سماجی برائیوں اور بری صحبت سے لڑکیوں کو بچانے میں مصروف ارونا

"ومكت جاتی ابھیودے آشرم" کا قیام 1992 میں کیا گیا...آشرم میں بیڈيا سماج کے 200 بچے ... بچوں کو تعلیم کے ساتھ سماجی سرگرمیوں میں شامل کیا جاتا ہے ... بہتر معاشرے کی تشکیل کی کوشش ..

0


21 ویں صدی میں رہنے کے باوجود ہندوستانی معاشرے میں آج بھی ذات پات رسم و رواج، چھوا چھوت اور بچپن کی شادی جیسی سماجی برائیاں موجود ہیں۔ سماج میں آج بھی کئی ایسی قومیں ہیں جن میں جنم لینے والی لڑکی بڑی ہو کر قحبہ گری کا کام کرتی ہیں اور اگر لڑکا پیدا ہوتا ہے تو وہ اس خبیس پیشے سے منسلک لڑکیوں کی دلالی کا کام کرتا ہے۔ ان میں سے ایک طبقہ وہ ہے جسے بیڈيا ذات کہتے ہے ۔ اسی طبقہ کی برسوں پرانی رسم کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے مدھیہ پردیش کے مرینا میں رہنے والی ارونا چاری، جو خود اسی طبقہ سے تعلق رکھتی ہے اور وہ آج اس معاشرے میں جنم لینے والے بچوں کو اس سماجی برائی سے دور رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ارونا چاری کو اس کام کی ترغیب اپنے چچا رام سنیھی سے ملی۔ جنہوں نے اپنی ایک چچیری بہن کو فحاشہ بننے سے بچایا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے طے کر لیا تھا کہ وہ اس سماجی برائی کو ختم کر کے دم لین گے۔ ان کے اس کام میں بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا ارونا چاری نے۔

ارونا آج بیڈيا سماج کے لئے مدھیہ پردیش کے مرینا میں چلائے جا رہے ومكت جاتی ابھیودے آشرم کی صدر بھی ہے، ارونا کا کہنا ہے۔''برسوں پرانی اس برائی کی اہم وجہ اس طبقہ میں ناخواندگی ہے۔ اس وجہ سے یہ لوگ سماج کے دوسرے طبقے کے ساتھ جڑ نہیں پاتے۔ ان لوگوں کی سوچ تھی کہ دوسرے لوگوں کے ساتھ اٹھ بیٹھ نہیں سکتے، جس کے باعس اصل دھارے سے کٹے ہوئے تھے۔ جن کو اب معاشرے کے ساتھ جوڈنے کا کام ہم کر رہے ہے.

ارونا چاری خود بیڈيا طبقہ سے تعلق رکھتی ہیں انہونے اپنے طبقہ کی حالت کو کافی قریب سے دیکھا تھا،ان کا خیال ہے"جو حالات دوسری لڑکیوں کے ساتھ پیش آے وہ میرے ساتھ بھی ہو سکتے تھے، اس لیے میں نے اس میں تبدیلی لانے کے لئے اپنے آپ کو تعلیم سے جوڑے رکھا، آج اسی تعلیم کے بدولت میں اس معاشرے کے لئے کچھ کرنے کے بارے میں سوچ پائی ہوں۔ "

ارونا چاری آج بیڈيا کمیونٹی کے دوسرے بچوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کا کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیڈيا کمیونٹی کے لوگ گاؤں میں نہیں رہتے بلکہ یہ لوگ گاؤں سے باہر رہتے تھے اور آج یہ نہ صرف مدھیہ پردیش میں بلکہ یوپی، ہریانہ اور راجستھان جیسے دوسرے علاقوں میں بھی مختلف نام سے رہتے ہیں۔

مدھیہ پردیش کے مرینا میں اس آشرم کا آغاز سال 1992 میں یہ سوچ کر کیا گیا تھا کہ اس کے ذریعے معاشرے کی برائیوں کو دور کیا جايگا۔ اس آشرم کے آغاز کے وقت یہاں100 بچوں کو رکھا گیا، لیکن آج یہ تعداد 200 بچوں تک پہنچ گئی ہے۔ یہ تمام بچے بیڈيا کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگرچہ شروع میں اس آشرم کو چلانے قرض بھی لینا پڑا جس کے بعد ریاستی حکومت نےآگے آ کر ان کی مالی مدد کی۔ آج بچوں کے لئے آشرم میں ہائی اسکول تک مفت تعلیم دی جاتی ہے۔اعلی تعلیم کے لئے یہ لوگ لڑکیوں کو ہاسٹل کی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں، ارونا کا کہنا ہے کہ ان کا بنیادی مقصد لڑکیوں کو بااختیار بنانا ہے، تاکہ وہ اپنی خاندانی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے ادا کر سکیں۔ آشرم میں رہنے والے بہت سے بچے یتیم بھی ہیں۔آشرم میں رہنے والی 92 لڑکیوں کی اب تک شادی ہو چکی ہے ان میں سے سات لڑکیوں کی شادی آشرم نے اپنے خرچ پر کرائی ہے۔

آشرم میں رہنے والے بیڈيا طبقہ کے بچے اپنی صبح کا آغاز پربھات پھیری سے کرتے ہے، جس کے بعد ان کو کراٹے کی تربیت دی جاتی ہے۔ ان کو ناشتہ کرایا جاتا ہے، پھر اسکول جاکر بچے اپنا سبق یاد کرتے ہیں۔ شام کو ایک بار کھیل کود اور تعلیم کا دور ہوتا ہے۔

ارونا کا کہنا ہے کہ "ہم نے بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل کود اور ثقافتی و تہذیبی سرگرمیوں سے جوڑ کر رکھا ہے۔ ان بچوں کو مختلف طرح کی ووکیشنل ٹریننگ بھی دی جاتی ہیں جن میں کمپیوٹر، ٹائپنگ اور سلائی و پکواں قابل زکر ہے۔ "آشرم میں کھیل کود پر کافی توجہ دی جاتی ہے، یہاں پر تائیکوانڈو کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ آشرم کے کئی لڑکے اور لڑکیاں قومی سطح پر ریاست کی نہ صرف نمائندگی کر چکے ہیں بلکہ 7 لڑکیوں نے قومی سطح پر گولڈ میڈل بھی حاصل کیا ہے۔ اس آشرم میں ختلف طرح کی ثقافتی سرگرمیوں کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے، جس میں یہاں موجود لڑکے لڑکیاں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر سال ہونے والے یوتھ تقاریب میں شرکت کے لئے آشرم کے بچے جاتے ہیں، اب تک کل 53 بچے قومی سطح پر کھیلوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ اس آشرم میں وہی بچے ہیں جو غریب ہیں اور معاشرے کی اس برائی سے باہر نکلنے کا موقع ڈھونڈ رہے ہیں۔

آشرم کی بدولت آج بیڈيا کمیونٹی کے زیادہ تر بچے پولیس سروس سے منسلک ہیں۔ یہاں سے تعلیم حاصل کر چکی ایک لڑکی اسپیشل برانچ میں سب انسپکٹر ہے۔ بہت سارے بچے محکمہ کیھل سے جڑے ہوئے ہیں تو کچھ ضلع پنچایت سے وابستہ ہیں، وہیں کچھ بچے دوسروں کو کھیل کی تربیت دینے میں مصروف ہیں۔ آشرم میں مل رہی تربیت اور تعلیم کو دیکھتے ہوئے بیڈيا کمیونٹی کے دوسرے لوگ بھی اب اپنے بچوں کی تعلیم کو لے کر باشعور ہو رہے ہیں۔ ارونا کا کہنا ہے کہ "آج آشرم میں پڑھنے والے بچے ہی معاشرے میں شعور بیداری کا کام کر رہے ہیں۔"

​​آشرم سے وابستہ لوگ بھی بیڑيا کمیونٹی کے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں اور سماجی برائیوں سے دور رہنے کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ آشرم کو 33 لوگوں کی ایک ٹیم سمبھالتی ہے۔ آشرم کو چلانے میں کافی مالی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ارونا کا کہنا ہے، "ہم جو تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں ویسا ہو نہیں رہا ہے۔ کھیل کی تربیت ان بچوں کو دے رہے ہیں اس کے لئے کٹ جٹانا مشکل ہو رہا ہے اسی طرح بچوں کے لئے جتنے كمپيوٹر ہونے چاہئے اتنے کا بندوبست نہیں کر پا رہے ہے ۔" ارونا اور ان کی ٹیم مالی پریشانی کے باوجود سماجی تبدیلی لانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ ارونا کا کہنا ہے کہ جب تک زندگی ہے تب تک وہ اس کام کو جاری رکیھنگی  اور وہ اس فلاحی کام کو چھوڑنے کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتی۔

ان کے ارادوں کو دیکھتے ہوے بس یہی کہا جا سکتا ہے کے انجام کا نہ سوچ آغاز کرکے تو دیکھ


 گر حوصلہ ہو بلند تو قسمت سلام کرتی ہے۔

"ومكت جاتی ابھیودے آشرم" کی کسی بھی طرح کی مدد کرنے کے لئے آپ arunachhari738@gmail.com پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

تحریر:ہریش بھشٹ

ترجمہ:محمدعبدالرحمٰن خان