خوف کے سائے میں شعاعِ اُمید صباء حاجی

ایک خاتون کے آہنی عزم کی داستان....ایک جذبہ صباء کو سطح زمین سے 8 ہزار فٹ اونچائی پر بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کی تحریک دیتا ہے....حاجی پبلک اسکول ابتداء ہی سے پُرجوش دیہاتیوں کے تجسس کا مرکز رہاہے۔....شروعات میں والدین کھڑکیوں سے جماعتوں کے اندر جھانکنے کے لئے قطاریں لگاکر اپنی باری آنے کا انتظار کرتے دکھائی دیتے تھے.... ان کےلئے بچوں کو واقعتاً علم حاصل کرتے دیکھنا ایک کمیاب منظر تھا۔اب یہ بچے 'لارڈ آف دَ رِنگس' پڑھتے ہیں اور ٹرنٹینو کے مکالمات کو سنتے ہیں۔ 

0

زندگی خوف اور امید کے درمیان اپنا سفر طے کرتی رہتی ہے۔ کبھی خوف غالب آجاتا ہے اور کبھی امید غالب آجاتی ہے۔

2008 کی بات ہے ۔ صباء حاجی اپنے دفتر میں مایوسی کے عالم میں بیٹھی امرناتھ میں شروع ہوئے فسادات کی آگ کو جموں۔کشمیر تک پھیلتے دیکھ رہی تھیں۔ اپنے پیدائشی مقام جموں کے ایک چھوٹے سے ضلع ڈوڈا کے بارے میں انہیں اخبارات کے ذریعے جو کچھ معلوم ہو رہا تھا، وہ ان کے رونگٹے کھڑے کردینے کے لئے کافی تھا۔ "میں نے اپنے گھر فون کیا تو وہاں تمام لوگ مستقبل کے اندیشوں میں گھِرے تھے۔ میری والدہ نے صرف اتنا بتایا کہ لوگوں کا ایک بھاری ہجوم ہمارے گاؤں کی طرف بڑھتا چلا آرہا ہے۔"

کے پی ایم جی میں ایک آڈِٹ ٹرینی کے طور پر کام کر رہی صباء نے فوراً اپنے ابائی شہر کی طرف کوچ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وہ یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں،" میں نے بنگلور میں اپنا سامان سمیٹا اور 2008 کی سردیوں میں کچھ سال یہاں گزارنے کا ارادہ لئے واپس ڈوڈا آگئی۔"

پہاڑی اور دور دراز علاقے کے روپ میں جانے جانے والے ڈوڈا کی اپنی ایک تاریخ، ثقافت اور روایت ہے۔ اس جگہ پانی کا حصول اپنے آپ میں ایک چیلینج ہے۔ ایسی جگہ زندگی گزارنا بھی جگر گُردے کا کام ہے۔ ایک ایسی جگہ جو شہری لوگوں کی نظر میں ایک دور دراز مقام اور پہاڑی علاقہ ہے، وہاں کے دیہاتیوں نے صباء کے خاندان سے اس علاقے میں ایک اسکول کھولنے کے لئے رابطہ کیا۔ "میرے چاچا ضرورت مند لوگوں کو وقتاً فوقتاً پیسے بھیج کر ان کی مدد کر تے رہتے ہیں۔ انہوں نے مجھ سے اور میری والدہ سے پوچھا کہ کیا ہم اسکول چلاپانے میں کامیاب ہوپائیں گے؟ ہم بھی اپنے گاؤں کے لوگوں کی مدد کرنے کے خواہشمند تھے۔ لہٰذا ہم نے ایک چھوٹے اسکول سے شروعات کرنے کا فیصلہ کیا۔"یوں پہاڑیوں کے بیچ آباد اس چھوٹے سے گاؤں بریسوانا میں حاجی پبلک اسکول کا قیام عمل میں آگیا۔

پیچیدہ اور رکاوٹیں کھڑی کرنے والی لال فیتہ شاہی سے نبرد آزما ہونے کے باوجود حاجی پبلک اسکول ہر سال کامیابی کے نئے ریکارڈ بناتا رہا ہے ۔ ڈوڈا کے بچوں کو تعلیم دینے کی ذمہ اُٹھانے کی وجہ دریافت کرنے پر صباء کہتی ہیں،"گاؤں کے سبھی بچوں کو خواندہ اور تعلیم یافتہ بنانے کی پہل گزشتہ 30 برسوں میں کسی نے نہیں کی اور نہ ہی اس سمت میں کسی نے کوئی قدم اُٹھایا۔ ہمارے یہاں کے کئی بچے درجہ دوم کے بچوں کے مقابلے میں بھی کہیں دکھائی نہیں دیتے۔"

ملک کی دیگر ریاستوں کے تعلیم یافتہ اور خاندانی افراد کی طرح جموں کشمیر لے تعلیم یافتہ اور خاندانی لوگ بھی ایک عجیب احساس کا شکار ہیں۔ صباء اس تعلق سے کہتی ہیں،"یہاں کے تعلیم یافتہ لوگ دیہی علاقوں میں جاکر وہاں کے بچوں کو تعلیم دینے کے بارے میں سوچتے بھی نہیں ہیں۔ میں نے اس خلیج کو پاٹنے کے لئے ملک بھر میں رضاکاروں کی ایک بہتر اور مقصد کے تئیں وقف فوج تیار کی ہے۔"

مکمل طور پر رضاکاروں پر منحصر ہونے کے علاوہ ان کے سامنے سب سے بڑا چیلینج رضاکاروں کو ڈوڈا کے مشکل اور دوردراز ماحول میں رہنے کے لئے رضامند کرنا ہے۔ وہ کہتی ہیں۔" اسٹافنگ یعنی عملہ سازی ہماری سب سے بڑی مشکل ہے۔"

خطرات سے کھیلنے کا جذبہ لے کر یہاں آنے والے نوجوان کئی مرتبہ یہاں پورے سال رُکنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ "ایک مرتبہ آپ ذہنی طور پر یہاں رہنے کے لئے تیار ہوجائیں تو پھر یہ رہنے کے لئے ایک شاندار جگہ ہے۔ ہمارے ابتدائی رضاکاروں میں سے ایک اب ہمارے اس ادارے کے ڈائرکٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔"

ہمیشہ کی طرح کھُل کر بولنے والی صباء یہ بھی کہتی ہیں،"میرے خاندان پر نظر ڈالی جائے تو اس میں کئی ایسے افراد بھی ہیں جو سرکاری ملازمت کے لئے ضروری تعلیمی لیاقتوں کے حامل ہیں۔ " پتا نہیں کیا وجہ ہے کہ جموں کشمیر کے شہریوں کی زندگی میں مسلسل جمود گھَر کر گیا ہے۔

"جموں کشمیر میں کام کرنے کا طریقہ بالکل الگ ہے۔ میں جانتی ہوں کہ میری یہ بات بہت سے لوگوں کو ناگوار لگے گی لیکن میرا ماننا یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس کوئی کام ہے تو آپ کو اس کام میں خود کو جھونک کر خوشی خوشی وہ کام کرنا چاہیے۔ لیکن یہاں ایسا نہیں ہے۔ یہاں کے لوگ یا تو

'بعد میں کریں گے' کہہ کر کام کو ٹال دیتے ہیں یا آپ کے کام کو دوسروں پر ٹرخانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں کے اکثر لوگ اپنے کام کے تئیں خود کو وقف نہیں کرتے۔ اور یہی ایک بات ہے جو مجھے ناگوار گزرتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہاں اچھا کام کرنے والے لوگ نہیں ہیں لیکن ایسے لوگ تعداد میں بہت کم ہیں۔ کام کو ٹالنا یہاں کے لوگوں کی ذہنیت بن چکی ہے۔"

حاجی پبلک اسکول ابتداء ہی سے پُرجوش دیہاتیوں کے تجسس کا مرکز رہاہے۔ شروعات میں والدین کھڑکیوں سے جماعتوں کے اندر جھانکنے کے لئے قطاریں لگاکر اپنی باری آنے کا انتظار کرتے دکھائی دیتے تھے۔ انک ےلئے بچوں کو واقعتاً علم حاصل کرتے دیکھنا ایک کمیاب منظر تھا۔ صباء کہتی ہیں۔"ہم ریاستی نصاب کے تحت تعلیم دیتے ہیں۔ لیکن ہم اس میں تجربات کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے پاس مختلف ثقافتوں اور ملکوں سے تعلق رکھنے والے اساتذہ موجود ہیں۔

" دنیا کے کئی ممالک سے مدد ملنے کے بعد اب حاجی پبلک اسکول کا اپنا ایک کتب خانہ بھی ہے۔ ہمارے رضاکار اپنی صنعت ، ثقافت اور ادب لے کر بچوں کے درمیان آتے ہیں اور یہاں کے بچوں کو ان سب سے واقف کرواتے ہیں۔ کچھ برس قبل یہ حالت تھی کہ یہاں کے اکثر بچے اپنی مادری زبان میں پڑھنا بھی نہیں جانتے تھے اور اب وہ پوری طرح بیدار ہیں۔ " کسی غیر ملکی سے ملاقات تو چھوڑئے، یہاں کے بچوں نے پہلی بار کسی ہندو سے ملاقات کی ہے۔"

مذہب اور فرقوں کی فرسودہ سیاست کے بیچ جھولتے جموں میں اب بھی ہندوؤں اور مسلمانوں کے بیچ تناؤ صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ صباء کہتی ہیں،" حالانکہ دونوں فرقوں کے بیچ کڑواہٹ نہیں ہے لیکن بھید بھاؤ اب بھی صاف محسوس ہوتا ہے۔ جب ہمارے رضاکاروں نے یہاں آنا جانا شروع کیا تو بچوں کو محسوس ہوا کہ یہاں کچھ غلط ہورہا ہے۔ "

لیکن جب ایک مرتبہ بچے روایتی طور پر'بیرونی' لوگوں کے طور پر جانے جانے والے لوگوں کے ساتھ گھُل مِل گئے تو اس طرح کے فرسودہ خیالات بھی زیادہ دیر تک ٹِک نہیں پائے۔ "اب یہ کیفیت ہے کہ اگر یہ بچے اپنے گھر میں کسی کو مذہبی امتیاز پر مبنی باتیں کرتے ہوئے سنتے ہیں تو انہیں روکتے ہیں اور سمجھاتے ہیں۔

اپنے طلباء کی اسی ثقافتی بالیدگی پر صباء کو سب سے زیادہ فخر محسوس ہوتا ہے۔ اب یہ بچے 'لارڈ آف دَ رِنگس' پڑھتے ہیں اور ٹرنٹینو کے مکالمات کو سنتے ہیں۔ "ہم اس بات کا پورا دھیان رکھتے ہیں کہ ایسا کچھ بھی نہ کروایا جائے جو کسی کی دل آزاری کرتا ہو۔ اس لئے ہم کچھ چیزوں پر سنسر شپ رکھتے ہیں۔ خصوصی طور پر اپنے یہاں بچوں کو وقتاً فوقتاً دکھائی جانے والی فلموں کے انتخاب کو دوران!

لیکن یہ چھوٹا سا دیہی اسکول ایک تعلیمی ادارے کے سائنسی مقاصد کی تکمیل کرتے ہوئے اپنے طلباء کو ان کی زندگی کی اہم ضروریات کے بارے میں سکھاتا ہے۔ اس اسکول کے لوگ اپنے بچوں کو سوال پوچھنا اور اپنے دل کی بات مکمل خود اعتمادی کے ساتھ دوسروں کے سامنے رکھنا سکھاتے ہیں۔ صباء کہتی ہیں،" کئی باریہ بھی ہوا ہے کہ اگر والدین نے کچھ کہا تو بچوں نے ان سے سوالات کئے اور یہ ایک مثبت تبدیلی ہے۔ "وہ مزید کہتی ہیں،"اس کے علاوہ ہمارے پاس بچوں کے لئے کئی طرح کے کھیل بھی ہیں۔ پہاڑوں میں زندگی گزارنے کے دوران یہ بچے جسمانی اعتبار سے زیادہ چُست ہوتے ہیں۔ نیز پہاڑوں میں میدانی علاقوں کی طرح ہموار اور سپاٹ زمین بھی نہیں ہوتی۔ "

2014 میں فیفا ورلڈ کپ کے دوران دنیا کے باقی حصوں سے تقریباً 8 ہزار فٹ کی اونچائی پر فٹ بال کھیلنے کے لئے صباء کی اسکول کے بچوں نے ایک پہاڑی کو پیدل پار کیا اور کامیابی کے ساتھ کھیل کر دکھایا کہ وہ کسی سے کم نہیں ہیں۔

صباء مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہتی ہیں ،" میں نے کبھی محکمہ تعلیم کے افسران کو اسکول کا دورہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا لیکن کاغذی کاروائیوں کی خانہ پُری کرنے کے لئے انہوں نے کاغذوں پر دورہ کر رکھا ہے۔ "

ان کا ماننا ہے ریاست کی اسکولوں کی اس بری حالت کی ایک بڑی وجہ حکومتی سطح پر افسران کو جوابدہی کا احساس نہ ہونا ہے۔ یہاں تک کہ تناؤ بھرا ماحول نجی اسکولوں کے لئے بھی ایک چیلینج سے کم نہیں ہے۔ نوکر شاہی کا کام اپنی الگ رفتار سے چلتا ہے اور سرکاری ملازمین بغیر رشوت لئے کوئی بھی کاغذی کاروائی کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے ۔ وہ کہتی ہیں،" کسی بھی سیاسی بدلاؤ کے ساتھ ہی سرکار بھی معلق ہوجاتی ہے اور ساری کاغذی کاروائی پتا نہیں کہاں اَٹک جاتی ہیں؟"

گزشتہ 8 برسوں کے دوران خاطی سرکاری ملازمین سے لڑنے اور انہیں سزا دلانے میں کامیاب ہونے کی وجہ سے حاجی پبلک اسکول کی سربراہ صباء آس پاس کے علاقوں میں بھی کافی مشہور ہوچکی ہیں۔ خوش قسمتی سے صباء کے والد جو گاؤں کے سرپنچ بھی ہیں، انہوں نے اپنی بیٹی کا یہ روپ دیکھ کر سرکاری کاموں کو پورا کروانے کا بیڑہ خود اُٹھایا ہے۔

آج بھی ملک کے نونہالوں کو تعلیم دینے کا ذمہ مایوس کُن حد تک سُست اور غیرکارکرد طریقے پر کام کرنے والے اسکولی تعلیم اور شعبہ خواندگی کے تابع ہے۔ صباء کہتی ہیں،" ہمیں کئی مضحکہ خیز قوانین کی پابندی کرنی پڑی ہے۔ مثلاً آپ ایک بے وقوف بچے کو فیل نہیں کرسکتے ۔ اگر ایک بچہ پڑھائی میں اچھا نہیں کر پارہا ہے اور اس کے سرپرست اس بچے کو اسی جماعت میں دوبارہ پڑھوانے کے لئے راضی ہیں تو ایسی صورت میں حکومت کیوں مداخلت کرتی ہۓ؟دراصل ایسے بچے کو اگلی جماعت میں داخلہ دینا فضول ہے کیوں کہ وہ اپنی پچھلی پڑھائی ہی ٹھیک ڈھنگ سے کر پانے کے لائق نہیں ہے۔"

اسی طریقے سے وسائل سے محروم علاقوں میں پڑھائی میں کمزور بچوں کو اگلی جماعتوں میں پاس کرکے خواندگی کی شرح کو کاغذ پر بڑھانے کا کام کئی نسلوں سے ہو تا آ رہا ہے۔

نئی راہوں اور نئی امیدوں کے ساتھ صباء کو امید ہے کہ وہ مزید بچوں کو اپنے ساتھ جوڑنے میں کامیاب ہو پائیں گی۔ حالانکہ اب بھی ان کا سب سے بڑا خواب اپنی ریاست کے نوجوان گریجویٹس میں بیداری پیدا کرکے انہیں دیہی اور چھوٹے شہروں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو خواندہ بنانے کے لئے تحریک دینا ہے۔

"اس جگہ ڈاکٹر یا انجنئر بننا ایک بہت بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے اور اگر آپ ڈاکٹر یا انجنیر بننے کے بعد یہاں کے لوگوں کے لئے کچھ کرتے ہیں تو اس سے بہتر کچھ نہیں ہوسکتا ۔ یہی ایک جذبہ ہے جو یہاں کے اکثر لوگوں میں مفقود ہے۔ حالانکہ ملک میں اچھے کالجوں کی کمی نہیں ہے پھر بھی لوگ پڑھنے کے لئے بیرونِ ملک جانا پسند کرتے ہیں۔ جموں کشمیر میں بنیادی تعلیم کی حالت اچھی نہیں ہے۔ کسی کو بھی یہاں کے اسکولوں کی پرواہ نہیں ہے اور باہری لوگوں کے لئے تو یہاں اسکولیں قائم کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ "

جموں کشمیر میں ہونے والے اچھے کاموں کی طرف کسی کی نظر نہیں جاتی۔ یہ ریاست کچھ بُرا ہونے پر فوراً سُرخیوں میں آجاتی ہے لیکن ہندوستان کا تاج کہلائی جانے والی اس ریاست کی زمینی حقیقت بالکل اُلٹ ہے۔ صبائ ہنستے ہوئے کہتی ہیں۔ "یہ سب بالکل بکواس ہے۔ میڈیا اور گاؤؤں کے بیچ کوئی رابطہ نہیں ہے۔ ان کے لئے کشمیر بالکل الگ جگہ ہے۔ ہماری نظروں میں ہم وہ پاسبان ہیں جن کی اپنی ایک ثقافت ہے۔ یہاں کئی دہشت گردی نہیں ہے اور ہم سیاسی طور پر اچھوت ہیں۔ میڈیا کا دھیان بھی اس علاقے کی طرف تب ہی جاتا ہے جب خصوصی طور پر سرحد سے لگے علاقوں میں کچھ ہوتا ہے۔" صرف چناؤؤں کے دوران ہی جموں کے گاؤں اور شہر جوثقافت اور وراثت میں کشمیر سے بالکل الگ ہیں، بیدار ہوتے ہیں۔

سیاست داں کھُل کر ہم پر پیسہ لُٹاتے ہیں۔ یہ دیہاتی لوگوں کے لئے ایک نیا تجربہ ہوتا ہے کیوں کہ ان کا پالا کبھی اتنی نقد رقوم سے نہیں پڑا ہوتا ہے۔ اگر آپ ان سے چناؤ کا مطلب دریافت کریں گے تو وہ کہیں گے' ہمیں پیسہ ملتا ہے۔'

حالانکہ یہ علاقہ اکثر پر سکون رہتا ہے لیکن کبھی کبھی ماحول بگڑنے پرعلاقے کے سرپنچ آپس میں ملتے ہیں اور سماجی ایکتا بنائے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ "گاؤں کے لوگ اپنے موبائل فون پر کئی طرح کی ڈراؤنی باتوں کو پڑھتے ہیں جن سے افواہیں پھیلتی ہیں اور لوگوں میں ڈر اور دہشت پیدا ہوجاتی ہے۔ ہمیں ان لوگوں کو ان باتوں پر یقین نہ کرنے کے لئے سمجھانا ہوتا ہے۔ لیکن ایسی حالت میں اسکول متاثر ہوتا ہے۔ ڈوڈا کافی پرسکون جگہ ہے اور یہاں کچھ نہیں ہوتا۔ "

لیکن کشیدہ ماحول کی وجہ سے کئی رضاکاروں کے سرپرست اپنے بچوں کی سلامتی اور تحفط کی خاطر فکرمند ہوجاتے ہیں۔ صباء مذاقاً کہتی ہیں،" ڈوڈا ، بنگلور کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ محفوظ جگہ ہے۔" حالانکہ وادی کشمیر کے اکثر علاقوں نے پریشانیاں اور دکھ درد جھیلے ہیں لیکن جموں کے ڈوڈا جیسے کئی علاقے اب بھی اس بھیانک تشدد اور ہنگاموں سے خود کو بچائے رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔

"میرا ہمیشہ سے یہ ماننا رہا ہے کہ صرف بڑی عمارتیں ہی اسکول نہیں ہوتیں بلکہ ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر بھی اچھی تعلیم حاصل کی جاسکتی ہے۔ ہمیں ضرورت ہے تو صرف اچھے معلمین کی۔"

حاجی پبلک اسکول کو ملنے والی مالی امداد اور آمدنی کا 70 فیصد سے زائد حصہ تو ملازمین کی تنخواہوں میں چلا جاتا ہے اور باقی کتابیں خریدنے میں خرچ ہوجاتا ہے۔ صباء کے چاچا اور حاجی امینہ چیریٹی ٹرسٹ کے بانی ںاصر حاجی اسکول کے ملنے والی امداد کا زیادہ تر حصہ دیتے ہیں۔ " لوگ ہمیشہ اپنی حیثیت کے مطابق ہماری مدد کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے تعاون سے ہم ایک کتب خانہ تعمیر کرنے اور اس کی دیکھ بھال کرنے میں کامیاب ہوپائے ہیں۔"

حاجی پبلک اسکول میں بچے صرف ساتویں جماعت تک ہی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد یہ لوگ کوشش کرتے ہیں کہ یہاں سے کامیاب ہوچکے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لئے اچھے اسکولوں میں داخلہ مل سکے اور انہیں ایسے بورڈنگ اسکولوں میں بھیجا جاسکے جو ان بچوں کے سر پرستوں کے لئے بھی مالی اعتبار سے مناسب ہو۔

فی الحال اسکول کے پاس گاؤں کے ہی کشیدہ کاری میں تربیت یافتہ مرد و خواتین پر مشتمل عملہ ہے جن میں سے اکثر کچھ عرصہ پہلے تک انگریزی کا ایک لفظ بھی نہیں بول سکتے تھے۔ رضاکاروں کے لئے بھی تربیت کا عمل اتنا ہی سخت ہے۔ ہماری ترجیح بچے ہیں او راگر آپ یہاں صرف تین مہینوں کے لئے آرہے ہیں تو آپ کیوں اپنی تمام تر صلاحیتیں اس میں جھونک نہیں دیتے ؟ زیادہ تر رضاکار نوجوان ہیں جو دوسروں کی مدد کرنے کو تیار رہتے ہیں۔

صباء دو ٹوک الفاظ میں کہتی ہیں،" مجھے موسم، حالات یا گھر کا رونا رونے والے لوگوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہم آپ کو کھانے کے علاوہ رہنے اور مزہ لینے کے لئے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں۔ اگر آپ ایک خاتون کی مدد کرنے کے ارادے سے یہاں آنے کا سوچ رہے ہیں یا آپ اپنے باغی تیوروں کو پرسکون بنانے کے لئے گاؤں میں آنے کا خیال کر رہے ہیں تو یہاں بالکل نہ آئیں۔ ہمیں اپنے بچاؤ کے لئے آپ کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک دو مرتبہ ہم ایسے معاملات سے دوچار ہوچکے ہیں اور یہ نہایت بھدا لگتا ہے۔ ہمیں ایسے لوگوں کو یہاں سے چلے جانے کو کہنا پڑ تا ہے۔"

آج سے 8 برس قبل صباء نے کیا کبھی خواب میں بھی دور دراز علاقے میں ایک پہاڑی کے دامن میں اسکول چلانے کے بارے میں سوچا تھا؟

"میں نے تو کبھی ڈوڈا میں رہنے کے بارے میں بھی نہیں سوچا تھا۔ ہم متوسط طبقے کے زمین سے جُڑے لوگ ہیں جو ہمیشہ ہی دیہی پس منظر کے ساتھ جُڑے رہے ہیں۔"

تو صباء کے لئے یہ کسی نئی جگہ جانے جیسا نہیں تھا بلکہ کئی برسوں تک دبئی اور بنگلور میں وقت گزارنے کے بعد یہ ان کے لئے گھر واپسی سے کہیں زیادہ اہم اور جذباتی معاملہ تھا۔صباء کہتی ہیں،" میرے سبھی رشتہ داروں کے بچے آج میرے طلباء ہیں۔ یہ میرے ایسے رشتے دار ہیں جن کا تعلیم سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا اور یہی میرے اوران کے درمیان کا اہم فرق ہے۔ یہ صرف میں ہی جانتی ہوں کہ وہ لوگ اپنے بچوں کو تعلیم دلاکر انہیں کچھ بنتا ہوا دیکھنے کے لئے بے قرار ہیں۔"

یہ ایک جذبہ صباء کو سطح زمین سے 8 ہزار فٹ اونچائی پر بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کی تحریک دیتا ہے۔