شوق نے لیا نیا موڑ اور اروند آئنگار نے قائم کی اپنی کھیل کمپنی

ایک رئلٹی شو میں حصہ لینے کے لئے میکنسے کی نوکری چھوڑدی ۔ رنر اپ رہنے کے بعد ایک سال تک ای ایس پی این پر کمنٹری کی۔اور پھر ایک دن اپنی کمپنی قائم کی۔ اروند نے کھیل کے میدان میں کچھ نیا کر دکھانے کے اپنے جزبے سے سب کو حیران کر دیا۔

0

کہاوت مشہوء ہے جہاں چاہ وہاں راہ۔ اروند آئنگار کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ بچپن سے جو خواب ان کی آنکھوں میں بسا تھا وہ سچ ہو گیا۔ بچپن سے ہی کھیلوں کی جانب متوجہ رہے اروند اپنے بھائی کے ساتھ گھنٹوں کرکٹ کمنٹری کی پریکٹس کیا کرتے تھے۔ لیکن کھیلوں میں کیریئر کے بارے میں کوئی زیادہ معلومات نہیں تھی۔ خاندان میں آئی آئی ٹی انجینئرنگ پڑھنے کی روایت تھی تو اروند بھی آئی آئی ٹی ممبئی سے میکینکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے چلے گئے۔ کھیلوں کے لئے ان کا لگاؤ ایسا تھا کہ وہ آج ایک اسپورٹس کمپنی 'اسپورٹس انٹریكٹو' چلاتے ہیں۔

کہانی میں دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب اروند نے اپنے خواب کو پورا کرنے کے لئے ملٹی نیشنل کمپنی میکنسے سے موٹی تنخواہ والی ملازمت تک چھوڑ دی۔ اتنا بڑا فیصلہ لینے سے پہلے ان کے پاس منزل تک پہنچنے کے لئے صرف موقع تھا جس کا انہیں بہترین استعمال کرنا تھا۔

اروند بتاتے ہیں کہ جب وہ میکنسے کے لئے کام کرتے تھے تب انہیں ایک رئلٹی شو کے بارے میں پتہ چلا۔ اس شو کا موضوع وہی تھا جو وہ بچپن سے کرنا چاہتے تھے۔ 2007 میں ای ایس پی ین کھیلوں پر اس شو میں مندرا بیدی جج تھیں۔ انہوں نے اروند سے پوچھا، '' تمہارے پاس اتنی اچھی نوکری ہے، آئی آئی ٹی سے پڑھے ہو، اتنا اچھا کیریئر چھوڑ کر آپ نئی چیز کیوں کرنا چاہتے ہو؟ ''

اس پر ان کا جواب تھا کہ ان کے پاس خاندان اور میکنسے کمپنی کی حوصلہ افزائی ہے اور ساتھ ہے جو بہت اہم اورضروری بات ہے کہ وہ دل سے اس کام کو کرنا چاہتے ہیں اور وہ اس موقع کو زائع کرنا نہیں چاہتے۔

اروند نے جب رئلٹی شو کے لئے جانا چاہا تو نہ صرف ان کی کمپنی نے بلکہ ان کے خاندان نے بھی ان کا تعاون کیا۔

خواب سچ کرنے والوں کو ہمت اور حوصلہ ان کی منزل ہی دیتی ہے۔ اروند آڈشن دینے کے لئے دہلی سے ممبئی آئے تو انہیں اپنی باری کے لئے 8 گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔ آڈیشن دینے کے لئے 10 ہزار لوگ آئے تھے۔ لیکن انتظار کا پھل میٹھا تھا۔ اروند شو کے فائنل راونڈ کے لئے منتخب کئے گئے اور انہیں چینل کی جانب سے ایک شو کا آفر بھی مل گیا۔

اب ان کے سامنے سوال تھا تنخواہ میں پڑنے والے بڑے فرق کا۔ اس سوال کا جواب اروند کے دل میں صاف تھا کہ منزل نزدیک ہے اور اب کوئی بھی انہیں نہیں روک سکتا۔

ای ایس پی این پر ایک سال تک کنٹری کے بعد اروند اسٹین فورڈ سے ایم بي اے کا کورس کرنے کے لئے چلے گئے۔ ہندوستان میں کھیل کے لئے کمنیٹری سے بڑھ کر کچھ کرنے کی چاہت رکھنے والے اروند نے اسٹینفورڈ میں کورس کے دوران این بیی ٹیم کے ساتھ بھی وقت گزارا۔ ایم بی اے کے دوران کھیلوں اور بزنس پروگراموں میں بھی حصہ لے چکے اروند نے کھیل سے منسلک اپنے کیریئر کو ایک نئی اونچائی پر لے جانے کا فیصلہ کیا۔ اور اب ہندوستان میں 'اسپورٹس انٹریكٹو' نام کی کمپنی کے سربراہ ہیں جو کھیل سے محبت کرنے والوں کو کھیل سے منسلک کرنے کے نئے نئے اور دلچسپ طریقوں پر کام کرتی ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا، موبائل اور بڑے براڈكاسٹروں کے ذریعے کھیل کے چاہنے والوں کو پل پل معلومات دیتے رہنے اور بڑے کھیل واقعات سے منسلک پرجیكٹو پر مسلسل کام کرنے والے اروند کبھی اپنے کام سے تھکتے نہیں کیونکہ وہ بہت شدت سے اس سے منسلک ہیں۔ اروند کہتے ہیں کہ اب کمپنی فٹ بال لیگ کے لئے خصوصی پرڈكٹ ڈیزائن کر رہی ہے۔ ان کے پاس ملک کے تمام کھیل واقعات کے ساتھ جڑنے کا موقع ہے۔

اروند ان لوگوں میں سے ہیں جو جس کام سے محبت کرتے ہیں اس کی توسیع کے نئے طریقوں پر مسلسل سوچتے ہیں اور تازہ ترین امکانات پر مسلسل کام کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئےکام کامیابی کے دائرے تک محدود نہیں ہوتے۔

اروند بتاتے ہیں کہ ہندوستان میں کھیل میں کیریئر کے بارے میں زیادہ معلومات اور مواقع بھی نہیں ہوا کرتے تھے، لیکن اب چیزیں بدل رہی ہیں۔ پہلے انجینئر یا ڈاکٹر بننے کا خواب ہی زیادہ تر لوگ دیکھا کرتے تھے، ان کے علاوہ دیگر علاقوں میں کیریئر کے بارے میں زیادہ توجہ نہیں تھی۔ بڑی سطح پر ہونے والے گیمز واقعات آئی پی ایل، کبڈی لیگ، فٹ بال لیگ جیسے واقعات سے اسپورٹس میں کیریئر کے کئی پہلو کھلے ہیں۔

اروند کی کہانی ہمیں اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ جس چیز کے لئے آپ کا دل دھڑک رہا ہے اس کو پوری شدت کے ساتھ کریں۔ پوری توانائی اور جزبے سے زیادہ کام کرنے کی چاہت انہیں خاص بناتی ہے۔

Related Stories