں اور رشتہ داروں نےمیری ہمت افزائی کی۔ جس کے نتیجےمیں زندگی کے تئیں میرا ایقان بڑھتا گیا۔ مجھے رشتوں اور تعلقات کی اہمیت کا اندازہ ہوا، بلکہ میں ان کی ایک نئی تعریف سے واقف ہوئی۔ اس وقت میں نے فیصلہ کیا کہ میں رشتوں کو نبھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑوگی چاہے وہ دل کے قریب کے ہوں یا خون کے ہوں ۔ میری بیماری نے مجھے زندگی میں ہمیشہ غیر متوقع توقعات اور سامنے آنے والی رکاوٹوں کا کھل کر سامنا کرنے کا ایک واضح پیغام دیا۔ ''

انہیں اپنی اس بیماری پر قابو پانے میں تقریبا ایک سال کا وقت لگا اور ٹھیک ہونے کے بعد انہوں نے اپنی گریجویشن کی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد انہوں نے کولکتہ کے بھارتیہ ودیا بھون سے 2004 میں ماس کمیونیکیشن میں ڈگری حاصل کی اور اسی سال شاپرس سٹاپ میں نوکری میل گئی۔ اس کے ایک سال بعد ہی وہ ایک اور کمپنی ماپھوی (اب ریڈسٹیڈ) کے ساتھ کام کیا، لیکن جلد ہی شادی کے بندھن میں بندھ گئیں اور خاندانی ذمہ داریوں کی وجہ سے انہوں نے کچھ عرسےکے لیے نوکری چھوڑ دی۔

ہنسا نے پورے ہندوستان کے صارفین کے معملات سنبھالنے کی زمہ داری سنبھالی ہے۔ یونیسیف اور بہار کے محکمہ صحت اور تعلیم جیسے بڑے ادارں کے اکاؤنٹس کے انتظام کا کام بھی کامیابی سے کیاہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مختلف ملازمتوں پر بھرتی اور تربیت کے کاموں کو پورا کرنے کا تجربہ رکھتی ہیں۔ مختلف ٹینڈر دستاویزات کی تیاری کے علاوہ اپنے زمہآیا ہرکام کا کامیاب کارکردگی کے ساتھ کیا اوراچھی آمدنی بھی حاصل کی۔

ہنسا کا کہنا ہے کہ، '' میں نے اپنے کام کومقررہ وقت پر پورا کرنے کے لئے ہفتہ اور اتوار کے علاوہ دیگر چھٹیوں کے دنوں میں بھی جی توڑ کام کیا ہے۔ ''

جنوری 2011 میں انہوں نے ماپھوی کی مسابقتی پریمل مدھوپ کمپنی کے ساتھ ہاتھ ملایا اور جینیسس كنسلٹنگ پرائیویٹ لمٹیڈ کی بنیاد رکھی۔ '' در اصل میری کمپنی اور پریمل، دونوں کمپنیوں کو ایک سرکاری منصوبے کا کام تقسیم کیا گیا تھا اور ہم دونوں ہی اس منصوبے پر کام کر رہے تھے۔ میری کمپنی کے شاخ کاعہددار اس درمیان میں ہی کام چھوڑ کر چلا گیا اور اپنے ہیڈ آفس سے بھی کسی بھی قسم کی مدد نہیں مل رہی تھی۔ اسی وقت میں نے اس کمپنی کو الوداع کہنے کا من بنا لیا اور اپنا کاروبار شروع کرنے کے لئے پریمل کے ساتھ ہاتھ ملایا۔''

سینئر آئی اے ایس راجیش بھوشن، جو اب دیہی ترقی کی وزارت میں جوائنٹ سکریٹری کے عہدے پر کام کر رہے ہیں، نے انہیں اپنے طور پر کام کرنے کی ترغیب دی۔ راجیش نے بغیراپنے دفتر کی حمایت کے ان کے کام کی تعریف کی اور اپنی کمپنی بنانے کے لئے حوصلہ افزائی کی۔ ہنسا بتاتی ہیں، '' انہوں نے ہمیں اپنی کمپنی بنا کر بہار میں چل رہے منصوبوں میں اپنی قسمت آزمانے کی رائے دی اور سرمایہ کاروں کی حمایت سے بہار میں ہی اپنے کام کو جاری رکھنے کے لئے حوصلہ افزائی کی۔ دو سال بعد ہی ہم نے جینیسس کے پرچم تلے ایک کمپنی کریٹیو ایمپرنٹس ایل ایل پی نامی کمپنی کی بنیاد ڑالی۔''

اتنے عرسے بعد بھی پریمل کے ساتھ ان کے تعلقات میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ وہ ان ساتھی ہونے کے علاوہ ایک اچھے خاندانی دوست بھی ہیں۔ وہ دونوں کام کی لئے کئی بار ایک دوسرے سے متفق ضرور ہوتے ہیں لیکن صارفین کا اطمینان ہی ان کیلئے سب سے زیادہ ہے۔

جینیسس کے ابتدائی دنوں میں یہ لوگ اقتصادی طور پر مضبوط نہیں تھے اور ان کے پاس کام کرنے کے لئے ایک ٹیم کو رکھنے یا دفتر کے بنیادی ڈھانچے کو تیار کرنے کے لئے پیسہ نہیں تھا۔ ابتدائی جدوجہد کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے ہنسا بتاتی ہیں، '' میں نے اپنے گھر کی چھت پر بنے ایک کمرے سے کام کرنا شروع کیا اور اسی کمرے کو ایک دفتر کی شکل دے دی اور ہم لوگ کام کو پورا کرنے کے لیےاپنےلیپٹاپ اور موبائل فون کا استعمال کرتے تھے۔ اس کے علاوہ دو شخص ہمارے ساتھ آزادانہ فری لانس کے طور پر کام کرتے۔ ایسے میں ہماری خدمات لینے کو تیار صارفین ہمارے لئے کسی مسیحہ سے کم نہیں تھے۔ ''

فی الحال ان کے پاس 15 ارکان کی ایک ٹیم ہے جو بہار کے علاوہ ملک بھر میں بہت سے منصوبوں کو کامیابی سے انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے اب تک زیادہ تر سرکاری اور سماجی اداروں کے لئے کام کرنے کے علاوہ کچھ كارپوریٹ اور عوامی شعبوں کے کام بھی کامیابی کام سے کئے ہیں۔ جینیسس گروپ نے 2014-15 کے مالی سال میں 2 کروڑ روپے کا کاروبار کرنے میں کامیابی حاصل ہے۔ ہنسا فخر سے کہتی ہیں، '' راستے میں آنے والی تمام رکاوٹوں کے باوجود ہمارے منصوبوں پر عملدرآمد اور تقسیم کے گواہ رہے بہار کے عہددار راہل سنگھ ہمیں 'جینیئس' کے نام سے پکارتے ہیں۔ ''

ایک خاتون کاروباری کے طور پر ان کا سب سے بڑا چیلنج 'ایک عورت ہونے کے فوائد نہیں لینا' رہا۔ ان کی خاندان نے ان کا اس وقت بھی مکمل ہمت افزائی کی جب کئی بار جب انہیں آدھی رات تک بھی کام کرنا پڑتا تھا یا کام کے سلسلے میں کئی کئی دنوں تک گھر سے باہر رہنا پڑتا تھا۔ ہنسا بتاتی ہیں، '' چونکہ میرے شوہر پٹنہ کے باہر تعینات ہیں اس لئے میں اپنی بیٹی کو اپنے ماں باپ کے پاس چھوڑ کر جاتی تھی۔ ایک کاروباری کے طور پر میرے پاس ویک اینڈ کی سہولت نہیں ہے اور مجھے چوبیس گھنٹے اپنا کام کرنا پڑتا ہے۔ اپنی ذاتی زندگی کا سامنا کرنا میرے لئے ایک چیلنج ہے اور میں اپنی سات سالہ بیٹی کو پورا وقت نہیں دے پاتی ہوں۔ ''

ہنسا اپنے شوہر اور والدین کی حوصلہ افزائی اور سے کافی خوش ہیں کیونکہ اسی کی وجہ سے وہ اپنی منزل پا سکی ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ یہی ہمت اور حوصلہ افزائی ان کی سب سے بڑی دولت ہے۔ مستقبل میں وہ اپنے انٹرپرائز کے لئے مزید فنڈز کا بندوبست کر اسے اور بلندیوں تک لے جانا چاہتی ہیں۔ آسمان کامیابی کی حد ہے اور ہنسا اس سے کم میں سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔