آشیش هیمراجانی نے ٹکٹ بیچ کر کمائے کروڑوں روپے

'ذرا ہٹ کے' والی سوچ نے آشیش  کو بنایا کامیاب کاروباری 

0



ٹیكسپاركس ایک انتہائی دلچسپ پروگرام ہے تاجروں کی اس بڑی کانفرنس میں کئی ایسے لوگوں کے بارے میں جاننے کا موقع ملا جنہوں نے ایک چھوٹے سے خیال کی بنیاد پر ایک بڑی کمپنی قائم کی ہے۔ اسی سریز میں ایک نیا نام ہے بک مائی شو کے بانی آشیش هیمراجانی کا۔ آئیے جانتے ہیں بک مائی شو کی کامیابی کی کہانی، خود آشش کی زبانی۔

"بک مائی شو کا سفر سموکنگ اور شراب کی وجہ سے شروع ہوا تھا۔ میں سموکینگ نہیں کرتا ہوں، لیکن مجھے ایسے لوگوں سے کوئی اعتراض بھی نہیں ہے۔ میں ایڈورٹائزنگ انڈسٹری میں کام کرتا تھا جہاں سب لوگ چائے اور سگریٹ کے عادی ہوا کرتے ہیں۔ مجھے حیرانی تھی کی ہماری کمپنی کے مالک جے۔ والٹر تھمپسن سگریٹ پینے والوں کو کس طرح برداشت کرتے ہیں، لیکن پھر میں نے جانا کہ آئی ٹی سی ان کی سب سے بڑی كلائنٹ ہے۔ اپنی مصروف جاب سے مجھے ایک وقفہ چاہیے تھا، تبھی میں ایک طویل چھٹی پر چلا گیا۔ "

یہ ایک بڑا واقعہ تھا جس نے بک مائی شو کو جنم دیا۔ یہ 90 کی دہائی کا اختتام اور سن 2000 کے آغاز کے دن تھے، جب برکت ساؤتھ افریقہ اور بوٹسوانا میں اپنی چھٹیاں منانے گئے تھے۔ یہ ایک سڑک کا سفر تھا، جس دوران آشیش نے ریڈیو پر سنا کہ لوگ رگبی کی ٹكٹس خریدنے کی ہوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ یہیں سے آشش کے لیے اس آئیڈیا آیا کہ ٹکٹ فروخت کے اس طریقے کو ہندوستان میں آزمایا جائے۔

سوچ کے اس چھوٹے سے بیج نے بک مائی شو جیسے بڑے کاروبار کی شکدل لی۔ لیکن اس کا کریڈٹ بھی آشیش شراب کو ہی دیتے ہیں۔ آشیش کہتے ہیں، "مجھے یاد ہے جب ان لمبی قطار میں میں بھی کھڑا ہوتا تھا۔ ٹکٹ بک کرنے کے لئے چھوٹی چھوٹی کھڑکیاں بنی ہوتی تھی۔ لوگوں کی بھیڑ کو کئی بار پولیس سے لاٹھیاں بھی کھانی پڑتی تھیں۔ اس کے بعد میں نے زیادہ نہیں سوچا اور اپنے سفر کی طرف چل دیا۔ "

ان کا یہ سفر انہیں ایک ایسی جگہ لے گیا جہاں شراب مفت ملتی تھی، اس جگہ شراب کی پیداوار ہوتی تھی۔ آشیش نے محسوس کیا کہ جب لوگ چائے پیتے ہیں تو وہ باتونی بن جاتے ہیں، لیکن جب وہ شراب پیتے ہیں تو وہ کچھ مختلف طرح کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ آشیش کہتے ہیں،

"میں مختلف ہوں؛ میں ایک بھارتی ہوں اور میں کسی اچھی ریڈ وائن کو بلواس سے ویسٹ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس وقت دوپہر کے تین بجے تھے اور میرا دماغ گھوم رہا تھا۔ میرے خیال اسموکنگ سے شروع ہوکر شراب پر جاکر ختم ہوا۔ میں اپنے ہاسٹل کے بستر پر آرام کر رہا تھا اور تبھی میں نے اپنی زندگی کا سب سے مہنگا ایس ایم ایس اپنے باس کو بھیجا اور کہا کہ میں نوکری چھوڑ رہا ہوں۔ یہ ایس ایم ایس 186 روپے کا تھا۔ لیکن مجھے اس کی قیمت کا اندازہ اگلے دن ہی ہوا۔"

اگلے دن ممبئی واپس لوٹنے کے بعد آشیش کو محسوس ہوا کہ وہ بے روزگار ہیں اور اسی وقت کچھ سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر انہوں نے اپنا بزنس پلان بنایا۔ انہوں سے (Chez )چیز کو ایک فیکس بھیجا اور بک مائی شو کو 2 کروڑ کی فنڈنگ مل گئی۔ یہ وہ دن تھے جب ڈاٹ کوم انڈسٹری اپنے عروج پر تھی۔

سن 1999 میں بک مائی شو کے پاس کسی بھی آن لائن بکنگ سروس سے مزید کالز آتے تھے اور یہ کچھ چنندہ کمپنیز میں سے ایک تھی جو کیش آن ڈلیوری کی سہولت دیتی تھی۔ سن 2001 میں بک مائی شو نيوزكوپ کی طرف فنڈنگ حاصل ہو چکی تھی، لیکن سن 2002 میں ڈاٹ کام کے زوال کے ساتھ ہی اس کمپنی کی 150 لوگوں کی ٹیم 6 لوگوں میں بدل گئی اور 2500 مربع فٹ آفس باندرا کے ایک فلیٹ میں شفٹ ہو گیا۔

لیکن آشیش اور ان کی ٹیم ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھے۔ اس ٹیم نے ایک نیا ایکو سسٹم بنانے کا فیصلہ کیا۔ آشیش کہتے ہیں، "ہم نے کال سینٹرز چلانے شروع کر دیے، ٹكنٹگ سافٹ ویئر بنائے، ایونٹس کے لئے وائٹ لیبل سروسز شروع کی۔ کامن سینس ہو تو آپ مشکل سوالات کا بھی آسان حل نکال سکتے ہیں. "

یہ دور آسان نہیں تھا لیکن ایک انترپرینيور کے پاس عام طور پر کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ آشیش بتاتے ہیں، "ایک مایوس شخص سوچتا ہے کہ گلاس آدھا خالی ہے، ایک پرامید شخص سوچتا ہے کہ گلاس آدھا بھرا ہوا ہے؛ لیکن ایک انترپرینيور اس خالی حصے کو اسکاچ سے بھر دیتا ہے اور پھر یا تو اس کا مزہ لیتا ہے یا پھر اس کے نشے میں ڈوب جاتا ہے. "

اپنی اس عجیب سوچ کے دم پر ہی آشیش نے اپنے سفر کا مزہ لینا شروع کر دیا۔ مسلسل تجربے چلتے رہنے کے جذبے نے ان کی کمپنی کو کامیابی کی نئی منزلیں دکھا دی۔ آشیش نے نہ صرف ایک مثال قائم کی بلکہ اپنی زندگی کے ہر لمحے کو بھرپور جیا۔ اپنے ہر تجربے سے کچھ نیا سیکھا اور قدم بہ قدم آگے بڑھتے گئے۔ آشیش جیسے انترپرینيورس تعریف کے قابل ہیں جنہیں رسک لینے کا حوصلہ بھی تھا اور جیتنے کا ہنر بھی۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories