'نقد کی کمی سے جوجھتے لوگوں کو اپنا ذہن بنانے دیا جائے، یہ سب سے دلچسپ اور سب سے پریشانی بھرا وقت ہے'

سینئر صحافی اور عام آدمی کے لیڈر اشوتوش کے قلم سے...

0

اچانک میرے موبائل کی سکرین چمک اٹھی۔ ایک نیوز فلیش ہوئی تھی۔ وزیر اعظم ملک کو خطاب کرنے والے تھے۔ مجھے تھوڑا سا تعجب ہوا، کیونکہ سوائے بارڈر پر دوسری جانب سے ہونے والی فائرنگ کے علاوہ، جو کہ آج کل ایک عام خبر بن چکی ہے، ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا تھا، باقی سب تو ویسا ہی نارمل اور بورنگ تھا۔ میرے اندر کا ادھ مرا ایڈیٹر حیران ہو رہا تھا۔ ملک کے لئے ایسے خطاب کی کوئی خاص وجہ ہونا چاہئے۔ مجھے کوئی ایسا سبب سوجھ ہی نہیں رہا تھا۔ جیسے ہی گھڑی کی سوئی آٹھ بجے پر رکی، میں نے ٹی وی آن کر لیا۔

معزز وزیر اعظم دہشت گردی، کرپشن اور کالے دھن کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ میں اب بھی سوچنے سے خاصر تھا تبھی یہ دھماکہ ہوا۔ حکومت نے آدھی رات کے بعد سے 500 اور 1000 روپے کے نوٹ کو بند کرنے کا فیصلہ لیا تھا۔ اس کا مقصد کالے دھن کو ختم کرنا تھا۔ ہم سب تعجب میں پڑگئے۔ میں نے فوری طور پر اپنا پرس نکالا جس میں تین 500-500 نوٹ گردن اٹھائے کھڑے تھے۔ تھوڑی دیر پہلے جو میرا سرمایہ تھے، اب اچانک سے بیکار ہو چکے تھے، ایک کاغذ کا ٹکڑا بن چکے تھے ۔ وہ کاغذ جو ہمارا پسینہ پوچھنے کے کام تو آ سکتے تھے لیکن جن سے ہم کچھ نہیں خرید سکتے تھے۔

میں نے اور میرے دوستوں نے سوچا باہر جاکر کچھ کھایا جائے اور وقت گزرنے سے پہلے ان نوٹوں کا استعمال کیا جائے۔ ہم نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ ڈنر کے دوران بحث کا موضوع یہی اعلان رہا، جسے انتہائی بہادری اور بے خوف قرار دیا جا رہا تھا، لیکن سب سے بڑا سوال یہی تھا کہ کیا واقعی اس سے کالے دھن کو ختم کرنے کا خیال کارگر ثابت ہو گا؟ کیا وہ (مودی جی) واقعی سنجیدہ تھے؟ اس سے ان کی سیاست پر کیا اثر پڑے گا؟ کیا اس سے ان کی امیج زیادہ متاثر کن ہو جائے گی؟ انہیں اس سے فائدہ ہو گا یا نقصان؟ کیا اس سے اقتصادی نظم و ضبط بنے گا یا پھر کوئی ہنگامہ کھڑا ہو گا، کوئی گڑبڑ ہو جائے گی؟

سچ کہوں تو میں پریشان تھا۔ مجھے لگا کہ اس سے ان کی پبلک امیج یعنی سماجی شبیہ تو ضرور بہتر ہوگی، کیونکہ انہیں بدعنوانی کے خلاف لڑتے ہوئے دیکھا جا رہا تھا، لیکن اس سے ان کے سیاسی فوائد پر ایک بڑا سوال اٹھ رہا تھا، جس کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ خبریں آنے لگی کہ پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں اور لوگ بہت حیران اور پریشان ہو رہے ہیں۔

اگلے دن چاروں طرف مارا ماری اور افراتفری کا ماحول تھا۔ لوگ بینکوں اور اے ٹی ایم پر لمبی قطاریں لگا کر کھڑے تھے۔ روپے بدلنا سب سے زیادہ بحث کا موضوع تھا۔ چرچل کہتے تھے کہ سیاست میں ایک ہفتے کا وقت بہت بڑا ہوتا ہے، لیکن یہاں 45 منٹ ایک ہفتے سے بھی لمبے لگ رہے تھے۔ ٹھیک ہے، اس اعلان نے سیاست کا جو رنگ بدلا تھا ویسا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ اب دو ہفتے سے زیادہ وقت گزر چکا ہے، سیاسی لکیریں كھنچی جا چکی ہیں اور واضح طور پر دو دھڑے دیکھے جا سکتے ہیں۔

ایسا دکھایا جا رہا ہے کہ مودی جی کا یہ قدم ملک کو بدعنوانی سے پاک کر دے گا۔ کالے دھن اور کرپٹ افراد کے خلاف جنگ کا یہ ان کا اپنا طریقہ ہے۔ میرے لئے یہ بات ہضم کرنے کے قابل نہیں ہے۔

2014 کے انتخابات کی تشہیر کے دوران، انہوں نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ کالا دھن واپس لائیں گے اور ہر دیش واسی کے اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے جمع کروا دیں گے۔ قومی سطح پر کانگریس کے زوال کی بڑی وجہ گزشتہ حکومت کا بدعنوان ہونا ہی تھا۔ پارلیامنٹ میں کانگریس 50 سے کم نشستوں تک محدود ہوکر رہ گئی تھی جو کہ مکمل طور امید سے پرے تھا۔ ایک وقت کی اس سب سے زیادہ بڑی پارٹی، جس نے تاریخ میں سب سے زیادہ وقت تک ہندوستانی سیاست پر اپنا اقتدار جمائے رکھا اور بيسویں صدی کی دنیا کی سب سے زیادہ بااثر پارٹی کے طور پر قائم رہی، اس کے بارے میں ماہرین بھی سوچ میں پڑ گئے تھے۔

مودی جی کو بدعنوانی سے لڑنا ہی تھا ان پر غیر ملکی بینکوں، خاص طور پر سوئس بینک، سے کالا دھن لانے کا دباؤ بھی تھا۔ سوئس بینک کا ہم ہندوستانیوں سے بے حد محبت کا رشتہ ہے۔ صرف اس کے نام سے ہی جلن اور غصہ کا ملا جلا اظہار ہو جاتا ہیں۔ 'سوئس بینک' ایک ایسے شخص کو آواز دیتی ہے جو انتہائی رئیس ہے، بدعنوان ہے اور جس نے ہم ہندوستانیوں کو بے وقوف بنا کر اپنا سارا پیسہ غیر ملکی بینکوں میں بھر رکھا ہے۔ وہ گنہگار بھی ہے اور طاقتور بھی۔ یہ ایک متنبہ بیان ہے کہ ہر طرح کے پلٹشين جو کامیاب ہیں، ان کا اکاونٹ وہاں ضرور ہوگا۔ ایک غیر ملکی بینک میں ایک اکاؤنٹ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ فلاں مرد یا عورت ایک کامیاب اور سیاسی پس منظر سے تعلق رکھتا ہے۔

بی جے پی کے سب سے سینئر اور بزرگ رکن اور مودی جی کے سابق گرومسٹر ایل کے اڈوانی 2009 کے پارلیمنٹ کے انتخابات کے دوران کالے دھن کا مسئلہ اٹھانے والے پہلے شخص ہیں۔ انہوں نے اس موضوع پر کچھ پریس مذاکرات بھی کیں تھیں اور اپنی الیکشن ریلیوں میں کئی بار اس موضوع پر بات کی، لیکن اس وقت وہ اسے ایک بڑا مسئلہ نہیں بنا پائے، کیونکہ اس وقت ملک تیار ہو رہا تھا۔ 2008 کی عالمی کساد بازاری کے بعد بھی معیشت 9 فیصد کی شرح سے آگے بڑھ رہی تھی۔ 2004 سے بھی بڑے حکم نامہ کے تحت منموہن سنگھ دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے۔ اس وقت بھی اس مسئلے کو طول نہیں دیا گیا، لیکن 2011 کے بعد تبدیل سیاسی منظر نامے میں، بیان بھی بدل گئے۔

انا کی تحریک نے ملک کو گہری نیند سے جگا دیا تھا۔ بدعنوانی ایک نیا مسئلہ بن چکا تھا۔ گھوٹالوں پر گھوٹالے اجاگر ہو رہے تھے اور منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی کی ان گھوٹالوں کو چھپانے کی کوشش نے ان کی تصویر کو خراب کر دیا تھا۔ کانگریس سب سے بدعنوان اور شرمناک پارٹی بن چکی تھی۔ معیشت گر رہی تھی۔ عالمی بحرانوں نے اس مسئلے کو زیادہ الجھا دیا اور ہندوستان کی نئی پرامید نسل نے ان گنہگار دیوتاوں کو معاف کرنے سے انکار کر دیا اور انہیں سزا دینے کے لئے بے قرار ہو اٹھے۔ تب مودی نام کے اس نئے خیال کا وجود سامنے آیا۔ انہوں نے کامیابی کے ساتھ عوام کی نظروں میں اپنی ایک صاف اور ایماندار لیڈر کی شبیہ بنا لی، ایک ایسا شخص جو مضبوط تھا اور آسانی نے بڑے فیصلے لے سکتا تھا۔ سارا ملک منموہن کو نکال کر مودی کو جگہ دے چکا تھا۔

مودی نے بڑے بڑے وعدے کئے لیکن جیسا کہ انہوں نے دعوی کیا تھا، وہ بھی اپنے پہلے 100 دنوں میں غیر ملکی بینکوں میں جمع کالے دھن کو واپس نہیں لا پائے۔ سوپریم کورٹ کے آرڈر کے باوجود بھی، وہ صرف ایک اسپیشل ٹیم بنا پائے جو بیکار ثابت ہوئی۔ سب کے بعد، بی جے پی کے صدر امیت شاہ کو یہ بیان دینا پڑا کہ وہ صرف ایک جملہ تھا۔ ایک وعدہ جو عام طور پر سیاستدانوں کی طرف سے انتخابات کے دوران کیا جاتا ہے اور جسے ووٹروں کی طرف سے سنجیدگی سے نہیں لیا جانا چاہئے۔ آزاد ہندوستان میں مودی کی انتخابی مہم سب سے مہنگی تشہیروں میں گنی جاتی تھی۔ وہ دولت کا سب سے شرمناک دکھاوا تھا۔ ایسا مانا جاتا ہے کی یہ رقم 10000 کروڑ سے 20000 کروڑ کے درمیان تھی۔ بڑے بڑے کارپوریٹ هاوسیس نے اپنی تجوريو کے تالے کھول دئے تھے۔ مودی نے کبھی بھی اس خرچ کا کوئی حساب نہیں دیا۔ انہوں نے کبھی اس موضوع پر کوئی بات بھی نہیں کی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، بی جے پی نے اپنے اخراجات کے 80 فیصد ذرائع کو بتانے سے انکار کر دیا تھا۔ کسی عام آدمی یا کسی ماہر سے پوچھا جائے تو یہ سب بے حساب کالا دھن تھا۔

وہ گزشتہ ڈھائی برسوں سے وزیر اعظم ہیں لیکن انہوں نے ایک لوک پال مقرر کرنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ یہ قانون منموہن سنگھ نے اپنا آفس چھوڑنے سے پہلے لاگو کر دیا تھا۔ مودی 12 سال تک گجرات کے وزیر اعلی رہے، لیکن انہوں نے کبھی بھی کسی لوک آیوکت کو چارج نہیں لینے دیا۔ لوک آیوکت سرکاری اور اعلی دفاتر میں بدعنوانی سے لڈنے کے انسٹی ٹیوٹ کا کام کرتے ہیں۔ ان کی کابینہ میں کسی بھی کرپٹ وزیر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ بلکہ انہوں نے کئی بدعنوان لوگوں کو وزیر کے طور پر مقرر کیا۔ انہوں نے دہلی کی آپ حکومت سے اینٹی کرپشن بیورو بھی چھین لیا۔

اب ان پر ملک کے دو بڑے سرمایہ دارانہ گھرانوں سے مالی مدد لینے کا سنگین الزام لگا ہے۔ سرکاری ایجنسیوں کے پاس اس کا سرکاری ریکارڈ بھی دستیاب ہے، لیکن وزیر اعظم نے کسی بھی الزام پر کوئی رد عمل نہیں دیا ہے۔ اب یہی مودی ہمیں یہ یقین دہانی دے رہے ہیں کہ وہ ہمیں بدعنوانی سے آزاد ہندوستان دیں گے اور ملک کے نظام سے کالے دھن کو ختم کر دیں گے۔ میں اس پر کس طرح یقین کر لوں؟ کیا یہ سیاست نہیں ہے؟ سیدھی اور واضح سیاست؟

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ملک میں اس ایکٹ (نوٹ بدلنے) کے بارے میں ایک مرکزی خیال چل رہا ہے۔ انہیں بدعنوانی سے جنگ کرتے ہوئے دکھایا جا رہا ہے اور یہ ایک امیج میک اوور کا ہی طریقہ بھی ہے۔ یہ کہنا وقت سے پہلے ہوگا کہ وہ کامیاب ہوں گے یا یہ ان کی سب سے بڑی غلطی ہے۔ تھوڑا وقت گزر جانے دیا جائے۔ نقد کی کمی سے جوجھتے لوگوں کو اپنا ذہن بنانے دیا جائے۔ یہ ملک کے باشندوں کے لئے سب سے زیادہ دلچسپ اور سب سے پریشانی بھرا وقت ہے۔ چلو، انتظار کیا جائے۔