ہر دن بدل جاتا ہے کامیابی کا پیمانہ: ششی پریتم

ششی نے ہندی فلمیں بھی کی۔ 'عاشق، آمدنی اٹھنّی خرچہ روپيّا، رودراكش، مخبر' جیسی چھ سات فلمیں ہندی میں کی اور اپنی شناخت بھی بنائی۔ کچھ میں بیگراونڈ ميوزک دیا تو کچھ فلموں میں موسیقی کی ہدایت بھی کی

0

21 سال پہلے تلگو میں ایک فلم آئی تھی' گلابی'۔ فلم کی کامیابی کے ساتھ ہی اس کے موسیقار ششی پریتم کو بھی کامیابی کا نیا آسمان مل گیا تھا۔ لیکن بعد میں وہ فلموں سے غائب ہو گئے۔ اب وہ ایک نئی منصوبہ بندی کے ساتھ سامنے آئے ہیں، ایم فائل۔ یہ منصوبہ اپنے آپ میں منفرد بھی ہے اور دلچسپ بھی۔

موسیقار، مصنف اور گلوكار کے طور پر معروف ششی پریتم کا یہ منصوبہ راک، پاپ سمیت مختلف قسم کی موسیقی اور موسیقاروں کی حوصلہ افزائی کرنے کا نام ہے۔ششی پریتم نے گزشتہ سالوں میں کئی تیلگو اور بالی ووڈ فلموں کے لئے موسیقی کی ہدایت کا کام کیا ہے۔ اپنے ابتدائی دور کے بارے میں وہ کہتے ہیں،

 '' میں نے بہت اچھا وقت دیکھا ہے۔ رام گوپال ورما اور کرشنا ومشی کی فلم 'گلابی' میری پہلی فلم تھی۔ بہت کامیابی ملی تھی اس فلم کو۔ اتنی کامیابی کہ لوگ آج بھی پہچانتے ہیں۔ بہت سے لوگ مجھے گلابی ششی پریتم کہہ کر پکارتے ہیں۔ بہت خوشی ہوتی ہے۔ خاص طور نوجوانوں میں آج بھی اس کے نغمے سنے جاتے ہیں۔ دو تین دن پہلے کی بات ہے۔ چنئی میں کسی سے میری بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ 20 سال پہلے ان کی جب سگائی ہوئی تھی تو وہ فلم گلابی کے نغمے فون پر ایک دوسرے کو سناتے تھے اور انہی گیتوں نے ان کے درمیان رشتوں کو گہرا کیا۔ دو تین نسلوں تک میں اس فلم کے وجہ پہنچ پایا۔ ''


ششی کالج کے دنوں سے موسیقار کے طور پر کام کر رہے تھے انہوں نے کالج اور اس کے بعد بہت سے کنسرٹ کئے۔ ششی بتاتے ہیں،

''سینٹ میری کالج میں ہمارا ایک گرپ تھا۔ نوجوان میں جس طرح کے رجحان رہتے ہیں، مجھ پرماحول کا اثر تھا۔ اس کے بعد میں نے ممبئی میں ایک سال ساونڈ انجینئر کے طور پر کام کیا، پھر حیدرآباد لوٹ آیا۔ یہاں پر اسٹوڈیو لیز پر لے کر کام شروع کیا۔ تین چار سال کارپوریٹ جنگلس میں بہت مصروف رہا۔ اس میں کچھ مقبولیت مل رہی تھی، اسی مقبولیت کی وجه سے گلابی فلم ملی۔ ''

ششی نے ہندی فلمیں بھی کی۔ 'عاشق، آمدنی اٹھنّی خرچہ روپيّا، رودراكش، مخبر' جیسی چھ سات فلمیں ہندی میں کی اور اپنی شناخت بھی بنائی۔ کچھ میں بیگراونڈ ميوزک دیا تو کچھ فلموں میں موسیقی کی ہدایت بھی کی۔ اس کے بعد پھر بات آگے نہیں بڑھی۔ ششی بتاتے ہیں،

''اس کے بعد فلموں کا سلسلہ جاری نہیں رہا، فلمیں بنانے والی نئی نسل آئی اور موسیقاروں کی ٹیم میں بھی نئے لوگ آ گئے۔ میں نے اپنا راستہ بنا یا۔ کسی کو اگر میرا کام پسند آئے فلم کرنے کے لئے کہا جائے تو آج بھی کروں گا، لیکن میں نے سوچا کہ میں نئے ٹیلنٹ کو پلیٹ فارم دوں۔ اس كے لئے کام کرنا شروع کیا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا نیا کام ہے۔ ایم فائل اسی سوچ کی نئی کڑی ہے۔ ''

ششی بتاتے ہیں کہ عام طور ٹیلنٹ ہونے کے باوجود بہت سے لوگ اپنے بل بوتے پر اکیلے کچھ نہیں کر پاتے۔

''میں نے سوچا کہ مختلف صلاحیتوں کے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر انہیں جوڈو اور پھر ایک دوسرے سے حوصلہ پاکر وہ خود آگے بڑھیں گے۔ بہت سے لوگوں کو تجربہ نہیں رہتا، میں چاہتا ہوں کہ اپنا تجربہ ان کو دوں، ان کے پاس تخلیق ہے اور کچھ تازہ صلاحیت بھی، اس کے ساتھ تجربہ مل جائے تو پھر گاڑی چل پڑے گی۔ ایم فائل کے ذریعہ نئے آرٹسٹ لانچ ہوں گے، جیسے اگر وہ گانا گا سکتے ہیں تو ان کے لئے موسیقی کا انتظام، وہ موسیقی نہیں بنا پائیں گے، تو ہم ان کے لئے موسیقی بنائیں گے، اچھے نغمہ نگاروں سے نغمے لكھوائیں گے، اس طرح ان کی صلاحیت کو مشترکہ پلیٹ فارم ملے گا۔ یہ آن لائن پلیٹ فارم ہو گا، جس سے اب تک تین چار گلوکار جڑ چکے ہیں۔ ہر ماہ ایک نیا گلوکار اور ہر پندرہ دن میں ایک نیا گیت ایم فائل کا مقصد ہے۔ ''

ششی کے مطابق یہ پوری موسیقی کمیونٹی کو ایک جگہ لانے کی کوشش ہے۔ گلوکار، موسیقار مصنف، ساونڈ انجینئر اور اگر کسی کو ویڈیو بنانا ہے تو تکنیکی پہلو سے کام کرنے والے ماہر لوگ اس کے ساتھ جڑیں گے۔ لوگ چونکہ نغمے زیادہ سنتے ہیں، ویڈیو دیکھنے کا شوق رکھتے ہیں تو ان کے لئے اچھے گیت اور پھر اچھے ویڈیوز اس طرح ساز اور آواز اور ویڈیو کے ذریعے مکمل ماحول بنے گا۔ اکیڈمی نئے فنکاروں کو تربیت بھی دے گی۔

ششی کو موسیقی کا شوق بچپن سے ہی رہا ہے۔ انہوں نے بچپن میں طبلے کا امتحان پاس کیا تھا۔ کی بورڈ پر اچھی مہارت ہے، ڈھول بھی بجا لیتے ہیں۔ ٹیکنالوجی پر فر کمال رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے سارے تجربے نوجوان نسل تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں، ''میں وہ کام بہت سالوں سے کر رہا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنا تجربہ ان دوں۔ ''

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem