سمون اُراؤ نے خود کو مشکل میں ڈال کر جنگل بچائے، باندھ ، تالاب و نہریں باندھیں

0

سیمون اوراؤ نے 51 گاوں کے افراد کے ساتھ مل کر علاقے کی ہریالی وشادابی کو بحال کیا –

جنگل کو دوبارہ زندگی دی –

چھ گاؤوں میں سرسبزی وشادابی واپس لوٹا کر چھ باندھ اور درجنوں نہریں کھدوائیں ۔


کچھ لوگ بھیڑ میں نہیں چلتے بلکہ بھیڑ ان کے پیچھے چلتی ہے -اس کےلیے ضروری ہے مستحکم و مضبوط ارادہ - مستحکم ارادہ رکھنے والا شخص کسی مشکل یا تکلیف سے نہیں بلکہ ٹھوس ارادے کے ذریعے اپنے اعتماد کو بڑھا تا ہےجس کی بدولت اسے منزل مقصود مل ہی جاتی ہے -اس دوران وہ اکیلا چلتا ضرور ہےلیکن پیچھے لوگوں کا کارواں اس کے ہمراہ ہوتا ہے- کچھ اسی قسم کی قابلیت والے سیمون اوراؤ ہیں۔ ان کی عمر تقریبا 81سال ہے- ان کا مقصدِ زندگی جنگلوں کو بچانا اورسوکھے علاقے میں سرسبز وشادابی بحال کرناہے۔ جی ہاں !

رانچی سے قریب 30 کلو میٹر دور بیررو علاقے میں لوگ قحط سالی اور جنگل کی کٹائی سے پریشان تھے -ایسے میں سمون اوراؤ نے کسی فرشتے کی طرح ان کی مدد کی ہر دن ہر پل انہوں نے درختوں کی دیکھ بھال ، نگہداشت کی ماحول کو سرسبزی و شادابی بخشی بلکہ نئے پودے بھی لگائے۔ انہیں اپنی نگہداشت میں پروان چڑھایا - سمون کی سخت محنت کی وجہ سے وقت نے کروٹ لی۔ نہ صرف علاقہ سرسبزوشاداب ہوگیا بلکہ معاشی لحاظ سے بھی ترقی کرنے لگا - سمون کو اس علاقے کے لوگ پیار سے راجہ صاحب کے نام سے پکارتے ہیں - چھوٹا ناگپور میں واقع سطح مرتفع کا جنگل جو جانا مانا ہے لیکن کم لوگوں کو ہی اس کی تاریخ کا علم ہے- یہ جنگل چند خودغرض افراداور مافیا کی خودغرضی کے ہتھے چڑھ گیا تھا ۔تب سمون نے اس جنگل کی حفاظت اپنی جان پر کھیل کر کی ۔عمر کی اس منزل پر بھی سمون 51گاوں کے لوگوں کے ساتھ مل کر اپنے علاقے کے جنگلوں کو بچانے کاکام کررہے ہیں -سیمون کی لگن اور محنت کی وجہ سے لوگ انہیں کسی بھگوان سے کم نہیں مانتے ہیں - جنگل کے خاتمہ کرنے والے درندوں کا سامنا تیروکمان سے کرنے والے سمین کو جیل بھی جانا پڑا -تب بھی انہوں نے ہار نہیں مانی۔

سمون اوراؤ نے یور اسٹوری کو بتایا کہ

"جنگل کو بچانے کےلیے ہم نے طے کیا کہ چاہے جو ہو جائے، جتنی بھی مشکل آئے، پیڑ نہیں کاٹنے دیں گے - درختوں کو بچانے کے چکر میں میرے خلاف کئی مقدمات دائر کئے گئے اورمجھے جیل میں بھی ڈال دیا گیا - ان باتوں سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑا - اور گاؤں والوں کی مدد سےمیں نے کچھ سخت قوائد و اصول تیار کئے - اگر کوئی ایک درخت کاٹتا ہے تو اسے پانچ یا دس درخت لگانے ہوں گے۔"

خاص بات تو یہ ہے کہ سمین اوراؤ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے اس کے با وجود وہ اتنے مضبوط ارادوں کے ساتھ تقریبا 50 سال طویل عرصے سے اس علاقے کی ترقی و خوشحالی کےلیے کوشش کررہے ہیں - سمون کی جدوجہد نےان کو اتنا مشہور کردیا ہے کہ وہ کیمبرج یونیورسٹی کی پی۔ ایچ۔ڈی کی طالب علم سارا جوائیٹ کے ریسرچ پروجیکٹ کا حصہ بھی ہیں - ساراجوئیٹ نے ریسرچ بک میں ان کے کام ونام کو شامل کیا ہے-

انہوں نے صرف جنگل ہی نہیں بچائے بلکہ اپنی محنت کے بل پر بیرو کے چھ گاؤوں میں سبزانقلاب بھی لایا ۔سننے میں یہ سب کچھ عجیب ضرور لگتا ہے لیکن یہ سچ ہے ۔جو گاؤں پندرہ سال پہلے بنجر ہوا کرتا تھا آج وہاں کسان دودو فصلیں اگاتا ہے ۔سمون کے گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں جب سرکاری افسران نے باندھ و نہر بنانے سے اپنے ہاتھ اٹھالیے تب سمون نے ہار نہیں مانی اور گاؤں والوں کے ساتھ مل کر خود ہی نہرکی کھدائی کی - اب تک وہ چھ باندھ ،پانچ تالاب اور درجنوں نہر ِیں بنوا چکے ہیں۔ -نتیجہ یہ ہوا کے جو علاقے قحط سالی سے متاثر ہورہے تھے وہاں آج کسان ترقی کررہا ہے-

سمین نے یوراسٹوری کوبتایا،

"جب میں نے باندھ اور نہر بنانے کاکام شروع کیا تو کافی تکلیف ہوئی ۔میں پورے علاقے میں گھوم کر اندازہ لگایا کہ کیسے باندھ کی کھدائی کی جاے گتاکہ پانی مہیا ہوسکے میں نے اندازہ جائے تو پانی کی رسائی وہاں تک ہوسکے گی۔ میں نے اندازہ لگایا کہ اگر باندھ کو 45 فٹ پر باندھا جائے اور اس کی گہرائی 10 فٹ رکھی جائے تب بارش کے پانی کو محفوظ کیا جاسکے گا۔"

اس ماڈل کا اپنا کر باندھ تیار کیا گیا اور نتیجہ یہ رہا کہ آج اس علاقے کے لوگ معاشی لحاظ سے ترقی کررہے ہیں- غور طلب ہے کہ سمون بابا کو ماحول کے تحفظ کےلیے کئی اعزازات بھی مل چکے ہیں ۔انہیں امریکن ماڈل آف آنر لمیٹیڈ اسٹراکنگ 2002 انعام کےلیے بھی چنا گیا -ساتھ ہی امریکہ کے بائیوگرافک انسٹی ٹیوٹ نے ان کے کام کو سراہا - جھار کھنڈ سرکار نے بھی 2008 میں ریاستِ جھارکھنڈ کے قیام کے دن ان کا اعزازی پروگرام منعقد کیا -اس کے علاوہ بھی انہیں زراعت اور ماحولیات کی خدمت کے لئے کئی اعزازات سے نوازا گیا - سمون کے نصف صدی سے زیادہ عرصے پر محیط ان کی خدمات کےلیے یوراسٹوری ان کی جدوجہد کو سلام کرتی ہے۔




تحریر: روبی سنگھ

مترجم: ہاجرہ نور احمد زریابؔ