ایک ان پڑھ خاتون کسان نے مُلک کو بتایا کیسے کریں باجرے کی کاشتکاری... وزیر اعظم نے دیا انعام

0

مشکلوں سے گھبرا کر گھٹنے ٹیک دینا کوئی عقلمندی نہیں ہوتی ۔ حالات چاہے جتنے بھی خراب اور مخالف کیوں نہ ہوں، انسان کو اپنی جدوجہد ہمیشہ جاری رکھنا چاہئے، کیونکہ حالات سے لڑنا، لڑ کر گرنا اور پھر اٹھ کر سنبھلنا ہی زندگی ہے ۔ نصیب کے بھروسے بیٹھنے والوں کو صرف وہی ملتا ہے جو کوشش کرنے والے اکثر چھوڑ دیتے ہیں ۔ یعنی تدبیر سے ہی تقدیر بنائی جاتی ہے ۔ اگر آپ کو ان باتوں پر اعتبار نہ ہو، تو آپ ’ریکھا تیاگی‘ نامی خاتون سے مِلیئے۔ مدھیہ پردیش کے’ مُرینہ‘ ضلع کے’ جلال پور‘ گاؤں میں رہنے والی خاتون کسان ’ریکھا تیاگی‘ نے زندگی میں سخت جدوجہد کے بعد کامیابی کی ایک نئی عبارت لکھی ہے ۔ ’ریکھا تیاگی‘نے زرعی پیداوار کے میدان میں ایسی کامیابی حاصل کی ہے، جو کہ بڑے بڑے کسان اور زميندار نہیں کر پاتے ہیں ۔’ریکھا‘باجرے کی کاشت میں سب سے زیادہ پیداوار کرنے والی ریاست کی پہلی خاتون کسان بن گئی ہیں ۔’ریکھا‘ کی اس جدوجہد اور کامیابی پر وزیر اعظم نریندر مودی نے خود اُن کی تعریف اور عزّت افزائی کی ہے ۔ آخر خسارے کا کاروبار سمجھی جانی والی کھیتی کو ریکھا نے کس طرح فائدےکے کاروبار میں تبدیل کر دیاہے؟ آئیے سنتے ہیں’ریکھا‘ کی کہانی انہی کی زبانی۔

ایک عام عورت کی طرح ’ریکھا تیاگی‘ کی زندگی بھی حسبِ دستور چل رہی تھی۔’ریکھا‘ کے شوہرکاشتکاری کرتے تھے اور پانچویں جماعت تک پڑھی لکھی’ریکھا‘ گھر میں اپنے تین بچّوں کو ایک ماہر گھریلو خاتون کی طرح سنبھالتی تھیں۔لیکن دس سال قبل ’ریکھا‘کی زندگی میں اُس وقت دکھوں کاپہاڑ ٹوٹ پڑا ،جب اچانک اُن کے شوہر کا انتقال ہو گیا ۔ شوہر کی موت کے بعد’ریکھا‘کی زندگی بہت مشکل ہو گئی تھی ۔ اُن کے سامنے گھر چلانے کے لئے اقتصادی بحران پیدا ہو گیا تھا ۔ کھیت تو تھے، لیکن کاشتکاری میں لگانے کے لئے نہ تو’ ریکھا ‘کے پاس پیسے تھے اور نہ ہی کاشت کرنے اور کرانے کا کوئی تجربہ تھا۔ شوہر کے زندہ رہتے ہوئے’ ریکھا ‘نے کبھی بھی اپنے کھیت میں قدم تک نہیں رکھا تھا ۔ لیکن اب اُس کے سامنے خود اپنی اور اپنے تین بچّوں کی پرورش کا چیلنج تھا ۔اپنے جیٹھ اور دیوروں کی اقتصادی مدد سے’ ریکھا ‘نے مزدوروں سے کھیتی باڑی کرانا شروع کیا ۔ یہ سلسلہ کئی برسوں تک یوں ہی چلتا رہا ۔’ ریکھا ‘نے کاشتکاری میں برسوں تک نقصان اٹھایا ۔ کھیتی باڑی کی اصل لاگت کے پیسے نکالنا بھی مشکل ہو رہا تھا ۔حالانکہ کاشتکاری میں نقصان صرف ’ریکھا‘کی ہی کہانی نہیں ہے ۔ ریاست کے بیشتر کسان اسی مسئلہ سے دو چار ہیں ۔ گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل مدھیہ پردیش میں قدرتی تباہ کاریوں کی وجہ سے کسانوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ کبھی اولا باری، تو کبھی پالے نے کسانوں کی کمر توڑ رکھی ہے ۔ گزشتہ چار برسوں سے سفید کیڑوں کے حملوں کے سبب’ سویا بین‘ کی فصلوں کی پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے ۔ کسان ساہوکاروں اور بینکوں سے اونچی شرح ِسود پر قرض لے کر کھیتی کرتے ہیں، لیکن قدرتی آفات کے سبب فصلیں تباہ ہونے سے انہیں پیداوار کی لاگت کے پیسے نکالنا بھی مشکل ہو رہا ہے ۔ فصلیں برباد ہونے اور قرض نہ ادا کرنے کی وجہ سے ریاست میں گزشتہ 3 برسوں میں ڈھائی ہزار سے زیادہ کسانوں نے خود کشی کر لی ہے ۔ ایسے میں ’ریکھا‘ کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ یا تو اپنی قابل کاشت تقریباً 20 ہیکٹر زمین کو ٹھیکے پر کسی دیگر کسان کو دے دیا جائے یا پھر اس گھاٹے کے کاروبار کو فائدے میں تبدیل کیا جائے ۔

لگاتار نقصان نے دکھایا فائدے کا راستہ

کاشتکاری میں مسلسل ہونے والے نقصان پر قابو پانے کے لئے ’ریکھا ‘نے اپنے کھیتوں میں نئی ​​قسم کی فصل لگانے کے بارے میں سوچا ۔ اس کے لئے انہوں نے تجربہ کار کسانوں کے ساتھ ساتھ ضلع کے زراعتی افسر سے بھی رابطہ کیا۔ حکّام کی صلاح پر ’ریکھا‘ نے اپنے کھیت میں باجرے کی فصل لگائی ۔ باجرے کی فصل لگانے کے لئے ریکھا نے روایتی طریقہ کار کو ترک کر کے نئی اور سائنسی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ۔ نئی نسل کے بیج اور مٹّی کی تحقیقات کرکے کھیتوں میں کھاد، پانی دیا گیا۔ کھیتوں میں براہِ راست طور پر باجرہ بونے کے بجائے پہلے باجرے کا چھوٹا پودا تیار کیا گیا ۔

پودا تیار ہونے کے بعد اسے اپنی جگہ سے اکھاڑ کر کھیتوں میں لگایا گیا ۔ اس طریقۂ کار سے لگائے گئے باجرے کی کاشت میں ’ریکھا ‘نے ریکارڈ توڑ پیداوار حاصل کی۔ عام طور پر روایتی تکنیک سے کی گئی باجرے کی کاشت میں فی ہیکٹر 15 سے 20 کوئنٹل باجرے کی پیداوار ہوتی ہے، لیکن نئے طریقۂ کار سے کی گئی کاشت میں’ ریکھا‘ نے ایک ہیکٹر کھیت میں تقریباً 40 کوئنٹل باجرے کی پیداوار کی۔’ریکھا‘کے ذریعے باجرے کی یہ ریکارڈ توڑ پیداوار ریاست سمیت پورے ملک کے لئے ایک مثال ہے ۔ اس طرح باجرہ پیدا کرنے والے کسانوں کے ساتھ ساتھ حکومت کی توجہ بھی ’ریکھا‘ کی طرف مبذول ہوئی۔

وزیر اعظم نے دہلی بُلا کرعزّت افزائی کی

’ریکھا‘ کی اس کامیابی کی کہانی مرکزی وزارتِ زراعت اور وزیر اعظم تک پہنچ چکی تھی ۔ 19 مارچ کو دہلی میں منعقد زراعتی ایوارڈ پروگرام میں ’ریکھا تیاگی‘ کو مدعو کرکے وزیر اعظم نے توصیفی سند اور دو لاکھ روپے کا نقد انعام دیا ۔ اس دن ملک بھر سے آٹھ ریاستوں کے سرکاری نمائندے کاشتکاری میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لئے مرکزی حکومت سے ملنے والے اعزازات حاصل کرنے کے لئے دہلی پہنچے تھے ۔ سال 2014-15 میں اناج کی پیداوار میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لئے راجستھان، مدھیہ پردیش، ہریانہ اور چھتیس گڑھ سمیت آٹھ ریاستوں کو یہ 'زراعتی ایوارڈ دینے کے لئے بلایا گیا تھا ۔

مرکزی زراعتی وزیر’ رادھاموهن سنگھ‘ نے بتایا کہ سال 2014-15 کے زرعی ایوارڈ کے لئے’ اسکریننگ‘ کمیٹی نے آٹھ ریاستوں کی سفارش کی ہے ۔ اس میں اناج کے درجۂ اول کے لئے مدھیہ پردیش،درجہ دوم،اڑیسہ اوردرجہ سوم کے لئے میگھالیہ کا انتخاب کیا گیا ہے ۔ اِسی طرح سے چاول کی پیداوار کے لئے ہریانہ، گیہوں کے لئے راجستھان اور دال کے لئے چھتیس گڑھ کو منتخب کیا گیا ہے ۔ اِس کے علاوہ موٹے اناج کے زمرے میں تمل ناڈو اور تلہن کے لئے مغربی بنگال کا انتخاب کیا گیا ہے ۔ ساتھ ہی ذاتی طور پر زرعی پیداوار میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لئے مدھیہ پردیش سے خاتون کسان ’ریکھا تیاگی‘ کو باجرہ کی پیداوار اور مدھیہ پردیش کے ہی نرسمہا پور ضلع کے کسان’ نارائن سنگھ پٹیل‘ کو گندم کی پیداوار میں اعلیٰ درجے کی کارکردگی کے لئے انعام و اعزاز سے نوازا گیا ۔ ’ریکھا‘اپنی اس کامیابی کا کریڈٹ اپنی سخت محنت، لگن اور محکمۂ زراعت کے افسران کو دے رہی ہیں۔

حکومت بنائے گی رول ماڈل

’مُرینہ‘ ضلع کے زراعتی اور کسان فلاح و بہبود محکمہ کے نائب منتظم ’وجئے چورسیا ‘کا کہنا ہے کہ مدھیہ پردیش حکومت ’ریکھا تیاگی‘ کی اس شاندار کامیابی پر انہیں اب ریاست میں خواتین کسانوں کے لئے’ رول ماڈل‘ کے طور پر پیش کرے گی۔ زراعت پر مبنی پروگرام، نمائش، سیمینار میں خواتین کسانوں کو لے جا کر ’ریکھا‘کی کامیابیوں سے متعارف کرکے انہیں تحریک و ترغیب دی جائے گی۔’وجئے چورسیا‘ کہتے ہیں کہ ضلع کا کسان ’ریکھا‘کی طرح جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر اگر فصل لگائے گا تو یقینی طور پر موجودہ فصل کی پیداوار سے دوگنی پیداوار ہونے کا امکان ہے ۔’ ریکھا ‘نے بھی اپنی اس کامیابی کو دیگر کسانوں کے ساتھ شیئر کرنے کی بات کہی ہے ۔ ’ریکھا‘ نے کہا،

’’اب میَں کھیتی باڑی میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر توجہ دینے کے سلسلے میں کسانوں کو بیدار کرنے کا کام کروں گی ۔‘‘

’مُرینہ‘ ضلع کے کلکٹر ’ونود شرما ‘کہتے ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعے ’ریکھا تیاگی‘ کی عزّت افزائی دراصل ہمارے ضلع کی ہی نہیں بلکہ پوری ریاست کی عزّت افزائی ہے ۔ خریف کی فصل میں ’ریکھا ‘نے ریكارڈتوڑ پیداوار کی ہے ۔ اس کارکردگی سے ضلع اور ریاست کے دیگر کسانوں کو بھی سبق لینے کی ضرورت ہے ۔

انعام کی رقم سے کریں گی بیٹی کی شادی

وزیر اعظم سے ملنے والے دو لاکھ روپیہ نقد انعام کو خاتون کسان’ریکھا تیاگی‘ اپنی بیٹی’ روبی تیاگی‘ کی شادی میں خرچ کریں گی۔ اسی ماہ یعنی اپریل میں روبی کی شادی ہے۔ میتھ میٹکس میں بی ایس سی فائنل ایئر میں تعلیم حاصل کرنے والی ’روبی ‘ اپنی ماں کی اس کامیابی سے بہت خوش ہے۔’ روبی‘ پڑھ لکھ کر مستقبل میں ٹیچر بننا چاہتی ہے ۔ اس لئے وہ بی ایڈ کی پڑھائی کرنا چاہتی ہے۔ ’ریکھا‘ کہتی ہیں

’’مجھے بی ایس سي اور بی ایڈ پڑھائی کی کوئی معلومات نہیں ہے، لیکن میَں بیٹی کی شادی کے بعد بھی اسے پڑھانا چاہتی ہوں، وہ بھی اپنے خرچے پر۔مجھے ملال ہے کہ میَں خود پڑھی لکھی نہیں ہوں، اس لئے بیٹی کو پڑھانا چاہتی ہوں ۔‘‘

قلمکار : حُسین تابِش

مترجم : انور مِرزا

Writer : Husain Tabish

Translation by : Anwar Mirza

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے

’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ دلچسپ کہانیاں بھی آپ کو ضرور پسند آئیں گی۔

منافع بخش ہے،کسانوں کا فیس بُک’ فارمیلی‘ ...

سيتاپھل بیچنے والی ان پڑھ قبائلی خواتین نے بنائی کروڑوں مالیت کی کمپنی


Related Stories