1 لاکھ روپئے سے 100 کروڑ روپئے تک : ایک اسٹارٹپ کی ذاتی کوشش سے فطری ترقی

0

اپنی مدد آپ کرنا کبھی پُرجوش طریقے سے قابل پسند راستہ نہیں ہوا کرتا، لیکن یہ بالکلیہ درست ثابت ہوسکتا ہے۔ کسی یونٹ کی معاشیات پر بھرپور توجہ مرکوز کرنے سے کئی ’صحیح‘ کاروباری فیصلے ہوسکتے ہیں۔ بلاشبہ شرح ترقی کا سست رہنا یقینی ہے جیسا کہ ہم مندی کے دنوں کے سواء20 فی صد کی ماہ بہ ماہ اوسط شرح ترقی درج کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں، لیکن یہ بھروسہ مند اور حقیقی قدر والی ترقی رہے گی۔

ہم نے 2011ءمیں ٹھیک ایک لاکھ روپئے کا شخصی سرمایہ اس کمپنی (Mirraw) میں مشغول کرتے ہوئے شروعات کی۔ ہم نے عمودی ’جویلری‘ کا انتخاب کیا اور اس زمرے میں بہت آگے تک گئے۔ واحد زمرے میں ایک سال تک بڑھوتری کے بعد ہم نے وہی کنزیومر پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ساڑیوں، شلواروں اور دیگر دیسی طرز کے زمروں تک فطری توسیع کی۔ ان فروختوں سے حاصل ہونے والے فوائد اگلے ماہ کیلئے مارکیٹنگ کے چارہ کے بطور استعمال کئے گئے۔ مارکیٹنگ اور جدت پسند کوششوں کے مثبت فوائد نے ہماری ترقی کو فروغ دیا اور اب چار سال سے اسے استقلال سے آگے بڑھایا ہے۔ فی الحال ہم رواں مالی سال کا اختتام جملہ آمدنی میں زائد از 100 کروڑ روپئے کے نشانے پر کریں گے۔

ہمیں پتہ نہیں کہ ہم کس حد تک صحیح یا غلط رہے، لیکن یہی چیز ہمارے لئے کارگر ثابت ہوئی۔

لاگتوں میں کٹوتی

یہ واحد سب سے بڑا اور سب سے مشکل کام ہے کہ انجام دیا جاسکے۔ ابتدائی دنوں میں اس کا مطلب رہا کہ کئی کام ازخود کیا کریں، چھوٹے تنگ گوشوں میں بیٹھنا اور دو شفٹوں میں کام کرنا۔ ہم خود ڈیولپرز ہونے کے ناطے ہمیں کم از کم پہلے سال کسی ڈیولپنگ ٹیم کو ادائیگی نہیں کرنا پڑا۔ ادائیگی پر سرویس کے تمام امکانات ختم ہوجائیں تو آپ تمام مفت کے کاموں کو تلاش کرنے کے جتن کرتے ہیں، متبادل ذرائع کھوجتے ہیں اور آپ اسے کام میں لاتے ہیں۔ یہ جان کر عجیب معلوم ہوتا ہے کہ ادائیگی والے کس قدر کاموں کی آپ کو درحقیقت ضرورت نہیں ہوتی یا آپ کوئی مفت متبادل آسانی سے تلاش کرسکتے ہو۔

ایسا مرحلہ آتا ہے جب آپ کو لازمی طور پر پیڈ سرویسز حاصل کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے لئے وہ مرحلہ تب آیا جب ہمیں فی الواقعی بڑی تعداد میں کسٹمرز حاصل ہورہے تھے اور اس میں بہتری کے لئے سرویس درکار تھی۔ ہم کسی سرویس کی حقیقی ضرورت کو حقیقی آمدنی کے ساتھ اس کی تلافی کرتے ہوئے حق بجانب ٹھہرایا کرتے۔ مثال کے طور پر ملازمت سے متعلق معلومات کے لئے ادائیگی تب معقول ہوتی جب ہمیں چھ ماہ میں تقریباً 50 افراد کی خدمات کی ضرورت ہوتی۔ فنڈ پر مبنی طریقہ عمل میں آپ منصوبہ بندی کے بغیر خریداری کا شکار ہوسکتے ہیں (ہمیں خدمات کے حصول سے متعلق تمام تر معلومات سامنے رکھنا چاہئے کیوں کہ آخر تو ہمیں بہترین ٹیلنٹ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ سوچ و فکر کے معاملے بالکل یکسو ہوجائیں)۔

ان باتوں کے باوجود کسی اسٹارٹپ کیلئے افرادی قوت میں سرمایہ لگانا بہت اہم ہوتا ہے۔ لیکن آپ کو ہر ملازم میں پیسہ کی حقیقی قدر ڈھونڈ نکالنے کے قابل بھی ہونا چاہئے۔

آر او آئی پر مبنی مارکیٹنگ، برانڈ کے طریقے سے گریز

جیسے جیسے آپ کی ترقی ہوتی ہے پیڈ مارکیٹنگ کے کئی طریقے سامنے آتے ہیں۔ آپ اخباری اشتہارات اختیار کرسکتے ہیں، یا ٹی وی ریڈیو اشتہارات، اسپانسرشپس، اگزبیشنس وغیرہ۔ آپ کو مطمئن کرنے کے لئے لوگ مامور ہوتے ہیں کہ ایک ہورڈنگ لگانے پر آپ اگلے Amazon بن جائیں گے۔ مخصوص کاروباری نشان اختیار کرنا یا برانڈنگ کی بڑی قدر ہوتی ہے لیکن ہمارے لئے یہ ہمیشہ مشکل معاملہ رہا ہے۔ لہٰذا ہم اس طرح کے مشکل اقدامات سے ممکنہ حد تک دور رہے ہیں۔ ہم نے ہماری مارکیٹنگ کی کوششوں کے ہر پہلو کو خوب ٹٹولا، اور ابتدائی دنوں میں برانڈنگ کے لئے کوئی گنجائش نہ تھی۔ خرچ کئے گئے ہر پیسہ کو دگنا یا زیادہ کرکے حاصل کیا گیا۔ اس رجحان نے ہمیں ہماری مارکیٹنگ کے طریقوں کا بھرپور فائدہ اٹھانے پر مجبور کیا، اس کے برخلاف کہ تبدیلی کے عنصر پر نظر رکھے بغیر یونہی آگے بڑھا جائے۔

اِدھر اُدھر خرچ کے لئے فاضل رقم نہ ہونا آپ کو ہر فیصلہ جامع طور پر انجام دینے پر مجبور کرتا ہے۔ ہم کئی چھوٹے تجربات کرتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ کیا چیز کارگر ہورہی ہے اور پھر اُس کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اب ہم برانڈنگ پر رقم خرچ کرتے ہیں لیکن ضروری احتیاط کے بعد ہی ایسا کرتے ہیں۔

پراڈکٹ پر بھرپور توجہ

جب آپ اگلے ماہ میں فروغ پذیری کے لئے اضافی رقم نہیں جٹا سکتے ہیں تو آپ کے پاس اپنے پراڈکٹ میں بہتری لانے کے سواءکوئی متبادل نہیں ہوتا ہے۔

آپ نئے نئے استعمالات کھوجتے ہیں جو کسٹمر پسند کرے گا، نئی راہیں نئے متبادل تلاش کرتے ہیں جنھیں ہنوز کھوجنا ہے، پراڈکٹ کے نئے زمرے ترتیب دیتے ہیں تاکہ آپ کے ذخیرہ میں اضافہ کیا جائے۔ ڈاٹا کے ٹھوس تجزیہ کو بروئے کار لاتے ہوئے صارف کے رجحان کو سمجھنے سے زبردست فائدے ہوسکتے ہیں۔ یہ پیش رفت 100 خامیوں کو بتدریج دور کرنے کے بعد ہوگی ، نہ کہ جادوئی بٹن کا رنگ بدلنے پر۔

اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ کسٹمر کے لئے کچھ حقیقی قدر پیدا کی جائے۔ جب آپ کے مقام پر 1,000 وزیٹرز آتے ہیں اور ان میں سے آپ کو پانچ کسٹمرز ملتے ہیں تو آپ کے لئے آگے بڑھنے کے دو راستے ہیں۔ آپ اپنی مارکیٹنگ کو فروغ دیتے ہوئے 2,000 وزیٹرز حاصل کرسکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں 10 کسٹمرز تک کا اضافہ ہوگا، یا پھر آپ کوشش کریں اور سمجھیں کہ 1,000 وزیٹرز کیا چاہتے ہیں اور اپنے پراڈکٹ کو بہتر بناتے ہوئے 10 کسٹمرز تک کا اضافہ پائیں۔ دوسرا راستہ مشکل تر ہے، زیادہ وقت لگتا ہے، لیکن یقینا زیادہ کفایتی اور دیرپا ہوتا ہے۔

ہم خیال لوگ

ہم پیڈ مارکیٹنگ کے لئے کئی مارکیٹنگ ایجنسیوں سے رجوع ہوئے، اور ان میں سے کوئی بھی ایجنسی وہ ROI (ریٹرن آن اِنوسٹمنٹ) نہیں دے پائی جو ہماری ٹیم دیتی ہے۔ ان تمام کو مارکیٹ نے ان کے بڑے بڑے بجٹ کے ساتھ بگاڑ دیا ہے۔

آخرکار ہم نے جو ٹیم بنائی وہ بہت کفایت شعار ٹیم ہے جو منظم اور لاگت سے بھرپور فائدے پر مبنی ترقی پر یقین رکھتی ہے۔ درست لوگوں کو ساتھ لینا اس حکمت عملی کا کلیدی حصہ ہے۔ صاف گوئی سے کہیں تو ہم لوگوں کو اس حقیقت کے تعلق سے زیادہ پُرجوش پاتے ہیں کہ ہماری بس GMV کے مقابل نفع بخش بڑھوتری ہے۔ اس ٹیم کا ہر ممبر آسان مگر مہنگے حل کے مقابل سادہ حل سستے متبادل کی سوچتا ہے۔

کیا اس کا مطلب ہے کہ ہم فنڈ پر مبنی ترقی پر ایقان نہیں رکھتے ہیں؟ بالکل نہیں۔ کسی بزنس کو تیزی سے پروان چڑھانے کے لئے فنڈنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارا ویژن بلین ڈالر والا بزنس فروغ دینا ہے اور وہ فنڈنگ کے بغیر نہیں ہوگا۔ آپ کو فنڈنگ طلب کرنے سے قبل یہ ضرور دریافت کرلینا چاہئے کہ اس کے عوض آپ کو کیا کرنا ہوگا۔ تاحال اپنی مدد آپ کرنے کے بعد ہم ٹھیک طرح جانتے ہیں کہ ہم ہمارے فنڈز کہاں سے حاصل کرنے والے ہیں، ہم اس کے فوائد سے کس طرح نمٹنے والے ہیں، کن فیصلوں کے نتیجے میں بزنس کی حقیقی ترقی ہوگی۔

سب سے پہلے بزنس کو فروغ دیں، حقیقی کسٹمرز جٹائیں، محنت کریں اور اگر آپ ماہ در ماہ 20 تا 30 فی صد کی شرح پر ترقی کرنے میں کامیاب رہیں تو پھر اسی کو آگے بڑھائیں۔ خود سے حاصل کردہ ترقی بزنس کے لئے حقیقی اضافی قدر ہوا کرتی ہے۔

میں نے یہ بات خاص طور پر دو وجوہات کی بناءلکھی :

1۔ ای کامرس اسٹارٹپ کے وہمی گمانوں کو توڑنے کے لئے، جیسا کہ کوئی شخص فنڈنگ کے بغیر ای کامرس بزنس کی شروعات نہیں کرسکتا ہے

2۔ خواہش مند انٹریپرینرز کی ترغیب کے لئے کہ اس شعبے میں جوش کے ساتھ داخل ہوجائیں اور کسٹمر پر پہلے توجہ مرکوز کریں!

قلمکار : انوپ نائر

مترجم : عرفان جابری

Writer : Anup Nair

Translator : Irfan Jabri