اینٹ بھٹے پرمزدوری کرنے والے وجے کمار بنے ’مسٹردلی‘

0

کامیابی کاکوئی شارٹ کٹ راستہ نہیں ہوتا، اورنہ ہی کامیابی کی عبارت کبھی راتوں رات لکھی جاتی ہے۔ ہر ایک کامیابی کے پیچھے جدوجہد کی ایک لمبی داستان ہوتی ہے۔ جسے پارکرکے ایک کامیاب شخص اس مقام پرپہنچ پاتاہے۔ اور یہ تبھی ممکن ہوتاہے جب انسان تمام مشکلوں کے باوجوداپنے ہدف کے تئیں ایمان دار اور وفادار بنارہتاہے۔ اس طرح کی مسلسل لگن، سپردگی اور سخت محنت کے بعدملی کامیابی ہمیشہ پائیدارہوتی ہے اور وہ تمام ویسے لوگوں کے لئے بھی باعث ترغیب بنتی ہے جوہدف کی سمت میں کوشاں ہوتے ہیں ۔ ایسی ہی کامیابی کی ایک مثال ہیں دہلی کے باڈی لبڈروجے کمار۔

وجے کمارکو11اپریل2016کو’مسٹردلی‘ منتخب کئے جانے پر طلائی تمغے سے نوازاگیا ہے۔ وجے کمار کی یہ کامیابی 11اپریل کواخباروں اورنیوزچینلوں میں سرخیوں میں رہی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وجے کماردہلی اوراین سی آر کے ان تمام باڈی بلڈروں کے لئے ایک مثال بن گئے جوزندگی میں ’مسٹردلی‘ یا اس طرح کاکوئی دیگر خطاب پانا چاہتے ہیں ۔ لیکن کامیابی کی اس منزل تک پہنچنے میں وجے کمار کی جدوجہد کاوہ کانٹوں بھراسفر اور پاؤں میں پڑے چھالوں کوشاید کسی نے نہیں دیکھا ہوگا۔ اس مقام تک پہنچنے کے لئے انھوں نے اینٹ بھٹے میں مزدوری کرنے سے لے کردودھ بیچنے اوردہلی کی ڈیفنس کالونی میں چائے کاٹھیلالگانے تک کاکام کیا ہے۔ دن رات ایک کرکے، جی توڑ محنت سے اپنے ہدف کوحاصل کیا ہے۔ لیکن اس کامیابی کے بعد بھی ان کے قدم زمین پرہیں ۔ وہ اپناگذراہواکل نہیں بھولے ہیں ۔ اوراپنے ہی جیسے نوجوانوں کومفت میں دے رہے ہیں باڈی بلڈربننے کے پٹس۔ آخرکیا ہے’ مسٹردلی‘ بننے کاسچ اوران کے مستقبل کے منصوبے؟وجے نے شیئر کیا یوراسٹوری سے اپنا تجربہ۔

بچہ مزدوری سے لے کردودھ تک بیچا

ایک غریب کے سرسے باپ کاسایہ اٹھنے کامطلب کیا ہوتاہے، یہ وجے کمار سے بہترشایدہی کوئی جانتاہو۔ جب وجے کی عمر محض10سال کی تھی تبھی ان کے یومیہ مزدوروالد کاانتقال ہوگیا۔ باپ کی موت کے بعد اپنے پانچ بھائی بہنوں میں سب سے بڑے وجے کے سرپرجیسے دکھوں کاپہاڑٹوٹ گیا۔ وجے نے پھر بھی پلٹ کرنہ اپنا بچپن دیکھا نہ اپنی نواجوانی۔ وہ اچانک بڑے سے ہوگئے۔ وجے کاکہنا ہے:

’’گھر کاخرچ چلانے کے لئے ماں نے باپ کے ساتھی مزدوروں کے ساتھ مجھے اینٹ بھٹے پرمزدوری کے لئے بھیج دیا۔ وہاں جی توڑ محنت کرنے پرروزآنہ 10سے 15روپئے مل جاتے تھے۔ جسے لاکر میں اپنی ماں کے ہاتھ میں رکھ دیتاتھا۔ ، یہ سلسلہ برسوں تک یوں ہی چلتارہا۔ ایک عرصے کے بعدہم نے مزدوری سے جمع کی گئی رقم سے ایک بھینس خریدی۔ جس کے بعدمیں نے مزدوری چھوڑکر کچھ اپنےاورکچھ کسانوں سے خریدے ہوئے دودھ کوشہر جاکربیچنے کاکام شروع کیا۔ ‘‘

زندگی کے ان تمام نشیب وفراز کے باجود وجے کے دل میں ایک ارمان پل رہا تھا۔ وہ اکثرگاؤں کے اکھاڑوں میں مسٹنڈے پہلوانوں کوآپس میں دودوہاتھ کرکے اپنی طاقت کامظاہرہ کرتے ہوئے دیکھا کرتے تھے۔ پہلوانوں کی باڈی انھیں لبھاتی تھی۔ وہ ان کی طرح اکھاڑوں میں کسی سے لڑنا اوربھڑنا چاہتے تھے، لیکن حالات سے مجبور وجے نے اپنے اس شوق کوبرسوں تک بس اپنے سینےمیں دبائے رکھا۔ اپنے خوابوں کوزندہ رکھا۔

دہلی میں ملامنزل کاراستہ

تقریباً پانچ چھ برسوں تک اترپریش کے میرٹھ کے کیہاوی گاؤں میں جدوجہد کرنے والے وجے15سال پہلے روزی روٹی کی تلاش میں میرٹھ سے دہلی آگئے۔ یہاں انھوں نے ڈیفنس کالونی کے پاس چائے کی ایک دکان لگانی شروع کردی۔ اس نئے کاروبارکے سنبھلتے ہی وجے نے برسوں سے اپنے اندرپل رہے شوق کے بارے میں سوچااور پرعمل کرناشروع کردیا۔ باڈی بلڈ نگ کے لئے ان گانیاٹھکانہ بنالاجپت نگرمیں اشوک بھائی کاجم۔ وجے بتاتے ہیں :

’’یہاں کے جم مالک سبھاش بھڑاناکولگا کہ میں باڈی بلڈنگ میں اچھا کرسکتاہوں ۔ انھوں نے میری صلاحیت کو پہچانا اوراسے نکھارنے کی پہلی کی۔ سبھاش بھڑاناجی میرے گرواور مینٹرہیں ۔ اصل میں سبھاش بھڑاناجی خود باڈی بلڈنگ میں چمپئن رہ چکے ہیں اور وہ نوجوانوں کو باڈی بلڈنگ کے لئے آگئے بڑھاتے ہیں ۔

وجے نے اس جم میں اپنی باڈی کے لئے جی توڑ محنت کی۔ وہ اکثردن میں کام اور رات میں باڈی بلڈنگ کے لئے محنت کرتے تھے۔ ایک باڈی بلڈرکے ڈائٹ کے مطابق انھیں کبھی ڈھنگ کاکھانا نہیں ملا۔

اس کے باوجود وہ گھنٹوں جم میں اپنا پسینہ بہاکر اپنی باڈی کوسائز دیتے رہے۔ اس کام میں سبھاش بھڑانانے ان کابھرپور ساتھ دیا۔ وجے اپنی کامیابی کاسہرہ اپنے گرو کودیتے ہیں ۔

جب یوپی کاچھورابنا’مسٹردلی‘

وجے کمار کی برسوں کی محنت اس وقت رنگ لائی جب انھوں 10اپریل 2016کودہلی میں ورلڈباڈی بلڈنگ فیڈریشن اوردہلی باڈی بلڈنگ فیڈریشن کے زیر اہتمام منعقد مقابلے میں دہلی سمیت کئی ریاستوں سے آئے باڈی بلڈروں کوپچھاڑتے ہوئے گولڈمیڈل جیتا۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی انھیں ’’مسٹردلی‘ قرار دے کر اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔ حالانکہ وجے کی یہ کوئی پہلی جیت نہیں ہے۔ اس سے پہلے وہ کئی مقابلوں میں حصہ لے کرٹاپ رینکنگ میں اپنی جگہ بناچکے ہیں ۔ وہ دہلی میں ’’مسٹرائی ایم سی‘بھی رہ چکے ہیں ۔ 2011میں ’ مسٹرکولکاتا‘ کے مقابلے میں وہ پانچویں مقام پررہ گئے تھے۔ وہ ’مسٹرایشیاء‘ خطاب میں بھی حصہ لے چکے ہیں ۔ لیکن وہاں وہ میڈل نہیں جیت پائے۔ اس کی وجہ وہ پیسے کی کمی بتاتے ہیں ۔ کیونکہ انھیں وہ ساری سہولیات نہیں مل پاتی تھیں جوایک باڈی بلڈرکے لئے ضروری ہوتی ہیں ۔ اب آگےوجے کاہدف مسٹرانڈیا۔ مسٹرایشیاء اور مسٹریونیورس ہے۔ وہ ملک کے لئے آگے کے مقابلوں میں حصہ لے کر جیتناچاہتے ہیں ۔ فی الحال میرٹھ ضلع کے ایک گاؤں کے چھورے کی اس کامیابی پر دہلی سمیت میرٹھ میں جوش کاماحول ہے۔ باڈی بلڈنگ میں لگے میرٹھ کے تمام لوگوں کے لئے وجےکسی تحریک سے کم نہیں ۔

گاؤں میں جم کھول کرچاہتے ہیں مٹی کاقرض اداکرنا

دہلی سے متصل نوئیڈاکے سیکٹر۔ 93میں آج ’ہیلتھ کلب ‘ نام سے وجے کمار کااپنا ایک جم ہے۔ یہاں وہ لوگوں کوعام فٹنس سے لے کر پروفیشنل باڈی بلڈنگ تک کی ٹریننگ دیتے ہیں ۔ یہ جم انھوں نے کبھی دوستوں سے قرض لے کرکھولاتھا لیکن آج یہ کافی اچھاچل رہا ہے۔ اس جم میں بہت سارے ویسے لوگ بھی ٹریننگ لے رہے ہیں جن کے پاس سہولیات کافقدان ہے ۔ وہ پیسے دینے کے قابل نہیں ہیں ۔ وجے ایسے لوگوں کومفت میں ٹریننگ دیتے ہیں ۔ وجے اس وقت وپن تیاگی۔ کلدیپ تیاگی، امت پال، کنچن لوہیا۔ سرجیت چودھری اورپرشانت چودھری سمیت کل چھ لوگوں کومسٹرانڈیا کمپٹیشن کے لئے ٹریننگ دے رہے ہیں ۔ ان کاایک اورخواب ہے۔ وجے کا کہنا ہے:

’’میراایک سپنا ہے۔ میں اپنے گاؤں میں بھی ایسی صلاحیتوں کوکوچنگ دے کرآگے بڑھانا چاہتاہوں ۔ جن کے پاس پیسے کی کمی ہولیکن ٹیلنٹ خوب ہو۔ میں ان کے لئے گاؤں میں ایک جم کھولناچاہتاہوں ۔ گاؤں کی مٹی کابڑاقرض ہے جسے میں اتارنا چاہتاہوں ‘‘۔

آخرزندگی کے برے دورمیں گاؤں میں ہی انھیں جینے کاسہاراملاتھا۔ ان کی ماں آج بھی اسی گاؤں میں رہتی ہیں اورآج بھی ان کے گھر میں ایک بھینس ہے۔ وجے کو بس ایک بات کاملا ل ہے کہ زندگی کی کشمکش میں ان کی تعلیم ادھوری رہ گئی۔

..........

قلمکار : حسین تابش

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Husain Tabish

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini

.........

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں ۔

یہ کہانیاں بھی ضرور پڑھیں ۔

دانش محل...کتابوں کا تاج محل ، دانشوروں کاخواب محل

آپ کی اسٹارٹپ اسٹوری کی سرخی کون بناتا ہے ؟

زندگی مشکل ہے مگر حوصلے کی بدولت اپنا قد بڑھانے میں مصروف پونم شروتی

..........