ٹووہیلر مکینک کا بیٹا بنا ’لٹل بل گیٹس،3 سال میں سیکھا کمپیوٹر ، 6 میں دیا اینمیشن پر لیکچر ، 11 میں ملی ڈاکٹریٹ کی ڈگری 

0

جس عمر میں بچے ٹھیک سے بول نہیں پاتے اس عمر میں یہ بچہ کمپیوٹر چلانا سیکھ گیا۔ جس عمر میں بچوں کی توجہ پڑھائی لکھائی اور کھیل کودپر زیادہ رہتی ہے ، اس عمر میں اس بچے نے کمپیوٹر اینمیشن کے ذریعے فلمیں بنانا شروع کر دیں ۔ آپ یقین کریں یا نہ کریں ، لیکن دہرہ دون میں رہنے والا 15سالہ امن رحمٰن آج کمپیوٹر اینمیشن پر ملک میں ہی نہیں بیرون ملک میں بھی لیکچر دیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ امن کا نام ’گنیزبک آف ورلڈ ریکارڈ‘میں دنیا کے سب سے نوجوان اینمیشن لیکچرر کے طور پر درج ہے ۔

امن رحمٰن کا صرف یہی ایک تعارف نہیں ہے ۔ ان کو دنیا ایک دوسرے نام سے بھی جانتی ہے اور وہ نام ہے ’لٹل بل گیٹس ‘۔ تبھی تو جب امن 11سال کے تھے تو سری لنکا کی کولمبو اوپن انٹر نیشنل یونیورسٹی نے کمپیوٹر اینمیشن کے شعبے میں ان کے کام کو دیکھتے ہوئے ان کو ڈاکٹریٹ کی سند سے سرفراز کیا ،۔ اترا کھنڈ کے دہرہ دون میں ایک عام خاندان سے تعلق رکھنے والے امن رحمان کے والد محمد رحمان ٹووہیلر مکینک ہیں ۔ اس کے باوجود امن رحمان کمپیوٹر اینمیشن کی دنیا میں اس بلندی پر ہیں جہاں پہنچنا اتنا آسان نہیں ہے ۔ کمپیوٹر اینمیشن کی دنیا پر راج کر نے والے امن کا کہنا ہے :

’’جب میں تین سال کا تھا تب پہلی بار کمپیوٹر سے میرا سامنا ہوا ، جب میرے والد ایک پرانا کمپیوٹر گھر لے کر آئے۔ حالانکہ میرے گھر والوں نے مجھے سخت ہدایت دی تھی کہ اسے ہاتھ نہ لگانا ،لیکن میرا بڑا بھائی جب اس پرکام کر تا تھا تو مجھ سے رہا نہیں جاتا اور میں بھی کمپیوٹر چلانے لگا ۔ تب مجھے پتہ نہیں تھا کہ میری یہ خواہش ایک دن مجھے اینمیشن کی دنیا میں لے جائے گی۔ ‘ ‘

اس طرح پہلی بار تین سال کے امن نے فلیش سافٹ ویئر کے ذریعے ’ڈانسنگ الفابیٹس ‘بنائے ۔ امن کے مطابق :

’’جب میں نے پہلی بار مائیکرو سافٹ پاور پوائنٹ میں اینمیشن بنایا تو میرے گھر والے کافی خوش ہوئے اور انہوں نے میری بڑی حوصلہ افزائی کی۔ تبھی میں نے فیصلہ کرلیا کہ میں اینمیشن کے شعبے میں کام کروںگا۔ ‘‘

بیٹے کےاس کارنامے سے خوش امن کے والد ان کو ایک سینٹر میں لے گئے ۔ جہاں امن نے اینیمشن سے متعلق کئی کورس کئے ۔ جیسے ایکسپلورا ڈیزائن ، ایرینا ڈیزائن ، زیکا، سی آئی اے ، سی اے اے ڈی اور دوسرے سافٹ ویئر پر کام کیا ۔ امن کا خیال ہے کہ اینمیشن حدود سے ما ورا ہے ۔ یہاں کوئی بھی اپنی مرضی کے مطابق کام کر سکتا ہے ۔ امن کہتے ہیں کہ اللہ کے بعد اینمیٹر ہی ہے جو کسی بھی چیز کی بہتر تخلیق کر سکتاہے۔ امن اینمیشن سے متعلق ٹو ڈی اور تھری ڈی ڈپلوما او ر ڈگری کورس پورا کر چکے ہیں ۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ کورس جہاں ایک سال میں پورے ہوتے ہیں وہیں امن نے اس کورس کوتین سے چھ مہینے میں پورا کیا ہے ۔

امن نے لیکچر کی شروعات کیسے کی ؟

اس کے جواب میں ان کا کہنا ہے کہ ، جب وہ چھ سال کے تھے تو اس وقت وہ کمپیوٹر اینمیشن سے متعلق کورس کر رہے تھے اور ایک دن کلاس میں ان کے لیکچر ر نہیں آئے تو پہلے انہوں نے مذاق میں دوسرے طلبہ سے کہا کہ وہ ساتھی طلبہ کو پڑھانے کا کام کریںگے ۔ یہ سن کر ساتھی طلباءاس کے لئے تیار ہوگئے ۔ امن بتاتے ہیں :

’’مذاق مذاق میں شروع ہوئی بات جب حقیقت میں ہونے لگی تو میرے دل کی دھڑکنیں کافی تیزی سے بڑھنے لگیںلیکن میں پیچھے نہیں ہٹا اور اپنی کلاس میں ایک لیکچر دیا۔ اس لیکچر کی ساتھی طلباء نے کافی تعریف کی جس کے بعد میری ہمت بڑھتی گئی ۔ ‘‘

حالانکہ امن نے پیشہ ورانہ طور پر لیکچر دینے کی شروعات آٹھ سال کی عمر میں شروع کی تھی لیکن ان کا یہ سفر آج تک بدستور جاری ہے ۔

امن اب تک نہ صرف ملک کے کئی حصوں میں گیسٹ لیکچرر کے طورپر لیکچر دے چکے ہیں بلکہ سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں بھی ان کو مہمان محاضر کے طور پر مدعو کیا جا چکا ہے ۔ ایک ہزار سے زیادہ اینمیٹیڈ فلمیں بنا چکے امن آج اینمیشن سے جڑے لیکچر ملک بھر کے مختلف کالجوں اور تنظیموں میں طلبا کو دے چکے ہیں ۔ اینمیشن کے سلسلے میں ان کے اندر پوشیدہ صلاحیت کو دیکھتے ہوئے سابق صدر جمہوریہ پر تبھا پاٹل نے انیمیشن کے شعبے میں ان کے کام کی بدولت ہی ماسٹر بلاسٹر سچن تیندولکر اور یوراج سنکھ ان کے مرید ہیں ۔

دہرہ دون کے ایک اسکول میں گیارہویں جماعت میں پڑھنے والے امن کی فی الحال تمنا اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد کچھ دنوں کے لئے بیرون ملک جانے کی ہے تاکہ وہ اینمیشن سے متعلق جدید تکنیک کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جان سکیں ۔ حالانکہ وہ چاہتے ہیں کہ اپنا ملک اینمیشن کے معاملےمیں اتنی ترقی کرے کہ امریکا، جاپان اور چین جیسے ممالک میں رہنے والے لوگ اینمیشن سے متعلق معلومات حاصل کر نے کے لئے اپنے ملک میں آئیں ۔ اس کے علاوہ وہ ایک رضاکار تنظیم بنانا چاہتے ہیں جو صرف ایسے بچوں کے لئے ہو جن کی تعلیم الگ الگ وجوہ سے درمیان میں چھوٹ گئی ہو ۔ اسکے علاوہ وہ خود ایک ایسا اسٹوڈیو بنانے کی خواہشرکھتے ہیں جہاں دوسرے ممالک کے پیشہ و ر لوگ، ہالی ووڈ اور بالی ووڈ فلمو ں کے علاوہ بڑی تنظیموں کے لئے کام کریں ۔

.............................................

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

پوسٹر بائے سے ایڈیٹر تک ...سید اسد کا حیرتانگیز سفر

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے... صوفی موسیقی کی ہمسفر سمیتابیلّور

---------------------

قلمکار : ہریش

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Harish

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini