بھائی کو کھونے کے بعد شروع ہوئی نوجوانوں کو منشیات سے آزادی دلانے کی تحریک

0

کہتے ہیں۔۔'نشہ سے جو ہوا شکار، اجڑا اس کا گھربار۔' ایسے میں سب سے برا اثر بچوں کا ہوتا ہے۔ ان کی دماغی حالت کا اندازہ لگانا مشکل ہوتاہے، جو روز اپنے شرابی باپ کی بری حرکتوں کو دیکھ کر بڑے ہوتے ہیں۔ جو روز اپنی ماں کو شرابی باپ کے ہاتھوں مار کھاتے دیکھتے ہیں۔

جینپو روگما ئی کی کہانی بھی کچھ اسی طرح کی ہے۔ انہیں اپنے بچپن اور نوجوانی میں بڑے تکلیف دہ دور سے گزرنا پڑا۔ ان کے والد شرابی تھے، جن کے ہاتھوں ان کی ماں اکثر مار کھایا کرتی تھی۔ معاشی مشکلات کی وجہ سے جینپو کو کالج کی تعلیم ترک کرنی پڑی اور سب سے افسوسناک بات یہ ہوئی کہ منشیات کے مسلسل استعمال سے ان کا بھائی، ڈیوڈ بے وقت ہی چل بسا۔

اس بات کی ستائش کی جانی چاہئے کہ ان مشکلات اور مصائب کا جینپو نے ہمت کے ساتھ مقابلہ کیا اور پریشانیوں کا کوئی منفی اثراب ان پر نہیں رہ گیا ہے۔ جینپو کہتے ہیں کہ یہ آسان نہیں تھا، لیکن انہوں نے صحیح راستہ منتخب کیا۔ آج وہ ایک روشن ستارا اورمشعل راہ رہنما کے طور ابھر چکے ہیں۔

تیس سالہ جینپو کمیونٹی اوینیو نیٹ ورک (CAN) کے بانی ہیں جو بنیادی طور پر نوجوانوں کی طرف سے چلائی جانے والی تنظیم ہے اور جو ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست ناگالینڈ کے سب سے بڑے شہر دیماپور میں واقع ہے۔ ایچ آئی وی، ایڈز (HIV / AIDS) میں مبتلا بچوں کو اس بیماری کے علاج سے متعلق ساز و سامان اور اخلاقی تربیت فراہم کرنے کے علاوہ CAN اور بھی کئی خدمات انجام دیتا ہے، جن میں غریب اور عام سہولتوں سے محروم نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرانا ، سماجی خدمت کے لئے مختلف کالجوں اور گاؤں سے رضاکاروں کو منظم کرنا شامل ہے۔ فی الحال جینپو بچوں کے حقوق اور خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والے 'ناگالینڈ اتحاد' نامی تنظیم کے انفارمیشن سکریٹری بھی ہیں۔

"میرا ماضی ہی میرا سب سے بڑا محرک ہے میں ہی جانتا ہوں کہ میں نے کتنی سخت جدوجہد کی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ جوان بھائی کو کھونے کا دکھ دردکیا ہوتا ہے۔ جس تکلیف اور دردناک دورسے مجھے گزرنا پڑا ہے، انہیں میں کئی نوجوانوں میں دیکھ سکتا ہوں، سینکڑوں نوجوانوں کی آنکھوں میں وہی درد، وہی دکھ اور وہی جدوجہدنظرآتی ہے۔ میں اپنے ماضی کو ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا ہوں، پل بھر کے لئے بھی بھولتا نہیں۔اور وہی مجھے اس سمت میں آگے بڑھنے کے لئے حوصلہ بخشتا ہے!

جینپو ایکومین انڈیا کے 2015 کے لئے قائم ٹیم کے فیلو ہیں. "وہ مجھے ہر تجسس پر سوال پوچھنے کے لئے حوصلہ افزائی کرتے ہیں. اس کے نتیجہ میں مجھے حوصلہ ملتا ہے۔ اب میں قیادت کا حقیقی مفہوم جان چکا ہوں۔ جینپو مزید بتاتے ہیں.کہ اس سے انہیں دوسرے ساتھی فلیوز کے سا تھ قربت حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔ایمانداری کی بات یہ ہے کہ شمال مشرق اور ہندوستان کی سرزمین کے درمیان بہت سی مسائل ہیں، لیکن دوسرے فیلوزکے ذریعہ ان مسائل سے مجھے وقفیت حاصل ہوتی ہے، جو شمال مشرقی اور باقی ہندوستان کے درمیان ایک پل کی طرح کام کرتی ہے ۔

کمیونٹی اوینیو نیٹ ورک (CAN) سرگرمیوں اور اپنی زندگی پرجینپو روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کو منشیات کی لعنت کا شکار ہوتا ہوا دیکھنے کے بعد انہوں نے ان ادویات کے خلاف مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا ہے، "اسکول تعلیم ختم کر کے نکلنے والے بہت سے نوجوانوں کو میں نے ان منشیات کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس صورت حال نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ کب تک ہم حکومت اور عام عوام کو مورود الزام ٹہراتے رہیں گے۔ کچھ ٹھوس کارروائی کرنے کا وقت اب آ گیا تھا۔ اسی خیال کے ساتھ میں نے کمیونٹی اوینیو نیٹ ورک (CAN) نامی ادارہ قائم کیا۔''

جینپو کہتے ہیں کہ محض ایک دوسرے پر الزام عائد کرنے سے ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ جب انہوں نے CAN کا آ غاز کیا تھا، اس وقت ان کے پاس روپے کی بہت قلت تھی لیکن مسئلہ کے حل کی سمت میں کچھ کرنا بھی انتہائی ضروری تھا۔ اس لئے انہوں نے اس کی شروعات میں دیر نہیں کی اور فوری طور پر کام شروع کر دیا۔ وہ بتاتے ہیں، "میں نے لوگوں کو متحد کیا اور نوعمر بچوں کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیا، خاص طور پر درمیان میں تعلیم چھوڑ دینے والے بچوں یعنی ڈرپ آوٹس کے ساتھ۔ وہ مایوسی اور ناامیدی میں جی رہے ہوتے ہیں اور مایوسی ہی انسان کو منشیات اور دیگر برائیوں تک لے جاتی ہے۔ میرا خود کا بھی یہی تجربہ رہا ہے، میں نے بھی اسکول چھوڑ دیا تھا اور جانتا ہوں کہ یہ بچے کس ڈپریشن سے گزر رہے ہوتے ہیں."

وہ ایک اور واقعہ کے بارے میں بتاتے ہیں، جس نے ان کی آنکھیں کھول دیں۔ "سن 2011 میں ایڈز کے عالمی دن کے موقع پر یہاں بہت بڑا پروگرام رکھا گیا تھا، جس میں بہت سے وزیر، ناگالینڈ اور باہر کے بہت سے معزز لوگ آئے تھے اور بہت سے رضاکار تنظیموں (غیر سرکاری تنظیموں NGOs) کے نمائندوں نے بھی حصہ لیا تھا ۔ وہاں مجھے بچوں کو ساتھ لئے ایک پریشان حال جوڑا دکھائی دیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہاں کیوں آئے ہیں اور ان کی حالت اتنی خراب کیوں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں HIV مرض لاحق ہے۔ اگرچکہ سرکاری ہسپتالوں کی طرف سے ART یعنی Anti Reroviral Therapy طبی علاج دستیاب ہو رہا ہے، لیکن ان کے پاس دوائی خریدنے کے لئے بھی پیسے نہیں ہیں۔ بچوں کو پڑھانے کا توسوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ ان کی حالت نے مجھے چونکا دیا اور میں نے لوگوں کو منظم کرنا شروع کر دیا۔ آخر ہر بچے کواعلیٰ سطح تک تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے۔"

غریبوں اور HIV / AIDS سے متاثر بچوں کی گھر پر دیکھ بھال

جینپو یتیم خانہ نہیں چلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر بچے اپنی والدہ سے محروم ہوتے ہیں یا والد سے یا پھر دونوں نہیں ہیں، "اکثر خاندانوں میں یہ ہوتا ہے کہ ماں یا باپ کے مر جانے پر بچوں کو یتیم خانہ بھیج دیا جاتا ہے۔ خاندانوں کی اپنی زندگی ہوتی ہے، زندگی میں ان کی جدوجہد اور اخراجات ہوتے ہیں تو وہ ایک زائد بچے کا بوچھ برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوتے ہیں اور اس طرح بچہ یتیم خانہ پہنچ جاتا ہے۔"جینپو بتاتے ہیں: وہ خاندان والوں سے درخواست کرتے ہیں کہ بچوں کو اپنے پاس ہی رکھیں اور جینپو بچوں کی تعلیم، کھانے پینے اور کچھ دوسرے اخراجات کو پورا کرتے ہیں۔ انہوں نے 9 بچوں سے شروع کیا تھا اور اب وہ 25 بچوں کی پرورش کر رہے ہیں۔

درمیان میں تعلیم ترک کرنے والے بچوں کو پیشہ ورانہ تربیت

جینپو دیماپورمیں خانگی ایجنسیوں سے رابطہ کر کے تعلیم درمیان میں ترک دینے والے بچوں کو تربیت فراہم کرتے ہیں۔ وہ ان نوجوانوں کی درد بھری کہانیاں بتاتے ہوئے خانگی اداروں سے ان کی مدد کی درخواست کرتے ہیں۔ "یہ کام بہت مشکل ہے کیونکہ کئی بار وہ اس خیال کو ہی رد کرتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن میں پیچھے لگا رہتا ہوں اور آخر میں انہیں مان لینا ہی پڑتا ہے اور وہ مدد کے لئے راضی ہو جاتے ہیں۔

چیلنجس

جیپنو ان بچوں کی مدد کے لئے سماج کے نمائندوں سے ملتے ہیں۔ ہو کہتے ہیں،"میں عام عوام کے پاس جاتا ہوں اور ان بچوں کی کہانیاں سنا کر امیر اور اثر ورسوخ رکھنے والے لوگوں سے مدد کی التجا کرتا ہوں۔ جب میں 40 لوگوں سے ملتا ہوں تب کہیں جاکر ان میں سے تین یا چار لوگ مدد کے لئے راضی ہوتے ہیں۔' جیپنو بتاتے ہیں کہ مالی انتظام ایک مسلسل کشمکش ہے۔ جینپو کی کوششوں کا سماج کھلے دل سے حمایت نہیں کرتا۔"میں اسے چیلنج کے طور پر لیتا ہوں۔ یہ میرا مشن ہے، میرا خواب ہے کہ میں اپنا ہدف حاصل کرکے رہوں گا۔ میں منفی رد عمل کی پرواہ نہیں کرتا۔'' جینپو نے بڑے فخر کے ساتھ ان خیالات کا اظہار کیا۔

اپنی تنظیم کے بارے میں جینپو محسوس کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس مسئلہ کے ساتھ جڑنا چاہئے۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو زمینی حقیقت کے بارے میں جاننا چاہئے کہ معاشرے میں کیا چل رہا ہے اور پھر اس سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا چاہئے۔'' جینپو اسی شعبہ میں اور اسی مشن کے ساتھ کام کرنے والے زیادہ سے زیادہ رضاکار اداروں (NGOs) کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت انہیں حکومت سے کوئی مدد حاصل نہیں ہو رہی ہے۔

جینپو مسئلہ کے سطحی حل کی جگہ اس کی جڑ تک پہنچنے میں یقین رکھتے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ لوگ تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کی بات کرتے ہیں، بے روزگاری کے مسئلہ کی بات کرتے ہیں، لیکن وہ تعلیم ادھوری چھوڑ کر اسکول سے بھاگ جانے والے نوجوانوں کی بات نہیں کرتے۔ ناگالینڈ ایک باغی ریاست ہے، یہاں بدامنی پھیلی ہوئی ہے۔ مایوسی، نا امیدی اور خواندگی کا فقدان انہیں سماج دشمن کاموں کی طرف راغب کر سکتا ہے۔ ہمیں سمجھنا چاہئے کہ درمیان میں تعلیم ترک دینا سوچ سمجھ کر لیا گیا فیصلہ نہیں ہوتا، یہاں کے حالات انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔‘‘

سنہرے خواب

جینپو کا بنیادی مقصد تعلیم اور معاشرے کے ہر طبقے کو یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔ وہ کہتے ہیں،''اگر ہم خوشحالی کی بات کرتے ہیں تو تعلیم مکمل کئے بغیر اسکول چھوڑنے والے بچوں کو، غریب اور استحصال کا شکاربچوں اور HIV / AIDS میں مبتلا لوگوں کو بھی امیر ہونے کے یکساں مواقع ملنے چاہئے۔ انہیں بھی معاشرے میں قابل احترام مقام حاصل ہونا چاہئے۔ معاشرے کے تمام طبقات کی یکساں خوشحالی کے بغیر ہمارا ملک خوشحال نہیں ہو سکے گا۔''

جینپو نوجوانوں کو فعال اور قابل بنانا چاہتے ہیں، جس سے وہ زندگی میں ترقی کر سکیں۔ کیا ان کاخواب کا شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے؟

وہ کہتے ہیں،''یہ بہت آسان نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ شروع سے ناکامیوں کے بارے میں سوچتے رہیں گے تو کوئی کام نہیں ہو پائے گا۔ میں بھرپور کوشش کر رہا ہوں۔ میرا دل کہتا ہے کہ میری کوشش ضرور رنگ لائے گی اور معاشرے میں تبدیلی آئے گی۔ ہو سکتا ہے یہ کوشش بارآور ہونے تک میں زندہ نہ رہوں، لیکن میں خوش ہوں کہ معاشرے کے ہر طبقے کی حمایت اور ان کی فعال شراکت داری کا فائدہ مجھے مل رہا ہے اور آج تمام مشمولیت اور ہر ایک کے لئے تعلیم کی بات کر رہے ہیں۔ گاؤں اور شہروں میں آج یہ لفظ ہر ایک کی زبان پر ہے اور یہ اچھی علامات ہے۔