شوہر کی بیوفائی نے بنایا سدیشنا کو کامیاب تاجر

0

چھوٹی موٹی مصیبتوں سے گھبراکر روتے بیٹھ جانے سے زندگی نہیں ہوتی، بلکہ اسے جینے کا حوصلہ پیدا کرنا پڑتا ہے۔ کولکتہ کے ایک تعلیمی خاندان میں پیدا ہونے والی سدیشنا بنرجی آج ایک انجینئرنگ کمپنی کی سربراہ ہیں اور ملک کی کئی معروف کمپنیوں کو خدمات دے رہی ہیں۔ ایک معمولی گھریلو خاتون سے اسکول ٹیچر بننے اور اس کے بعد ایک کمپنی کی سربراہ کے عہدے تک ان کی کہانی ان خواتین کے لئے ایک مثال ہے جو اپنی خود اعتمادی برقرار رکھ کر جینا چاہتی ہیں۔

سدیشنا نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک شخص سے محبت ہوئی اور انہوں نے شادی بھی کر لی۔ ان کا یہ فیصلہ حالانکہ ان کے لئے بڑی غلطی ثابط ہوا لیکن، انکی کامیابی کا راستہ بھی یہیں سے کھلا۔

شادی کے بعد سدیشنا کو پتہ چلا کہ ان کے شوہر کے دوسری عورتوں سے بھی تعلقات ہیں۔ انہیں اس وقت بڑا صدمہ ہوا جب معلوم ہوا کہ ان کے شوہر کے ساتھ تعلقات رکھنے والوں میں ان کی ایک ساحلی بھی ہےاور اس سلسلے سے ان کا ایک بچہ بھی ہے۔ اس کے بعد بےاولاد سدیشنا نے ایک بڑا فیصلہ لیا۔انہوں نے اپنے شوہر سے طلاق لے لیا۔

اس دوران سدیشنا ایک مقامی اسکول میں ٹیچر کی ملازمت کر رہی تھیں۔ شوہر کا ساتھ چھوڑنے کے بعد سدیشنا کے سامنے سب سے بڑا سوال سر چھپانے کے لیے ایک چھت کا انتظام کرنا تھا۔ سدیشنا نے کافی مشقت کے بعد ایک کرائےکا گھر لےلیا اور جدوجہد اور محنت سے بھرا اپنا سفر شروع کر دیا۔

ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے سدیشنا بتاتی ہیں، '' اس زمانے میں ایک اکیلی عورت کو کوئی کرایہ پر گھر دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا۔ مجھے اسکول سے 10 ہزار روپے کی تنخواہ ملتی تھی اور مکان کا کرایہ دینے کے بعد کئی بار ماہ کے آخر میں میرے پاس کچھ بھی نہیں بچتا تھا۔،لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور ان دقت بھرے دنوں میں بھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے۔ ''

سدیشنا نے کالج کے دنوں میں آٹوكیڈ سیکھا تھا اور اسی دوران انہوں نے اسکول کی ملازمت کے بعد ایک دوست کے انسٹی ٹیوٹ میں کمپیوٹر سکھانے کا پارٹ ٹائم کام بھی کرنا شروع کیا۔ اپنی محنت کے بل پر جلد ہی وہ اپنے دوست کے اس انسٹی ٹیوٹ میں شراکت دار ہو گئیں اور اس کا نام بدل کر 'ڈجي ٹیک ایچ آر' رکھ دیا۔ اس کام کو کرنے کے لئے انہیں سرمایہ کی ضرورت تھی، جس کا انتظام انہوں نے اپنے کچھ زیورات بیچ کر کیا۔ وہ کہتی ہیں، '' زیورات ہوتے ہی اس لئے ہیں کہ مشکل وقت میں ان کا استعمال کیا جا سکے۔ ہماری کمپنی کا بنیادی مقصد آٹوكیڈ اور اسٹائپرو ٹریننگ شروع کرنا تھا اور اس کام کو پورا وقت دینے کے لئے میں نے ٹیچر کی ملازمت بھی چھوڑ دی تھی۔ جلد ہی ہمارے سامنے ایک نیا موقع آیا جب ہمارے پاس سے ٹریننگ لے چکے کچھ لوگوں نے ہمیں مشورہ دیا کہ ہم اپنے پاس موجود کیاڈ ڈرائنگ کو ہارڈ كاپی سے سافٹ كاپی میں بدلیں۔ اس طرح سے ہم نے ڈجٹائزیشن کی دنیا میں قدم رکھا۔ ''

انجینئرنگ کی بنیادی معلومات نہ ہونے کے باوجود سدیشنا مضبوط قوۃ ارادی سے بہت ساری نئی چیزیں سیکھتی رہیں۔ اس محنت کا صلہ سدیشنا کو 2008 میں ملا۔ جب وہ ایک ٹریننگ سیشن کے سلسلے رائے پورگئیں.یہاں انہیں اسٹورٹ اینڈ لائڈ نامی کمپنی کے لئے 'ڈٹیلڈ انجینئرنگ پروجیکٹ' کی تیاری کا کام ملا۔

'' میں نے اس پروجیکٹ کو کامیابی سے مکمل کرنے کے لئے جی جان لگا دی۔ کمپنی ہمارے کام سے بہت خوش ہوئی اور اس کے بعد ہمیں مانیٹ سٹیل، جندل سٹیل اینڈ پاور کے بشمول کئی بڑی کمپنیوں سے ایسی ہی ٹریننگ اور سیمینار کے کانٹریکٹ ملے۔ ''

2011 میں سدیشنا کی تجارتی زندگی میں ایک اور خوشگوار موڑ آیا جب انہوں نے اپنی کمپنی کو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کر اس کا نام پی ایس ڈجيٹیک ایچ آر کر۔ اسی وقت ان کی کمپنی اے سی سی سیمنٹ کی مانيٹرگ پارٹنر بنی۔

سدیشنا یہیں نہیں رکی۔ اپنی کمپنی کی توسیع کرتے ہوئے بیرون ممالک کا بھی رخ کیا۔ انہوں نے آسٹریلیا اور دبئی میں پروجیکٹ حاصل کئے۔ اس کے علاوہ ان کی کمپنی نے سری لنکا میں آئی شدید سونامی میں تباہ ہوئی ریلوے لائن کو بھی پورا کرنے کا پروجیکٹ ہاتھ میں لیا اور کامیابی سے مکمل کیا۔

سدیشنا بتاتی ہیں کہ اب کام کے سلسلے میں وہ مہینے میں 20 دن سفر کرنا پڑتا ہے۔ '' میں کمپنی میں منیجنگ ڈائریکٹر اور صدر کا عہدہ سنبھال رہی ہوں اور مکمل طور پر کمپنی کے لئے وقف ہوں۔ مارچ 2012 میں ہماری کمپنی کی سالانہ آمدنی تقریبا ڈیڑھ کروڑ روپے تھی اور میں مستقبل میں کمپنی کے کاروبار کو 60 کروڑ روپے سالانہ تک پہنچانا چاہتی ہوں۔ ''

سدیشنا مانتی ہیں کہ ان کی کامیابی کا راز ان کا سابق شوہر ہے۔ جسے وہ دکھانا چاہتی ہیں کہ ایک اکیلی عورت بھی ترقی کر سکتی ہے اور دنیا کو جیت سکتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ یہ بھی مانتی ہیں کہ زندگی میں آئی پریشانیوں نے انہیں آگے بڑھنے کے لئے حوصلہ افزائی کرنے کے علاوہ ایک بہتر انسان بھی بنایا۔

سدیشنا کہتی ہیں کہ، '' چاہتی تو میں بھی کسی طرح ایک ٹیچر کی ملازمت کرتے ہوئے اپنی زندگی گزار سکتی تھی، لیکن میں صرف جینا ہی نہیں چاہتی تھی بلکہ شان سے جینا چاہتی تھی اور آج میں جہاں ہوں مجھے لگتا ہے کہ میں اپنے مشن میں کامیاب رہی۔''

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem