ماٹی کہے کمہار سے، منسكھ لال 'مٹی كول' بنا دے موہے

0

ماٹی کہے کمہار سے تو کیا روند موہے

اک دن ایسا آئے گا میں رودوگي توو و ہے

ہندی کےمشہور شاعرریداس کے اس دوہے کو گجرات کے ایک چھوٹے سے شہرواںكانیرکے رہنے والے منسكھ لال پرجاپتی نے نئی شکل دی ہے۔ آپ جیسے جیسے پرجاپتی کہانی پڑھتے جائیں گے آپ آپ کے سامنے مٹی کی نئی دنیا آشکار ہوتی جایاگی۔

ایک وقت تھا کہ منسكھ لال پرجاپتی اپنی سسرال والوں کو آتا دیکھ ہائی وے کے کنارے واقع اپنی چائے کی دکان کے کونے میں سمٹكر خود کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے تھے۔ زندگی کے 48 سال پارکر چکے منسكھ زندگی کے بہت سے امتحانوں میں شکست کھا چکے تھے۔ طالب علمی کے زمانے میں دسویں امتحان پاس نہ کر پانے کے بعد انہوں نے مزدوری کرنی شروع کی۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لئے ایک چھوٹی سی چائے کی دکان کھول لی۔

اپنی سسرال والوں کے سامنے سڑک کے کنارے چائے فروخت کرنا انہیں اچھا نہیں لگتا لگتا۔وہ کہتے ہیں، ' میرے سسرال والے مجھ سے بہت بہتر پوزیشن میں تھے۔ ان کے کھلونے بنانے کا خود کا کاروبار تھا اور میں یہاں چائے بیچ رہا تھا۔ ان کے سامنے میں بہت شرمندگی محسوس کرتا تھا۔'

شرمندگی یہی احساس انھیںآگے بڑھنے کے لئے اکساتا رھا۔ انہیں زندگی میں کچھ کرنے کے لئے حوصلہ اسی ملا۔ آج وہ ایک کامیاب اور نامور کاروباری ہیں۔ وہ ریفریجریٹر، پریشر کوکر، نان سٹک پین سمیت روزمرہ کے کام کاج کے بہت سے گھریلو مصنوعات کو بنانے کے کاروبار میں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ ان تمام چیزوں کو مٹی سے تیار کرتے ہیں۔ 'مٹی كول' کے نام سے تیار کی گئیں یہ اشیاء نہ صرف ماحولیات کے لئے بےضرر تو ہیں ہی، پائیدار اور بہت سستی بھی ہیں۔

سب سے زیادہ مشہور مصنوعات مٹی کے ریفریجریٹر کی ہی مثال لے لیجئے، جس کے وہ اب تک 9 ہزار سے زائد پیس ملک بھر میں فروخت چکے ہیں۔ 3 ہزار روپے سے کچھ زیادہ کی قیمت والا یہ ریفریجریٹر صحیح معنوں میں غریب کے گھر کا فرج ہے۔ پرجاپتی کہتے ہیں کہ پیسے والا تو کچھ بھی خرید سکتا ہے لیکن غریب کے لئے ایک فرج خریدنا بہت ٹیڑھی کھیر ہے۔ اس لئے میں نے سوچا کہ کیوں نہ ایک ایسی چیز تیار کروں جو غریب سے غریب شخص کی پہنچ میں ہو اور وہ خرید کراس کا استعمال کرسکے۔

مٹی کے اس فرج کے اندر کا درجہ حرارت کمرے کے درجہ حرارت کے مقابلے میں تقریبا آٹھ ڈگری کم رہتا ہے۔ اس میں سبزیاں چار دن اور دودھ دو دن تک تازہ رہتے ہیں۔ یہ 15 انچ چوڑا، 12 انچ گہرا اور 26 انچ لمبا ہے، جسے آرام سے باورچی خانے میں یا گھر کے کسی بھی کونے میں رکھا جا سکتا ہے۔ زیادہ تر خریدار اسے باورچی خانے میں سلیاب پر رکھنا پسند کرتے ہیں۔

یہ فرج ایک سادہ سائنسی اصول پر کام کرتا ہے، جس میں بخارات کو ٹھنڈا کرنے کا عمل شامل ہے۔ مٹی کے اس فرج کی چھت، دیوار اور نچلے حصے میں بھرا ہوا پانی بخارات میں تبدیل ہوکر اسے ٹھنڈا رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ اس طرح سے اس دو حصّوںو میں تقسیم فرج میں رکھی سبزیاں اور کھانے کا سامان طویل عرصے تک تازہ اور ٹھنڈا رہتا ہے۔

پرجاپتی نے فرج اور دیگر گھریلو مصنوعات صرف سادہ مٹی سے بنائے۔ ان کے باپ دادا کمہار تھے اور انہوں نےدیکھا کہ مٹی سے بنی مصنوعات کی اہمیت کو پلاسٹک کی بنی ہوئی اشیاء کے سامنے کم ہوتی گئی- ہندوستان میں بڑھتے ہوئے گلوبلائزیشن کی وجہ سے بہت سےمٹی کے کاریگروں کو اپنا آبائی کام چھوڑنے کے لئے مجبور ہونا پڑا۔ پرجاپتی کے والد بھی ان میں سے ایک تھے۔وہ بتاتے ہیں، 'میرے والد نے بھی کمہار کا آبائی کام چھوڑ کر گھرچلانےکے لئے مزدوری کرنی شروع کر دی تھی۔،

پرجاپتی نے نہ صرف اپنے آبائی ہنر کو نئی زندگی دی بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ ہاتھ کے کاریگروں کے لئے اب امید کی کرن باقی ہے۔

چائے کی دکان سے ریفریجیٹر بنانے والے کاروباری تک کا سفر طئے کرنا اسان بھی نہیں تھا-

تقریبا ایک سال تک چائے کی دکان چلانے کے بعد انہوں نے ایک ٹائل بنانے کے کارخانے میں کام کیا، جہاں ان کی شخصیت میں سوئی ہوئی کمہارکی پشتینی خصوصیات دوبارہ جاگیں۔ '' وہاں کام کرتے وقت مجھے محسوس ہوا کہ میں آبائی طور پر تو کمہار ہوں اور اگر مٹی سے ٹائلیں بن سکتی ہیں تو دیگر مصنوعات کیوں نہیں بن سکتیں۔ ''

1989 میں 24 سال کی عمر میں انہوں نے مٹی کے ساتھ اپنے تجربات کو کرنا شروع کئے۔ شروع میں انہوں نے مٹی سے نان سٹک پین بنانے کی کوشش کی اورآہستہ آہستہ وہ کئی طرح کی تجربے کرنے لگے۔

فی الحال ان کے مصنوعات اتنے کامیاب ہیں کہ گاہکوں کے مطالبے کو پورا کرنے اور مٹی کے ہزارہا مصنوعات تیار کرنے کے لئے انہوں نے کئی فیکٹریاں شروع کی ہیں۔ پرجاپتی کی تیار کی گئی بڑی مشینیں چند لمحات میں مٹی کو سینکڑوں کی تعداد میں مصنوعات میں ڈھال دیتی ہیں، جس سے وہ بڑھتے ہوئےمطالبے کو مقررہ مدت کے دوران ہی پورا کر سکیں۔ فی الحال ان کا کاروبار 45 لاکھ روپے سالانہ سے زیادہ ہے اور ان کے پاس 35 سے زیادہ لوگ کام کررہے ہیں۔

ان کا سفر اتنا آسان نہیں تھا۔ اس کام کو شروع کرنے کے لئے انہیں 19 لاکھ روپے کا قرض لینا پڑا تھا۔ ابتدائی ناکامیوں سے پریشان ہوئے بغیر انہوں نے اپنا سفر جاری رکھا اور لوگوں کی حوصلہ افزائی کے بعد وہ ایک کے بعد ایک کامیاب مصنوعات بناتے گئے۔

ان مصنوعات کی شوہرت نہ صرف ہندوستان میں بلکہ بیرون ممالک بھی ہو رہی ہے۔ اس سال کے بنائے مصنوعات افریقہ کے لئے برآمد ہوئے ہیں اور انہوں نے دبئی کے لیے مٹی کے بنے 100 فرج کی پہلی کھیپ بھی بھیجی ہے۔

گھریلو مصنوعات کی کامیابی کے بعد اب پرجاپتی مٹی سے بنے ایک گھر کی تعمیر کرنے کی سمت میں محنت کر رہے ہیں، جسے وہ مٹی كول گھر کے نام سے دنیا کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔ یہ مٹی سے بنا ایک ایسا گھر ہوگا جو قدرتی طور پر موسم گرما میں ٹھنڈا اور موسم سرما میں گرم رہے گا۔

جہاں تک ان کے سسرال والوں کی بات ہے تو آج وہ پرجاپتی کی کامیابی سے بہت خوش ہیں اور ان پر فخر کرتے ہیں۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem