معصوم بٹیا کے ساتھ رات کو گشت کرنے والی خاتون پولیس افسر کی کہانی

0

پولیس سروس خواتین کے لئےکچھ مشکل ضرور مانی جاتی ہےاور خصوصاً کرائم برانچ پر تو مردوں کا ہی غلبہ رہتا آیا ہے۔ کسی ریاست کی دارالحکومت کی کرائم برانچ کا سربراہ ہونا بڑا چیلنج بھرا کام ہے۔ ایسے میں چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور کی کرائم برانچ کو سنبھال رہی ہیں غیر جانباز خاتون افسر ارچنا جھا۔

ایک ٹیچر کے گھر پیدا ہوئیں چار بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹی ارچنا پولیس کے پس منظر والے خاندان سے نہیں آتیں۔ نہ ارچنا نے کبھی سوچا تھا کہ پولیس میں جائیں گی۔ بس اتنی خواہش تھی کہ زندگی میں آگے بڑھنا ہے اور کچھ کر کے دکھانا ہے۔ اسی خواہش کے سبب وہ چھتیس گڑھ پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں شامل ہوئیں اور انتخاب کے بعد انہیں پولیس سروس مختص ہوئی۔ ارچنا نے 2007 میں پولیس سروس جوائن کر اس چیلنج کو قبول کیا۔ شاید یہ طاقت عورت میں ہی ہوتی ہے کہ وہ سخت سے سخت چیلنج نرمی سے قبول کر لیتی ہے۔

2007 میں ارچنا کی زندگی میں دو بڑی تبدیلیاں آئے۔ پہلے کہ ان کا منتخب ریاستی پولیس سروس کے لئے ہو گیا اور دوسرا کہ ان کی شادی ہو گئی۔ پولس کی سخت ٹریننگ اور ازدواجی زندگی کے درمیان تال میل کا بڑے چیلنج کو ارچنا نے بخوبی نبھایا۔ ارچنا کے خسر انڈین پولیس سروس کے ریٹائرڈ افسر ہیں، انہوں نے اور ان کی ساس نے اس میں ان کا ساتھ دیا۔ ارچنا کے شوہر نمیش چھتیس گڑھ ہائی کورٹ، بلاس پور میں ایڈووکیٹ ہے۔

ارچنا بتاتی ہیں -

"شادی کے بعد جب بیٹی انوتا مون ان کی زندگی میں آئی تو پولیس کی دن رات کی ڈیوٹی، بچی کی دیکھ بھال اور سسرال والوں کی توقعات پر کھرا اترنے کی تہری ذمہ داری آئی۔ ساس خسر اور شوہر کے بھرپور تعاون کی وجہ سے ہی وہ یہ ساری ذمہ داریاں بخوبی ادا کر رہی ہیں۔ لیکن جب بٹیا کافی چھوٹی تھی تو رات کی گشت میں بیٹی کو گاڑی میں ساتھ لے کر ڈیوٹی کرنی پڑتی تھی "

انتخابات کے دوران سخت ڈیوٹی، آئی ی ایل میچ کے دوران سیکورٹی کی ذمہ داری اور اب کرائم برانچ جیسے جرائم کی تفتیش سے وابستہ برانچ کا انتہائی مشکل اور مردوں کی اجارہ داری والا ذمہ ارچنا جھا بخوبی ادا کر رہی ہیں۔ اپنے مرد ساتھی بھی ان کی لگن، محنت اور طرز عمل کے قائل ہیں۔

ارچنا کا خیال ہے کہ خواتین کو خدا نے اتنی طاقت دی ہے کہ وہ کسی بھی مسئلہ پر گھبراتی نہیں۔ صبر کے ساتھ مشکلات کا سامنا کرنا ہی عورت کی خاصیت ہوتی ہے۔ ارچنا کہتی ہیں

"کسی بھی لڑکی کو گھر اور باہر کی ذمہ داری ادا کرتے وقت یہ دھیان رکھنا چاہئے کہ اس کاحرمت کھو نہ جائے۔ کیریئر کے چکر میں خاندان اور ماں بننے کی اپنی خاص نعمت کو کبھی بھولنا نہیں چاہئے"

اب بیٹی بڑی ہو رہی ہے تو کافی وقت دادا دادی کے ساتھ گزارنے لگی ہے لیکن ہائی کورٹ بلاس پور میں ہونے کی وجہ سے ان کے شوہر صرف اختتام ہفتہ پر ہی رائے پور آ پاتے ہیں اور پولیس کی نوکری میں ایسا ضروری نہیں ہوتا کہ ہفتے کے آخر میں آپ خالی رہیں۔ لیکن ارچنا اس میں بھی سوجھ بوجھ سے ہم آہنگی بٹھا لیتی ہیں۔

ابھی کچھ ماہ پہلے ہی کلبندی ضلع میں ہوئے ایک اغوا سانحہ کو ارچنا جھا کی کرائم برانچ ٹیم نے 24 گھنٹے میں حل لیا تھا، جس کے لئے چھتيس گڑھ کے گورنر اور وزیر اعلی نے انہیں نوازا ہے۔

ارچنا کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو اپنا کیریئر منتخب کرنے کی آزادی دینگی، اگر وہ پولیس پر جانا چاہے تو روکیںگی نہیں۔

.................................................................. قلمکار روی ورما۔۔۔مترجم زلیخا نظیر

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج (FACEBOOK ) پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ کہانیاں بھی ضرور پڑھیں۔

نایاب دستکاری کے نمونوں کوزندہ رکھنے والی ثریا آپا

روایتی ماحول سے آئی رضیہ نے لکھی کامیابی کی نئی کہانی