جب دیر رات کھانے کی خواہش ہو... ایم بی اے کے طلباء کی پیش کش 'سانتا ڈليورس'

0

جہاں چاہ وہاں راہ، بات بلکل سچ ہے۔ کاروبار میں امکانات کی کمی نہیں ہے۔۔۔ ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب۔۔۔ کی مثداق لگن اور محنت کے نتیجے اکثر حوصلہ افزِاء ہی ہوتے ہیں۔ ایک مثال کولکتہ کے آدرش چودھری اور ہرش كندوئی کی ہی لیجئے۔

دسمبر 2014 میں جس دن آدرش چودھری اور ہرش كندوئی کا سی اے ٹی کا نتیجہ آیا اسی دن سانتا ڈليورس (Santa Delivers) قائم ہوئی۔ اس دن آدرش بہت مایوس تھے کیونکہ امتحان کے نتائج ان کی توقعات کے برعکس آئے تھے۔ آدرش اس دن کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں، '' میں نے یقین کرنے کی کوشش کی اور مسلسل خود کو یہی سمجھاتا رہا کہ مستقبل ایک شاندار سفر کا انتظار کررہا ہے۔ میں اب کام تِئیں مرکوزہو گیا تھا اور سانتا ڈليورس کو پوری لگن کے ستھ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت دینا چاہتا تھا۔ ''

اسی دن صبح 4 بجے آدرش اور ہرش ایک اخبار بیچنے والے کے پاس پہنچے اور تقسیم کے لئے 10 ہزار پرچے (پمفلیٹ) اس کے حوالے کئے اور اس بات کا یقینی بنانے کے لئے کہ ہر پرچہ اخبار کے ساتھ ٹھیک طرح سے ڈالا جائے وہ دونوں صبح کے سات بجے تک وہیں بیٹھے رہے۔

ان کی محنت رنگ لائی اور صرف ابتدائی تین دن میں وہ ہی تقریباً 200 ارڈرو منزل مقصود تک پہنچا چکے تھے۔ ان کی فروخت مجموعی طور پر 10 ہزار روپے کی رہی۔

سانتا ڈليورس نام ہی کیوں؟

اس کے بانیوں کا خیال ہے کہ وہ بھی رات کے وقت کھانا بانٹنے والے سانتا كلاذ کے جیسے ہی ہیں۔ کولکتہ میں واقع ایک فوڈ ٹیک اسٹاتر ہے جو دیر رات کے وقت کھانے کی تقسیم میں مہارت رکھتا ہے اور شام کو 5 بجے سے ان کی تقسیم کا کام شروع ہو کر صبح کے تین بجے تک چلتا ہے۔ کوئی بھی شخص ان کے فوڈ پورٹل santadelivers.co.in پر یا پھر ان کی آرڈرايڈ ایپلیکیشن کے ذریعے کھانے کا ارڈر دے سکتا ہے۔ سانتا ڈليورس شروع کرنے میں آدرش اور ہرش کے والدین کا تعاون رہا اور انہوں نے اس میں ایک لاکھ روپے کی ابتدائی سرمایہ کاری کی۔ فی الحال یہ اسٹارٹپ 14 لوگوں کی ایک ٹیم کا ایک منظم آپریشن ہے جس میں تین ساتھی، ایک مینیجر، 5 ڈلیورے بوائے، تین خانسامے اور دو اسسٹنٹ شامل ہیں۔

آدرش کہتے ہیں، '' نہ تو ہم کھانے کے لیے آوٹ سورس کرتے ہیں اور نہ ہی ہم نے کسی دوسرے ریستوران وغیرہ کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ سب کچھ اپنے پاس ہی تیار کیا جاتا ہے۔ ''

سانتا کی آمدنی کا ماڈل پوری طرح سے کھانے کی فراہمی کے طور پر ہونے والی فروخت کی تعداد پر مبنی ہے۔ انہیں روزانہ 40 سے 45 ارڈر مل رہے ہیں جن میں سے ہر ارڈر اورستن 450 روپے کا ہوتا ہے اور اس طرح یہ ماہانہ قریب 1300 ارڈر پا رہے ہیں۔ فی الحال یہ 20 فیصد ماہانہ کی شرح سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کے پاس سبزی اور گوشت خور دونوں اقسام کے کھانے تیار کرنے کے لئے دو مختلف باورچی خانے ہیں۔

ابتدائی چیلنجوں کا سامنا

اپنے ابتدائی دنوں میں سانتا ڈليورس کو روزانہ صرف 5 ارڈر ہی مل پا رہے تھے۔ اس وقت تقریبا ایک ماہ تک اس جوڑی کو ڈلیوری کے لئے لڑکوں کی کمی کی وجہ سے خود ہی ارڈر مقررہ جگہ تک پہنچانا پڑتا۔

ہرش کہتے ہیں، '' ہمیں مسلسل مارکیٹنگ کے میدان میں کام کرنا پڑا تاکہ ہمیں ملنے والے ارڈروں کی تعداد میں اضافہ ہو سکے۔ ہم نے مختلف كالجو اور دفتروں پر اپنی توجہ مرکوز کی۔ جلد ہی ہمیں اس کا پھل بھی ملا اوراوسط ارڈرو کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔ ''

ایک بار یہ اپنے اس انٹرپرائز جمانے میں کامیاب ہوئے اسی دوران ایک اور واقعہ پیش آیا جسنے ان کی زندگی میں تبدیلی لانے میں اہم رول ادا کیا۔ ہرش اور آدرش دونوں کو نرسی موجی انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ میں داخلہ مل گیا۔ اب ان دونوں کے سامنے ایم بی اے کرنے اور سانتا ڈليورس کو بڑھانےدونوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا تھا، کافی پس و پیش کی گھڑی تھی۔

اپنے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ مشاورت کے کئی دور کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ انہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے قدم آگے بڑھانے چاہیے اور ایم بی اے انہیں ان کے اس کاروبار کو بلندی تک پہنچانے میں کرنے میں کافی مددگار ثابت ہوگا۔

سانتا ڈليورس کو ایک نئی شکل دینے کی کوشش میں انہوں نے اپنے ایک اچھے دوست پلکت کیجریوال کو اپنے ساتھ شامل کر لیا جو خود بڑی بےفراری سے ان کے اس منصوبے میں ان کا ساتھی بننا چاہتا تھا۔ فی الحال پلکت سانتا ڈليورس کا آپریشن اور مارکیٹنگ کا کام کر رہے ہیں۔

حتی کہ ایم بی اے کی تعلیم کے دوران بھی یہ سانتا ڈليورس کی ترقی کے لئے کام کررہے ہیں اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے میدان میں کام کرنے کے علاوہ پبلک ریلیشن کا کام بھی کرتے رہتے ہیں۔

آدرش اپنے اس سفر کے دوران حاصل تجربے کی بابت بتاتے ہیں، '' اس سفر کے ابتدائی 6 ماہ میں تو ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ پہلے تین ماہ تو ہم بہت زیادہ باخبررہے۔ صبر سے کام لینا پڑا اور ہر وقت ہم فون کی گھنٹی کے بجنے کا انتظار ہی کرتے رہتے تھے۔

ہمارے سامنے ہمیشہ سے ہی یہ ایک بڑی رکاوٹ تھی کہ صارفین کے دروازے پر جاکر سامان کی ڈلیوری کرنا بہت چھوٹا کام سمجھا جاتا تھا، لیکن سانتا ڈليورس نے تمام رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے ہمیں یہ احساس کرایا کہ دنیا میں کوئی بھی کام چھوٹا نہیں ہے۔ ''

اس کے علاوہ آدرش نے رہنمائی اور تکنیکی پہلوؤں میں مدد کرنے کے لئے آدتیہ اگروال، پراتیک چودھری، گورو جھنجھنوالا اور ہتیش اگروال کی بھی تعریف کرنا نہیں بھولتے ہیں۔

مستقبل کے منصوبے

فی الحال سانتا ڈليورس کولکتہ کے سالٹ لیک، Newtown، سلور سپرنگ، پھولباگان اور لیكٹان علاقوں میں آرڈر پہنچا رہا ہے۔ ان کا ارادہ پورے کولکتہ میں اپنی پہنچ بنانے کا ہے اور آنے والے تین سالوں میں یہ توسیع کرتے ہوئے پورے ہندوستان میں اپنے لئے ایک منفرد جگہ بنانا چاہتے ہیں۔

پلکت آگے کہتے ہیں، '' ہمیں امید ہے کہ اگلے مالی سال میں ہم ماہانہ 3 ہزار ارڈر کے اعداد و شمار کو چھونے میں کامیاب رہیں گے۔ اور اسی کے ساتھ ہم ماہانہ 13 لاکھ روپے کی آمدنی حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔ ''