اردو ایکسپو ۔۔۔ احساس کو تازگی بخشتی ایک نمائش

0

سینٹرل پبلک ہائی اسکول کے طلباء کی نمائش

اردو کی ایک ہزار سال کی کہانی

ڈرامہ، تقریر، میک اپ شاعری، مصوری اور دیگر فنون کا فیوجن

دنیا کی کچھ زبانیں اپنے آخری دور میں ہیں، ایسا خوف کچھ اردو والوں کو بھی ہے، لیکن جس نے بھی ہونہار اور ذہین اردو طلباء کی اس نمائش کو دیکھا، وہ اپنے اس خیال کو ترک کر دے گا کہ اردو کا نام بھی دنیا کی دم توڑتی زبانوں کی فہرست میں ہے۔

حیدرآباد کے پرانے شہر میں واقع سینٹرل پبلک ہائی اسکول کے تقریبا 50 طلباء اردو کی ایک ہزار سال پرانی کہانی کو جگر ہال(عابڈس، حیدرآباد) میں منعقد اس ایکسپو میں پیش کر رہے تھے۔ حیدرآباد میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی نمائش کہی جا سکتی ہے، جسے ڈرامہ، تقریر، میک اپ شاعری، مصوری اور دیگر فنون کا فیوجن کہا جا سکتا ہے۔

عام طور پر ایکسپو کسی تجارتی موضوع پر ہو سکتا ہے، لیکن اردو کا ایکسپو کیسا؟ یہ جاننے کے لئَے بھی اس نمائش میں آنے والوں کی تعداد کافی زیادہ تھی۔ جو لوگ آئے ان کو مایوس نہیں ہونا پڑا۔ امیر خسرو لے کر، میر، غالب، اقبال تک بہت ساری باتیں بتاتے ہائی اسکول کے بچّے اور ان کی پیشکش کافی متاثركن تھی۔

اس نمائش کے روح رواں اور سینٹرل پبلک ہائی اسکول کے ڈائركٹر ظفراهلو فہیم نے بتایا کہ ان کے اسکول میں 900 طلباء پڑھ رہے ہیں اور سب کے سب پہلی زبان کے طور پر اردو پڑھ رہے ہیں۔ کسی کو اس بات کے لئے کمتری کا احساس نہیں ہے کہ وہ اردو پڑھ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ''ہم نے دیکھا کہ بہت سے اسکول اردو کو پہلی زبان کے طور پر پڑھانے سے ہچکچا رہے ہیں، اس پرواہ کئے بغیر ہم نے اردو کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھانا شروع کیا اور آج حالات اچھے ہیں۔''

نمائش کے دوران خاص باتیں دیکھی گئی کہ ہائی اسکول کی لڑکیاں اردو زبان کے بارے میں اپنی بات رکھنے میں کافی پر جوش ہیں۔ یہ تصویر اس بات کا حوصلہ بخشتی ہے کہ ماں کی گود میں جب تک زبان زندہ رہے گی، اس کی عمر بھی طویل ہوگی۔

اس ایکسپو کو تیار کرنے میں اردو کی ٹیچر فریدہ بیگم اور حمیدہ بیگم کا رول کافی اہم رہا ہے۔' یور اسٹوری' سے بات کرتے ہوئے دونوں ٹیچروں نے بتایا کہ اس کی تیاری وہ ایک سال سے کر رہی ہیں۔ تین سے چھ ماہ تو بچوں کو تیار کرنے میں ہی لگ گئے ہیں۔ پہلے اس کا نام 'اردو ہے جس کا نام' رکھنے کی تجويز آئی، لیکن بعد میں اردو کے ایک صحافی نے اس کو اردو ایکسپو کا نام دیا۔

یقیناً اس طرح کے ایکسپو نئی نسل میں اردو زبان کے بارے میں جاننے اور پڑھنے کا حوصلہ بڑھانے میں کارگر ثابت ہوں گے۔ اس کی افتتاحی تقریب میں حیدرآباد کی بہت سے نامور شخصیات موجود تھیں، جن میں اردو اخبار سیاست کے ایڈیٹر ذاہد علی خان بھی شامل تھے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories