چھوٹے گھروں کی خواتین کی بڑی کامیابیاں

0

ایک طرف گاڑیوں کا شوروغل دوسری طرف بیوپاریوں کی آوازیں۔ ا یسے حالات میں ممبئی کے محمد علی روڈ کے پاس والے بھینڈی بازار سے گزرنا کوئی جنگ لڑنے جیسا ہے۔ یوں تو بھینڈی بازار میں ہر قسم کی خرید وفروخت ہوتی ہے ۔ یہاں گجرات و مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے مسلمان لوگ بھی رہتے ہیں ۔ اب بھینڈی بازار کے برہان اتھان ٹرسٹ کی جانب سے تبدیلی کا انتظار ہے جس نے اس جگہ کو سدھارنے اور لوگوں کے گھروں اور دکانوں کو جدید منصوبہ کے لحاظ سے تعمیر نو کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے ۔

تعمیرنو کے دوران یہاں کے خاندانوں کو دو عارضی گھروں (ٹرانزٹ ہومس) میں لے جایا گیا اور اسی ماحول نے سماج کی عورتوں کےلیے نئے راستے ہموار کئے جسکی وجہ سے انہیں گھر سے باہر نکل کر نیٹ ورک تیار کرنے میں آسانی پیدا ہوگئی ۔ ان میں سے کئی خواتین اپنا کاروبار چلانے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کررہی ہیں۔

یور اسٹوری نے اسی سوسائیٹی میں رہنے والی متوسط طبقہ کی 5 کاروباری خواتین کی زندگی سے جڑے تجربات پر روشنی ڈالی ہے۔

سکینہ واسن والا :

سکینہ زیورات کی بیوپاری ہیں۔ ایسےزیورات جنہیں وہ مختلف خواتین کی مدد سے فروخت کرتی ہیں ۔ وہ زیادہ تر واٹس اپ اور فیس بک کی مدد سے اپنے کام کو فروغ دیتی ہے ۔ سکینہ نےیہ کام تین سال پہلے شروع کیا تھا ۔ نیٹ ورک بنانے کی قابلیت ہی سکینہ کی خاصیت ہے ۔ سکینہ خواتین سے رابطے قائم کرنے کے لیے ممبئی کی لوکل ٹرینوں اور دیگر عوامی جگہوں کا استعمال کرتی ہیں ۔

اگر راستے میں کسی خاتون کو انکے پہنے زیور پسند آتے ہیں تو ان سے قیمت طے کرکے ان کا فون نمبر لے لیتی ہیں تاکہ تعلق بنا رہے ۔اکثر خواتین دوسری خواتین سے بات چیت کرتی ہیں یہاں تک کہ بس اسٹاپ پر ہوئی معمولی بات چیت بھی رابطے قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ بے شک اس کےلیے اس خاتون کا ملنسار ہونا شرط ہے۔

سکینہ 39 سال کی ہیں اور دو بچوں کی ماں بھی ہیں ۔ ایک بیٹا اور ایک بیٹی ۔

اپنی بی کام کی ڈگری اور سی ایس فاونڈیشن کورس (جو آئی ٹی شعبے میں ہے) کرنے کے بعد وہ اس بیوپار سے جڑیں۔ اس کام میں ان کے شوہر بھی انکی مدد کرتے ہیں۔

"میں گجرات کے شہر داہود سے تعلق رکھتی ہوں۔ میں وہاں ایک کلرک کی حیثیت سے ملازمت کرتی تھی۔ یہاں آنے کے بعد میں نے فاصلاتی طرزِتعلیم کی مدد سے آگے پڑھائی جاری رکھنے کی کوشش کی۔ لیکن اسے پوری نہیں کرسکی اور تعلیم کودرمیان میں ہی ادھورا چھو ڑنا پڑا۔ "

سکینہ 14 سال سے ازدواجی زندگی گزاری ہیں۔ انکے لئے سب سے بڑا چیلنج خاندانی ذمہ داریوں کو نبھانا ہے۔ خاص طور پر تب جب ان کے سسرال والے ساتھ ہوں۔

سکینہ کا کہنا ہے کہ "زندگی میں جن چیزوں سے میں محروم رہی ان چیزوں سے میری بیٹی محروم نہ رہے ۔ ہمارے سماج کے لوگ ایک ہی ٹریڈ کو فولو کرتے ہیں ۔

اگر ایک لڑکی بی کام کرتی ہے تو سبھی لڑکیاں بی کام کریں گی۔ کوئی بہتر رہنما ہماری رہبر ی نہیں کرتا جو ہمیں ہمارے فائدے سے آگاہ کرے۔ ہماری دلچسپی کو مد نظر رکھ کر مشورہ دے کہ ہمیں کونسا کام کرنا چاہئے۔ آجکل اسکولی بچے کافی امنگوں بھرے ہیں ۔ وہ مواقع کے لحاظ سے اپنے مقصد کی تکمیل میں لگ جاتے ہیں ۔ اسی لیے میں اپنی بچی کو اس کے مقصد اور خوابوں کی تکمیل کرنے میں پورا ساتھ دوں گی "۔

سکینہ کے افراد خانہ دوست احباب نے انکا ساتھ دیا جس کے لیے وہ انکی شکر گزار ہیں۔"

ماریہ جسدان والا:

48 سال کی ماریہ جسدان والا بزرگ شہریوں کو سیر و تفریح کےلیے لے جاتی ہیں۔ بھینڈی بازار سے باہر نکل کر انہیں علم ہوا کہ بزرگ شہری لگاتار درگاہوں و مندروں کی زیارت کےلیے سفر کرتے ہیں جن میں 58 سے لے کر 94 کی عمر کے لوگ شامل ہیں جو سال بھر میں ایک بڑا سفر یا دو ماہ میں ایک چھوٹا سفر کرتے ہیں ۔ اس میں حوصلہ افزائی کےلیے سفر اور زیارت کےلیے سفر دونوں شامل ہیں .

انہوں نے شروع میں بزرگ خواتین کے گھر جاکر انہیں سفر کی آسانیوں و سہولتوں سے آگاہ کیا .اب انکا بزنس کافی وسیع ہوچکا ہے۔ زیادہ تر لوگ انکی خدمات سے فائدہ اٹھا نا چاہتے ہیں .حالانکہ بزرگ شہریوں کے ساتھ بجٹ کا معاملہ بھی درپیش ہوتا ہے ۔ ایسے میں ماریہ طے کرتی ہیں کہ انہیں مناسب بجٹ میں بہتر سہولتیں فراہم کریں.

ماریہ کا کہنا ہے،

".میں اسے بزنس کی طرح نہیں دیکھتی۔ بزرگ خواتین کی خدمت کے لیے میں خود کو وقف کردینا چاہتی ہوں۔ ان خواتین کو بہترین سہولتیں ملیں اور انکا سفر خوش گوار ہو یہی میرا مقصد ہے ۔"اسکے لئے ماریہ کی بہن انکے ساتھ سفر کرتی ہیں۔وہ ان بزرگ خواتین کی صحیح دیکھ بھال کرتی ہیں۔ "سفر کے لئے اکثر ہم ائیر کنڈیشنڈ سفر کو ہی اولیت دیتے ہیں۔ کئ بار ہم ہوائی سفر بھی کرواتے ہیں۔ بزرگوں کی صحت کو مدنظر رکھ کر ادویات بھی ساتھ رکھتے ہیں یا ایسے ہوٹلوں کو اولیت دیتے ہیں جہاں ایک فون پر طبیاتی سہولت مہیا ہوسکیں۔"

ماریہ بی کام یعنی کامرس گریجویٹ ہیں ۔وہ اپنی ساس اور شوہر کے ساتھ رہتی ہیں ۔ ان کا سب سے بڑا چیلنج ہے اکیلے پن پر قابو پانا۔ اپنی جیسی دیگر کاروباری خواتین کے تعلق سے انکا کہنا ہے، "مجھے لگتا ہے کہ انہیں اپنے علم اور دلچسپی کے لحاظ سے کام کرنا چاہئے ۔ کامیابی کےلیے صرف ایک قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ کوئی کام ایسا نہیں جیسے ہم نہیں کرسکتے ۔ انسان نے کسی کام کام کو کرنے سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔ مستقبل میں میں ارادہ رکھتی ہوں کہ مرد بزرگ حضرات بھی ہمارے سفر میں شامل رہے اور بزرگ خواتین کو بیرون ملک لے جانے کےلیے بھی منصوبہ بندی کررہی ہوں

جمیلہ پیٹی والا :

جمیلہ پیٹی والا 22سال کی خاتون اور ایک بچے کی ماں ہیں۔ وہ تب سے سلائی کام کرتی ہے جب وہ جماعت 12 کی طالبہ تھیں۔ اب انہوں نے خاندان کی مدد سے 'رداس' جو ایک روایتی پوشاک ہے اس نام سے کئی شاخیں شروع کی ہیں جن میں چھوٹے درجہ پر سلائی کام ہوتا ہے ۔ جمیلہ اب جوتے گھڑیاں اور ٹی شرٹ کا کام بھی کرتی ہیں۔

وہ رداس کے لئے کپڑا ڈیزائن کرتی ہیں۔ اور انکی ساس اسے سلوانے کا کام کرواتی ہے جمیلہ کی خود کی ویب سائٹ بھی ہے جسے ڈیزائن کرنے میں ان کے فوٹو گرافر شوہر بھی مدد کرتے ہیں ۔ وہ اپنے تیار کردہ مال کی نمائش کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرتی ہیں اور وہاں تصاویر شئیر کرتی ہیں۔انکے گاہکوں کی تعداد 550_600 ہے جن میں ممبئی اور بھوپال کے لوگ شامل ہیں ۔ بی کام گریجویٹ ممبئی کی جمیلہ کہتی ہیں،

"میں اپنی بیٹی کو ایک بہتر زندگی دینا چاہتی ہوں۔ میں نہیں چاہتی کہ وہ کبھی بھی اپنی پسند کی چیز پانے میں خود کو ناکام محسوس کرے۔"

شہناز الکٹرک والا:

شہناز الیکٹرک والا پہلے ٹیوشن پڑھاتی تھیں لیکن بعد میں انہوں نے چھوٹے درجے پر ٹفن سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے شروعات بھینڈی بازار سے ہی کی۔ اب وہ بزرگ شہریوں اور کارخانوں کے ملازمین کےلیے کھانا تیار کرتی ہیں۔ وہ ٹفن کی تعداد متعین کرلیتی ہیں تاکہ وہ خود سارا کھانا تیارکرسکیں۔ انہیں کھانا تیار کرنا بہت پسند ہے۔ وہ ساری مارکٹنگ فون کی مدد سے ہی کرلیتی ہیں۔ انکو ایک بیٹی ایک بیٹا ہے۔

شہناز کا کہنا ہے،"ہم ایک مشترکہ خاندان میں رہتے ہیں اور ایسے میں یہ کام کافی مشکل تھا۔ ہمارے حالات صحیح ہونے کے باوجود میں چاہتی تھی کہ میرے بچوں کو اور بہت ساری سہولتیں ملیں اور وہ بہترین زندگی گزاریں جیسے میں گزار رہی ہوں۔ تعلیم نے لوگوں کی ذہنیت پر اچھا اثر ڈالا ہے اب سماج بیوی اور بیٹی کو اچھی نظر سے دیکھ رہا ہے۔"

زینب پیپرمنٹ والا :

زینب کو بینکنگ میں زیادہ دلچسپی تھی لیکن کھانا بنانے کے شوق نے ان کا رجحان بینکنگ کی طرف سے موڑ دیا۔ انہوں نے چاکلیٹ بنانے سے شروعات کی۔ جلد ہی انکی ویب سائٹ بھی شروع ہونے جارہی ہے ۔ وہ دھیرے دھیرے اپنے گاہک بڑھانے کےلیے انٹرنیٹ اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا کا استعمال کررہی ہیں ۔ ساتھ ہی اپنے رشتے داروں، دوست واحباب کی مدد سے بھی فون پر تشہیر کررہی ہیں ۔

انہوں نے شروع میں سادہ کیک تیار کیا۔ دھیرے دھیرے نقش کاری( ڈیزائن) والے کیک بنانے شروع کردئے۔ یہاں بھی انٹرنیٹ نے انکی کافی مدد کی ۔ بنیادی کورس کرنے کے بعد انٹرنیٹ پر پائی جانے والی معلومات اور ویڈیوز کی مدد سے انہوں نے کافی کچھ سیکھا ۔ انہوں نے فاصلاتی طرزِ تعلیم کی مدد سے اپنی تعلیم مکمل کی ۔ اس کے بعد انہوں نے ایک کمپنی میں اکاونٹنٹ ڈیپارٹمنٹ میں کام کیا ۔ انہوں نے وہاں سے بچے کی ولادت کے وقت چھٹی لی۔ ولادت کے بعد وہ گھر میں خالی وقت گزارنا نہیں چاہتی تھیں۔ انہیں خاندان کی مکمل حمایت حاصل تھی لہٰذاوہ دوبارہ کام کی طرف لوٹ آئیں۔ بچے، شوہراور خُسر کے ساتھ انکا ایک مکمل خاندان ہے۔ کام کے تعلق سے تمام ذمہ داریاں وہ خود ہی نبھاتی ہیں۔ جب کام زیادہ بڑھ جاتا ہے تو انکے شوہر بھی ان کی مدد کرتے ہیں ۔

گھر میں رہ کر کام کرنا اورخاندان کا مکمل ساتھ ہی انہیں بہتر طریقے سے کام کرنے کےلیے تحریک دیتا ہے ۔ اب وہ کام کو مزید وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہیں ۔ اسی لیے وہ بڑی بڑی کمپنیوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں ۔

زینب کہتی ہیں، "ٹکنا لوجی نے ہماری زندگی کو بدل دیا ہے۔ اگر انٹرنیٹ نہیں ہوتا تو ہمیں کئی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا۔"

حریر: ساحل

ترجمہ : ہاجرہ نور احمد زریابؔ