انویسٹ کرناٹک اور اسٹارٹپ سے سماجی ترقی ہوگی: رتن ٹاٹا، کرش گوپالكرشن اور کمار منگلم بڈلا

0

انویسٹ کرناٹک شروع ہونے سے چند منٹ قبل ٹاٹا گروپ کے چئرمین رتن ٹاٹا نے یور اسٹوری سے کہا کہ ہمیں پالیسی سے باہر نکل کر اسٹارٹپ اور صنعتوں کی مدد کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی کے اعلان سے زیادہ اس سے ہونے والے فوئد کی جانچ ضروری ہے۔

دو روزہ اس پروگرام میں کرناٹک حکومت کا ہدف 1 لاکھ کروڑ روپے جوٹانا ہے۔ اسٹاٹرٹپ تو توجہ کا بنیادی مرکز ہے ہی ساتھ ہی اس میں دوسرے سیکٹروں جیسے خلائی ٹیکنالوجی، دفاع، جیو ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ سے متعلق علاقوں سے آئے کے نمائندے بھی ہیں۔

رتن ٹاٹا کا کہنا ہے کہ ملک میں 'اسٹارٹپ' لفظ جب مقبول ہوا تھا اس سے پہلے ریاست میں کئی چھوٹی كپنياں کام کر رہیں تھیں۔ انہوں قریب 25 ابتدائیہ کاروباروں میں سرمایہ کاری کی ہے۔ انہوں مزید کہا کہ کرناٹک کو اپنی توجہ صحت کی خدمات اور سماجی اثرات ڈالنے والی کمپنیوں پر کرنا چاہئے۔ رتن ٹاٹا نے کہا، "بینگلور اور اس کے آس پاس ہی ساری خدمات فراہم کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔"

شہری ترقی کے وزیر وینكيا نائیڈو نے ان کی بات پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ترقی کچھ شہروں تک ہی محدود نہیں رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ- "رتن ٹاٹا نے انتروپرینيور کے ایک معیار طے کر دیے ہیں میں سوچتا ہوں کہ کرناٹک میں سرمایہ کاری اور اسٹارٹپ ہندوستان میں ایک دوسرے کی تکمیل ہوں گے۔"

انفوسس کے سابق سی ای او گوپال كرشن کا کہنا ہے کہ ٹیلنٹ کے بل پر ریاست میں سرمایہ کاری آ رہی ہے۔ میں نے اب تک جتنے بھی بین الاقوامی رہنماؤں سے ملاقات کی ہے، ان کو کرناٹک آنے کے لئے کہا ہے۔ یہاں سٹارٹپ اور آئی ٹی سے بھی ہٹ کر لوگوں کے پاس کئی مواقع ہیں۔''

آدتیہ برلا گروپ کے چئرمین کمار منگلم برلا نے یور اسٹوری سے کہا کہ ان کی توجہ کرناٹک میں خوردہ، مینوفیکچرنگ، سیمنٹ کے ساتھ ساتھ ابتدائیہ کاروبار پر ہے۔ انہوں نے کہا، ''ہم 50 سالوں سے ریاست کے ساتھ تعاون کر رہیں ہیں کرناٹک میں مزید سرمایہ کاری کرنے کے لئے ہم اب بہت سے لوگوں سے بات کر رہے ہیں اس لئے اس بارے میں فی الحال کچھ کہنا ابھی جلدی ہوگا۔"

برلا نے کہا کہ وہ ریاست میں بہت ہی قریب سے ڈیجیٹل علاقے سے منسلک ابتدائیہ کو دیکھ رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ "ہم نے بینگلور میں ای کامرس اور ڈیجیٹل کمپنی میں سرمایہ کاری کی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ریاست میں اسٹارٹپ ہماری توقع سے بھی زیادہ ترقی کریں گے۔''

ریاست میں سرمایہ کاری کے بارے میں برلا نے کہا کہ کرناٹک صحیح سمت کی طرف آگے بڑھ رہا ہے کرناٹک کی توجہ مکمل ریاست کی ترقی پر ہے، صرف چنندہ شہروں پر نہیں۔ موجودہ حکومت کے میک ان انڈیا پروگرام پر انہوں نے کہا، "میں اس بات کے لئے پرامید ہوں کہ ہندوستان میں مینو فیکچرنگ سیکٹر کی ترقی کے امکانات کافی روشن ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں توجہ مرکوز کر ہندوستان تیزی سے ترقی کی جانب آگے بڑھ سکتا ہے۔ "

وزیر اعلی سدھا راميا نے اس سال یہ واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ کرناٹک میں زیادہ سرمایہ کاری آئے۔ انہوں نے کہا کہ "ریاست میں ترقی کے امکانات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ انویسٹ کرناٹک سے اس سال صرف بنگلور کا ہی نہیں بلکہ ریاست کے بڑے علاقے کی ترقی کرہوگی۔ "

ریاست کے وزیر آر وی دیش پانڈے نے پرجوش لہجے میں کہا "کرناٹک ہندوستان کی ایک بڑھتی ہوئی معیشت ہے اور یہ دنیا میں اسٹارٹپ اور تبدیلی کا مرکز بھی ہے۔" ریاست کچھ تكنيكی خدمات کے معاملے میں دوسری ریاستوں کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہے۔ کرناٹک کی کل آبادی 6.5 کروڑ ہے۔ اس میں سے 1.3 کروڑ لوگ آئی ٹی سیکٹر میں کام کرتے ہیں۔ یہاں کی ترقی کی وجہ سے تقریبا 2 کروڑ لوگوں کو بالواسطہ طور پر روزگار ملا ہوا ہے۔ یہاں پر تقریبا 50 لاکھ کارکن ہیں۔

وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا،- "اس صحتمند مقابلہ کے ماحول سے ملک کی معیشت کی ترقی ہوگی۔ شفافیت کے معاملے میں جس ریاست کا ٹریک ریکارڈ اچھا ہو جائے گا، جیت اسی کی ہوگی۔ "

بنگلور گزشتہ تین سالوں سے پانی کی قلت، بجلی کا مسئلہ اور ٹریفک کی پریشانی سے دو چار رہا ہے۔ باوجود اس کے ہر روز اس شہر میں تین نئے اسٹارٹپ شروع ہوتے ہیں۔ کرناٹک کے ' ٹائیر 2' شہروں میں پانچ سو اسٹارٹپ کے کام کر رہے ہیں۔ ریاستی حکومت کے لئے ضروری ہے کہ وہ سرمایہ کاری کے معاملے میں دوسرے شہروں پر بھی توجہ دے اس کے لئے یونیورسٹیوں کے ساتھ سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے۔ ایسے میں بنگلور کے ساتھ دوسرے شہروں میں بھی ترقی ہوگی تو ریاست کی ترقی کی شرح یکساں رہے گی۔