دو نوجوانوں نے ممبئ کو ساف سوتھرا بنانے کے لئے بنایا انوکھا ایپ اور سوچھ بھارت کے لئے کی ایک نئی پہل

0

ضروری نہیں کہ آئڈيا کسی کافی شاپ میں کافی پیتے ہوئے یا ہوٹل میں من پسند کھانا کھاتے ہوئے آئے۔ ایک عمدہ آئڈيا آپ کو کبھی بھی کہیں بھی آ سکتا ہے۔ کچھ ایسا ہی ہوا ورون گرنانی اور ارون كھانچندانی کے ساتھ۔ دونوں ہی دیر رات نئے سال کا جشن منانے اپنے گھر واپس آ رہے تھے، اس دوران ورون ہاتھ میں ایک خالی کین لئے ہوئے تھا۔ جسے وہ پھینکنا چاہتا تھا اور اس کے لئے ڈسٹ بن تلاش کر رہا تھا۔ اس وقت دونوں کے ہوش اڑ گئے جب دونوں کو ممبئی جیسے شہر میں ایک پورے کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد کہیں جاکرایک ڈسٹ بن مل پایا۔ ورون کہتے ہیں، "ہم اس لئے ڈسٹ بن تلاش کر رہے تھے کیونکہ ہمارے پاس وقت تھا مگر وہ لوگ کیا کریں، جن کے پاس وقت نہیں ہے۔ ایسے لوگ شاید عام دنوں میں ایسا نہ کر پائیں۔"

اگلے دن 2016 کا پہلا دن تھا۔ ٹی ایس ای سی نامی انسٹی ٹیوٹ سے انجینئرنگ میں گریجویشن کرنے والے اس 21 سالہ نوجوان ورون کے دماغ میں ممبئی کو صاف کرنے کا آئڈيا آیا۔ایک ایسا اسٹارٹپ جوشروع ہوکر سوچھ بھارت کے کام آیا۔ دونوں ہی دوستوں نے مل کر ممبئی جیسے بڑے شہر کی ریكی کری ورون کہتے ہیں، "جہاں ایک طرف بی ایم سی برهن ممبئی میونسپل کارپوریشن شہر بھر میں 20000 کوڈے دانوں کا دعوی کرتی ہے، تو وہی حقیقت بالکل مختلف ہے۔"

جب ان لوگوں نے مقامی باشندوں سے بات کی تو جو نتائج آئے وہ چونکانے والے تھے۔ لوگوں کا ماننا تھا کہ وہ یہاں وہاں گندگی اس لیے کرتے ہیں کیونکہ شہر میں کافی کوڑے دان نہیں ہیں اور تلاش کرنے پر بھی نہیں ملتے ہیں۔

اگلے 16 دنوں میں ان دو دوستوں نے ایک ایسا ایپ کا تیار کیا، جس سے لوگ اپنے آس - پاس کوڈے دان تلاش کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان شہری کوڈے دانوں کو بھی مارک کر سکتے ہیں جنہیں پہلے نہیں تلاش کیا گیا ہے، یا پھر وہ جو کسی وجہ غائب ہو گئی ہیں۔ اس کی شروعات کرنے کے لئے دونوں شہر میں گئے اور 400 کلومیٹر کا سفر کر انہوں نے 700 گندگی دانوں کو خود ہی مارک کیا۔

اس کے بعد ورون کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب لوگ یہ بہانہ کرتے ہوئے شہر گندی نہ کر پائیں گے کہ شہر میں کوڈے دان نہیں ہے۔ اس ایپ کا نام ٹائڈی ہے اور اس اپلیکیشن کو بنانے کا مقصد کروڑوں لوگوں کی مدد اور ٹیکنالوجی سے شہر کو صاف کرنا ہے۔

کس طرح ایک نئے ڈسٹ بن کو نشان لگائیں وہ کیسے بتائیں جو اپلیکیشن پر نہیں نظر آتے۔

یہاں صارفین کو نقشے پر ٹیپ کرنا ہوتا ہے۔ جہاں بھی ڈسٹ بن ہو اس کی تصاویر کلک کریں اور ٹائڈی ٹیم کو بھیج دیں۔ یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ہمیشہ یوزر اور ڈسٹ بن کے درمیان 50 میٹر کے فاصلہ ہونا چاہئے۔ جیسے ہی ٹائڈی ٹیم ڈيٹیل چیک کر لیتی ہے یہ ڈسٹ بن اپلیکیشن پر آ جاتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہاں ہر ڈسٹ بن کو ایک يونيك نبر دیا جاتا ہے تاکہ صارف اسے آسانی سے شناخت لیں۔

اگر صارف کو لگتا ہے کہ ڈسٹ بن کو ایک مقام سے اٹھا کر دوسری جگہ پر رکھا گیا ہے تو اس حالت میں وہ ٹائڈی ٹیم اس ڈسٹ بن کا يونيك نمبر کوڈ کر سکتی ہے، تاکہ لوگوں کو اپنے ارد گرد موجود ڈسٹ بن کی صحیح لوکیشن مل جائے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ فی الحال یہ سہولت آٹومیٹڈ نہیں ہے اور اس کے لئے آرییف آئ ڈی کی مدد لی جا رہی ہے مگر اب بھی اس سمت میں بہت کام ہونا باقی ہے اور فی الحال اس کام کے لئے یہ لوگ بی ایم سی کو نہیں منا پائیں ہیں۔ ورون اور ارون بتاتے ہیں کہ فی الحال ان کے پاس کہیں سے بھی کوئی ریوینیو نہیں آ رہا ہے، کیونکہ ان کا اس اپلیکیشن کو بنانے کا مقصد لوگوں کی مدد کرنا اور بیداری لانا تھا۔ مگر اب یہ لوگ اس کے لئے ریونیو کا انتظام کرنا چاہتے ہیں۔ آج یہ لوگ کئی سارے این جی اوز سے مسلسل رابطے میں ہیں جو آگے آ کر ہر طرح سے ان کی مدد کر سکیں۔

ورون کہتے ہیں کہ "ہم نے ممبئی کے آس پاس کے تقریباً 1000 ڈسٹ بن مارک کی ہیں جن میں سے 63٪ ڈیٹا ہمیں یوزر سے ملا ہے۔ چونکہ یہ ایک سںپل ايڈيا ہے اس لئے ہم یہ نہیں چاہتے ہیں کہ اس میں حکومت کی مداخلت ہو، اور اگر لوگ ہی اسے اپنے طریقے سے کریں تو یہ ایک بہت بڑا شکل اختیارکرے گا۔

ینگ انڈیا کا خواب

ورون اور ارون نے صرف اس وجہ سے بہت سارے عمدہ ملازمتوں کی آفر ٹھکرا دیں کیونکہ انہوں نے خود کے بارے میں نہ سوچ کر پہلے اپنے ملک کے بارے میں سوچا اور اس طرح یہ دونوں اسٹارٹ اپ انڈیا سے منسلک ہوئے اور ملک کے لئے جو ان سے بن پڑا انہونے وہ کیا۔

ان دونوں کا خیال ہے کہ یہ اپلیکیشن ایک سماجی پہل ہے جو انکے مقصد کو کامیاب کرے گی ہمارا مقصد صاف شہر اور ایک صاف ستھرا ہندوستان ہے۔ ساتھ ہی ایسا کرکے ان کوایک ایسی خوشی ملیگی جو شاید کسی مستقل ملازمت سے نہ مل پائے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اسٹارٹپ موومنٹ کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور ملک میں ایک مثبت تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔

آج ورون اور ارون اس سمت میں کام کرتے ہوئے کئی اسٹارٹپس کی ویب سائٹ اور اپلیکیشن ڈیزائن کے کام میں ان کی مدد کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی ان کا یہ بھی خیال ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اسی طرح لوگوں کی مدد کرتے رہیںگے۔

ورون نے کہا کہ آج ٹائڈی سے لوگ ممبئی عوامی پیشاب خانوں کو بھی مارک کررہے ہیں، جیسے جیسے ضرورت محسوس ہوگی یہ دوسرے شہروں کے بارے میں بھی سوچیں گے۔ ان کی ٹیم اس سمت میں بھی کام کر رہی ہے کہ شہر سے جو کچرا نکلتا ہے کہ کس طرح ہوشیاری سے اس کا استعمال کر سکتے ہیں۔ ورون کہتے ہیں،'' ہمارا سب سے بڑا خواب یہ ہے کہ ہم روزانہ سامنے آنے والے مسائل کے لئے حل تلاش کریں۔"

رتحریر- سنگدھا سنہا

ترجمہ -ایف ایم سلیم

Related Stories