ملٹی نیشنل نوکری چھوڑ کر شروع کیا مبارک ڈيلس ای کامرس اسٹارٹپ

نعیم اختر کو شروع سے ہی رہی تجارت میں نام کمانے کی خواہش

0



جنہیں کاروبار کر اپنے پیروں پر کھڑا ہونے اور دوسروں کے لئے روزگار فراہم کرنے کی خواهش ہو، بھلا ان کا دل ملازمتوں میں کس طرح لگے گا۔ وہ ملازمتوں سے تجربہ تو حاصل کرتے ہیں، لیکن وہاں مستقل رہنے کو ترجیح نہیں دیتے۔ بجا پور میں پلے بڑھے اور شمالی کرناٹک کے مختلف شہروں میں ملازمت کرنے والے نعیم اختر بھی ایسے ہی لوگوں میں سے ایک  ہیں، جنہیں اپنی کامیابی کی منزلیں اپنے ذاتی کاروبار میں تلاش کرنے کا شوق ہے۔ انہوں نے ایسا کیا بھی۔ انہوں نے مسلم فیشن کو وقف ایک ای کامرس ویب سائٹ شروع کی ہے۔ وہ بتاتے ہیں۔

'ہندوستان کے 17 کروڑ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلے مسلمانوں میں اپنی نوعیت کے فیشن کی چیزوں کا مطالبہ بڑھتا جا رہا ہے، لیکن دنیا میں کروڑوں روپے کی تجارت کا یہ شعبہ آج بھی غیر منظم ہے۔ اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے مبارک ڈيلس نے اس خاص مارکیٹ میں قدم رکھا ہے۔'

نعیم اختر نے اپنی زندگی کی شروعات ایم بی اے کرنے کے بعد بجاج الائنز کی ملازمت سے شروع کی۔ ایک ایکزکٹیو سے شروع ہو کرانہوں نے این ایس ایم ایس یل، ایچ ڈی ایف سی اور سن ایڈیسن جسیی کمپنیوں میں ملازمتیں کرتے ہوئے منیجر تک کے عہدے کا سفر کیا۔ وہ بتاتے ہیں،

'سن ایڈیسن میں کام کرتے ہوئے میں نے بازار کے بارے میں میں خوب معلومات حاصل کی۔ یہاں کام کرنے کی کافی آزادی تھی اور اپنا مارکیٹ خود تلاش کرنا تھا۔ یہیں پر مجھے لگا کہ اب اپنا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے نکل پڑنا چاہئے۔ سنیاپ ڈیل اور فلپکارٹ جیسی کمپنیوں کے بارے میں پڑھتا رہا۔ مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ ایسا پلیٹ فارم تیار کیا جائے، جہاں مسلم فیشن کی ساری چیزیں موجود ہوں اور پھر چند دوستوں کے ساتھ مل کر میں نے مبارک ڈیلس شروع کی۔'

نعیم کہتے ہیں ای کامرس میں مسلم خاندانوں کے لئے اپنی پسند کے کپڑے کم ہی موجود ہیں۔ مبارک ڈيلس نے اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے کام کو ملک بھر میں وسعت دینے کا فیصلہ کیا۔ Mubarakdeals.com آن لائن شاپنگ ویب سائٹ ہے۔ اس پر نہ صرف عام اوقات کے لئے استعمال میں لائی جانی والی چیزیں موجود ہیں، بلکہ خاص موقعوں پر استعمال کئے جانے والے کپڑے، زیورات اور دیگر اشيا موجود ہیں۔

کمپنی کے سی ای او نعیم اختر بتاتے ہیں کہ مسلم خواتين اپنی پسند کی چیزوں کو آسانی سے حاصل کر سکیں۔ انہیں وہ چیزیں مجبوراً خریدنا نہ پڑے،جو انہیں کم پسند ہیں۔ ان کے مطابق مسلم طرز کے لباس کا کاروبار 2015-16 میں 230 ملین ڈالر کا تھا۔ اس 2019 تک ملین327 ڈالر تک بڑھے گا۔ ان کا ویب سائٹ دنیا کی مسلم بستیوں میں اپنی شناخت بنا کر اپنا کاروبار بڑھانا چاہتا ہے۔

نييم اختر کے مطابق ہندوستان میں خواتین جب اپنی پسند کے کپڑے تلاشتی ہیں تو انہیں صرف 10 فیصد اتمنان ہوتا ہے۔ کم کوالٹی والا فیبرک، سلائی میں خامياں، ایمبرائڈری میں بھداپن جیسی کئی باتیں انہیں اپنی پسند کی چیزیں تلاش کرنے میں کافی وقت سرف کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ ڈیزائنر بازار بھی لباس کے ڈیزائن میں مسلم خواتین کی پسند کی جانب زیادہ توجہ نہیں دیتا۔

در اصل نعیم اختر کا رجحان شروع سے ہی کاروبار کی جانب تھا، لیکن والدین نے انہیں اس کی اجاجت نہیں دی اور کہا کہ جب پچیس چھبیس سال کے ہو جاؤ تو اس بارے میں سوچنا۔

'والدین کو ڈر تھا کہ میں کاربار کے چکر میں پڑ کر تعلیم ادھوری چھوڑ دوںگا۔ لیکن آج میں نے نہ صرف ملازمتوں کا تجربہ رکھتا ہوں، بلکہ اپنا کاروبار پھیلانے کا پلان بھی میرے پاس ہے۔ شروعات ہوئی ہے۔ مجھے امید ہے کہ آہستہ آہستہ کاروبار آگے بڑھےگا۔'

مبارک ڈیلس ان دنوں بینگلور سے کام کر رہا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان بھر میں وہ گاہکوں تک پہنچ پائیں۔ بہت جلد وہ کمپنی میں 10 نئے ملازموں کا تقرر کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں۔

' اس وقت ویب سائٹ پر حجاب، ابایا، شیروانی، کرتا پائجاما، زیورات، عطر، حج اور عمرہ کٹ جیسے اشیا موجود ہیں۔ اہستہ اہستہ اس فہرست میں اضافہ کیا جائےگا۔

نعیم  اختر نے جب ملازمت چھوڑی ان کی تنخواہ 50 ہزار تھی۔ ایسی ملازبت چھوڑ کر تجارت کی جانب آنا حوصلے کا کام ہے۔ وہ اس بات سے خوش ہیں کہ بچپن سے اپنے کاروبار کے بارے میں جو سوچ تھی آج اس کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ملاہے۔ محنت اور لگن سے آگے کی منزلیں طَئے کی ہوں گی۔

ویب سائٹ۔ مبارک ڈیلس

 .....................

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں...

میری توجہ امیر بیوی بننے پر مرکوز ہے... گرافک ڈیزائن کمپنی کی بانی سائفا شبیر کی کہانی

جیسے پریوں کی کہانی ہو... 'اسٹاگرام'

کالج ڈراپ آؤٹ ششانک نے لکھی کامیابی کی نئی کہانی


كہانياں مجھے وراثت میں ملی ہیں. ماں، باپ، چچا، چاچی،خالہ، پھوپھی، نانی دادی، سب کی مختلف کہانیاں تھیں. اسی وراثت کو پاس پڑوس، دوست رشتہ دار، نکڑ، گلی، محلہ، شہر، ملک اور بیرون ملک کے چہروں میں چھپی کہانیوں کے ساتھ ملا کر پیش کر رہا ہوں۔ پسند آئے تو مسکرانا ضرور۔

Related Stories