منافع بخش ہے،کسانوں کا فیس بُک’ فارمیلی‘ ...

0

اپنا ذاتی انٹرپرائز ’فارمیلی‘ شروع کرنے کےسلسلے میں حتمی فیصلہ کرنے اور اس کےآغاز سے قبل، ’کارتک نٹراجن‘ نے اپنے کاروباری رجحان کے زیرِ اثر متعدد’اسٹارٹپ‘ اور دیگر کئی بزنس میں قسمت آزمائی کی تھی ۔ وہ کہتے ہیں، ’’ میَں نے اپنا کیریئر نیٹ ورکنگ اور ٹیلی کوم کے شعبےمیں شروع کیا تھا ۔ میَں 90 کی دہائی کے آخری برسوں میں ’جونیپر‘ (Juniper) نیٹ ورکس کا بانی اور کنٹری منیجر تھا اور 18 ماہ کے اندر 4 کروڑ امریکی ڈالر کی آمدنی حاصل کرنے میں کامیاب رہا تھا ۔ اُس کے بعد میَں نے ہندوستانی مارکیٹ میں نیٹ ورک کے شعبے میں ابتدائی سے لے کر درمیانی مراحل تک، مغربی کمپنیوں کی مدد کرنے والی ایک کمپنی قائم کی ۔ ’آئی پي ٹیلیفونی‘ کے میدان میں یہ دونوں تعلق، جوائنٹ وینچر ’اسنوم ‘ اور’ ویگاسٹريم‘ (Snom and Vegastream) میں بدل گئےجو کہ آج بھی کام کر رہے ہیں ۔ میَں’ اسنوم‘ کے ساتھ مشترکہ کاروبارمیں تھا جہاں ڈاکٹر’ کرسٹین ا سٹریڈك‘ کے ساتھ میری شراکت اور دوستی مزید گہری ہوئی جس کا فی الحال ۱۴ ؍واں سال چل رہا ہے ۔ اب وہ میرے ساتھ ’فارمیلی‘ کے سی ٹی او اور شریک بانی کے بطور کام کرتے ہیں ۔‘‘

کارپوریٹ فیلڈ میں اپنی کامیابی کو دہراتے رہنا ان کے لئے پہلی اور آسان پسند ہوتا، لیکن اپنے ایک ذاتی ’اسٹارٹپ‘ کے بیج ان کے دماغ میں بچپن میں ہی پڑ گئے تھے اور ’اسٹارٹپ ‘ شروع نہ کرنے کاکبھی کوئی جواز ہی نہیں تھا ۔

وہ کہتے ہیں، ’’ میں چائے باگان کے خاندان سے تعلق رکھتا ہوں ۔ میرے دادا چائے باگان کے مالک اور چاول کے تاجر تھے اور میرے والد کافی باگان کے مالک ۔ میں انہی باغات کے درمیان پلابڑھا اور دل سے ہمیشہ سر سبز و شاداب تھا ۔ یہی سبب ہے کہ تقریباً تین سال قبل میَں نے کرناٹک میں ’سکلیش پور‘کے قریب’ کافی‘ کے باگان میں سرمایہ کاری کی ۔ یہ میرے لئے اپنی جڑوں اور بنیاد کی طرف واپسی جیسا ہی تھا کیونکہ یہ Organic کاشتکاری کے بارے میں تھا جو کہ فیشن بنتا جا رہا تھا اور اس سے پیسہ بھی خوب بننے والا تھا ۔‘‘

باگان میں سرمایہ کاری کرنے کے بعد’ کارتک‘ اس کا’ آرگینک‘ سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کی کوشش میں لگ گئے۔ لیکن ’فارمیلی‘ کس طرح وجود میں آیا، یہ خالص طور پر حُسنِ اتفاق کی کہانی ہے۔’’ یہ علم ہونے پر، کہ مقامی اسکول کو مرمت کی ضرورت ہے، ہم لوگ مرمت کے لئے رقم دینے پرمتفق ہوئے، گاؤں کے مندر کی تعمیر میں تعاون کیا وغیرہ وغیرہ ۔

اس سے کمیونٹی میں شوق و تجسس کے سبب طرح طرح کی خبریں پھیليں اورغالباً مقامی لوگوں میں شک و شبہات پیدا ہوئے کہ 'بنگلور کا یہ ’آئی ٹی‘ کا آدمی یہاں گاؤں میں کیا کر رہا ہے ۔ کئی ایک مقامی کسان مجھ سے ملنے کے لئے آئے ۔ اُن لوگوں نے کہا، ’’ اچھی بات ہے کہ آپ عوامی فلاح کا کام کر رہے ہیں، لیکن’چیریٹی‘ تو ایک بار کا کام ہے ۔ ہم لوگ’ آئی ٹی‘ کےمتعلق کافی باتیں سنتے رہتے ہیں اور سنتے ہیں کہ’آئی ٹی‘ کے لوگوں کو بنگلور میں کافی تنخواہ ملتی ہے ۔ لیکن اس نے ہم لوگوں کی زندگی بدلنے کے سلسلے میں کچھ نہیں کیا ۔ کیا کوئی ذریعہ ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ہم لوگوں کی بھی مدد کرے؟‘‘

اُن لوگوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اس موسم میں’ ادرک ‘لگایا ہے لیکن اس کو نہیں نکالنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مجھے یہ جان کر شاک لگا کہ 2-3 ایکڑ کی جوت والے چھوٹے کسان ’ادرک ‘کی فصل کیوں نہیں نکالیں گے؟ مجھے سمجھایا گیا کہ پیداوار کی زیادتی کے سبب ادرک کی قیمت اس قدر گر گئی ہے کہ اسے کھیتوں سے نکالنے کا بھی خرچ نہیں نکلنے والا ہے! میَں نے سوچا کہ یہ کیا کوئی واحد معاملہ ہے یا ہر جگہ کسانوں کے ساتھ وسیع پیمانے پر ایسا ہی ہوتا ہے ؟ میَں نے کچھ تحقیق کی اور پتہ چلا کہ آج ہمارے کھیتوں سے 30 فیصد سے 50 فیصد کھانے کی اشیاء عوام کی پلیٹ تک کبھی پہنچ ہی نہیں پاتی ہیں! اورحیرت انگیز طور پر، اس معاملے میں کوئی کچھ نہیں کر رہا تھا۔

یہ بہت بڑی بربادی تھی ۔ یہاں ہم لوگ کسانوں کی خود کشی کے بارے میں سن رہے ہیں، اور لوگ بھوک سے مر رہے ہیں ۔ میں نے اس مسئلہ کی وجہ جاننے کے لئے وقت نکالنے، اور حل ڈھونڈنے کی کوشش کرنے کا فیصلہ کیا ۔ میں نے اسکول کے دنوں کے اپنے ساتھی’ بالامورگن‘ کو ساتھ لیا جو گزشتہ 24 سالوں سے کاشت کاری کر رہے ہیں اور ’فارمیلی‘کے شریک بانی ہیں ۔ ہم لوگ کسانوں کا انٹرویو لینے لگے ۔ کارتک بتاتے ہیں،’’ ہمارے نتائج ’راز فاش‘ کرنے کے مترادف تھے ‘‘ ۔

ان کی تحقیق سے پتہ چلا کہ دراصل استحصال، پیداوار اور تقسیم کے انتہائی ناقص نظام کاہی حصّہ ہے، جس میں مواصلاتی چینل سب سے بڑے مجرم ہیں ۔ اس کے بعد سب سے بڑے مجرم ،فریقین میں رابطے قائم کرانے والے ’درمیانی لوگ‘ ہیں ۔ مسئلہ کی تشخیص ہونے کے بعد حل یا علاج آسان محسوس ہوا ۔ ’’کسان فی الحال اپنی پیداوارصارفین کو فروخت کرتے ہیں ۔ ایسا خصوصاً اس لئے ہے کہ پہلے تو وہ اپنی فصل اُگاتے ہیں اور اس کے بعد فروخت کی اُمید بھی انہی سے کی جاتی ہے ۔ اس سبب پیداوار اور فروخت میں نامطابقت ہوتی ہے اور ’کولڈ اسٹوریج‘ کے فقدان جیسے مسائل ناقابل قبول بربادی کا سبب بن جاتے ہیں ۔

اگر اس کی تدبیر کرنا ہے، تو جس طرح سے کھانے کی اشیاء کی پیداوار کی تقسیم اور استعمال کیا جاتا ہے، اس میں بنیادی تبدیلی کرنا پڑے گی۔ یہ ہدف ،مطالبے کی بنیاد پر پیداوار کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے جہاں کسان، خریداروں کی جانب سے ممکنہ مطالبات کے لحاظ سے پیداوار کریں، جیسے کہ سُپر مارکیٹ، کرانہ اسٹورس، ریسٹورنٹس اور دیگر بڑے خریداروں کے لئے ۔ اس سے کسانوں کو بہتر قیمت مل سکے گی، ساتھ ہی خریداروں کے مطالبات کا اندازہ اورآمدنی کا تسلسل بھی برقرار رہے گا ، نیز سب کے لئے فائدہ اور منافع کی صورت حال رہے گی۔

کارتک کہتے ہیں ، ’’ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت واضح طورپر تھی، جو’ اِن ٹائم لاجسٹکس‘ کے ذریعے مطالبات کے مطابق خورد و نوش کی اشیاء کی پیداوارکرنے میں ٹیکنالوجی کوزیرِ استعمال لائے۔ محض نقصانات کے امکانات کو ختم کر کے 60 سے 100 فیصد زائد خورد و نوش کی اشیاء دستیاب کرانا اور ساتھ ہی ساتھ، زمین، توانائی اور آبی وسائل وغیرہ کا آزادانہ استعمال اہم چیز ہے اور اس طرح ’فارمیلی‘ عالمِ وجود میں آئی۔‘‘

’فارمیلی‘ 'کسانوں ،خریداروں اور متعلقہ منتظمین کے ساتھ رابطہ قائم کرکے کسانوں کو مستحکم بناتا ہے ۔’ کارتک‘ اسے کسانوں کا ’فیس بُک‘ کہنا پسند کرتے ہیں ۔ وہ بتاتے ہیں، ’’ اِسے ممکن بنانے کے لئے کسان اور اس کے فارم کے لئے سب سے اہم حصّہ ڈیجیٹل سہولیات کی موجودگی ہے ۔’فارمیلی‘ یہ ڈیجیٹل سہولیات کسانوں کے لئے ایک’ مائیکرو‘ ویب سائٹ کے ذریعے فراہم کرتا ہے، جہاں وہ اپنے فارم، اپنی استطاعت اوراپنی پیداوار کی تفصیل درج کر سکتا ہے۔

خریدار اس پلیٹ فارم یعنی ’فارمیلی‘پر پیداوار سے متعلق اپنے مطالبات پیش کرسکیں گے ۔ کسان درج شدہ مطالبات کا جواب دے سکتے ہیں اور وہ آن لائن’ مول تول‘ کرنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی سودے کو آن لائن ہی حتمی شکل دے سکتے ہیں ۔ اسی طرح کسان اپنی پیداوار کی اشیاءفروخت کرنےکے لئے ویب سائٹ پر رکھ سکتے ہیں اورمنافع بخش قیمت کا اندازہ لگانے کے لئے خریداروں سے’نیلامی‘ طر زپر ’بولیاں‘بھی لگوا سکتے ہیں۔

قلمکار : راج ولّبھ

مترجم : انور مِرزا

Writer : Raj Ballabh

Translation by : Anwar Mirza

Related Stories