ریڈ لائٹ علاقوں کی عورتوں اور بچوں کی زندگی میں روشنی لانے کی کوشش ہے 'کٹ کتھا'

0

کوٹھے میں رہنے والے بچوں کو دے رہی ہیں تعلیم

'کٹ کتھا' سے منسلک 100 والںٹير

سماج میں کئی ساری برائیاں ہیں۔ کچھ تو ایسی ہیں کہ سماج کے افراد اسے ختم کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، لیکن کچھ برئیاں ایسی ہیں کہ سماج اس کے نام سے ہی دور بھاگتا ہے۔ ملک کے ریڈ لائٹ علاقے ایک ایسی ہی برائی نما بیماری ہیں کہ جسے جانتے تو سب ہیں، لیکن اسے دور کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ کچھ لوگ اس کی کوشش ضرور کرتے رہے ہیں۔ گیتانجلی بھی انہی لوگوں میں سے ہیں۔ وہ جب دہلی کے ریڈلاٹ علاقے جی بی روڈ پرجاتی ہیں تو وہاں رہنے والی سیکس ورکر نہ صرف ان سے محبت کرتی ہیں اور بلکہ انہیں دیدی کہہ کر پکارتی ہیں۔ عام انسان اگرچہ یہاں آنے سے كتراتا ہو لیکن گیتانجلی ببر ان سب باتوں سے بے خبر، یہاں رہنے والی عورتوں کی زندگی میں تبدیلی لانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی اچھی خاصی نوکری چھوڑکر اس سڑک پر رہنے والی خواتین کو اپنے ادارے 'کٹ کتھا ' کے ذریعے بااختیار بنانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

'کٹ کتھا ' کی بانی گیتانجلی نے اس ادارے کو شروع کرنے سے پہلے دہلی یونیورسٹی سے صحافت کا کورس کیا۔ اس دوران وہ 'اننت' نام کے تھیٹر گروپ کے ساتھ منسلک تھیں۔ جہاں سے ان کا رجحان سماجی کاموں کی طرف ہوا۔ گاندھی فیلوشپ کے تحت انہوں نے راجستھان کے چرو ضلع کا 'تھرپالی بڑی' نام کے ایک گاؤں میں دو سال گزارے۔ یہاں انہیں نئے نئے تجربے حاصل ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے قومی ایڈز کنٹرول تنظیم یعنی 'ناكو' کے لئے کام کرنا شروع کیا۔ یہیں سے ان کا واسطہ دہلی کے ریڈ لائٹ علاقہ جی بی روڈ سے ہوا۔ تب ان کے دماغ میں کئی طرح کے سوال اٹھے کہ وہاں کا ماحول کیسا ہوگا، کس طرح وہاں پر کام کریں گے؟

وہ بتاتی ہیں کہ "جب میں پہلی بار ایک کوٹھے میں گئی تو وہاں کا ماحول دیکھ تین راتوں تک سو نہیں پائی تھیں۔ میں یہ سوچنے پر مجبور تھی کہ دہلی کے بیچوں بیچ اور انڈیا گیٹ سے کچھ ہی فاصلے پر ہر منٹ لڑکی بک رہی ہے ، ہر منٹ لڑکی مر رہی ہے، لیکن اس کے بارے میں کوئی سوچتا ہی نہیں۔ اس چیز نے مجھے اندر تک ہلا دیا تھا۔ "آہستہ آہستہ گیتانجلی مختلف کوٹھوں میں جا کر وہاں کی خواتین سے ملنے لگیں۔ ان کی تکلیف جاننے لگیں اور کچھ عرصے بعد ان کا وہاں ایسا رشتہ بن گیا کہ وہ کسی کے لئے چھوٹی بہن بن گئی تو کسی کے لئے دیدی تو کسی کے لئے بیٹی۔ تاہم اس دوران کچھ کوٹھوں میں ان کے ساتھ برا سلوک بھی کیا جاتا تھا۔ لیکن ان سب کی پرواہ کئے بغیرگیتانجلی نے كوٹھوں میں رہنے والی خواتین سے ملنا جلنا نہیں چھوڑا۔

ایک دن گیتانجلی کو ایک کوٹھے میں رہنے والی خواتین نے کافی برا بھلا کہا اور ان کو اپنے کوٹھے سے باہر کر دیا۔ اس واقعہ نے ان کی آنکھوں میں آنسو لا دیے۔ پھر ایک دوسرے کوٹھے میں رہنے والی عورت ان کے پاس آئی اور گیتانجلی سے کہا کہ وہ انہیں پڑھا دیا کرے۔ گیتانجلی کے دکھ کے آنسو اچانک خوشی میں چھلكنے لگے۔ انہوں نے ہفتہ اور اتوار کے دن کوٹھے میں رہنے والی خواتین کو پڑھانے کا کام شروع کیا۔ شروع شروع میں ان کے اس کام میں مدد کی ڈاکٹر رئیس نے۔ جن کا جی بی روڈ پر اپنا ہسپتال بھی ہے۔ اسی کی اوپری منزل پر گیتانجلی نے کوٹھے میں رہنے والی خواتین کو پڑھانے کا کام شروع کیا۔ لیکن تھوڑے وقت بعد ان وہ جگہ خالی کرنی پڑی۔ اس طرح مجبور ہوکر گیتانجلی کو کوٹھوں میں جا کر پڑھانا پڑھا، کیونکہ جی بی روڈ میں رہنے والی خواتین اپنے کوٹھے سے دوسرے کوٹھے نہیں جاتیں تھی۔

کچھ وقت بعد گیتانجلی نے بھی نوکری چھوڑ دی اور اکیلے ہی وہ انہیں پڑھانے کا کام کرنے لگی۔ مخلص اور ایماندار کوشش کا اثر گیتانجلی کے دوستوں پر بھی پڑا۔ ان کے دوست بھی اس مہم میں شامل ہونے لگے۔ گیتانجلی کا کام بھی بٹا۔ ان دوستوں نے بھی مختلف کوٹھوں میں جا کر ہر روز خواتین کو پڑھانے کا کام شروع کیا۔ خواتین کی تعلیم کا اثر یہ ہوا کہ کوٹھوں میں رہنے والے بچے بھی پڑھنے کے لئے تیار ہوئے ۔ تب گیتانجلی نے فیصلہ کیا کہ وہ ان بچوں کو بھی پڑھائیں گی۔ بچوں نے بھی دلچسپی لی۔ رشتہ بڑھا۔ بچوں کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ کھیلنے اور وقت وقت پر انہیں فلمیں بھی دکھائی جانے لگی۔ آہستہ آہستہ جب زیادہ بچے ان کے ساتھ جڑنے لگے تب انہونے جی بی روڈ میں ہی ایک جگہ کرائے پر لی۔ آج ان کے یہاں آنے والے بچوں میں سے چار بچے دہلی کے نظام الدین علاقے کے ایک اسکول میں بھی پڑھتے ہیں۔ ایک بچے کو تعلیم کے لئے فیلوشپ ملی ہے۔ بچے فوٹو گرافی کرتے ہیں، تھیٹر کرتے ہیں تو کچھ رقص بھی کرتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں ان کے یہاں کے چار بچوں کا ڈرامہ نیشنل اسکول آف ڈرامہ (این ایس ڈی) میں ہو چکا ہے۔ اس طرح گیتانجلی نے یہاں کے بچوں کو نہ صرف خواب دیکھنا سکھایا ہے، بلکہ انہیں شرمندہ تعبیر خواب کر نا بھی بتایا ہے۔

گیتانجلی کے مطابق "ان کوٹھوں میں کام کرنے والی سب سے زیادہ خواتین کے پاس ووٹر کارڈ تک نہیں ہے۔ ایسے میں 'کٹ کتھا ' یہاں رہنے والی خواتین کو معاشرے میں شناخت دلانے کے لئے ووٹر شناختی کارڈ بناوانے میں مدد کر رہا ہے۔ اب تک جی بی روڈ میں رہنے والی 500 سے زیادہ خواتین اپنا ووٹر کارڈ، راشن کارڈ اور بیس کارڈ بنوا چکی ہیں۔ " اس کے علاوہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے ان کا بینک میں اکاؤنٹ بھی كھولا گیا ہےجی بی روڈ کے تاریک ترین اور اکیلی دنیا میں رہ رہی خواتین کو باعزت رہنے کے لئے 'کٹ کتھا ' نوٹ بک پروجیکٹ پر کام کر رہا ہے۔ کوٹھے میں رہنے والی خواتین آرٹ، تصویر کے فریم، کان کی بالیاں اور دیگر اشیاء بنانے کا کام بھی کر رہی ہیں۔ تاکہ وہ اقتصادی ترقی حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔ یہاں پر رہنے والی خواتین کو متحد کرنے کے لیے وہ دیوالی، نئے سال اور دوسرے موقعوں پر کئی پروگرام بھی چلاتی ہیں۔ 'کٹ کتھا ' میں 7 لوگوں کی ایک مضبوط ٹیم ہے، جبکہ ان کے ساتھ 100 والٹيئر بھی منسلک ہیں۔

آج گیتانجلی اور ان کی تنظیم 'کٹ کتھا' براہ راست یا بالواسطہ طور پر جی بی روڈ میں رہنے والے 66 بچوں کے ساتھ منسلک ہے۔ ان میں چار سال سے لے کر 18 سال تک کے نوجوان شامل ہیں۔ ہر بچے کی ضرورت کے حساب سے کٹ کتھا کام کر رہی ہے۔ بچوں میں آئے اعتماد کا عالم یہ ہے کہ اب بچے بلا جھجھک بتاتے ہیں کہ وہ جی بی روڈ میں رہتے ہیں۔ اب گیتانجلی کی خواہش ہے کہ حکومت 15 اگست کو ملک بھر کے کوٹھے بند رہے اور وہاں رہنے والی خواتین اس دن اپنی مرضی سے جی سکیں۔

قلمکار : ہرشت بشٹ

مترجم: زلیخا نظیر