پہلوانی سے جسمانی کمزوریوں کو ہرانے والے وریندر سنگھ

0

گونگا پہلوان کے نام سے مشہور وریندر سنگھ نے اپنی کامیابیوں سے غضب کی مثال قائم کی ہے۔ گونگے اور بہرے ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی بھی اس کمی کو اپنے خوابوں کی پرواز میں رکاوٹ بںنے نہیں دیا۔ قابلیت اور کُشتی کی داؤ پیچ میں مہارت سے دنگل میں بہت بڑے بڑے پہلوانوں کو چت کر ہندوستان کوکئی تمغے دلوائے۔ انگنت ریکارڈ اپنے نام کئے۔ دنیا بھر میں اپنی پہلوانی کا لوہا منوایا۔ محنت، جوش اور لگن سے خوب نام کمایا ۔ ثابت کیا کہ اگر انسان کے حوصلے بلند ہیں اور اس میں کچھ بڑی کامیابی حاصل کرنے کا جذبہ ہے تو معذوری کامیابی کو روک نہیں سکتی۔

وریندر سنگھ نے جوش، محنت اور لگن سے نہ صرف پہلوانوں کو شکست دی بلکہ آپ کی جسمانی کمزوری کو بھی چت کیا۔ وریندر کی کامیابی کی کہانی متاثر کن ہے۔

وریندر کی پیدائش ہریانہ کے جھجھر ضلع کے ساسرولی گاؤں میں ہوا۔ وریندر بچپن سے نہ سن سکتے تھے اور نہ ہی بول نہیں سکتے تھے۔ آس پڑوس کے لوگ انہیں 'گونگا' بلاتے تھے اور آہستہ آہستہ یہی لفظ ان کی شناخت بن گیا۔ وریندر کے گاؤں کے لوگ گونگے اور بہرے لوگوں کو زیادہ توجہ نہیں دیتے تھے اور یہ مانتے تھے ان لوگوں کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔ وریندر سے بھی کسی کو کوئی امید نہیں تھی، لیکن جیسے ہی وریندر اپنے گاؤں سے دہلی گئے ان کی قسمت نے بھی کروٹ لی۔

دہلی جانے کے پیچھے بھی ایک واقعہ تھا۔ ہوا یوں تھا کہ بچپن میں وریندر کے پاؤں میں داد ہو گیا۔ ان کے ایک رشتہ دار نے جب یہ داد دیکھا تو وہ حیران ہوئے اور علاج کے لئے وریندر کو اپنے ساتھ دہلی لے گئے۔ وریندر کافی وقت دہلی میں رہے اور اسی دوران وہ چھترسال میدان جانے لگے۔ چھترسال میدان ہندوستان بھر میں کافی مشہور ہے اور یہاں سے بہت چیمپئن پہلوان نکلے ہیں۔ چھترسال اکھاڑے میں آتے جاتے وریندر کی کشتی میں دلچسپی مسلسل بڑھتی گئی۔ اور اسی دلچسپی کے چلتے وہ اکھاڑے میں کود پڑے اور کشتی(زور آزمائی) کا آغاز ہو گیا۔ ویسے تو انہیں پہلوانی کا شوق اپنے گاؤں کے گھر کے قریب والے اکھاڑے سے ہوا- جہاں ان کے والد اجیت سنگھ بھی پہلوانی کرتے تھے، لیکن چھترسال اکھاڑے میں ان کا شوق پروان چڑھا تھا۔

اکھاڑے کے کوچ کی نگرانی میں ہی وریندر نے تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے کوچ کی حوصلہ افزائی سے دسویں کا امتحان بھی پاس کر لیا۔

پھر اکھاڑے میں مشق تیز ہو گئی۔ وریندر نے دنگل میں جی جان لگا کر کشتی لڑنا شروع کیا۔ انہوں نے اب ٹھان لیا تھا کہ وہ پہلوان ہی بنیں گے، لیکن پریواروالے وریندر کے اس فیصلے سے ناراض ہو گئے۔ وہ وریندر کے میدان جانے اورپہلوان بننے کے خلاف تھے۔ خاندان والے مانتے تھے کہ پہلوان بن کر وریندر کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ صرف وقت ضائع کریں گے۔ گھروالوں کا خیال تھا کہ وریندر بھی اپنے والد کی ہی طرح بنیں گے۔ وریندر کے والد بھی ایک پہلوان تھے اور انہیں کشتی سے کچھ نہیں ملا تھا۔ لیکن وریندر کے حوصلے بلند تھے۔ ان میں جوش تھا۔ خواب پرواز کر رہے تھے۔ مستقبل روشن نظرآ رہا تھا۔ انہیں یقین تھا کہ وہ چیمپئن پہلوان بنیں گے۔ دنگل میں حریفوں کو چیت کر دیں گے اور اپنی قسمت بھی بدل ڈالیں گے۔

وریندر کے جوش اورحوصلوں کے سامنے گھر والوں کو جھکنا پڑا۔ اس کے بعد وریندر نے اپنی پوری طاقت اکھاڑے میں جھونک دی۔ حریف کو چاروں خانے چت کرنے کے چالوں سیکھنے لگے۔

ابتداء میں مشق کے دوران کوچ کو ان کی وضاحت میں بہت ساری دقتیں پیش آتی تھیں، لیکن آہستہ آہستہ وریندر سب کچھ سمجھنے لگے۔

سال 2002 میں وریندر نے دنگل لڑنا شروع کیا۔ ہر کشتی میں وہ مخالف کو چیت کر دیتے۔ اس جیت کا سلسلہ جاری رہا اور وہ مسلسل آگے بڑھتے چلے گئے۔

آہستہ آہستہ ان کی شہرت بڑھنے لگی۔ ملک بھر میں نام بھی ہونے لگا۔ لوگ انہیں 'گونگا پہلوان' کے نام سے جاننے پہچانے لگے۔ ملک کے دنگل میں شہرت حاصل کرنے کے بعد وریندر نے بین الاقوامی مقابلوں میں بھی حصہ لینا شروع کیا۔ وریندر نے بین الاقوامی مقابلوں میں بھی اپنا لوہا منوایا۔ کئی بڑے پہلوانوں کو دنگل میں شکست دی۔ کئی قومی اور بین الاقوامی خطاب اپنے نام کئے۔

وریندر نے سال 2005 میں میلبورن میں ہوئے ڈیفلیمپکس میں ہندوستان کی پہلے اور واحد گولڈ میڈلسٹ بننے کا شرف حاصل کیا۔

وریندر نے تائپےمیں (2009) ڈیفلیمپکس میں کانسے کا تمغہ 2008 ورلڈ کی Defکشتی میں چاندی کا تمغہ اور 2012 کی ورلڈ کی Def کشتی چیمپئن شپ میں کانسے کا تمغہ جیتا۔ سال 2013 میں بلغاریہ میں ہوئی ڈیفلیمپکس میں انہوں نے دوبارہ طلائی تمغہ جیتا۔

اتنا ہی نہیں وریندر کو 'نو سیرویں' کے خطاب سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ یہ خطاب ان پہلوانوں کو ملتا ہے، جو مسلسل نو اتوار تک تمام دنگل جیتتے ہیں۔

بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ اولمپک میڈلسٹ سشیل کمار کے اولمپک مہم میں وریندر نے کافی مدد کی ہے۔ سشیل بھی چھترسال اکھاڑے میں ہی مشق کرتے ہیں اور یہیں وریندر نے ان کی ہر ممکن مدد کی۔

اپنی قابلیت اور داؤ پیچ سے وریندر ہزاروں لوگوں کا دل جیت چکے ہیں۔ کشتی کے مہارتھی گرو ستپال اور کوچ رام پھل مان بھی ان کے مرید ہیں۔ ان کے چاہنے والے اب دنیا بھر میںپھیلے ہوئے ہیں۔

وریندر کی زندگی سے سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے۔ ان کی کئی چیزیں پہلی بار ہیں۔ انہوں نے خود کے گونگے اور بھرے ہونے کو کبھی اپنی ترقی میں آڑے آنے نہیں دیا۔ وہ بول اور سن نہیں سکتے، لیکن انہوں نے اپنی صلاحیت اور داؤ پیچ سے بڑے بڑے پہلوانوں کو چت کیا ہے۔ وریندر نے مشکلات کو کبھی آپنے پر غلبہ حاصل نہیں ہونے دیا۔ مسائل کابےخوف مقابلہ کیا۔

وریندر کی کامیابی کی کہانی سے بہت سے لوگ کافی متاثر ہیں۔ تین نوجوانوں کو ۔ وویک چودھری، میت جانی اور پرتیک گپتا نے ان کی جدوجہد اور کامیابیوں پر 'گونگا پہلوان' کے نام سے دستاویزی فلم بھی بنائی ہے۔

وریندر کی نگاہیں اب 2016 میں برازیل کے ریو میں ہونے والے اولمپک پر ٹکی ہیں۔ وہ ریو اولمپکس میں ہندوستان کے لئے تمغہ جیتنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے جی توڑ کوشش بھی کر رہے ہیں۔

لیکن وریندر ایک بات سے بہت دکھی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ حکومتوں سے انہیں اتنی مدد نہیں ملی جتنی ملنی چاہئے تھی۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر مڈل جیتنے پر لوگ احترام اور رقومات عام پہلوانوں اور دوسرے کھلاڑیوں کو دی جاتی ہے وہ گونگے اور بہرے یا پھر دیگر معذور کھلاڑیوں کو نہیں دی جاتی۔ وریندر آپنے جیسے کھلاڑیوں کو انصاف دلوانے کے لئے جدوجہد بھی کر رہے ہیں۔