اے پی جے عبدالکلام کے یوم پیدایش کو "یوم طلباء" بنانے گجیندرن کی انوکھی مساعی

0

حسرت جئے پوری نے انداز فلم کے لیے لکھاتھا،”زندگی ایک سفر ہے سہانا“ ، اسے عملی زندگی میں ڈھالا ہے آرگجیندرن نے۔ تمل ناڈو سے تعلق رکھنے والے گجیندرن کے پاس ملک کے لیے درد رکھنے والا دل ہے۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے بارے میں سوچتے ہیں۔ وہ ملک میں تبدیلی لاناچاہتے ہیں۔ عمر کے ایسے وقت جب لوگ ریٹائرمنٹ لے کر آرام سے اپنے پوتے، پوتری، نواسے نواسیوں کے ساتھ کھیلنا پسند کرتے ہیں 63 سال کی عمر میں گجیندر اپنے گھر بار کو چھوڑ کر 100 دن کے ایسے مشن پر نکل پڑے ہیں، جہاں پر انھیں مشکلات بھی ملتی ہیں اوربعض جگہ ان کا استقبال بھی کیاجاتا ہے۔ گجیندرن کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہے۔ ایس ایس سی کامیاب کرنے کے بعد انھوںنے عملی زندگی میں قدم رکھا۔ پرنٹنگ پریس کے پیشہ سے وابستہ رہے۔ ان کی زندگی کی جھلکیاں یقینا یوراسٹوری کے قارئین کےلیے دلچسپی اورحیرت کا باعث ہو گی۔

آرگجیندرن کا نام ہی گجیندرن لانگ مارچ پڑگیا ہے۔ وہ چینائی اواڈی علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ سماجی کارکن گجیندرن۔ ”نیتک پریورتن“ پر ایک تمل زبان میں کتاب بھی لکھ چکے ہیں۔

گجیندرن اکیلے نہیں ہیں۔ بیوی ، ایک بیٹا اور دو بیٹیوں کا خاندان ہے۔ تینوں بچوں کی شادی ہوچکی ہے۔ پوترے اور نواسے بھی ہیں۔ گجیندرن کواپنے خاندان کی تائید بھی حاصل ہے۔

اے پی جے عبدالکلام سے انھیں گہرا لگاﺅ ہے۔ وہ چاہتے ہیں اے پی جے عبدالکلام کے یوم پیدائش 15 اکتوبرکو”یوم طلبا“ قومی دن مقرر کیاجائے۔ اس کے لے انھوں نے دہلی کے انڈیا گیٹ پر ایک پروگرام شروع کیا۔ 15 اکتوبر2015ءکو شام 3.00 بجے ۔انڈیاگیٹ، نئی دہلی سے شروع کیا۔ آج تک 2000 کلومیٹر سے زیادہ طے کرچکے ہیں۔ 80 پولیس اسٹیشن میں انٹری کی ہے۔ 6 ریاستوں کو عبور کرچکے ہیں۔

19دسمبر 2015ءکو چارمینار پہنچے۔ یہاں پر انھوں نے شب بسری بھی کی ۔ اس تعلق سے انھوں نے بتایا ” دہلی سے رامیشورم سفر کے دوران تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں چارمینار مجھے بہت پسند آیا۔ اسی لیے میں نے یہاں پر رکنا پسند کیا۔ اب تک میں نے 60 دن سے زیادہ کا سفر کرچکا ہوں۔ یہاں سے میں آندھراپردیش سے ہوتے ہوئے ٹاملناڈو جاﺅں گا“۔

اب تک وہ جن ریاستوں سے گذرچکے ہیں ہیں ان کی تفصیل اس طرح ہے:دہلی، ہریانہ، اترپردیش، مدھیہ پردیش، مہاراشٹرا، تلنگانہ۔

گیجندرن کی خواہش ہے کہ ان اے پی جے عبدالکلام کے بھائی ان کے اس لمبے سفر کے بعد ان کا استقبال کرے اور اس دستخطی دستاویز پر اپنی بھی دستخط کریں اور اس مہم میں حصہ لیں۔ انھوں نے بتایا”سفر کے اختتام پر رامیشورم میں 15فروری 2016 ءکو اے پی جے عبدالکلام کے بڑے بھائی ان کا استقبال کریں گے“۔

گجیندرن سفر میں مشکلات سے بچنے کےلیے جہاں رات ہوجائے وہیں بسیرا کرلیتے ہیں۔ وہ ر صبح 7یا 8 بجے اپنا سفر شروع کرتے ہیں اور شام میں 5 کہیں رک جاتے ہیں۔ رات کے وقت وہ سفر نہیں کرتے۔ روزانہ تقریباً50 سے60 کلومیٹر تک سائیکل چلاتے ہیں۔

ملک کے حالات ان پر گہرا اثر مرتب کررہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں سب کےلیے مواقع ہوں۔ ہرکوئی خوش رہے۔ ملک میں اگر کوئی پریشان ہے تو اس کی پریشانی کو دیکھ کر گجیندرن کا دل بھی رونے لگتا ہے۔سماجی کارکن ہونے کے ناطے اس سے پہلے وہ سائیکل کے سہارے ملک میں مثبت تبدیلی لانے کوشاں رہے ہیں۔ اس سے پہلے 24ریاستیں،27,000کلو میٹر کا سفر 540دن میں سائیکل پر کرتے ہوئے صدرجمہوریہ سے ملاقات کے لیے درخواست دی۔ 25اپریل 2005ءکو وہ نکلے تھے اور 18 اکتوبر 2006 کو دہلی تک سفر کیا۔ 2007ءمیں صدرجمہوریہ اے پی جے عبدالکلام سے بات کی۔ انھیں ان مسائل سے واقف کرایا جس سے ہر ہندوستان جھوجھ رہا ہے۔

گجیندر کا تعلق تمل ناڈو کے اواڈی ٹاﺅن سے ہے۔ 'Neeti Parivaratan' کے نام سے انھوں نے صدرجمہوریہ کو ایک کتاب بھی پیش کی۔

گجیندر نے اس سے پہلے برطانیہ تک سائیکل سے سفر کرنے کا نہ صرف ارادہ ظاہر کیاتھا بلکہ اس کے لیے انھوں نے سنجیدہ کوششیں بھی کی۔ وہ دہلی میں اپنے وکیل سے اس کام کے لیے ضروری کارروائی کرنے کے لیے کہا۔ 15اگست 2010ءکو انھوں نے کنیاکماری سے اپنے سفر کا آغاز بھی کیا تھا۔ ان کا ارادہ تھا کہ 2012ءمیں یہ سفر برطانیہ میں اختتام پذیر ہو۔ انھوں نے بتایا ”میں نے دنیا کے نقشہ کے ساتھ اس مسئلہ پر کافی غوروخوض کیا اور پتہ سائیکل سے سفر کا راستہ یہ طے کیا کہ کنیاکمار، چینائی، بنگلور، ممبئی، بھوپال، کلکتہ، دہلی، پنجاب، پاکستان، عراق، ایران، ترکی، بلغاریہ، ہنگری، آسٹریا، جرمنی ، فرانس سے ہوتے ہوئے برطانیہ جانا طے ہوا تھا“۔

برطانیہ تک سفر کے دوران ہونے والی مشکلات کے بارے میں جب ان سے پوچھا گیا تو انھوںنے بتایا”غذا اور آسرا تو خدا کے ہاتھ میں ہے میرے چاہنے والوں کی دعائیں میرے لےے کافی ہے۔ “۔ برطانیہ تک سائیکل پر سفرکرنا ایک ناممکن مشن تھا۔ اگرچہ گجیندر اپنے اس سفر کو کامیاب نہ کرسکے لیکن وہ اس مقصد میں ضرور کامیاب ہوگئے کہ آنے والی نسلوں کے ہندوستان کو کس طرح خوبصورت بنایاجائے یہ بات لوگوں تک پہنچائیں۔

سابق صدرجمہوریہ اے پی جے عبدالکلام اور ان کے نظریات کے گجیندرن بہت بڑے مداح ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ عبدالکلام کے مشن کو لوگوں تک عام کریں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اے پی جے عبدالکلام کے یوم پیدائش کو یوم طلباءقراردینے کےلیے اتنی جدوجہد کیوں کررہے ہیں تو انھوں نے جواب دیا، ”اے پی جے عبدالکلام اس ملک کے صدرجمہوریہ تھے۔ انھوںنے اس سے پہلے ملک کے لیے میزائیل بنانے اپنی زندگی صرف کی۔ ملک کو میزائیل ٹکنالوجی میں آگے بڑھایا۔ طلباءکےلیے انھوں نے بہت کچھ کیا۔ وہ طلباءکو سائینس کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے ہمیشہ ترغیب دیتے تھے۔ ان کے اسی جذبہ کے لیے ان کے یوم پیدائش15اکتوبر کو قومی ”یوم طلبائ“ (Student Day) مقرر کیاجانا چاہے۔“

یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ گجیندرن کے اس مقصد میں انھیں کامیابی ہوتی ہے یا نہیں لیکن فی الحال گجیندرن اپنے سفر نکل پڑے ہیں اور منزل انھیں کافی قریب نظرآرہی ہے۔