اندرونی لباس پر کھل کر بات کرنے والی ارپتا نے کاروبار میں کمایا نام

0

ہندوستانی خواتین آج بھی کئی موضوعات پر آپس میں ہی کھل کر بات چیت نہیں کرتیں۔ شرمندگی محسوس کرتی ہیں، ہچکچاتی ہیں، گھبراتی ہیں۔ اگرچہ ان کی اپنی بات ہی کیوں نہ ہو، اسے چھپانے سے تکلیف برداشت کرتی ہیں، لیکن پھر بھی بالکل چپ رہنا پسند کرتی ہیں۔ بات کو اپنے تک ہی رکھتی ہیں اور کھل کر کبھی کسی سے کچھ نہیں كهتی۔ انہیں لگتا ہے کہ شائد ممنوع سمجھے جانے والے موضوعات پر وہ اپنی رائے ظاہر کر آداب کی خلافورزی کر جائیں گی۔ انہیں یہ ڈر ستاتا ہے کہ اگر وہ ایسے موضوعات پر بات کریں گی تو مہذب خواتین کی فہرست نے ان کا نام ہٹا دیا دیا جائے گا۔

ایسا ہی ایک موضوع ہے اندرونی لباس... جی ہاں، بھی ایک ایسا ہی موضوع ہے۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ اندرونی لباس ہر کوئی پہنتی ہے۔ یہ وہ لباسں ہے، جو جسم سے سب سے زیادہ قریب اور جسم پر سب سے زیادہ وقت تک رہتے ہیں۔ ایک معنوں میں جسم کا حصہ ہی بنے رہتے ہیں۔ لیکن آج بھی بہت سی ہندوستانی خواتین اندرونی لباس کے بارے میں ایک دوسرے سے بات نہیں کرتیں۔ اندرونی لباس آج بھی ہندوستانی خواتین کے لئے بحث کا ایک نامناسب، غلط اور ممنوع موضوع بنا ہوا ہے۔

ان حالات میں ایک ہندوستانی خاتون نے نئی شروعات کی ہے۔ شروعات ہوئی ہے اندرونی لباس کی تئیں ہندوستانی خواتین کا نظریہ بدلنے اور اس سلسلے میں بات چیت کے طور طریقے تبدیل کرنے کی۔ جس عورت نے یہ ہمت کام کیا ہے وہ ہیں ارپتا گنیش۔

ارپتا آج ملک بھر میں خواتین کے اندرونی لباس ماہر مانی جاتی ہیں۔ یہ انہی کی پہل اور کوششوں کا نتیجہ ہے کہ ہندوستان میں کئی خواتین اب کھل کر اپنی پسند نا پسند اور ضروریات کے بارے میں بات چیت کرنے لگی ہیں۔

ارپتا کا سفر آسان نہیں رہا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں انہیں مختلف چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اتار چڑھاو بھرے دن دیکھنے پڑے۔ ارپتا نے اندرونی لباس کے بارے میں ہندوستانی خواتین کے زہنوں میں موجود بہت سے خرافات کا ترک کرنے، بہت پرانی باتوں کو جھوٹا ثابت کیا ہے۔

اندرونی لباس کے تئیں لوگوں میں بیداری لانے کے لیے ارپتا نے ایک مشن بنایا۔ اس مشن کو آگے بڑھانے اور اسے کامیاب بنانے کے لئے ارپتا کو کئی ساری لڑکیوں اور عورتوں کو تعلیم دینا پڑا۔ خواتین کی توجہ دقیانوسی باتوں سے دور کر نئی سوچ اور ٹیکنالوجی کی طرف لے جانے کے لئے خوب محنت کرنی پڑی۔ اچھے اندرونی لباس سے ہونے والے فوائد کے بارے میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بتانا پڑا۔ مشن کو کامیاب بنانے کے لئے ارپتا نے ہر ممکن پلیٹ فارم خاص طور پر سوشيل نیٹ ورکنگ سائٹس کا ہر ممکن استعمال کیا۔

1998 سے 2008 تک کرئیٹیو ایڈ ایجنسی چلانے والی ارپتا کی شروع سے ہی اندرونی لباس موضوع پر سوچا کرتی تھیں۔ کچھ نئےپن کی خواہش بھی تھی۔ اسی دلچسپی نے ارپتا کے ذہن میں خواتین کے لئے کچھ کرنے کا جنوں پیدا ہوا۔ انہوں نے "بٹركپس" نام سے اندرونی لباس کی ایک بوٹيک شروع کی۔ یہ کوئی معمولی بوٹيک نہیں تھی۔۔ ارپتا نے اپنی دلچسپی کی وجہ سے فرانس اور بیلجیم میں 'برا' (bra) کے دو بڑے برانڈز کے ٹریننگ سینٹر سے برا(bra) فٹنگ اور میکنگ میں خصوصی تربیت حاصل۔ ان کی یہی تربیت انہیں اپنی بوٹيک کو مشہور اور کامیاب بنانے میں مددگار ثابت ہوئی۔ اس بوٹيک کے ذریعہ ارپتا نے ہندوستانی خواتین کے لئے بین الاقوامی سطح کی بڑی بڑی فیشن کمپنیوں اور برانڈز کے اندرونی لباس دستیاب كروائے۔

ارپتا نے ہندوستانی خواتین کو اس بات کا احساس دلایا کہ انہیں اپنی پسند اور سہولت کے مطابق اندرونی لباس پہننے چاہئے اور اس معاملے میں اپنی خواہشات اور شوق کو کچلنے نہیں چاہئے۔

"بٹركپس" کو مقبول بنانے کے لئے ارپتا نے ایک نیا بزنس ماڈل بھی اپنایا۔ برا(bra) کی فروخت کو بڑھانے کے مقصد سے ارپتا نے نہ صرف بوٹيک کے ذریعہ کاروبار کیا بلکہ آن لائن فروخت بھی شروع کی۔ خواتین اب اپنی پسند اور سہولت کے مطابق آن لائن ہی اپنی پسندیدہ برا کی خریداری کرتی ہیں۔ خواتین کے لئے کام آسان ہو گیا ہے۔ اب انہیں بس آن لائن اپنا آرڈر دینا ہوتا ہے اور اشیاء کی ڈیلوری مکان پر ہو جاتی ہے۔ اسی وجہ سے ارپتا کی بوٹيک سے برا(bra) خوب فروخت ہونے لگی ہے۔

آپ برا کی وجہ سے ارپتا کچھ ہی دنوں میں ہندوستان کی "برا ملکہ" بن گئی۔ ملک میں ہی نہیں دنیا بھر میں اب انہیں ہندوستان کی "برا ملکہ"bra qween کی طور شناخت مل رہی ہے۔

ارپتا کو اس خطاب سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ بلکہ وہ اس پر فخر محسوس کرتی ہیں۔ انہیں اس بات پر بھی فخر ہے کہ ایک کامیاب تاجر بننے کے لئے انہوں نے بالکل مختلف راستہ منتخب کیا۔ ہندوستان میں ایک ایسے کام کی شروعات کی، جو پہلے کسی نے نہیں کیا۔ بہت سی خواتین کو خوشی دینے میں کامیاب ہوئی۔

ارپتا یہیں نہیں ركی۔ انہوں نے برا (bra) کی فروخت کو اور بھی بڑھانے کے مقصد سے موبائل فون ایپ بھی تیار کروایا ہے۔ اب موبائل فون پر ایپ کا استعمال کرتے ہوئے خواتین کہیں سے بھی برا منگوا سکتی ہیں

ارپتا مانتی ہے کہ انہیں آن لائن بوٹيک اور دوسری غیر ملکی کمپنیوں کے ایپ چیلنج مل رہی ہے۔ بہت سی کمپنیاں آپ برا کو شہوانی، شہوت انگیز، ہلکے اور دوسروں سے سستا بتا کر آن لائن اور آف لائن فروخت کر رہی ہیں۔ لیکن، ارپتا کا کہنا ہے کہ ان کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ کوالٹی کے معاملے میں کبھی کوئی سمجھوتہ نہ کرنا ہے۔

ارپتا نے گزشتہ 6 سال کی اپنی منفرد سفر میں ایک نہیں بلکہ کئی بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

دنیا بھر سے 3000 سے زیادہ خواتین ارپتا کے برا بلاگ سے براہ راست جڑی ہوئی ہیں۔ بہت ساری خواتین آن لائن اور بوٹيک سے 'برا' کی خریداری رہی ہے۔

اتنا ہی نہیں بڑی بڑی کمپنیاں اور ملک دنیا کی نامور ہستیاں اندرونی لباس کے معاملے میں ارپتا سے مشورہ لے رہی ہیں۔ مشہور ڈیزائنر ارپتا کے ساتھ کام کرنے کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں۔ وہ اس بات پر بھی خوشی ظاہر کرتی ہیں کہ انہوں نے مشکل دور میں ہار نہیں مانی اور ہدف حاصل کرنے کے لئے کوششیں جاری رکھیں۔ ارپتا کے مطابق، کئی بار ایسے حالات نے ان کو پریشان کیا اوردل میں یہ اس کاروبار کو چھوڑ کا خیال آیا، لیکن جوشیلے مزاج کی وجہ سے انہوں نے اپنے قدم پیچھے نہیں لئے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem