جمعہ کے خطبہ کو سوشل چینج کا زریعہ بنانے کی وکالت کرتے ایک خطیب

شاہی مسجد حیدرآباد کے خطیب مولانا احسن بن محمد الحمومی

0

حیدرآباد میں تلنگانہ ریاستی اسیمبلی کے پاس ایک بڑی مسجد ہے۔ یہ مسجد شاہی مسجد کہلاتی ہے۔ جہاں کسی زمانے میں بادشاہ وقت(نظام) بھی نماز کے لئے آیا کرتے تھے۔ آج بھی جمعہ کی نماز میں یہاں بڑی تعداد میں لوگ دور دور سے چلے آتے ہیں۔ عام طورپر دیکھا جاتا ہے کہ لوگ جمعہ کی نماز کے لئے مساجد میں داخل ہونے سے پہلے انتظار کرتے ہیں کہ خطیب صاحب اپنی تقریر مکمل کر لیں، لیکن شاہی مسجد کے خطیب احسن بن محمد الحمومی کا اردو خطبہ ان دنوں لوگوں میں اپنی کشش بڑھا رہا۔ ایسے لوگوں کی تعداد کافی ہے جو ان کا اردو خطبہ سننے کے لئے جلدی آنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس لئے بھی کہ خطیب صاحب رٹی رٹائے تقریر کے بجائے معاشرے کے موجودہ حالات کو دھیان میں رکھ کر اپنی بات رکھتے ہیں۔

مولانا الحمومی بتاتے ہیں '

' جمعہ کے خطبے کا اگر صحیح استعمال کیا جائے تو سماج میں بڑے پیمانے پر اصلاحات لائی جا سکتی ہیں۔ اس سے نہ صرف مسلکی اختلافات ختم ہوں گے بلکہ دنیا کے مشکل حالات میں دین سے صحیح رہنمائی حاصل کی جا سکے گی۔ میں دیکھتا تھا کہ والد صاحب مولانا محمد الحمومی خطبے کی کافی پہلے سے تیاری کر لیا کرتے تھے۔ بلکہ ایک کاغذ پر نوٹس لکھ لیا کرتے تھے۔ میں نے بھی یہی طریقہ اپنایا۔ حالانکہ کچھ لوگ کاغذ پر لکھ کر تقریر کرنے کو عیب مانتے ہیں، لیکن مجھے اس میں برائی نظر نہیں اتی۔ بلکہ آپ اپنا اور اپنے مصلیوں کا وقت برباد ہونے سے بچا لیتےہیں۔'
مولانا احسن بن محمد اپنے خطبے میں ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت کے بارے میں لوگوں کو سمجھاتے ہیں۔ وہ مصلیوں سے کہتے ہیں،

'جو ماحول بچانے کی سمت میں کام کرے گا، وہ جنت کے ایک قدم اور قریب آ جائے گا۔ ماحولیاتی تحفظ کی ذمہ داری انسانوں کے کندھے پر ہی ہے۔ تمام حیاتیات کے قدرتی رہائش گاہوں کی حفاظت کی جانی چاہئے اور اگر کوئی لالچ کی وجہ سے اسے نقصان پہنچتا ہے وہ گناہ کر رہا ہے۔'

ان کا یہ بھی خیال ہے،  'اسلام میں دوسروں کو تکلیف پہنچانے کی ممانعت ہے۔ یہ اسلام کے اصولوں کے خلاف ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ اگر علماء ایسے حساس معاملات پر لوگوں میں شعور بیدار کریں گے تو لوگ ان پر عمل کریں گے۔

32 سال کے خطیب احسن بن محمد نے انگلش اینڈ فارن لینگویج يونیورسٹی سے عربی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ حال ہی میں انہوں نے مائنارٹی ویلفیئر ڈپارٹمنٹ سے گزارش کی ہے کہ مساجد میں وضو کرنے کے بعد اس پانی کے کو دوبارہ دیگر مقاصد سے استعمال کیا جانا چاہئے۔

ان کے والد بھی پبلک گارڈن کی اس شاہی مسجد کے خطیب تھے۔ انہوں نے بھی اپنے دور میں لوگوں کو اپنی تقاریر سے کافی متاثر کیا۔ مولانا احسن بتاتے ہیں،

'والد صاحب عالم ہونے کے ساتھ حکیم بھی ہیں۔ ان کے پاس جوطلباء حفظ کر چکے ہیں،ان میں بڑی تعداد ڈاکٹر اور انجنئر کی بھی ہے۔ وہ ہمیشہ نصیحت کرتے ہیں کہ بچے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیوی تعلیم حاصل کریں، تاکہ دینی تعلیم کا فائدہ دنیا کو ہو۔ دنیا اور موجودہ حالات سے واقفیت ضروری ہے۔ بڑے بھائی مولانا حسن بن محمد الحمومی  عالم دین ہیں، حافظ ہیں اور آج مدینہ منورہ میں ایئرپورٹ پر فاینانس کنٹرولر ہیں۔ دوسرے بھائی مولانا محسن بن محمد الحمومی حیدرآبادمیں گرین میڈوزگروپ اف اسکول کے ڈاریکٹر ہیں۔'

مولانا احسن حافظ ہیں، حدیث میں کامل کی ڈگری رکھتے ہیں اور جونیر رسرچ فیلوشب حاصل کرنے والے اسکاروں میں شامل رہے ہیں۔ تیلنگانہ میں عربی زبان کو پڑھانے میں ہونے والی مشکلات کے موضوع پر انہوں نے پی ایچ ڈی کے لئے رسرچ کی ہے۔ ان سب خصوصیات کے بوجوہ انہوں نے خطیب کے فرائض کو اولیت دی ہے۔

وہ کہتے ہیں،

'گزشتہ بارہ سال سے تقریر کررہا ہوں کچھ سال نامپلی اسٹیشن کی مسجد میں خطابت کی اور اب دو سال سے شاہی مسجد میں خطیب کے فرائض انجام دے رہا ہوں۔ تقیروں کی رکارڈنگ کی جاتی ہے اور اسے لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ جس موضوع پر خطبہ دینا ہے۔ اس کا خاکہ پہلے سے تیار کیا جائے اور اس کی کاپیاں لوگوں میں تقسیم کی جئیں، تاکہ اسے وہ اپنے گھر لے جاکر بھی استفادہ کر سکیں۔'

مولانا ان دنوں ایک اسکول میں کرسپانڈنٹ ہیں۔ اور  ادارہ قرآن ہاوس بھی چلا رہے ہیں۔ اس ادارے میں بچوں کو حفظ کی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ خواتین کے لئَے اسلامی تعلیم پر ایک ڈپلومہ بھی چلایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ شاہی مسجد میں بھی بچوں کوقرآن کی تعلیم دیتے ہیں۔ گرمیوں کی چھٹیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے انٹر اور ڈگری کے بچوں کے لئے مولانا آزاد انسٹیوٹ پبلک گارڈن میں اردواور عربی زبان پڑھانے کی شروعات کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ

' بچے اپنی مادری زبان نہ جاننے کی وجہ سے بھی دین سے دور ہیں۔ گزشتہ رمضان میں میں نے لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ مں 24 گھنٹوں میں کوئی بھی وقت قرآن کی تعلیم کے لئَے دوں گا اور اسی وعدے کو پورا کرنے کے لئے چاہے قرآن ہاوس ہو یا شاہی مسجد دونوں جگہ حاضر رہتا ہوں۔ فجر کے بعد سے تعلیم شروع ہوتی ہے تو رات کے 10 بجے تک سلسلہ جاری رہتا ہے۔ میں اپنے کسی بھی ادارے کے لئے چندہ نہیں لیتا ہوں۔ میں اس بات کی کوشش کر رہا ہوں کی خطیبوں کے لئے ایک ٹریننگ پروگرام چلایا جائےتاکہ وہ معاشرے کی اصلاح میں اہم رول ادا کر سکیں۔'

..........................

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

نئی دنیا کے ساتھ جینے کا فارمولا ہے مولانا جہانگیر کا ادارہ ... اسلامی ماڈل یونیورسٹی

دانش محل...کتابوں کا تاج محل ، دانشوروں کاخواب محل

تعلیم اور سماجی خدمات ایک ساتھ... جودھپور کی مارواڑ مسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی

كہانياں مجھے وراثت میں ملی ہیں. ماں، باپ، چچا، چاچی،خالہ، پھوپھی، نانی دادی، سب کی مختلف کہانیاں تھیں. اسی وراثت کو پاس پڑوس، دوست رشتہ دار، نکڑ، گلی، محلہ، شہر، ملک اور بیرون ملک کے چہروں میں چھپی کہانیوں کے ساتھ ملا کر پیش کر رہا ہوں۔ پسند آئے تو مسکرانا ضرور۔

Related Stories

Stories by F M SALEEM